"SBA" (space) message & send to 7575

فلسطین کا فیصلہ فلسطینیوں کے بغیرکیسے؟

ان دنوں ایک بار پھر فلسطینیوں کی ملکیت‘ سرزمینِ غزہ کو پیزا سمجھ کر اس کے ٹکڑے کاٹنے اور بانٹنے کیلئے بورڈ بنایا گیا ہے۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ عالمی برادری کے درمیان تنازعات کے سوچ بچار‘ مینڈیٹ اور معاہدوں کے ذریعے حل کیلئے اقوام متحدہ کا ادارہ معرضِ وجود میں آیا تھا‘ جس کی بنیاد عالمی قانون کا ایریا آف اے ڈی آر بنا‘ جس کا مطلب ہے متحارب ملکوں کیلئے مسئلہ حل کرنے کا متبادل فورم۔ آلٹرنیٹ ڈِسپیوٹ ریزولیوشن۔ تاریخِ اقوام بتاتی ہے کہ مخالف ممالک جنگیں اور ایک دوسرے کا قتلِ عام کرنے کے بعد خود تنازعاتی حل کیلئے مذاکرات کے میز پر کم ہی بیٹھے ہیں۔ اقوام متحدہ کے فورم پر علاقے‘ بارڈر اور ملکیت جیسے تنازعات کا حل متعلقہ فریقوں کے مابین نکالا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا کام ثالثی‘ امن مشن اور امن افواج کے ذریعے سہولت کاری کرنا ہے۔
غزہ کی تقسیم کے حالیہ منصوبے کے دو مقاصد وہ ہیں جو تھوڑے سے پسِ پردہ ہیں۔ ان میں سے ایک اسرائیل کو محفوظ کرنا جبکہ دوسرے نمبر پر یہودی آباد کاروں کی کالونی کی سکیورٹی یقینی بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ دیکھنا ضروری ہو گا کہ اس بورڈ کے تاحیات سربراہ امریکی صدر ٹرمپ نے بورڈ ڈاکیومنٹ پر دستخط کرکے اس بورڈ کے کیا مقاصد آن کیمرہ بتائے۔ صدر ٹرمپ نے غزہ امن بورڈ میں شامل ملکوں کا مینڈیٹ ان لفظوں میں بتایا کہ اس پیس ڈیل میں کل 59ممالک شامل ہوں گے۔ ان میں سے کچھ ممالک مڈل ایسٹ میں واقع نہیں ہیں‘ لیکن وہ مڈل ایسٹ میں امن کیلئے آنا چاہتے ہیں۔ بورڈ میں شامل ممالک نہ صرف غزہ سے حماس کا صفایا کریں گے بلکہ لبنان میں حزب اللہ کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔ صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں یہ سارے ملک ہر اُس مزاحمت کو ختم کریں گے جو اسرائیل کے خلاف ہو گی۔
اسی تسلسل میں اسرائیلی اخبار 'یروشلم پوسٹ‘ نے 22 جنوری کی اشاعت میں یہ اعلان شائع کیا کہ صدر ٹرمپ کا غزہ بورڈ کس مقصد کے لیے بنایا جارہا ہے۔ ساتھ ان الفاظ میں امریکہ سے یہ تجزیاتی سوال بھی کر ڈالا کہ Will Donald Trump's Hamas Disarmament endgame make Israel safer?۔ ' یروشلم پوسٹ‘ نے مزید لکھا کہ ٹرمپ بورڈ میں شامل ممالک کی گریٹ گیم جلدشروع ہونے والی ہے جس کے ذریعے سے غزہ کانفلیکٹ اور مڈل ایسٹ کے مستقبل کو ری فریم کیا جائے گا۔
غزہ کے آزادی پسند فلسطینی عوام بشمول حماس کی جانب سے جاری مسلح جدوجہد کو ختم کروانے کے تناظر میں جمعہ کے روز Financial Times UK نے اپنی انٹرنیشنل اشاعت میں جو سب سے بڑی شہ سرخی لگائی اس کے دو حصے ہیں: Autocrats, monarchs and wanted men join Trump's "Board of Peace"۔ گہری کاٹ دار اس سرخی کے پہلے حصے میں کہا گیا کہ شخصی حکمرانی‘ بادشاہتیں اور ضرورت مند لوگوں نے امریکی صدر ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کو جوائن کیا ہے۔ فنانشل ٹائمز کے انٹرنیشنل ایڈیشن کی سرخی کا دوسرا حصہ کہتا ہے: Rival to the UN tries to recast global order with the American President firmly in charge۔ یعنی اقوام متحدہ کی چھٹی ہو گئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر رہیں یا نہ رہیں‘ انہیں غزہ بورڈ کی صدارت پر تاحیات ایکسٹینشن مل گئی۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد اتحادی ممالک کا بورڈ بیٹھا تھا جس نے جرمنی اور مشرقی یورپ کے علاقے آپس میں یوں بانٹے جیسے حلوائی کی دکان پہ کوئی اپنے نانا جی کی مفت فاتحہ پڑھے۔ آج سے تقریباً 80سال پہلے 1945ء میں دوسری جنگ عظیم کے فاتح اتحادیوں نے جرمنی کو چار ٹکڑوں میں کاٹ کر آپس میں تقسیم کیا۔ جرمنی کے ان ٹکڑوں کو Occupied zonesکا نام دیاگیا۔ پھر مشرقی یورپ کی تقسیم میں حصہ داریوں کی لہر چل پڑی جس کے نتیجے میں مشرقی جرمنی وفاقی جمہوریہ بن گیا اور مشرقی جرمنی سوشلسٹ جمہوریہ میں تبدیل ہو گیا۔ مغربی حصہ پر امریکہ‘ برطانیہ اور فرانس کو حصہ بقدر جثہ ملا۔ جبکہ مشرقی جرمنی میں سوویت یونین کے زیرِ اثر سوشلسٹ حکومت قائم ہوئی۔ فوراً بعد مغربی اور مشرقی جرمنی میں بارڈر کاٹا گیا۔ کانٹے دار تار لگی جس میں بجلی کا کرنٹ چھوڑا گیا۔ تقسیمِ جرمنی کے آخری اقدام کے طور پر 1961ء میں دیوارِ برلن مکمل کرکے غاصبوں نے ایک گھرکو دو ٹکڑوں میں بانٹ ڈالا۔
سوویت یونین کے زیرِ اثر جرمن ڈیموکریٹک ری پبلک (GDR) کہلایا۔ باقی اتحادیوں کے مقبوضہ علاقے کو FRGکا نام دیا۔ اس تقسیم سے پہلے جرمنی کا نام Germen Deutsches Reich تھا۔ مجموعی طور پر جرمنی کے چار قبضہ زونز کو پوٹسڈم کانفرنس کے ذریعے 17 جولائی سے لے کر دو اگست سال 1945ء تک مسلسل بانٹا جاتا رہا۔ اس تقسیم کا انچارج بھی امریکی صدر روز ویلٹ فرینکلن تھا۔ جس کے بعد ایک اور امریکن صدر ہیری ایس ٹرومین نے 1950ء تا 1953ء میں عظیم ملک کوریا کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ جس کیلئے ڈی ملٹرائزڈ زون (DMZ) نامی امن زون بنایا گیا۔ اس تقسیم کی بدنامِ زمانہ نشانی کورین وال ہے۔ اسی ہفتے امریکی میڈیا ادارے سی این این ورلڈ نے اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ لگائی جس میں غزہ امن معاہدے کے حوالے سے چشم کشا انکشافات کیے‘ جو ہمارے سمیت دیگر مسلم ملکوں کے مستقبل کے حوالے سے خاصے پریشان کن ہیں۔
غزہ بورڈ کی پہلی شرط: شروع میں غزہ امن بورڈ کو Limited tasked bodyقرار دیا گیا۔ محدود دائرہ کار والے بورڈ کا کام غزہ کی پٹی میں ری کنسٹرکشن کی کارروائیوں کو Over seeکرنا تھا۔ اب اس بورڈ کی حدودِ کار کو ساری دنیا تک اس مینڈیٹ کے ساتھ توسیع دے دی گئی۔ To tackle conflicts the world over۔ سیدھا مطلب یہ ہوا کہ بورڈ کے ممبر ممالک دنیا کی ہر لڑائی میں فریق بننے کیلئے تیار رہیں۔
غزہ بورڈ کی دوسری شرط: غزہ بورڈ میں 59 ممالک کو شامل کرنے کا پلان ہے جس میں سے سات کے قریب ملک بشمول چین‘ روس‘ ناروے‘ آئرلینڈ اور بیلا روس شامل ہونے سے پہلے ہی انکاری ہو گئے۔ باقی ملکوں کو بورڈ کی مستقل سیٹ ایک ارب ڈالر دے کر صدر ٹرمپ سے ملے گی۔ ہم ایک ارب ڈالر کیلئے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہیں۔ ایک ایک منی لانڈرنگ کے بادشاہ نے اس سے زیادہ پیسے پاکستان سے چوری کر کے دوسرے ملکوں میں رکھے ہوئے ہیں۔ معاشی طور پر قلاش اور قرض پر چلنے والے ملک کو ایک ارب ڈالر والی ممبر شپ کا کس حکیم نے نسخہ لکھ دیا۔
ہماری دنیا کے المیوں میں سے المیۂ اعظم یہ ہے کہ فلسطینیوں کو کس طرح جینا ہے‘ اس کا فیصلہ فلسطینیوں کے بغیر کچھ شاہ‘ شیوخ اور لولی لنگڑی جمہوریتیں کر رہی ہیں۔ امن بورڈ کے سربراہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسی ہفتے آٹھویں مرتبہ غزہ میں مکمل جنگ بندی اور اسرائیل کے خلاف قراداد کو ویٹو کیا۔ شاباش ہے ان پاکستانی ارسطوؤں کو جو صدر ٹرمپ کیلئے اب بھی امن کا نوبیل انعام مانگتے ہیں۔ فلسطین‘ فلسطینیوں کا ہے۔ فلسطین کی آزادی کیلئے فلسطینی کٹتے‘ مرتے اور آگے بڑھتے آئے ہیں۔
ہزار دشت پڑے‘ لاکھ آفتاب ابھرے
جبیں پہ گرد پلک پر نمی نہیں آئی
کہاں کہاں نہ لٹا کارواں فقیروں کا
متاعِ درد میں کوئی کمی نہیں آئی

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں