کوئی ایک المیہ ہو تو بات کریں۔ پاکستان کے تینوں بارڈرز ہند‘ ایران اور افغانستان کی زمین گرم ہے۔ مڈل ایسٹ کے آٹھ ممالک میں بمباری ہو رہی ہے۔ پرشیئن گلف پر امریکہ اور اسرائیل پورے جبروت اور بارود سے حملہ آور ہیں۔ ان مظالم کو دیکھ کر یورپ میں ''وائی کنگز‘‘ ریاستوں اور افواج کے بانی Ragnar Lodbrokکی یاد تازہ ہو گئی ہے جس نے برطانیہ سمیت پورے یورپ کو بار بار تاراج کیا۔ تب برچھا‘ کلہاڑا‘ بَلم‘ چُھرا‘ ٹوکا اور تلوار جنگ کے ہتھیار تھے۔ لڑائی دست بدست ہوتی۔ گھات لگانے کے لیے تیر و تفنگ۔ لیکن وائی کنگز بڑے رحمدل تھے‘ بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے۔ فصلوں پر قبضہ کر کے انہیں جلاتے نہیں تھے۔ سامان لوٹتے تھے مگر شہر باقی چھوڑ دیتے تھے۔ اس وقت ٹرمپ اور نیتن یاہو کی جوڑی نے وائی کنگز کی تاریخ دھندلا چھوڑی ہے۔ جنوبی افریقہ سے لیبیا‘ مصر‘ عراق‘ شام‘ لبنان‘ یمن اور ایران میں جتنی تعداد میں معصوم بچے امریکی اور اسرائیلی فائر پاور نے قتل کیے ان کی تعداد ہزاروں لاکھوں میں نہیں ملینز میں بنتی ہے۔ پیشہ ور صحافی‘ ریلیف کے خدائی خدمت گار‘ ٹیچرز‘ نرسیں‘ ڈاکٹرز سب کو بے رحمی سے خاک و خون میں زندہ درگور کر دیا گیا۔
آئیے! ایک دوسرا پہلو دیکھ لیتے ہیں۔ دنیا میں اس وقت کرۂ ارض پر لگ بھگ دو ارب چھ کروڑ مسلمان بستے ہیں‘ جو دنیا کی کل آبادی کا تقریباً 25فیصد بنتا ہے۔ سارے مسلم ملکوں کی تعداد ملا کر 57 کے قریب بنتی ہے‘ جن میں سے 26 ملکوں کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ زیادہ تر مسلم ممالک افریقہ‘ ایشیا اور سب صحارا افریقہ میں واقع ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک ملک بھی ایسا نہیں جو اسرائیل کی طرف ایک پتھر بھی پھینکنے کی ہمت کرے‘ اسرائیل کو آنکھیں دکھانا تو بہت دور کی بات ہے۔ ان ملکوں کے حکمرانوں میں سب زبانی کلامی اسلام کے شیدائی ہیں لیکن جہاد کا نام لینے سے خوف کھاتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے پر گولا باری کرنے میں دیر نہیں لگاتے‘ لیکن اسرائیل‘ جو سرزمینِ انبیاء فلسطین پر ناجائز قابض ہے‘ اور قبلۂ اوّل یا دیوارِ براق کی آزادی کے لیے دو قدم چلنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
ایسے میں یہ سال 2021ء تھا جب مغرب کے ناجائز بچے اسرائیل کے پولینڈ سے آئے ہوئے مہاجر وزیراعظم نیتن یاہو نے مغربی صحافی خاتون کو انٹرویو دیا۔ انگریزی زبان کے اس انٹرویو میں نیتن یاہو نے عالم اسلام اور خاص طور پر پاکستان کے بارے میں بھی گفتگو کی۔ یہ محض گفتگو نہیں بلکہ صہیونی ریاست کی منصوبہ بندی تھی جس کے بارے میں ''وارننگ شاٹ‘‘ بذریعہ پریس کانفرنس فائر ہوا۔ یہ ایک ارینج شدہ انٹرویو تھا جس میں مغربی صحافی خاتون نے نیتن یاہو سے یہ سوال پوچھا کہ آپ کی اگلی نسل کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ کون سا ہے اور اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے آج ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ساتھ صحافی کارکن نے کہا: یہ بہت بڑا سوال ہے‘ آپ کوشش کریں کہ اس کا صحیح جواب سامنے آئے۔ نیتن یاہو کا آج سے پانچ سال پہلے جواب ان الفاظ میں سامنے آیا:
Mission that we have is that we prevent islamic regime with nuclear weapons or that we prevent nuclear weapons meeting the islamic regime.
اس سلسلے میں ہمارے پہلے نشانے کا نام ایران ہے اور دوسرا نشانہ پاکستان ہے (خدا نخواستہ)۔ نیتن یاہو نے آگے کہا: میں خاص طور سے کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان زیادہ بڑا خطرہ ہے کیونکہ یہاں مذہبی انتہا پسند ٹیک اوور کر سکتے ہیں۔ اگر اس طرح کے ریڈیکل رجیم کے پاس ایٹمی ہتھیار آ جائیں تو وہ بین الاقوامی رولز کی پروا نہیں کرے گا۔ دوسری جنگ عظیم کے تقریباً سات عشرے بعد موقع آ گیا ہے کہ ایٹمی ہتھیار ایسی ریاست کے قبضے میں نہ ہوں۔ یہی ہمارا مشن نمبر ایک ہے اور مشن نمبر دو بھی۔
نیتن یاہو کے اس بیان بلکہ اعلان کے فوراً بعد ایران کو نشانے پر رکھ لیا گیا تھا۔ دوسری جانب بھارت نے اسرائیل سے مل کر کہوٹہ نیوکلیئر پلانٹ پر قبضے یا حملے کے لیے اپنی مسلسل کوششوں کو بالی وڈ کی فلم کے فیتے پر منتقل کیا ہے۔ شدت پسند صہیونی یہ پختہ نظریہ رکھتے ہیں کہ اسلامی انقلاب کے خاتمے کے بعد مملکتِ ایران کو کئی حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے پاکستان کے بارڈر کے ساتھ لگنے والے سیستان اور بلوچستان کے ایرانی علاقوں پر اسرائیل کی خصوصی نظر ہے۔ اس تقسیم کے بعد اسرائیل پاکستان کے پڑوس میں بیٹھنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان سے براہِ راست تصادم ممکن ہو سکے۔
ایران کے عظیم شہید سید علی خامنہ ای کی قیادت کے خاتمے پر امریکہ‘ اسرائیل کا خیال تھا کہ یہ کام آسان ہو جائے گا لیکن صدر ٹرمپ کو اب معلوم ہوا ہے کہ ایران میں جنگوں اور فوجی تربیت میں پلنے والے انقلابی گارڈز چار سطح پر ایران کی قیادت کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ایران کے شہید سپریم لیڈر نے جس طرح شہادت سے عشق کیا‘ تہران میں گھر اور خاندان چھوڑ کر دور دراز بنکر اور روس میں پناہ کی تجویز مسترد کر دی‘ اس سے علی خامنہ ای کی شہادت کی طلب اور لذت آشنائی نے دو ارب مسلمانوں کا ایمان تازہ کر دیا۔ ایک ایسے وقت میں جب مسلم ریاستوں کے منیجرز میں سے کوئی بھی اسرائیل کے خلاف کچھ سوچتے ہوئے بھی ڈرتا ہے‘ جس کا تازہ ثبوت یہ ہے کہ اسرائیل کی فرمائش اور خواہش پر سارے مسلم ممالک کے ریاستی منیجر اپنی قوم کے پیٹ کاٹ کر ایک ارب ڈالر والی ممبر شپ لینے کے لیے دوڑ کر غزہ بورڈ کی میز پر بیٹھ گئے۔ اس وقت پاکستانی ریاست کے لیے تین فیصلے کرنے میں تاخیر تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔
ریاست کا پہلا فیصلہ: وسیع تر قومی اتحاد کے لیے سب سے بڑی قومی جماعت سمیت سیاسی قیدیوں کو غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے۔ لوگ جو ووٹوں کی ڈکیتی کی وجہ سے غصے اور نفرت سے بھرے ہوئے ہیں‘ انہیں اپنی مرضی سے فوری طور پر حکومت منتخب کرنے کا موقع دیا جائے۔ اسرائیل کا جواب عمران خان جیسا باہمت شخص ملک کے اندر اور ملک کے باہر زیادہ مؤثر طور پر دے سکتا ہے۔ اس کا اپنا برانڈ ہے اس لیے وہ عالمی افق پر ایک مؤثر ترین آواز ہے۔
ریاست کا دوسرا فیصلہ: صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مصالحتی کوششوں کا فوری آغاز کیا جائے۔ ریاست اس سلسلے میں اعتماد سازی کے طور پر لوگوں کی آواز سنے اور شہری حقوق بحال کیے جائیں‘ ٹائم فریم کے ساتھ۔ نیک نیتی سے ایسی کوشش دونوں صوبوں میں امن واپس لا سکتی ہے۔ بلوچستان میں مرضی کے درباری پچھلے دروازے سے اقتدار میں نہ بیٹھ جائیں اور بلوچستان کے وسائل بلوچستان کے عوام کی مرضی سے ان پر خرچ کیے جائیں۔ پاکستان کے تحفظ پر ہم سب ایک ہیں۔ لیکن بد بختی یہ ہے ہمیں ایک میز پر بٹھانے والا کوئی نہیں۔
مشکل ہوا ہے رہنا ہمیں اس دیار میں
برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہوا
وہ کام شاہِ شہر سے یا شہر سے ہوا
جو کام بھی ہوا ہے وہ اچھا نہیں ہوا