اشتراکی سوچ کے حامل‘ میرے ہم خیال افراد کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے لکھے گئے اس سلسلے کے پہلے کالم کا اختتام اس بات پر ہوا تھا کہ مرزا محمد ابراہیم صاحب کو جب مسلم لیگ نے 1946ء کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی میں مزدوروں کی نشست کیلئے نامزد کیا تو انہوں نے الیکشن لڑنے سے انکار کر دیا۔ لیکن جب مرزا صاحب نے پانچ برس بعد پنجاب اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا تو سب سے زیادہ ووٹ انہیں ملے مگر حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے خواہش مند چند سرکاری افسروں نے ان کو ڈالے گئے 500 ووٹ تیسرے نمبر پر آنے والے لیگی امیدوار احمد سعید کرمانی کے ڈبے میں ڈال دیے اور یوں مرزا صاحب اپنی نشست ہار گئے۔ 1948ء میں مرزا صاحب پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کے صدر چنے گئے۔ دوسرے امیدوار فیض احمد فیض‘ ملک فضل الٰہی قربان اور سندھ کے سوبھوگیان چندانی تھے۔ 1954ء میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی لگائی گئی تو دوسرے سوشلسٹ رہنماؤں کی طرح مرزا صاحب بھی زیرِ عتاب آئے۔ 1967ء میں ان کی زیرِ قیادت ریلوے کی بے مثال ہڑتال نے ایوب خان کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ 1969ء میں بحالی ٔ جمہوریت کی تحریک میں مرزا صاحب کا اہم کردار تھا۔ 1970ء میں انہوں نے ورکرز پارٹی کی طرف سے الیکشن میں حصہ لیا مگر پیپلز پارٹی سے شکست کھائی۔ وہ کل 15 مرتبہ جیل گئے۔ دو مرتبہ شاہی قلعے کے عقوبت خانے میں قیدی بنائے گئے اور دو مرتبہ اپنے گاؤں میں نظر بند کیے گئے۔انہوں نے 90 برس عمر پائی۔ کینیڈا میں رہنے والے سیف خالد کا بھلا ہو کہ اس نے کامریڈ (یہ ان کے نام کا حصہ تھا) پر ایک اچھی کتاب شائع کی جس کے 213 صفحات پر ناشرین نے اپنے نام کے بجائے ''فرینڈز آف لال خان‘‘ لکھا۔
50ء‘ 60ء اور 70ء کی دہائی میں (عوام دوست اور ترقی پسند سیاسی کارکنوں اور ٹریڈ یونین سرگرمیوں کے زوال سے پہلے) ہمارے سیاسی افق پر اشتراکی ذہن رکھنے والے کئی ستارے جگمگا رہے تھے۔ کامریڈ لال خان‘ میجر اسحاق محمد‘ سجاد ظہیر اور مرزا محمد ابراہیم سے میری ملاقات (چاہے مختصر ہی سہی) ہوئی۔ میں نے ایک ڈیڑھ برس ایک ہی چھت تلے اور ایک اخباری ادارے میں کام کیا۔ حمید اختر اور حسن عابدی سے بھی اسی زمانے میں تعلق رہا۔ میری بدقسمتی یہ رہی کہ تعلیم کے خاتمے کے بعد اور ترکِ وطن کے درمیانی سات برسوں میں جن عوام دوست‘ روشن دماغ اور سوشلسٹ کارکنوں اور رہنماؤں سے خواہش کے باوجود ایک بار بھی نہ مل سکا ان میں سردار شوکت علی‘ سی آر اسلم‘ سبط الحسن ضیغم‘ چوہدری فتح محمد‘ شمیم اشرف ملک‘ سید مصلبی فرید آبادی‘ سوبھوگیان چندانی‘ امیر حیدری‘ دادا فیروز الدین منصور‘ سیف خالد (لائل پور)‘ انور چوہدری‘ صوفی اللہ دتہ‘ رانا حبیب الرحمن‘ مسعود گردیزی (ملتان)‘ انیس ہاشمی (کراچی)‘ راؤ مہروز اختر‘ اصغر فاروق اور کئی دیگر شامل ہیں۔ ان کے برعکس چند لوگ ایسے بھی تھے جنہیں میں ذاتی طور پر جانتا تھا۔ بنگش صاحب 1972ء میں لنکاشائر میں میرے مہمان بنے۔ Eric Cyprian نے مجھے مرے کالج سیالکوٹ میں 1955ء میں ایک برس انگریزی پڑھائی۔ خان اے حمید اور میاں محمود احمد (لائل پور) دونوں وکیل تھے اور میں انہیں پچاس کی دہائی کے وسط سے جانتا تھا۔ میں پروفیسر امین مغل کو ملنے 1954ء میں سیالکوٹ شہر کے قریبی قصبے کوٹلی لوہاراں سائیکل پر گیا۔ وہ بھی میری طرح اب برطانیہ میں مقیم ہیں ۔ میرے لیے وہ ایک گزرے ہوئے روشن دور کی واحد نشانی ہیں اور مجھے بے حد عزیز ہیں۔ میں ان کی سلامتی کے لیے دعا گو ہوں۔
امین مغل کے بارے میں یہ لکھنا ضروری ہے کہ وہ بائیں بازو کی بڑی سیاسی پارٹی نیشنل عوامی پارٹی کے جنرل سیکرٹری تھے۔ مناسب تھا کہ لال خان پر مضمون لکھنے سے پہلے مندرجہ بالا سطور بطور تمہید لکھی جاتیں۔ کتنا اچھا ہوا کہ لال خان کے حوالے سے میں ان کے نظریاتی قبیلے کے دوسرے افراد کے نام بھی ریکارڈ کا حصہ بنا سکا۔ نئی نسل نے ان لوگوں کے نام بھی نہ سنے ہوں گے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ جسمانی طور پر وفات پا گئے اور باقی سیاسی طور پر۔ جو دو چار ابھی زندہ ہیں وہ اخباروں میں کالم لکھتے ہیں۔ لال خان کا آبائی گاؤں بھٹیال‘ جہلم کے نواحی گاؤں کالا گجراں کے پڑوس میں تھا۔ وہ اپریل 1924ء میں پیدا ہوئے۔ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں دائیں بازو کے نیم خواندہ افراد اشتراکی ذہن رکھنے والے لوگوں کو ''سرخا‘‘ کہتے ہیں۔ اس لحاظ سے لال خان اسم بامسمّٰی تھے۔ ان کی ملازمت اور سیاست کا آغاز لاہور کے ریلوے ورکشاپ سے ہوا۔ ان کے ریلوے ورکرز یونین کے قائد مرزا محمد ابراہیم نہ صرف ان کے علاقے کے تھے بلکہ ذہنی اور نظریاتی اعتبار سے بھی ان کے قریب تھے۔ انہوں نے ایک سرگرم ٹریڈ یونین کارکن کی حیثیت سے نمایاں کارنامے سرانجام دیے مگر گرفتار کر لیے گئے اور ملازمت سے بھی محروم کر دیے گئے۔
کمیونسٹ پارٹی کے خلاف قانون بنائے جانے کے بعد وہ کل وقتی کارکن کی حیثیت سے مزدوروں اور دوسری طبقاتی تنظیموں میں سیاسی کام کرتے رہے۔ پاکستان نیشنل عوامی پارٹی کے قیام کے بعد وہ اس میں شامل ہو گئے اور شمالی پنجاب کے ہر ضلع اور ہر تحصیل میں سرگرم عمل رہے۔ کئی دفعہ انہوں نے قلعہ لاہور کی جیل کی بدترین اذیتیں اور تشدد خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ انہوں نے پنجاب کی کئی جیلوں میں محض اپنے اشتراکی نظریات کی وجہ سے بطور قیدی کئی سال گزارے۔ جیل کا کھانا کئی سال کھانے‘ جیل سے باہر خانہ بدوش زندگی گزارنے‘ غیر مناسب خوراک استعمال کرنے اور دورانِ حراست بدترین تشدد کا نشانہ بننے سے لال خان کی صحت اتنی تباہ ہو گئی کہ وہ عارضۂ قلب میں مبتلا ہو گئے۔ پہلے میو ہسپتال اور پھر گنگا رام ہسپتال کا علاج بھی ان کی زندگی بچانے میں ناکام رہا۔ وہ 12 مئی 1966ء کی ایک شام صرف 42 برس کی عمر پا کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ان کی وفات پر جالب نے نوحہ لکھا، قلعہ لاہور تیرا ایک قیدی مر گیا۔ انہیں انکے آبائی گاؤں بھٹیال کے ایک چھوٹے سے ویران قبرستان میں اسی خاک میں سپردِ خاک کر دیا گیا جہاں سے 42 برس پہلے ان کا خمیر اٹھا تھا۔ ان کے سوگواروں میں بیوی ‘پانچ کم عمر بچے اور ہزاروں سیاسی کارکن شامل تھے۔وہ جب سیاسی کارکن بنے تو ہمیشہ کھدر کا لباس پہنا۔ جہلم کی سرزمین‘ جو فوج اور پولیس کے سپاہیوں اور افسروں کی بھرتی میں بہت زرخیز ثابت ہوئی‘ کے دیہاتی سپوتوں کی طرح لال خان بھی دراز قد اور تنومند شخص تھے۔ انہوں نے کئی بار اپنی جسمانی قوت کو چائے اور سگریٹ پر زندہ رہنے والے ترقی پسند ادیبوں کی طرح دشمنوں کی یلغار کو ناکام بنانے کیلئے استعمال کیا۔ میں نے ایک بار انہیں مذاقاً کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ آپ میرے ساتھی ہیں۔ اگر آپ میرے مخالفوں کے ہر اوّل دستے میں ہوتے تو میں آپ کو دیکھ کر ہی دم دبا کر بھاگ جاتا۔ بقول اقبال: عصا نہ ہو تو کلیمی ہے کارِ بے بنیاد۔
لال خان جب تک زندہ رہے وہ عوام دوست اور ترقی پسندوں کیلئے ایک قابلِ اعتماد عصا تھے جو انہیں ہر جارحانہ حملے سے بچاتا تھا۔ ان کی موجودگی ان کے ساتھیوں کو تحفظ کا احساس دلاتی تھی۔ انہوں نے سکولوں اور کالجوں کی روایتی تعلیم حاصل نہ کرنے کی تلافی اپنی ذہانت‘ وسیع مطالعے اور سبط حسن جیسے بڑے دانشوروں سے عقل و فہم‘ تجزیے‘ تاریخ کے شعور اور طبقاتی آگہی سیکھ کر کی۔ انہوں نے کبھی ایسا لفظ نہ بولا جو ان کے وقار کو کم کرتا ہو۔ لال خان اپنے تمام ساتھیوں سے جتنی محبت کرتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے‘ انہیں اس سے کہیں زیادہ محبت اور عزت اپنے ساتھیوں سے ملی۔ لال خان میں ہر وہ خوبی تھی جو ایک اچھے نظریاتی کارکن میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کردار کو اپنی نجی اور ازدواجی زندگی پر ترجیح دی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ نہ اچھے شوہر ثابت ہوئے اور نہ باپ۔ لیکن یہ خامی تو اور بڑے رہنماؤں میں بھی تھی‘ جو ان کی بڑائی کو رتی بھر بھی کم نہ کر سکی۔