"SBA" (space) message & send to 7575

عالمی استعمار عمران خان سے خوفزدہ کیوں؟ …(2)

ہم بات کر رہے تھے عالمی استعمار کی اس ڈارک ویب کی جہاں سے ورلڈ آرڈر جنم لیتا ہے۔ ورلڈ آرڈر بنانے کیلئے عالمی طاقتوں کا طرزِ عمل غیر انسانی حد تک بے رحمانہ ہے۔ یہاں سے آگے چلتے ہیں۔ اسی دوران بین الاقوامی نمبردار ٹرمپ اور مڈل ایسٹ میں ٹرمپ کے کَن ٹُٹے نیتن یاہو نے ہمارے پڑوس میں چھیاسی سالہ مرد مجاہد سید علی خامنہ ای کی رہائش گاہ پر راکٹ اور بم برسائے۔ ایسا سلوک مسلم تاریخ میں اس سے پہلے کسی خودمختار ملک کے سربراہ سے ریکارڈ پر نہیں۔ اس صدی کے علی نے شہادتِ علی کرم اللہ وجہہ کے مہینے میں‘ عالمی طاغوت کے عالمی استعمار کے آگے ڈٹ کر رتبہ شہادت پایا۔ سید علی خامنہ ای کے اہلِ خانہ بھی شہیدِ اعظم ابنِ علی کے خانوادے کی سنت پر چل کر امر ہو گئے۔ عصرِ حاضر کے شہید کی اہلیہ‘ ان کے بیٹے‘ ان کی صاحبزادی اور ان کی تین سالہ نواسی سیدہ زہرہ اپنے بابا کی آغوش میں شہادت سے سرفراز ہوئی۔ ایران کے شہید سپریم لیڈر کے ساتھ درجن سے زائد جرنیل بھی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اس نئی تاریخ نے عالمی استعمار کی تاریخ بدل چھوڑی ہے۔ اب اسرائیل کی طاقت کا زعم فائر پاور کا خوف اور امریکہ کا International bulleyism خاک چاٹ رہا ہے۔ وہ گیارہ عرب ممالک جنہوں نے امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کیے‘ امریکہ نے اُن سب کو دھوکا دیا۔ ان کی حفاظت کی بجائے امریکہ کا پورا ملٹری کمپلیکس اسرائیل کے آنسو پونچھنے میں مصروف ہے۔ ایسے میں عمران خان بین الاقوامی آئیکون بن چکے ہیں‘ جن کی حمایت میں اس قدر عالمی آوازیں بلند ہو رہی ہیں جو علیحدہ سے ایک ریکارڈ ہے۔ واپس آتے ہیں!
عالمی طاقتوں کا دوسرا طریقہ: اگر کوئی سپائی ماسٹر یہ جان لے کہ آپ کس چیز کی خواہش کرتے ہیں‘ کس کی سب سے زیادہ تمنا رکھتے ہیں‘ آپ کس کے پیچھے دوڑ رہے ہیں یا کس پر مرتے ہیں‘ بے شک وہ پیسہ ہے‘ رشوت ہے‘ جنسی لذت ہے‘ جب یہ پتا چل جاے تو پھر ایسے سیاست کار‘ ریاست کار یا لیڈر کی ہر حرکت کو اسٹیبلشمنٹ کنٹرول کر لیتی ہے۔ استعماری طاقتیں صرف لیڈروں کو خدمات کے عوض بھرتی کرنے پر یقین نہیں رکھتیں کیونکہ وہ اپنے گماشتوں کا عالمی پیمانے پر ہمیشہ کے لیے امتحان لیتے چلے جاتے ہیں‘ جس کی مثالیں دنیا بھر میں موجود ہیں۔ ان میں خاص طور سے مہنگے سگار پینے والے‘ لش پش لباس اور گاڑیوں والے‘ کرنسی نوٹوں کی موٹی تہہ اور توند والے لوگ اور عالمی افق پر ابھرنے والے ستارے استعمار کا بڑا شکار بنتے ہیں۔
یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان کرکٹر کی حیثیت سے ایپسٹین کی دنیا میں کس طرح سے خوف کی سب سے بڑی علامت بن گئے؟ عالمی اسٹیبلشمنٹ جانتی ہے عمران کے درجے کا کھلاڑی دنیا کے شیڈو نیٹ ورک کے اندرونی دائرے میں کس قدر قیمتی ہوتا ہے۔ یہ ایک پبلک فیکٹ ہے! سیاست سے کئی دہائیاں پہلے عالمی اسٹیبلشمنٹ ٹیلنٹ کو ابتدا میں تلاش کر لیتی ہے اور وہ ٹیلنٹ کے طاقتور ہونے سے پہلے اس ٹیلنٹ کا مالک بننے کا ہنر رکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ آپ کو جزیرے پر ایپسٹین کے ذریعے مدعو کرتے ہیں‘ خصوصی گالا برپا کرتے ہیں۔ پھر آپ کی آنکھیں بڑے بڑے پکسل کے ذریعے سے گہرائی تک دیکھتے ہیں۔ جس کے بعد اس بات تک جا پہنچتے ہیں کہ آپ کی دلچسپی مال‘ زر‘ زن میں زیادہ کہاں ہے۔ کیا آپ آ ف شور اکاؤنٹس‘ لگژری لائف اور لوگوں میں نام ونمود چاہتے ہیں۔ جس لمحے وہ آپ کو خوش یا چڑچڑا دیکھیں وہ اسے بھی ریکارڈ کر لیتے ہیں۔ ایسی مجلسوں میں آپ کو لگتا ہے آپ ہی وی آئی پی مہمان ہیں لیکن حقیقت میں آپ صرف سدا کے یرغمالی بننے کے لیے اپنے آپ کو آفر کر رہے ہوتے ہیں۔ بین الاقوامی انٹیلی جنس ایجنسیز اس کو compromised matrix کا نام دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یرغمالی رہنما اکثر اچانک فیصلے بدل دیتے ہیں۔ قوم اور اصول کو دھوکا دینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے۔ ان سے ایسے معاہدوں پر دستخط کروانا جو اُن کے اپنے لوگوں کو موت کی وادی میں دھکیل دیں‘ زیادہ ٹائم نہیں لیتا۔ وہ پٹّا کھینچتے ہیں اور رہنما کا سر جھک جاتا ہے۔ اندرونی طور پر اپنے ہاں تاریخ میں ایسے کردار ہمیشہ موجود رہے جنہوں نے یرغمالی بن کر پوری قوم یرغمال رکھ دی۔ ہمارا پہلا یرغمالی وہ تھا جس نے امریکہ کی طرف سے USAID کی مونگ پھلی کھانے کی عادت ڈالی۔ دوسرا یرغمالی وہ جو اپنے زور پر اچھے خاصے چلتے ہوئے ملک کو کھینچ کر آئی ایم ایف‘ ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی راہداریوں میں لے گیا۔ تیسرا یرغمالی وہ جس نے ملک کی تاریخ میں امریکہ کے کہنے پر پہلی افغان پراکسی وار کی آگ میں قوم کو دھکیلا۔ چوتھا یرغمالی وہ جسے دوسری پراکسی جنگ کے عوض شاہ عبداللہ کے ذریعے لندن اور دبئی میں فلیٹ خریدنے کے لیے ریال دلوائے گئے۔ عالمی استعمار کے ایک انڈر سیکرٹری نے فون پر دھمکی لگا کر اسے یرغمال بنایا تھا۔ لاطینی امریکہ میں کئی یرغمالیوں کے واقعات تازہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ مثال کے طور پر ان میں سے پہلا یرغمالی پاناما کا فوجی صدر جنرل نوریگا تھا۔ امریکہ کے کاغذوں میں گڈ بوائے بننے کے لیے پاناما میں امریکی ارب پتیوں کے لیے آف شور کمپنیاں بنائیں۔ پھر اپنے لوگوں کے سامنے گڈ بوائے کا ماسک پہن کر ان کمپنیوں کا آڈٹ شروع کر دیا۔ اسے امریکہ مدعو کیا گیا‘ اس کے کاندھوں پر گڈ بوائے کے پنکھ سجائے گئے۔ وہ واپس پاناما گیا تو اس کی چال بدلی ہوئی تھی۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کی تقدیر بدلنے والی ہے۔ ایک دن امریکن سپیشل فورسز نے نوریگا کو ڈرگ چارجز میں ملوث قرار دے کر صدر ہائوس سے اغوا کیا اور امریکی جیل میں ڈال دیا تا دمِ مرگ۔
قارئینِ وکالت نامہ عمران خان کے تقابل کے لیے میرے الفاظ نہیں بلکہ آپ جیفری ایپسٹین کے الفاظ اس کی اپنی فائل میں سے پڑھ لیجیے۔
Time 7:26 AM... 31.07.2018...Message:
Hasn't pointed out assasinations to over through..... coup funding... Imran Khan in Pakistan a much greater threat to peace than Erdughon. Khamenai. Xi or Putin.
ہم سب کھلی آنکھوں سے ایسا وقت دیکھ رہے ہیں جب ایرانی قوم عالمی استعمار کے گریبان پر ہاتھ ڈال رہی ہے۔ تاریخ نے یہ بھی دیکھا ایران میں سپاہی نہیں جرنیل اور ان کے چیف اور سپریم کمانڈرز شہادتیں پیش کر رہے ہیں۔ خوف کے بطن سے نکلنے والی خاموشی قوموں کے لیے کبھی کوئی آپشن نہیں ہوتا۔ عالمی استعمار عمران خان سے اس لیے ڈرتا ہے کیونکہ ماسوائے اللہ رَب العزت کی ذاتِ بابرکات کے‘ وہ کسی سے نہیں ڈرتا۔
یونائیٹڈ انڈیا کے باغی شاعرساحر لدھیانوی نے فرنگی راج کے خاتمے سے بھی پہلے یہ بات ہمیں سمجھا رکھی ہے:
کہو کہ آج بھی اگر ہم سب خاموش رہے
تو اس دمکتے ہوئے خاک داں کی خیر نہیں
جنوں کی ڈھالی ہوئی ایٹمی بلائوں سے
زمیں کی خیر نہیں‘ آسماں کی خیر نہیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں