ہمارے دامن کے اُس موتی کا نام تھا اُستاد دامن اور ان کا ایک مجموعۂ کلام تھا ''دامن دے موتی‘‘۔ جنوری 1909ء میں ایک غریب درزی کے گھر پیدا ہوئے اور 75 برس درویشانہ زندگی گزاری۔ پاکستان میں ان کا درجہ عوامی (Folk) ہیرو کا تھا۔ بھارت اور پاکستان میں ان کے دوستوں کی تعداد ہزاروں اور مداحوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔ فیض صاحب سے لے کر احمد ندیم قاسمی تک اور اندرا گاندھی سے لے کر الطاف گوہر تک۔ اپنے وقت کے مشہور اداکار علاء الدین کو اُنہوں نے بیٹا بنایا ہوا تھا۔ کوچہ ڈوگراں‘ مستی چوک لاہور میں میراں بخش کے گھر پیدا ہوئے تو نام چراغ دین رکھا گیا۔ ان کے والد کی لوہاری دروازہ کے باہر درزیوں کی دکان تھی۔ بچپن میں چراغ دین کا رجحان پڑھنے کی طرف تھا مگر گھر کے حالات اچھے نہ تھے۔ سکول جانے کے ساتھ ساتھ والد کا کام میں ہاتھ بھی بٹاتے۔ ایک بار سکول میں اُستاد سے خاصی مار پڑی تو دوبارہ سکول نہ گئے۔ (یہ الفاظ لکھتے ہوئے مضمون نگار کو سکول میں گزرے دس تکلیف دہ سال یاد آتے ہیں)۔
اگرچہ یہ واضح نہیں کہ چراغ دین 'اُستاد دامن‘ کب بنا‘ مگر جب بھی بنا اُس کی دھاک سارے پنجاب پر بیٹھ گئی۔ وہ ایک عوامی اور انقلابی شاعر تھے۔ اُنہوں نے کسی دور میں بھی سچائی کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا‘ چاہے اس کی کتنی ہی سزا بھگتنا پڑی۔ وہ کئی بار جیل گئے‘ ان پر (آمرانہ دور میں) کئی بار جھوٹے مقدمات بنائے گئے لیکن اُنہوں نے کسی حکومت کے سامنے سر نہ جھکایا۔ ان کے پہلے مجموعۂ کلام کا ذکر ہو چکا‘ شاعری کی دوسری کتاب کا نام تھا ''ساری رات دا ڈنگیا دامن‘‘۔ وہ کہا کرتے تھے کہ میری ماں دھوبن تھی‘ جس کی وجہ سے میرے من میں میل نہیں اور باپ درزی تھا‘ اس لیے میں ساری عمر پیار کی ٹاکی ٹاکی (دھجیاں) محنت کے دھاگوں سے جوڑتا رہا۔ 3 دسمبر 1984ء کو جب اپنے خالق کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو ان کی وصیت کے مطابق انہیں مادھو لعل حسین کے مزار کے پاس دفن کیا گیا۔
پچاس کی دہائی میں جب میں (پانچ برس میں بمشکل بی اے پاس کر کے) یونیورسٹی پہنچا تو بدقسمتی سے تعلیم کی طرف جزوقتی توجہ دی۔ میرا زیادہ وقت بین الکلیاتی مباحث لے جاتے۔ ہر سال جنوری سے مارچ کا دورانیہ اس لیے اہم ہوتا کہ سالانہ امتحانات اپریل میں ہوتے تھے اور اس سے پہلے کے پہلے تین ماہ امتحانات کی تیاری کیلئے فیصلہ کن ثابت ہوتے تھے۔ انہی دنوں ملک بھر میں بین الکلیاتی مباحثوں کا انعقاد سٹوڈنٹس یونین کے کیلنڈر میں سب سے اہم تقریب ہوتی تھی۔ ان مباحثوں میں شرکت کیلئے میں ساتھیوں کے ساتھ ملک کے مختلف شہروں کا سفر کیا کرتا تھا۔ ان مباحث کے دوران جن بہت سے طلبہ وطالبات سے تعارف ہوا ان میں ایک سہراب اسلم بھی تھے‘ جو غالباً لاء کالج کی نمائندگی کرتے تھے۔ 1966-67ء کی بیروزگاری کے زمانہ میں میری رہائش لوہاری دروازہ کے اندر ایک محلے میں تھی۔ اس دوران سہراب اسلم سے ملاقاتوں کی رفتار تیز ہو گئی۔ سہراب کا بھلا ہو کہ وہ ایک شام مجھے راوی روڈ کے قریب کے علاقے میں اُستاد دامن کے پاس لے گیا۔ وہ پگڑی اور خالصتاً دیسی لباس (کرتا اور تہبند) پہنے فرش پر بچھی ہوئی دری پر بیٹھے تھے۔ دائیں ہاتھ اُس وقت کے چوٹی کے اداکار علاء الدین تھے اور بائیں ہاتھ احمد ندیم قاسمی۔ جب کمرہ اتنا بھر گیا کہ بعد سے آنے والوں کو کھڑا ہونا پڑا تو ادبی محفل کی کارروائی شروع ہوئی۔ قاسمی صاحب نے ایک بہت اچھا افسانہ پڑھ کر سنایا اور بڑی داد وصول کی۔ علاء الدین نے ایک احتجاجی جلوس (غالباً ویتنام میں امریکی جارحیت کے خلاف) میں شرکت کی دعوت دی۔ اُستاد دامن نے ٹھیٹھ پنجابی لہجے میں حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور ہر شخص سے ہاتھ ملا کر اُسے الوداع کہا۔ میری باری آئی تو کہا کہ آپ کو میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ میں نے جواباً کہا کہ سارا قصور سہراب اسلم کا ہے جو مجھے پہلے کبھی نہیں لایا۔ اگلے ماہ پھر آئوں گا اور اب آتا رہوں گا۔ یہ سن کر معزز میزبان مسکرائے اور گرم جوشی سے میرا ہاتھ دبایا۔ اندازہ لگایا جا سکتا کہ ایک پہلوان نما اور مضبوط قد کاٹھ کے مالک شخص کے ہاتھوں کی گرفت کتنی مضبوط ہو گی۔ مئی 1967ء میں برطانیہ آ جانے سے پہلے میں دو‘ تین بار اُستاد دامن کی خدمت میں حاضری دی۔ میری درخواست پر اُنہوں نے ایک بار اپنے اشعار بھی پڑھ کر سنائے۔ وہ جس انداز میں شعر پڑھتے تھے‘ وہ کافی ڈرامائی ہوتا تھا۔ اپنی پاٹ دار آواز کے زیر وبم سے وہ اشعار میں جان ڈال دیتے تھے۔ 1970ء میں میری پاکستان واپسی ہوئی تو ان کا پتا کیا۔ معلوم ہوا کہ وہ جیل میں ہیں۔ دوسری بار گیا تو پتا چلا کہ انہوں نے رہائش بدل لی ہے۔ چند برس بعد دوبارہ چکر لگا تو یہ بری خبر ملی کہ مجھے ان سے ملوانے والا دوست (سہراب اسلم) اب دنیا میں نہیں رہا۔ افسوس کہ اُن سے پھر ملاقات نہ ہو سکی اور خواہش حسرت میں تبدیل ہو گئی۔
استاد دامن نے ایک بار سب لوگوں کو بتایا کہ اُن کے خیالات کا شروع ہی سے حدود اربعہ عوم دوستی‘ معاشی انصاف‘ سماجی مساوات اور انسانی حقوق کے احترام کے چار ستونوں پر اُستوار ہے۔ یہی نظریات اُنہیں اشتراکی ذہن رکھنے والے بائیں بازو کے اہم سیاستدان میاں افتخار الدین کے پاس لے گئے۔ میاں افتخار صاحب نے انہیں عملی سیاست سے متعارف کرایا۔ دونوں کا تعارف کس طرح ہوا‘ یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ اُنہوں نے نہ صرف میاں افتخار کے کپڑوں کا جوڑا سیا بلکہ انہیں اپنے کچھ اشعار بھی سنائے۔ میاں صاحب اتنے خوش ہوئے کہ استاد دامن کو کانگریس کے ایک بڑے جلسے میں اپنا کلام سنانے کی دعوت دے ڈالی۔ اس جلسے میں پنڈت نہرو بھی موجود تھے۔ انہوں نے اُستاد دامن کو 'شاعرِ آزادی‘ کا خطاب دیا۔ اُستاد دامن جس جلسے میں بھی اپنے انقلابی اور ولولہ انگیز اشعار سناتے اُس پر چھا جاتے اور (محاورتاً) جلسہ لوٹ لیتے۔ 1947ء میں لاہور ہندو مسلم فسادات کی لپیٹ میں آگیا۔ اُستاد دامن کا گھر اور دکان جلا دی گئی۔ اُن کی بیوی اور کم عمر بچی ان فسادات میں بچھڑ گئیں۔ اگرچہ کچھ عرصہ بعد وہ مل گئیں مگر فسادات کی سختیوں اور مناسب علاج نہ ہونے کے سبب جلد ہی دونوں فوت ہو گئیں۔ اُستاد دامن نے اس کے بعد دوبارہ شادی نہیں کی اور نہ اپنا گھر پھر بسایا۔ بقیہ زندگی درویشوں کی طرح ایک کوٹھڑی میں بے حد سادگی سے گزار دی۔
ایک بار اُستاد دامن پر یہ جھوٹا مقدمہ بنایا گیا کہ اُن کے گھر سے ناجائز اسلحہ اور ایک توپ برآمد ہوئی ہے۔ جب مقدمہ عدالت میں چلا تو وکیل صفائی (غالباً میاں محمود علی قصوری) نے یہ ثابت کر کے اُنہیں بری کرایا کہ اُن کی کوٹھڑی اتنی چھوٹی ہے کہ اس میں توپ نہ تو داخل کی جا سکتی ہے اور نہ ہی رکھی جا سکتی ہے۔ فیض احمد فیض بھی اُستاد دامن کے مداحوں میں شامل تھے اور وہ اکثر ٹیکسالی گیٹ ان کو ملنے جایا کرتے تھے۔ فیض اور جالب کی طرح اُستاد دامن نے بھی ہمیشہ آمرانہ نظام کے تحت انسانی حقوق کو پامال کرنے والوں‘ سماجی انصاف سے انکار کرنے والوں اور کسانوں مزدوروں کا استحصال کرنے والوں کے خلاف شعر لکھے اور اس طرح لکھے کہ اشعار میں جان ڈال دی۔ وہ اپنے اشعار سے لوگوں کا خون گرما دیتے تھے۔ انہوں نے فلموں کیلئے بھی تین گیت بھی لکھے‘ جن میں سے دو میڈم نور جہاں نے گائے۔ اُن کے اشعارکی سادگی اور بے ساختہ پن دلوں کو موہ لیتا تھا۔
فیض‘ جالب‘ احمد فراز اور لائل پور کے احمد ریاض کی طرح اُستاد دامن کی ساری شاعری مزاحمتی تھی۔ ان کی شاعری اس لیے بھی زیادہ مؤثر اور دلوں میں اُتر جانے والی تھی کہ وہ اہل پنجاب کی مادری زبان میں تھی۔ وہ صحیح معنوں میں عوامی شاعر تھے۔ کسانوں‘ مزدوروں‘ کھیت کھلیان میں کام کرنے والے کاشتکاروں کے شاعر۔ ایسا انمول موتی جو ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ وپائندہ رہے گا‘ خصوصاً چھ ہزار میل دُور رہنے والے اس بوڑھے مداح کے دل میں۔