"SBA" (space) message & send to 7575

احتجاج کیوں نہ ہو؟

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جب پچھلے دو برسوں میں دنیا بھر کے براعظموں میں واقع درجن بھر سے زیادہ ملکوں میں زوردار احتجاج ہوئے۔ ان احتجاجی تحریکوں کے نتیجے میں کچھ مقامات پر‘ کچھ سماج ایسے تھے جہاں دھاندلی کرنے والے کردار شرمساری سمیٹ کر پیچھے ہٹ گئے۔ لیکن کچھ دوسرے بے شرمی کو سینے سے لگائے ڈٹ گئے۔ دوسری کیٹیگری والوں کے نام وقت نے تاریخ کی وال آف شیم پر لکھ رکھے ہیں۔ ایسی وال جس پر سفیدی کی جا سکتی ہے نہ ہی اس پر بلڈوزر چل سکتا ہے۔ جنریش زی کے احتجاج کی زد میں آنے والے چھ سات ملکوں میں ریاستی تشدد نے پُرامن احتجاج کو خوں ریز مظاہروں میں تبدیل کر لیا۔ باقی چھوڑ دیں‘ اور اگر ہم ان چھ سات ملکوں کو بھی چھوڑ دیں تب بھی دنیا کے سیلف سٹائل کاؤ بوائے امریکہ بہادر کی جمہوریت پچھلے تین انتخابات سے انتخابی دھاندلی میں ناک تک ڈوبی ہوئی ہے۔ کیپٹل ہِل کے مظاہرے ایک طرف‘ انتخابی دھاندلی کے خلاف غصہ‘ بلیک لائف میٹر پر باضمیر مظاہرین کے زور دار اجتماع۔ کبھی 37 سالہ Renee Nicole Good خاتون‘ جو تین چھوٹے بچوں کی ماں تھی‘ اس ماں کو امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر Minneapolis کی سڑک پر قانون کی وردی پہن کر لاقانونیت کرنے والے ہاتھوں مارے جانے کے خلاف بڑے احتجاجی مظاہروں میں ڈھل گئی۔ کبھی اسی ریاست کے اسی شہر مینیاپولس میں امریکہ کے بدنامِ زمانہ ادارے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے اہلکاروں کے ویٹرن امریکی شہریوں کی صحت کا خیال رکھنے والے ایک37 سالہ میل نرس Alex Jeffery Pretti کے سر عام قتل کے خلاف عوامی ریلیاں۔ اس نرس نے صرف اس قدر گستاخی کی تھی کہ وہ ریاستی طاقت کا بے رحمی سے استعمال کرنے والوں سے ایک نوجوان لڑکی کی گرفتاری میں مداخلت کر بیٹھا۔ اس الزام پر نہ فردِ جرم لگی‘ نہ تفتیش ہوئی‘ نہ جیوری بیٹھی اور نہ ہی قانون نافذ کرنے والوں نے جج کو قانون کے نفاذ کا موقع دیا۔ بس ایک نے اسے گرایا‘ اس کے ساتھی نے بندوق تانی اور کیمروں کے سامنے سٹریٹ جسٹس پر مبنی فیصلہ کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈونلڈ ٹرمپ کی امیگریشن بے رحمی کے خلاف مظاہرے۔ بلا وجہ کالے شہریوں کو پولیس کے ہاتھوں قتل کیے جانے کے خلاف مظاہرے۔ فیڈرل حکومت کی بندش کے خلاف مظاہرے۔ ایمپلائمنٹ میں کمی کے خلاف مظاہرے۔ ہیلتھ کیئر پر سخت قوانین کے خلاف نعرے اور دیگر وجوہات سے ریاست وائز بے شمار مظاہرے آئے روز ہوتے آئے ہیں۔ مگر وہ امریکی جمہوریت جس کے تلوے چاٹنے میں خوشامد بردار آمر اور ڈکٹیٹر اپنی عافیت مانتے ہیں‘ وہ ریاست کبھی اپنے شہریوں کے مظاہروں سے خطرے میں نہیں آئی۔ اس کی سلامتی جلوس نہ نکلنے کی مرہونِ منت نہیں ہے۔ امریکہ میں ناپسندیدہ ٹویٹ پر 17‘ 17سال سزائیں نہیں دی جاتیں۔
ہمارے 1973ء کے دستور کے عین مطابق امریکی دستور میں بھی طاقت کا سرچشمہ صرف عوام کو لکھا گیا ہے۔ طاقتوروں کو ہرگز نہیں کیونکہ عوام ٹیکس دیتے ہیں۔ اس لیے ٹیکس دہندگان کو ریاست‘ اس کے ادارے اور ملازمین عزت اور سہولت دینے کے پابندکر دیے گئے ہیں۔ مگر ہمارے دستور اور امریکی دستور میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہ یہ کہ امریکی دستور آنے کے بعد امریکہ میں کبھی کسی نے مارشل لاء لگانے یا آئین کو معطل کرنے کی ہمت نہیں کی۔ اس لیے جرم بڑا کرے یا چھوٹا‘ عدالتیں سب سے مساوی سلوک کرتی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نابالغ بیٹے نے سکول زون میں بے دردی سے ڈرائیونگ کی۔ نہ کوئی زخمی ہوا اور نہ ہی کوئی مرا۔ جج کے سامنے کھڑے ہوکر اس نے بتایا کہ وہ ٹرمپ جونیئر ہے۔ خاتون جج اس کے رتبے سے متاثر نہ ہو سکی۔ یہ بتانے کے باوجود ٹرمپ جونیئر کو جیل جانا پڑا اور سزا بھگتنا پڑی۔ ہمارے ہاں جو اہلکار کسی بڑے پر ہاتھ ڈال لیتے ہیں انہیں تین میں سے ایک یا تینوں نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ اس کی ملازمت گئی یا ہاتھ گیا اور یا منہ دکھانے کے قابل نہ رہا۔ بلکہ ٹریفک اشارے پر کھڑے ہو کر طاقتور کی گاڑی کے سامنے آنے پر جان بھی جا سکتی ہے۔
امریکہ کی ہر ریاست میں علیحدہ قسم کے آباد کاروں کے جھتے رہتے ہیں۔ قانونی اور غیر قانونی‘ دونوں طرح سے امریکہ آنے والی امیگریشن کی آبادی اس کے علاوہ ہے۔ مگر نہ کسی کو ووٹ دینے سے روکا جاتا ہے اور نہ ہی احتجاج کرنے سے۔ اپنے ہاں فیض احمد فیض سے لے کر قیدی نمبر 804 تک سب کے لیے ماورائے دستور برابر ہے۔ باہر نکلنا جرم‘ احتجاج کرنا بغاوت اور اعتراض کرنا غداری بن سکتا ہے۔ 1950ء کے عشرے سے 2026ء تک کچھ بھی نہیں بدلا۔ حالات کا ماتم اور لافانی سچ یہ ہے:
نثار میں تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
جو کوئی چاہنے والا طواف کو نکلے
نظر چرا کے چلے جسم و جاں بچا کے چلے
ہے اہلِ دل کیلئے اب یہ نظمِ بست و کشاد
کہ سنگ و خِشت مقید ہیں اور سگ آزاد
مگر جو سماج کار موجودہ سماج کو ذرا سا بھی سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں‘ وہ جانتے ہیں کہ ماسوائے معدودے چند کے‘ پاکستانی سماج کب کا بدل گیا۔ اب اس کی ڈرائیونگ سیٹ پر وہ بابو جن کی کانپیں ٹانگتی ہیں‘ وہ نہیں۔ وہ بزرگ جو ریٹائرمنٹ سے خوفزدہ رہتے ہیں وہ نہیں بلکہ ہماری انتہائی متحرک منظم اور بہادر یوتھ ہے۔ ماسوائے ان کے جو سوشل میڈیا کھولیں تو انہیں فیس بُک پر شیر‘ انسٹا گرام پر ٹائیگر‘ ایکس پر چیتے دیکھ کر ڈر لگتا ہے۔ آج پاکستان کا ہر شہری تین سوالوں کے جواب مانگ رہا ہے۔
پاکستانی شہریوں کا پہلا سوال: 8 فروری کو احتجاج کیوں نہ ہو؟ پاکستانی پوچھتے ہیں جس شہر میں احتجاج ہو وہاں دفعہ 144 لگا کر کنٹینروں سے راستے بند کر کے‘ لٹھ برداروں کو سڑکوں پر لا کر‘ دستور کی کون سی شق کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ جس میں لکھا ہوا ہے کہ شہریوں کو بولنے کی آزادی ہے۔ فریڈم آف ایکسپریشن عوام اور میڈیا کا بنیادی آئینی حق ہے۔
پاکستانی شہریوں کا دوسرا سوال: ریلی‘ جلوس یا اجتماع یا جلسہ اور دھرنا کیوں نہ کیا جائے؟ جب سٹیٹ بینک کو یہ پتا ہی نہ ہو کہ متحدہ عرب امارات والا قرضہ اس نے رول اوور کرنا ہے یا وزارتِ خزانہ نے۔ جب وزارتِ خزانہ کو اتنا بھی معلوم نہ ہو کہ بہی کھاتے میں یہ قرض اسے رول اوور کرنا ہے یا بینک دولت پاکستان نے۔ سوال اٹھانا اخلاقیات‘ سیاسیات‘ سماجیات بلکہ کائنات کا بنیادی جزو ہے۔
پاکستانی شہریوں کا تیسرا سوال: ابھی تک پاکستان درجنوں ملکوں سے سینکڑوں معاہدے کر چکا۔ مہمان نوازی کے لیے گھوڑے‘ ہوائی جہاز‘ گاڑیاں‘ ڈھول باجے سب کچھ استعمال کر لیا۔ ساری کوششوں سے براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری کا کون سا منصوبہ آیا ہے؟ جس شہر میں ماں بیٹی گٹر کے پانی میں ڈوب کر مر جائیں۔ ملک کے دو صوبوں میں شدید بدامنی ہو۔ وہاں اربوں روپے قرض کے پیسے والا بسنت سٹنٹ غریب کا کون سا مسئلہ حل کرے گا؟
اس لیے احتجاج کیوں نہ ہو؟ ہم ریپبلک ہیں‘ بنانا ری پبلک نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں