مئی کے آخری ہفتے میں لاکھوں کی تعداد میں خوش قسمت اہلِ ایمان حج کا رُکنِ اعظم ''وقوفِ عرفہ‘‘ ادا کرنے کیلئے میدانِ عرفات میں جمع ہوں گے‘ سب کے سب اپنا قومی لباس اتار کر سنتِ ابراہیم واسماعیل اور سید المرسلین سیدنا محمد رسول اللہ علیھم السلام ادا کرتے ہوئے دو اَن سِلی چادروں پر مشتمل ایک ہی لباس میں ملبوس ہوں گے‘ سب اپنے قومی اور علاقائی امتیازات‘ وضع قطع اور لباس کو ترک کرکے ایک ہی رنگ میں رنگے ہوں گے۔ سب کی زبان پر تلبِیہ کے یہ کلمات جاری ہوں گے‘ ترجمہ: ''میں حاضر ہوں‘ اے اللہ! میں تیرے حضور حاضر ہوں‘ میں حاضر ہوں‘ تیرا کوئی شریک نہیں‘ میں حاضر ہوں‘ بیشک سب تعریفیں تجھی کو سزاوار ہیں اور ہر نعمت کا منبع تیری ہی ذاتِ عالی صفات ہے اور ملک واقتدار کا مالکِ حقیقی تو ہی ہے‘ تیرا کوئی شریک نہیں‘‘۔ اگر واقعی حضوریِ بارگاہِ ربّ العالمین کا تصور مومن کے دل ودماغ میں رَچ بس جائے تو اُس پر قیامت کے دن جیسا لرزہ طاری ہو جائے‘ ہیبت وجلالِ الٰہی سے اس کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور وہ اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات کا کامل مظہر بن جائے: (1) ''درحقیقت کامل مومن وہی لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جاتے ہیں اور جب ان پر اُس کی آیات تلاوت کی جائیں تو وہ ان کے ایمان کو تقویت عطا کرتی ہیں اور وہ اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں‘‘ (انفال: 02)۔ (2) ''اللہ نے بہترین کلام کو نازل کیا‘ جس کے مضامین ایک جیسے ہیں‘ بار بار دہرائے جاتے ہیں‘ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں (اسے سن کر) ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں‘ پھر ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کے ذکر کے لیے نرم ہو جاتے ہیں‘‘ (الزمر: 23)۔
پس ہر حاجی اپنے اندر جھانک کر اپنا جائزہ لے سکتا ہے کہ کیا یہ کیفیت اس پر طاری ہے اور وہ اس روحانی تجربے سے گزر رہا ہے۔ اگر وہ اس کیفیت میں سرشار نہیں ہے تو اس کا حج حقیقت اور روحِ عبادت سے کوسوں دور ہے‘ اس نے صرف عبادت کی ظاہری صورت کو اپنایا ہے‘ اُس کا اندر اس کے نور سے خالی ہے۔ ایک عارف باللہ ولی اللہ تعالیٰ کی حضوری میں ڈوبے ہوئے ''لبّیک اللّٰھم لبّیک‘‘ کی صدائیں بلند کر رہے تھے کہ غیب سے ندا آئی: ''لَا لبّیک‘‘ (یعنی تیری حاضری قبول نہیں)‘ ایک نوجوان نے اس ندائے غیبی کو سنا تو کہا: ''بابا! جب آپ کی حاضری قبول ہی نہیں‘ تو میدانِ عرفات میں آپ کی آمد کا کیا فائدہ؟‘‘ بزرگ نے جواب دیا: ''یہ جواب تو میں چالیس برس سے سن رہا ہوں‘ لیکن کیا اللہ کی بارگاہ کے سوا کوئی اور بارگاہ ہے‘ جہاں میں رجوع کروں‘ ظاہر ہے کہ نہیں ہے‘ تو تا حیات مجھے تو یہیں حاضری دینی ہے‘‘۔ اس پر غیب سے ندا آئی: ''اے میرے بندے! میں نے تیری آج کی اور گزشتہ تمام برسوں کی حاضریاں قبول کیں‘‘۔ یعنی جب یہ حقیقت بندے کے قلب وروح میں جذب ہو جائے کہ حقیقی مالک ومختار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے‘ ساری نعمتوں اور تمام فیوض وبرکات کا منبع اسی کی ذات ہے‘ اس کے مقابل کسی کیلئے کوئی جائے امان نہیں ہے اور جب بندہ ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرے اور آخری سانس تک اسی کا ہوکر رہے‘ تو پھر وہ حج کی برکات اور بندگی کی معراج کو پا لیتا ہے۔ ایسی کیفیت سے معمور حج کو ''حجِ مبرور‘‘ کہا جاتا ہے اور کامل اجرو ثواب کی ساری بشارتیں اسی کے لیے ہیں۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ''جس نے حج کیا‘ نہ کوئی بیہودہ بات کی اور نہ اللہ اور اس کے رسول کی حکم عدولی کی تو وہ حج کے بعد گناہوں کی ہر میل سے پاک ہو کر اس حال میں لوٹے گا جیسے اس دن پاک تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا‘‘ (بخاری: 1819)۔ (2)''یکے بعد دیگرے حج اور عمرہ ادا کیا کرو‘ کیونکہ یہ دونوں فَقر اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے‘ سونے اور چاندی کی میل کو دور کر دیتی ہے اور ''حجِ مقبول‘‘ کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں‘‘ (ترمذی: 810)۔
موجودہ دور میں ہجوم کی کثرت شدید مشقت کا باعث ہے‘ اس لیے اگر لوگ نفلی حج کم کریں تو فرض حج کرنے والوں کیلئے قدرے آسانی ہو سکتی ہے۔
اسلام میں حج نو ہجری کو فرض ہوا‘ مگر رسول اللہﷺ اُس سال بذاتِ خود حج پر تشریف نہیں لے گئے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ''امیر الحج‘‘ مقرر فرمایا‘ بعد میں ضروری اعلانات کے لیے حضرت علیؓ کو اپنا نمائندۂ خاص بنا کر بھیجا۔ ان اعلانات کا ذکر سورۂ توبہ کی ابتدائی آیات میں موجود ہے۔ پھر دس ہجری کو رسول اللہﷺ بذاتِ خود حج کیلئے تشریف لائے اور یہ آپ کی ظاہری حیاتِ مبارَکہ کا ''حَجَّۃُ الْاِسْلَام‘‘ تھا‘ اسی میں آپﷺ نے جبلِ رحمت پر اپنی ناقۂ مبارَکہ '' قَصوا‘‘ پر سوار ہوکر وہ عظیم الشان خطبہ ارشاد فرمایا‘ جو تاریخِ انسانی میں حقوقِ انسانی کا پہلا منشور ہے‘ اسے ''خطبۂ حَجۃ الوَداع‘‘ کہا جاتا ہے۔
سورۂ توبہ میں ''حج اکبر‘‘ کا ذکر ہے۔ علامہ علی القاری لکھتے ہیں: ''حج اکبر کے بارے میں چار اقوال ہیں: ایک یہ کہ اس سے مراد ''یومِ عرفہ‘‘ ہے‘ دوسرا یہ کہ اس سے مراد ''یومِ نحر‘‘ ہے‘ تیسرا یہ کہ اس سے مراد ''طوافِ زیارت‘‘ کا دن ہے‘ چوتھا یہ کہ حج کے تمام ایام عظیم المرتبت ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ عمرے کے مقابلے میں ہر حج ''حجِ اکبر‘‘ ہے اور ایک قول یہ ہے: اگر حج جمعہ کے دن واقع ہو جائے تو اسے ''حج اکبر‘‘ کہتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے جب حج فرمایا تھا تو وہ جمعۃ المبارک کا دن تھا‘‘ (اَلْحَظُّ الْاَوْفَرُ فِی الْحَجِ الْاَکْبَر‘ ص: 481)۔
اگر حج جمعہ کے دن واقع ہو جائے تو اس پر ''حجِ اکبر‘‘ کا اطلاق کرنا متفق علیہ مسئلہ نہیں ہے‘ تاہم اس کے بارے میں ایسے قرائن موجود ہیں کہ اس کی افضلیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ علامہ علی قاری نے لکھا ہے: ''جب یومِ عرفہ جمعہ کے دن واقع ہو تو اس پر حجِ اکبر کا اطلاق زبان زدِ خلائق ہے اور خلقِ خدا کی زبانیں حق کا قلم ہوتی ہیں‘ پھر وہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی ایک حدیث بیان کرتے ہیں: ''جس چیز کو مسلمان اچھا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی حسن ہے اور جس چیز کو مسلمان برا سمجھیں‘ وہ اللہ کے نزدیک بھی بُری ہے‘‘ (مسنداحمد: 3600)۔ وہ مزید لکھتے ہیں: ''امام رَزین بن معاویہ نے ''تَجْرِیْدُ الصِّحَاح‘‘ میں حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ سے روایت کیا ہے: نبیﷺ نے فرمایا: ''افضل الایام یومِ عرفہ ہے اور جب یہ جمعہ کے دن واقع ہو تو دیگر ایام کے ستر حج کے برابر ہے‘‘۔ یہ اعتقادی مسئلہ نہیں‘ اس کا تعلق فضائلِ اعمال سے ہے اور فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث معتبر ہوتی ہے۔ جمعہ کے دن یومِ عرفہ واقع ہونے کی صورت میں بلاشبہ جمعہ کی برکات بھی قدرِ زائد کے طور پر شامل ہو جاتی ہیں‘ کیونکہ جمعۃ المبارک کے فضائل احادیثِ مبارَکہ میں بکثرت مذکور ہیں: رسول اللہﷺ نے اسے ''سید الایّام‘ افضل الایّام اور عید المومنین قرار دیا ہے۔
ہم دعویٰ تو کرتے ہیں کہ عبادتِ حج ''اسلامی مساوات‘‘ کا سب سے بڑا مظہر ہے‘ امیر وغریب‘ سفید فام وسیاہ فام‘ شرقی اور غربی سب برابر ہو جاتے ہیں‘ لیکن اب عملاً ایسا نہیں ہے۔ حج میں بھی طبقاتی تفاوت کے مظاہر موجود ہیں۔ حرمین طیبین کے اردگرد فائیو سٹار وسیون سٹار ہوٹل ہیں‘ جن میں صرف اعلیٰ طبقات کے لوگ ہی قیام کر سکتے ہیں‘ متوسّط اور زیریں طبقات کیلئے حرمین طیبین سے دور رہائشگاہیں تعمیر کی گئی ہیں‘ اسی طرح منیٰ کے خیموں میں بھی سہولتوں اور جمرات کی قُرب کے اعتبار سے تفاوت موجود ہے۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! مناسب ہے کہ آپ کیلئے منیٰ میں ایک گھر یا مُسَقَّف (Covered) جگہ بنا لی جائے تاکہ آپ پر سورج کی دھوپ نہ پڑے‘ آپﷺ نے فرمایا: نہیں! منیٰ اُس کی قیام گاہ ہے جو یہاں پہلے آئے‘‘ (ابودائود: 2019) مگر اب عملاً ایسا ممکن بھی نہیں ہے‘ کیونکہ کثیر المنزلہ عمارات کے بغیر تمام حجاج کے قیام کے انتظامات ہو ہی نہیں سکتے۔ حجاجِ کرام کو چاہیے کہ نظم وضبط اور صبر واستقامت کا مظاہرہ کریں‘ غیر ضروری شکوہ وشکایات سے گریز کریں اور اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں بسر کریں۔