"SBA" (space) message & send to 7575

عجیب جنگ تھی!!

کرّۂ ارض کے جس خطّے میں لوگ غریب ہوں‘ ان کے بُرے نصیب ہوں‘ مقتدر اُن کے رقیب ہوں‘ حالاتِ زندگی مہیب ہوں‘ پھر وہاں پہ جنگ عجیب کیوں نہیں ہو سکتی؟ خوبرو ہیلن آف ٹرائے کے لیے جنگ ایک ہزار سال سے بھی طویل ہو سکتی ہے‘ ہماری تاریخ میں اگر بچہ سقّہ چمڑے کے سکے جاری کر سکتا ہے‘ 8 مئی کے دن پٹرول کی قیمت 414.58 روپے اور ڈیزل کی قیمت 414.58روپے تک بڑھائی جا سکتی ہے‘ تو پھر ایسی دنیا میں اسرائیل‘ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ مظہر العجائب کیوں نہیں؟ چلیے! آپ کو زندہ حقیقتوں کی چلتی پھرتی سیریز دکھاتے ہیں۔ اس سہ فریقی جنگ میں لڑا ایران‘ مار اسرائیل نے کھائی‘ ہار امریکہ کی ہوئی‘ برباد متحدہ عرب امارات ہو گیا‘ جیت چین کی ہوئی‘ عزت ا ہلِ ایران کو ملی‘ بے عزتی انڈیا کی ہوئی اور پٹرول پاکستان میں مہنگے سے مہنگا ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایسے میں لازمی طور پر دھیان الہام وافکار کی طرف جاتا ہے جس میں جوش ملیح آبادی نے خوب توجہ دلائو نوٹس جاری فرما رکھا ہے۔
تا بکَے جینے کے منصوبے نہ برتے جائیں گے
تا کجا چھلکے سُبو خود سے نہ بھرتے جائیں گے
عالمِ انسان ان دنوں نظامِ پاکستان پر حیران وپریشان ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت کرّہِ زمین کے طول وعرض میں صرف یہی ایک ایسا نظام موجود ہے جس میں ریاست کے لیے سب سے بڑے اجنبی کا نام ہے بے چارے عوام۔ عام آدمی کی بے چارگی ہائبرڈ نظام کے لیے کوئی عجب بات نہیں۔ شروع دن سے اس نظام کا ڈیزائن ہی غریب عوام کے ساتھ سنگین سے عجیب ترسلوک کرنے پر چلا آتا ہے۔ عجیب سلوک سے یواے ای کی اوپیک تنظیم سے علیحدگی کی طرف نظر اُٹھتی ہے۔ خاص طور سے سعودی عرب کے معاملے میں اس انخلا کو سرپرائز آف سنچری کہہ لیں کیونکہ اوپیک کا دوسرا نام ہے آرامکو‘ راس تنورہ اور پیٹرو ڈالرز۔ یوا یس بینکنگ کی دنیا میں KSA کو The guardian of petro dollars کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
گزرے مئی کے مہینے میں ایران پر حملے سے پہلے امریکی صدر ٹرمپ کے دورۂ گلف کا ایک عدد سٹاپ یو اے ای بھی تھا۔ اس پریزیڈنشل ٹرپ کے دوران انٹرنیشنل پریس کا کہنا تھا کہ تین عرب ممالک امریکی صدر ٹرمپ کی خوشنودی حاصل کرنے کے مقابلے میں جتے ہوئے ہیں۔ اسی لیے ایک سے بڑھ کر ایک جدت و حدت اور اعلاناتِ انویسٹمنٹ سے بھرپور استقبال ہوتا چلا گیا۔ ایسا استقبال کسی اور پڑھے لکھے صدرِ امریکہ کے حصے میں پہلے کبھی نہ آیا۔ اسی ورودِ مسعود سے حوصلہ پا کر یو اے ای کی لیڈرشپ نے امریکی دوستی اور تعلقات کے نئے دور کو امتحان میں ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں سے آگے یو اے ای کا عالمی اور علاقائی سطح پر عجیب سفر شروع ہوتا ہے۔ آیئے اس سفر کی ٹریکنگ گلف اور انٹرنیشنل میڈیا میں چھپے ہوئے حقائق کی نشاندہی سے کریں۔
یو اے ای نے اوپیک کیوں چھوڑا: ایرانی حملوں کے بعد یو اے ای نے اپنی کرنسی درہم کی گرتی ہوئی مارکیٹ ویلیو کو سہارا دینے کے لیے امریکہ سے کرنسی swap کرنے کی درخواست کر دی جس کے جواب میں امریکہ نے فوری طور پر سعودی عرب کو بھی کرنسی swap منصوبے میں شامل کرنے کا عندیہ دیا۔ خلیجی میڈیا کے باخبر بڑوں کا کہنا ہے کہ یو اے ای کے اوپیک سے نکلنے کی وجہ اس امریکی فیصلے پر مایوسی کا اظہار تھا۔ کچھ دوسرے حلقے اسے diplomatic disaster کا نام بھی دیتے ہیں۔ اس سفارتی Set back کے نتیجے میں یو اے ای کو ایوی ایشن اور ایئر سپیس کے حوالے سے بہت بڑے جھٹکے لگے۔ ایمریٹس ایئرلائن جو کمرشل ہوا بازی کی دنیا میں کسی ایئر لائن کو بھی مقابلے میں ہرا سکتی تھی‘ شنید ہے کہ سکیورٹی کنسرن کے سبب اس کے لیے سعودی عرب کے اوپر فلائی کرنا روکا جا سکتا ہے۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ دبئی سے لندن کی فلائٹ کا ٹائم سات گھنٹے سے بڑھ کر 14گھنٹے تک ہو جائے گا۔ دبئی عالمی ٹورسٹ سپاٹ ہے جس کے لگژری ہوٹلز چلتے ہی بین الاقوامی ٹرانزٹ حَب کی وجہ سے ہیں۔ بدقسمتی سے ان دو مسلم ریاستوں کے مابین تلخی اچانک ہیٹ پکڑ گئی۔
البطحا کراسنگ بلاکیڈ کیا ہے؟: اپنے ہاں بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات میں شامل تمام ریاستیں 1950ء کے عشرے سے بہت پہلے گرینڈ سلطنتِ عمّان کا حصہ تھیں۔ ان ریاستوں کا مقامی نظم ونسق شارجہ کے اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان ''القاسمی‘‘ کے ذمے تھا‘ جبکہ پوری سلطنتِ عمان کا نظم وگورننس چلانے کے لیے ''نَدوہ‘‘ کا ادارہ قائم تھا۔ 1950ء کے عشرے میں تاجِ برطانیہ کے زیرِ اہتمام ایک کانفرنس یو کے میں منعقد ہوئی۔ جس میں ان چھوٹی ریاستوں کو یونائیٹڈ سٹیٹس میں ضم کیا گیا‘ جس کے ذریعے نیویارک اور انگلینڈ کو خطے کے پانیوں تک مستقل رسائی حاصل ہو گئی۔ مغربی طاقتوں پر ٹوٹل انحصار کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
ہمارے کُل مستقبل کا انحصار بھی مغربی طاقتوں پر ہے؛ چنانچہ اب ہمارا بجٹ بھی آئی ایم ایف بناتا ہے۔ 25 کروڑ لوگوں پر کتنا ٹیکس لگانا ہے اس کا فیصلہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نامی بینک کے ملازمین کرتے ہیں۔ ابھی ایک دن پہلے ہائبرڈ سرکار نے بتایا کہ 4.8بلین ڈالر کے قریب دو قسطوں میں پاکستان کو آئی ایم ایف نے مزید قرض دینا ہے‘ جس کے لیے Cost reflecting energy prices یعنی تیل‘ پٹرول‘ ڈیزل‘ بجلی‘ گیس کے نرخوں میں مسلسل اور کنزیومر کی برداشت سے باہر اضافہ کرتے جانا ہے۔ ان قیمتوں میں بڑھوتری کا نتیجہ ٹرانسپورٹ‘ ایگری کلچر‘ فرٹیلائزر‘ کھانے پینے کی چیزوں کی بار برداری اور ضروری اشیا کے ریٹس میں بے ہنگم مہنگائی کا راستہ کھولنا ہے۔ حکومت عوام سے دو نمبری نہیں بلکہ نو نمبری کر رہی ہے۔ افراطِ زر کے طوفان پر پردہ ڈالنے کے لیے تازہ CPIیعنی کنزیومر پرائس انڈیکس کبھی چھپا لیا جاتا ہے کبھی ملاوٹ ہو جاتی ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے عام آدمی اور اس کی آنے والی نسلوں سے ووٹ نہ دینے کا بدلہ لیا جا رہا ہے۔ عام آدمی کیا اب تو سفید پوش اور خواص بھی شدید ہیجان اور پالیسی سازوں کی بدتمیزی کے طوفان کی زد میں ہیں۔
اس کشمکش میں سارے ادیبوں کا ذہن ہے
دل کی طرف چلیں کہ ادارے کے پاس جائیں
یا جا کے چھپ رہیں کسی شیشے کے قصر میں
یا عصرِ انقلاب کے آرے کے پاس جائیں؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں