ہمارے اردگرد کے خطے میں واقعات کی رفتار اور نبض پر خلیج کے تجزیہ کاروں اور صحافیوں کا صحیح ہاتھ ہے۔ ساتھ مغرب کے متبادل میڈیا منیجرز بھی خبر بتاتے ہیں‘ خواہش کو خبر ہرگز نہیں بناتے۔ امریکہ اور برطانیہ دونوں ملکوں میں کارپوریٹ میڈیا اصل خبر چھپانے‘ حقائق توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور اسرائیل کے خلاف کچھ نہ کہنے کی بنا پر پوسٹ غزہ قتلِ عام اور پوسٹ ایران وار شدید تنقید کی زد میں ہے کیونکہ اب ان کے ہاں انفارمیشن کا سیلاب نہیں بلکہ Flood of dis-information اور ڈکٹیشن کا راج ہے۔ پچھلے چار سال میں پاکستان میں اشتہار بازی کو چھوڑ کر کوئی ایک کامیاب پالیسی‘ کوئی یکا اور تنہا ایسا قومی شعبہ یا راج نیتی کا کوئی ایسا پہلو دریافت نہ ہو سکا جو ملک کے بزنس مین‘ کسان‘ دیہاڑی دار اور وطنِ عزیزکی یُوتھ اکثریت کو امید کے جھوٹے رُوپ درشن کروا سکے۔
واقعات نے پاکستان کو کھینچ کر ایسے چوراہے میں کھڑا کر دیا ہے جہاں سے آگے کا راستہ نکالنے کے لیے موجودہ نظام میں کوئی سُدھ بُدھ نظر نہیں آتی۔ اس کے ثبوت ملکی معیشت کے تین پہلو سب کو دکھا رہے ہیں۔
پہلا پہلو ہماری فوڈ باسکٹ: اپنے ہاں اہم ترین قومی موضوع‘ شعبۂ زراعت پر اعداد و شمار جمع کرنے کا دو سطح پر بالکل رواج نہیں ہے۔ ایک سرکاری سطح پر زمینی حقائق کو ''بچھو‘‘ سمجھ کر ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا۔ ادارہ جاتی نالائقی چھپانے کے لیے بڑے بڑے سرکاری محکموں کے دفتروں میں ریکارڈ جلانے والی آگ بھڑکتی ہے‘ مگر ان محکموں کی کارکردگی‘ اخراجات پر کوئی فرانزک رپورٹ کبھی سامنے نہیں آئی۔ پاکستان زرعی معیشت کا حامل ملک تھا۔ اب زراعت کا جو حال ہے اور کھانے پینے والی زرعی اشیا‘ سبزیوں‘ پھلوں کے نرخ کی جو روزانہ چال ہے اس سے ہر طبقہ بے حال ہے۔ شمالی پاکستان اور بلوچستان میں آبی وسائل کی ناقص منصوبہ بندی‘ زمینداروں کی پتلی معاشی حالت کے علاوہ بہت مہنگی بجلی‘ انتہائی مہنگا ڈیزل‘ اس سے مہنگی کھادیں نایاب ہونے کی وجہ سے ہر جگہ زرعی اجناس کی پیداوار میں روز افزوں کمی ہے۔ آپ مارکیٹ میں بلیو بیری خریدنے جائیں تو وہ افریقہ کی امپورٹ ملتی ہے۔ 600فی کلو روپے والا اچھا سیب نیوزی لینڈ سے منگوایا جا رہا ہے۔ دھنیا اور مرچیں انڈیا سے بلیک راستے سے۔ نہ کوئی زرعی پالیسی نہ غریب کسان اورچھوٹے کاشتکار کے لیے سہولت نہ سبسڈی۔ مگر ہائبرڈ نظام مرکز اور پنجاب کے ایئر کنڈیشنڈ بند کمروں میں بیٹھ کر کاشتکاروں اور کسانوں کے لیے آئی ٹی سکیمیں اور زرعی سہولت کارڈ بنانے کا اعلان کر رہے ہیں۔ اگر ہماری وزارتِ زراعت چین سے کچھ نہ سیکھنے کی قسم توڑنے پر تیار ہو جائے تو ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ملک نے جس طرح کے پھل اور سبزیاں 'ایجاد‘ کر لیے ہیں وہ عجوبہ یہاں بھی آ سکتا ہے۔ جبکہ ہماری زراعت کے منیجرز کے لیے سٹیل‘ سریے‘ سیمنٹ اور بجری والے پروجیکٹ ''چندا ماموں‘‘ کی طرح پیارے ہیں۔ ان دنوں کسی نے کسان سے پوچھا کہ آپ کو موجودہ رجیم میں سب سے بڑی سہولت کون سی ملی ہے؟ کسان نے بڑے اعتماد سے جواب دیا: لوڈ شیڈنگ۔ پھر سوال ہوا: وہ کیسے؟ کسان بولا: علامہ اقبال کے بعد اگر کسی نے قوم کو جگایا ہے تو وہ لوڈشیڈنگ ہے۔ ریاست کے پاس باسکٹ تو اب بھی ہے لیکن اس میں ڈالے گئے سارے فوڈ باہر سے امپورٹ ہوتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس نظام کا کمال ہے کہ جس نے زرعی معیشت میں چھپی ہوئی گوبر ٹیکس جیسی سپر پاور دریافت کر لی۔ لوگ سوچتے ہیں سورج تو اللہ کا ہے اور اللہ سب کا۔ سولر عوام کے جیب خرچ سے خریدا گیا۔ سولر عام آدمی اپنے گھر کی چھت پر لگاتا ہے‘ چھت بھی اس کی اپنی۔ حیرانی کی بات یہ کہ سورج اللہ کا‘ گھر کی چھت غریب کی‘ سولر بازار سے خریدا ہوا‘ اب اسے لگانے کے لیے وہ نیپرا سے اجازت لے گا‘ اور پھر فیس بھی بھرے گا؟ معاشیات کے باوا آدم ایڈم سمتھ حیات ہوتے تو سولر پینل والی چھت سے لٹک جاتے۔ قومی معیشت کی ترقی کے لیے یہ سارے راز بابائے اکنامکس کے خیال تو کیا خواب میں بھی نہ آ سکے۔ شعبۂ زراعت کا یہ فری فال کون ٹھہرائے گا اس کا جواب اس نظام کے پاس نہیں۔
دوسرا پہلو شدید بھوک اور غذائی عدم تحفظ کا انڈیکس: حال ہی میں خوراک کے عدم تحفظ کا شکار ملکوں کی گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز برائے 2026ء جاری ہوئی جس میں غذائی عدم تحفظ کا پرائم سنٹر آف گلوبل ہنگر انڈیکس موجود ہے۔ فہرست میں پہلے نمبر پر سوڈان پھر نائیجیریا‘ کانگو‘ افغانستان‘ یمن کے بعد چھٹے نمبر پر پاکستان ہے۔ مختلف اعداد و شمار کے ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ پٹرولیم قیمتوں میں بے پناہ‘ بے ہنگم اور ناجائز اضافہ غذائی تحفظ کی صورتحال کو مزید خراب کرنے کا باعث ہے۔
تیسرا پہلو بیرونی سرمایہ کاری کا بحران: ہائبرڈ رجیم کی بنیاد رکھتے وقت پاکستانیوں کو جھوٹا خواب دکھایا گیا۔ ایک سال کے عرصے میں سو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں لائیں گے۔ معاشی منصوبہ بندی کی غیر موجودگی میں بیرونی سرمایہ کاروں کے عدم اعتماد کو اعتماد میں نہیں بدلا جا سکا‘ جس کے نتیجے میں ہائبرڈ راج میں مارچ2024ء سے فروری 2026ء تک ہر دن اوسطاً 21سے 25ارب روپے قرض میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وزارتِ داخلہ اور وزارتِ خزانہ کہتی ہیں کہ پاکستان سے اربوں ڈالر باہر گئے۔ مگر اس پر افسوس کے علاوہ کوئی کارروائی کیوں نہ ہوئی؟ آئی ایم ایف کرپشن کے ان اعداد و شمار کو مسترد کرتا ہے۔ اس کے مطابق 2025ء میں پاکستان میں پانچ ہزار تین سو ارب روپے کی کرپشن ہوئی۔ پنجاب کی سالانہ رپورٹ میں یہ رقم کم کرکے چار سو ارب روپے بتائی گئی۔ ادارۂ شماریات اور سٹیٹ بینک کے مطابق 2025ء میں 25بڑی کمپنیاں پاکستان چھوڑ گئیں۔ ہر سال حکمران‘ اشرافیہ کے کرپشن زدہ فیصلوں کے نتیجے میں 2900ارب بجلی‘180ارب ایل پی جی کی کپیسٹی پیمنٹ میں چلے جاتے ہیں۔ وزیر پٹرولیم کہتے ہیں کہ یہ رقم ہم نہیں لیتے۔ بجلی اور گیس کے بل آپ کی وزارت بھیجتی ہے‘ پھر رقم کون لیتا ہے؟ جو وزارت کی ذمہ داری نہیں لے سکتے وہ ملک کے مستقبل کا ذمہ کیسے لیں گے۔
اُٹھ شاہ حسینا ویکھ لے ساڈی بجلی گئی اے بُجھ
سانوں کنداں ٹکراں وجدیاں ساڈی بوتھی گئی اے سُجھ
اُٹھ شاہ حسینا ویکھ لے ساڈی وج گئی اے مَت
کوئی کُبّا لبھ کے دیو سانوں جیہڑا دیوے سانوں لَت
اُٹھ شاہ حسینا ویکھ لے سانوں ظالماں دِتّا رول
ساڈے گیس دے چُلہے بجھ گئے ساڈی گَڈّی نہیں پٹرول
اُٹھ شاہ حسینا سُتیا چُک منہ دے اُتوں لحاف
اسی ہتھ بن عرضاں کردے ساڈی بھل چک کر دے معاف