"SBA" (space) message & send to 7575

کیا اب بھی سب اچھا ہے؟ …(1)

پٹرولیم کی قیمتوں میں قیامت خیز اضافہ حتمی نہیں‘ اس لیے کہ اپنے آپ کو عالمی گُرو سمجھنے والے مادرِ وطن کی فیصلہ سازی کے لیے آئی ایم ایف کے اشارۂ ابرو کے محتاج ہیں۔ شہرِ اقتدار میں یہ راز کی بات نہیں کہ پٹرولیم کی قیمت میں حالیہ اضافے کا وعدہ حکومت نے آئی ایم ایف سے کر رکھا ہے۔ کیا غضب کے لیڈر مارشل لائوں کی نرسری میں تیار ہوتے ہیں۔ عجیب اتنے کہ مدام العجائب کہلانے کے پورے حقدار۔ بائی سائیکل والا‘ موٹر سائیکل والا‘ منی مورس والا اسی پاکستان میں رہتے تھے۔ اسی پاکستان سے انہوں نے ترقی کا وہ فارمولا سیکھا جس نے انہیں پاکستان کے امیر ترین لوگوں اور ماسٹر آف منی لانڈرنگ کے پہلے نمبروں تک پہنچا دیا۔ ملک کے اندر بڑھک مظہر شاہ والی مارتے ہیں اور سیلوٹ ٹرمپ کو۔ بے اعتبارے ہونے کے ساتھ ساتھ بے اختیارے اس قدر کہ ان کی وجہ سے 25 کروڑ عوام کی ضرورت پٹرول‘ ڈیزل‘ مٹی کے تیل کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ آئی ایم ایف ایڈوانس کرتا ہے۔ روس اور ایران سے سستا تیل خریدنا ہے کہ نہیں‘ ان کے لیے یہ فیصلہ بھی امریکہ بہادر کرتا ہے۔ ادھار کے اقتدار میں بیٹھے ہوئے ٹولے نے ہم وطنوں پر پٹرول اور ڈیزل بم سے جو وار کیا اسے کوئی طبقہ بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ راج نیتی کے ساتھ ساتھ اکنامکس کے طا لب علم کی حیثیت سے میں اس اضافے کو غریب مکاو مہم کہتا ہوں‘ جس کی وجوہات کچھ یوں ہیں:
غریب مکائو مہم کی پہلی وجہ: پٹرول کی قیمت 458 روپے فی لٹر (بعد ازاں 378 روپے) جبکہ ڈیزل کی قیمت 520 روپے فی لٹر کے مڈنائٹ اعلان پر بات ختم نہیں ہو گی۔ اس سے مڈل کلاس غربت کی لکیر کے نیچے لڑھک جائے گی۔ ساری دنیا میں ہر ملک اپنی vulnerable کلاسز کے لیے ان کے استعمال کی چیزیں ہر حال میں سستی رکھتا ہے۔ ہمیں دور جانے کی ضرورت ہرگز نہیں‘ ہمارا سابق مشرقی بھائی‘ بنگلہ دیش 263 روپے یعنی 166 ٹکہ میں ایک لٹر پٹرول بیچ رہا ہے۔ ہمارے مشرق میں بھارت پٹرول 284 (105 بھارتی) روپے فی لٹر میں اپنے عوام تک پہنچا رہا ہے۔ اسی تسلسل میں یہ حقیقت بھی ناقابلِ تردید ہے کہ پاکستان اس ریجن میں per capita جی ڈی پی رینکنگ میں سب سے نیچے آتا ہے لیکن پٹرولیم کی مہنگائی کے ٹیبل پر پاکستان سب سے اونچے فیول پرائسز کا چیمپئن بنا دیا گیا۔ ابھی آئی ایم ایف کو راضی رکھنے والی ریونیو کولیکشن میں اضافے کے لیے کئی اور مراحل باقی ہیں۔
غربت مکائو مہم کی دوسری وجہ: جو نہیں جانتے ان کی اطلاع کے لیے عرض کر دیتے ہیں کہ پٹرولیم کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ‘ ہر قسم کی گھریلو گیس کی قیمتوں میں بطور فیول ایڈجسٹمنٹ بھی ڈالا جائے گا۔ جب بھی ورلڈ بینک کے ملازم خزانہ کے انچارج بنے ایسی ہر نوسر بازی کے لیے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا نام لگایا گیا۔ یہی کام IPPs‘ واپڈا‘ ڈسکوز اور جینکوز کے ذریعے بھی ہونا باقی ہے‘ جس سے آئندہ ہفتے‘ دس دن میں مہنگائی کا وہ طوفان اُٹھے گا کہ الحفیظ الامان۔ اس سے نمٹنے کے لیے ہائبرڈ رجیم کچھ پٹاخے چلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ پٹاخے سے گائوں کی شادی پہ کھانا پکانے والا نائی یاد آ گیا‘ جس کا دھیان کھانے کی پکائی کی طرف کم اور باتوں کی زبانی کلامی پرفارمنس کی طرف زیادہ تھا؛ چنانچہ کھانے میں نمک زیادہ ڈل گیا۔ اتنا زیادہ کہ کھانا باراتیوں کے کھانے کے قابل بھی نہ رہا۔ نائی سخت پریشان ہو گیا کہ لوگ اسے ماریں گے۔ مگر اس کے دماغ میں فوراً ایک ترکیب آئی اور اس نے شادی کی انتظامیہ کو بلا کر کہا: دیگیں دَم پر ہیں بس ایک مہربانی کرنا‘بارات قریب پہنچ رہی ہے دیکھنا کوئی پٹاخہ نہ چلائے۔ اگر پٹاخہ چلانے سے سالن خراب ہو گیا تو میری کوئی ذمہ داری نہیں ہو گی۔ اس گفتگو کے درمیان انتظامیہ بھاگی مگر بارات پہنچ چکی تھی۔ کسی لڑکے بالے نے پٹاخے چلا دیے۔ پھر کیا تھا نائی کو زبردست بہانہ چاہیے تھا۔ اس نے اپنی گدڑی اور چادر کندھے پر رکھی اور چل دیا۔ ساتھ بولا: کہا تھا نا پٹاخہ نہ چلانا‘ اب سنبھالو دیگیں۔ دو اپریل کو وزیروں کی ایک میٹنگ میں وزیراعظم نے جو بیان دیا وہ میڈیا نے ان لفظوں میں رپورٹ کیا ''خوشحالی کا وقت آ پہنچا تھا مگر بدقسمتی سے جنگ نے صورتحال بدل دی‘‘۔
غربت مکاؤمہم کی تیسری وجہ: اب آئیے سرزمینِ ایران کے زمینی حقائق کی طرف‘ جس کا بہانہ بنا کر پاکستان میں پٹرول‘ ڈیزل‘ ہائی اوکٹین اور مٹی کے تیل کی قیمتیں اپالو راکٹ بنا کر آسمان تک پہنچائی گئی ہیں۔ پھر قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ان پانچ پٹرولیم پراڈکٹ میں سے صرف اور صرف پٹرول پر 80 روپے فی لٹر لیوی واپس لی گئی۔ سوال یہ ہے اگر یہ لیوی ناجائز تھی تو باقی پراڈکٹس پر اسے کس بنیاد پر جائز سمجھیں؟ دوسرا یہ کہ ایک ایک شہر میں 24 گھنٹے تک لوگوں نے اس 80 روپے سمیت کروڑوں لٹر پٹرول ڈلوایا‘ حکومت عوام کا یہ نقصان کس طرح پورا کرے گی؟
اب چلتے ہیں ہمسایہ برادر ملک ایران جہاں دن رات امریکی اسرائیلی بمباری کا آج 38واں خونیں سورج طلوع ہوا۔ قارئینِ وکالت نامہ اسے کہتے ہیں راج نیتی! اسے کہتے ہیں قوم سے ہمدردی! اسے کہتے ہیں نیشنل لیڈر شپ۔ اس وقت تک ایران نے کسی ملک سے مالی مدد نہیں لی۔ ریڈ کراس‘ ڈبلیو ایچ او‘ یونیسکو سمیت کسی ادارے سے ادویات کی اپیل نہیں کی۔ بین الاقوامی برادری سے کھانے پینے کی اشیا کے لیے اپیل نہیں کی۔ ذرا سنیے گا! وہ ایک فیصلہ جس نے ایران میں جنگ کا خوف پائوں تلے روند ڈالا...
جنباں ہیں پھر آفات جہانِ گزراں پر
اعیانِ جہانِ گزراں‘ جاگتے رہنا
ہاں! آنکھ نہ جھپکے کہ ہے پتھرائو کی زد پر
یہ کارگہِ شیشہ گراں‘ جاگتے رہنا
پھر محتسبِ شہر ہے آمادۂ شب خوں
اقطابِ خراباتِ مغاں‘ جاگتے رہنا
اے چنگ و رباب و دف و قلقل کے امینو!
اٹھنے ہی پہ ہے شورِ اذاں‘ جاگتے رہنا...
(جاری)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں