"SBA" (space) message & send to 7575

راتیِں پورا پنڈ نئیں سُتا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ کو چھوڑ کر امریکیوں کی اکثریت برملا کہہ رہی ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ ہارا ہے جیتا نہیں۔ پاکستان میں مغربی سفارتخانوں کے دستر خوان کے ٹکڑے سمیٹنے والے اس کھلی شکست کو امریکہ کی سٹرٹیجک فتح قرار دیتے ہوئے شرماتے بھی نہیں۔ 24گھنٹے پہلے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو جنگ کے معاملات جلد نمٹانے کا عندیہ دیا۔ ساتھ ہی یہ دھمکی بھی کہ اگر ایران نے جنگ ختم نہ کی تو ایران کی سرزمین پر امریکی بمباری پہلے سے زیادہ خوفناک ہو گی۔ عین اسی وقت جب صدر ٹرمپ کا یہ بیان آیا ساتھ ہی عسکری ذرائع نے یہ خبر بریک کی کہ امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے ''Closing in memo‘‘ کو فائنل کر رہا ہے۔ اس سے دو دن پہلے امریکی بحری بیڑے کے ایک وار شپ نے ہرمز میں حرکت شروع کی تو ایران نے اعلانیہ اس پر دو میزائل سٹرائیک مارنے کی خبر پبلک کر دی۔ دسترخوانی قلمکار اور فنکار ٹرمپ کی فتح کا دَف بجاتے ہیں اور اس کی وجہ امریکی ہی بتاتے ہیں کہ There is no free cup of tea۔
یہ حقیقت کون نہیں جانتا کہ مغربی نشریاتی ادارے ابھرتے ہوئے مشرق اور اسلامی ممالک کے خلاف ہتک آمیز تعصّب کا اظہار کرتے کبھی نہیں ہچکچاتے۔ اس کے باوجود بھی امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے امریکی جنگ کے ڈھول کا کچھ کچھ پول کھول چھوڑا ہے۔ تین دن پہلے ان کے مین بلیٹن میں ایک تہلکہ خیز ڈاکیومنٹڈ کمنٹری نشر کی گئی‘ جس کی بنا پر باشعور امریکی شہری اپنے ہی صدر ٹرمپ کی ایران جنگ میں شکست پر یقین کر چکے ہیں۔ تصدیق شدہ معلومات اور وڈیوز پر مشتمل سی این این کی تحقیقات میں ایران کی جانب سے پرشیئن اور عریبیئن گلف میں امریکی فوجی اڈوں کی بڑے پیمانے پر غیرمعمولی تباہی رپورٹ کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے کچھ حصے ان لوگوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی سے زیادہ ثابت ہوئے جو ایران کو ڈراتے تھے اور کہتے تھے کہ اگرایران نے امریکی اڈے پر ایک بھی میزائل یا ڈرون مارا تو امریکی اسرائیلی مشترکہ بمباری ایران کو غزہ ٹُو بنا دے گی۔
مذکورہ بالا ایسی تحقیقاتی صحافتی رپورٹ ہے جس کے آغاز میں کویت میں واقع کیمپ ''Buehring‘‘ (بیورنگ) میں ناچتے گاتے امریکی فوجی دکھائے گئے ہیں۔ یہ کیمپ خلیج میں سب سے بڑا امریکی فوجی طاقت کا مرکز مانا جاتا ہے۔ اس کیمپ کا نام ایک امریکی آرمی افسر پال ایف بیورنگ کے نام پر رکھا گیا جس نے عربستان کے ریگستان میں پہلے امریکی مائیکرو سٹی کی بنیاد رکھی۔ یہ کیمپ ایرانی میزائل اور ڈرونز کے ایک ہفتے کے مسلسل طویل حملوں کے بعد تقریباً خالی پڑا دکھایا گیا ہے جس کی تنصیبات کے ہر حصے پر ایرانی بمباری نے تباہی مچا دی۔ بیورنگ اڈے سے امریکہ اسرائیل نے ایران کے بڑے ہتھیاروں کو سورس پر نشانہ بنایا تھا۔ اس رپورٹ کی روشنی میں اب چلئے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے 70دن کی طرف‘ اس عرصے میں ایران کے مسلسل حملوں نے امریکہ کے لینڈ مارک فوجی اڈوں کو کس طرح غیر مؤثر اور برباد کر کے رکھ دیا۔
ایران کا تیز رفتار ایکشن: امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے جو واقعاتی شہادتوں سے بھرپور ڈاکیومنٹڈ تجزیہ نشر کیا ہے‘ اس تجزیے سے وہ وجوہات سامنے آ گئیں جن کی بنا پر باشعور امریکی شہری ایران کے خلاف ٹرمپ وار اور اسرائیل وار دونوں کو غیر ضروری اور ناپسندیدہ قرار دے چکے ہیں۔ یہ رپورٹ کہتی ہے کہ ایران نے جنگ شروع ہوتے ہی آٹھ عرب ممالک میں کم از کم 16 امریکی تنصیبات پر ایسی تباہی مچائی جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ زمینی صورتحال سے واقف ایک امریکی ذریعے نے سی این این کو بتایا کہ امریکی فوجی پوزیشنوں کی اکثریت اب جدید جنگی ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے کے قابل نہیں رہی۔
ایران نے کون سے جنگی اہداف حاصل کیے: ایران نے شہروں اور سویلین آبادی کو بچا کر قیمتی ترین امریکی سامانِ حرب و ضرب کو نشانہ بنایا۔ اس کامیابی کا اندازہ بوئنگ E3سینٹری طیارے کو دو ٹکڑے کرکے تباہ کرنے سے لگایا جا سکتا ہے جو سعودی صحرا میں ایک ایئر بیس پر کھڑا تھا۔ اس طیارے کو پورے خلیجِ عرب میں بہت زیادہ مؤثر معلومات فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ اب یہ طیارہ آؤٹ آف پروڈکشن ہے۔ اس بوئنگ E3 کی قیمت نصف بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ سی این این کی تحقیقاتی رپورٹ کہتی ہے کہ ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے بڑے نشانے چن چن کر ہر طرح کی ایئر کنٹرول ٹیکنالوجی کو شکست دے کر کامیابی سے تباہ کیا۔
دیوہیکل گالف گیندوں کی تباہی: مڈل ایسٹ اور ایشیا میں سیٹیلائٹ ڈشز کی حفاظت کرنے والے اور تمام ڈیٹا کی ترسیل کے لیے گالف کے کھیل میں استعمال ہونے والی گیند کی شکل پر جو چھ مراکز بنائے انہیں Redoms کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل‘ ایران پر جس ہوائی برتری پر ناز کرتے تھے وہ انہی Redoms کی مرہونِ منت تھی۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے جنگ میں ایک ماہ سے بھی کم عرصے کے اندر ایک کے علاوہ باقی تمام ریڈومز کو پوری طرح تباہ کر دیا۔ اس حوالے سے اہم ترین بات یہ ہے کہ ریڈار سسٹم کو گائیڈ کرنے والا یہ نظام انتہائی پیچیدہ اور بہت مہنگا ہے‘ اور اس کو بدلنا بہت مشکل ہے اور یہ فضائی دفاع کے لیے دوسرا بڑا ذریعہ تھا۔ ایک کانگریسی معاون نے سی این این کو بتایا کہ ان اہداف کے نقصان کی لاگت سب سے زیادہ ہے۔
اسی دوران ایک طبقاتی جنگ ہمارے شہرِ اقتدار میں برپا ہوئی جو لوکیشن کے حساب سے ریڈ زون کے جنوب اور شمال دو کنارے ہیں۔ 1970ء میں اسلام آباد میں ایک سیکٹر بری امام کالونی کے نام سے تعمیر ہوا جسے سرکار نے روڈ‘ بجلی‘ گیس‘ ہسپتال‘ ٹیلی فون کنکشن‘ پولیس سٹیشن سمیت ساری سہولتیں فراہم کیں۔ وہاں دن دہاڑے ہزاروں مکینوں کے سینکڑوں گھر ہیوی مشینری کے ذریعے زمیں بوس کر دیے گئے۔ یہ کالونی صدر ہاؤس اور وزیراعظم ہاؤس کی مشرقی باؤنڈری والی سڑک کے عین دوسری جانب ہے۔ اس پہ ہائبرڈ نظام نے نوٹس لیا نہ اس بستی کی خواتین اور بچوں کی چیخیں صدر ہاؤس اور وزیراعظم ہاؤس کی اونچی دیواریں پھلانگ سکیں۔ نہ ہی ان کے ساتھ جڑے انصاف کے سب سے بڑے مندر میں زنجیرِ عدل ہل سکی۔ بری امام کالونی خدا کی بستی تھی جس میں خدا کے غریب‘ لاچار اور مزدور کار بندے عشروں سے بس رہے تھے۔ پچھلے ہفتے آدھی رات کے وقت شہری انتظامیہ نے ''گرینڈ ہائٹ‘‘ ہوٹل کے 14 ایکڑ پلاٹ پر بننے والا اپارٹمنٹ ٹاور وَن کانسٹیٹیوشن واگزار کروانے پہنچ گئی۔ نصف شب کے بعد بڑوں کا سکون برباد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف بڑی ٹلّیاں کھڑکیں۔ چیف ایگزیکٹو نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے پر وزارتی کمیٹی بٹھا دی اور بے دخلی ایکشن روک دیا۔ میں ہمیشہ طبقاتی تقسیم پر بولتا اور لکھتا آیا ہوں مگر اتنا مؤثر نہیں جتنا ان دو واقعات پر پنجابی زبان کے شاعر نے دو مصرے موزوں کر دیے۔
لِسّے دی مر گئی ماں کوئی نئیں لیندا ناں
ڈاڈھے دا مر گیا کتا‘ راتِیں پورا پنڈ نئیں سُتا

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں