"KNC" (space) message & send to 7575

ظلم اورہمارا نظامِ اخلاق

جب عالمی نظام ناکارہ اور بے بس ہو جائے‘ دنیا میں ایک قوت کا غلبہ ہو جو شتر بے مہار کی طرح ساری زمین کو اپنی چراہ گاہ سمجھ لے‘ جب ایک ملک کے حکمران کو اس کی اہلیہ کے ساتھ خواب گاہ سے اغوا کر کے زنداں میں بند کر دیا جائے‘ جب ایک ریاست کے پیشوا کو‘ اس کے گھر میں گھس کر قتل کر دیا جائے اور یہ سب کچھ اعلانیہ ہو۔ جب دوسرے ملک میں جا کر معصوم بچیوں کے سکول پر حملہ کیا جائے اور ان کا اجتماعی قتل کیا جائے‘ جب اقوامِ متحدہ کسی مظلوم کی مدد کے قابل نہ ہو اور داد رسی کا کوئی امکان باقی نہ رہے تو ایسی صورتِ حال میں کمزور ممالک کے پاس کیا راستہ ہے؟ اگر بڑی عالمی طاقتیں بین الاقوامی قانون کو جوتی کی نوک پر رکھیں تو کیا ان ممالک پر ان قوانین کی پابندی لازم ہے؟ کیا وہ اپنا دفاعی نظام مضبوط نہ کریں؟ اگر بین الاقوامی قانون انہیں اس سے روکے تو کیا وہ رک جائیں؟ کیا خود کو ایک تر نوالے کے طور عالمی قوتوں کو پیش کر دیں؟
جو آدمی کسی نظامِ اخلاق پر یقین رکھتا ہے‘ اسے یہ سوالات پریشان کرتے ہیں۔ میں نے 'اگر‘ کی قید کے ساتھ جس صورتِ حال کا نقشہ کھینچا ہے آج کوئی مفروضہ نہیں‘ امرِ واقعہ ہے اور ہم اس کے عینی شاہد ہیں۔ ہمارے سامنے لوگ اغوا ہوئے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے بچیوں کے لاشے دیکھے۔ ظالم نے خود قتل کا اعتراف کیا۔ یہی نہیں مزید قتل کی دھمکی دی۔ اس لیے یہ فرضی سوال نہیں‘ ایک عملی صورتِ حال ہے جو ہمیں درپیش ہے۔
ایک مثال دیکھیے۔ پاکستان سے پہلے بھارت ایٹمی قوت بنا۔ واقعات گواہ ہیں کہ اگر پاکستان ایٹمی قوت نہ ہوتا تو بھارت اس کے وجود کو مٹانے کے درپے ہوتا۔ اسے موقع ملا تو اس نے مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کروا دیا۔ بچ جانے والا پاکستان بھی اس کی نظروں میں کھٹکتا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ ہندوستان کی تقسیم کو دل سے قبول نہیں کیا گیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ بعض بہتر لوگ بھی وہاں برسرِ اقتدار آئے جنہوں نے پاکستان کے وجود کوتسلیم کیا مگر ایک ذہنیت پہلے دن سے موجود تھی جو پاکستان کو مٹا دینا چاہتی ہے۔ اسی نے گاندھی جی کو قتل کیا۔ یہی مسلمانوں کا قتلِ عام کرتی ہے اور یہی آج بھی حکمران ہے۔ یہ جاننے کے لیے بقراط ہونا ضروری نہیں کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام ہی سدِ جارحیت ہے۔ یہ ایٹمی پروگرام کیسے پایہ تکمیل کو پہنچا؟ کیا عالمی قوتوں نے ہمیں اس کی اجازت دی؟ کیا بین الاقوامی قوانین اس کو جائز قرار دیتے ہیں؟ اگر یہ پروگرام خفیہ نہ رکھا جاتا تو کیا مکمل ہو سکتا تھا؟ اگر پاکستان بین الاقوامی قانون کے باب میں اخلاقی ذمہ داری پوری کرتا تو کیا ایٹمی قوت بن سکتا تھا؟ اور اگر نہ بنتا تو کیا آج اس قابل ہوتا کہ بھارتی جارحیت کا جواب دیتا اور سعودی عرب اس کی دفاعی قوت پر اعتماد کرتے ہوئے‘ اس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرتا؟ کیا پاکستان کے پاس وہ ترقی یافتہ میزائل پروگرام ہوتا جو اس کی دفاعی فصیل ہے؟
اس بات سے اختلاف شاید ہی ممکن ہو کہ موجودہ عالمی نظام محض دکھاوا ہے۔ آج بھی قدیم نوآبادیاتی نظام قائم ہے جس کا چہرہ تبدیل کر دیا گیا ہے۔ دیکھنے میں یہ ایک جاذبِ نظر بندوبست ہے۔ اس کا چارٹر بھی ایک مہذب دنیا کی خبر دیتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا ادارہ قائم ہوا تو خیا ل کیا گیا کہ سامراجیت اب قصۂ پارینہ ہے۔ حالات نے ثابت کیا کہ یہ محض ایک واہمہ ہے۔ نیا سامراجی نظام بھی ماضی کی طرح کسی نظامِ اخلاق کا پابند نہیں۔ جھوٹ اس میں روا ہے۔ انسانی قتلِ عام بھی اس کے لیے رومن بادشاہوں کی طرح ایک کھیل ہے۔ عراق‘ افغانستان‘ غزہ اور اب ایران۔ کتنے مقتل ہیں جو انہوں نے ہمارے سامنے آباد کیے۔ جو لوگ اس ظلم کا شکار ہیں‘ وہ کیا کریں؟ اخلاق کو دیکھیں یا اپنی جان کی حفاظت کریں؟
میرے پاس تو اس سوال کا حتمی جواب نہیں۔ بطور مسلمان مجھے یہ بتایا گیا ہے کہ میرے اخلاقی وجود کی بقا مادی بقا سے اہم ہے۔ بحیثیت فرد مجھے یہ بات سمجھ میں آتی ہے۔ لیکن اجتماعی زندگی میں بھی اس اصول کا اطلاق کیسے ہوگا‘ یہ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا۔ آج اجتماعی زندگی میں اخلاقی اور مادی بقا ایک ساتھ ممکن نہیں۔ مجھے اس سوال کا جواب چاہیے کہ اس صورت میں میرا انتخاب کیا ہونا چاہیے! ہمارے دین میں اضطرار کا قانون موجود ہے۔ فرد کو یہ حق دیا گیا ہے کہ جب جان بچانے کے لیے حرام کھانے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو کھایا جا سکتا ہے۔ کیا اجتماعی زندگی میں بھی اس اصول کا اطلاق ہوتا ہے؟ جب ایک کمزور ملک ایک ظالم قوت کے مدمقابل ہو تو کیا وہ اپنی اخلاقی ذمہ داریوں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے‘ اپنی حفاظت کا انتظام کر سکتا ہے؟
بقا کی خواہش ہر مخلوق کی جبلت میں ہے۔ انسان میں بدرجہ اتم۔ اگر یہ فرد کی سطح پر ہے تو لازم ہے کہ اجتماع کی سطح پر بھی ہو۔ لوگ اجتماعی عزت کو ذات پر مقدم رکھتے ہیں۔ کبھی خاندانی غیرت‘ کبھی قومی حمیت اور کبھی دینی عظمت کے لیے اپنی جان قربان کر دیتے ہیں۔ مذہب‘ قبیلہ‘ ریاست‘ سب اپنے اپنے دائرے میں اس کی پذیرائی کرتے ہیں اور ایسی موت کو گلیمرائز کیا جاتا ہے۔ اگر انفرادی سطح پر اس جبلت کے تحت بقا کے لیے حرام کی اجازت ہے تو عقل کا تقاضا ہے کہ یہ اجاز ت اجتماعی اور قومی سطح پر بھی ہو۔ یہاں بھی ایک نہیں‘ کئی جانوں کی بقا کا سوال ہوتا ہے۔
موجود عالمی نظام کی ناکامی اور بے مہار طاقت کے ظلم نے کمزور اقوام کو حالتِ اضطرار میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہیں اپنی بقا کے لیے ایسے اقدام کرنا پڑتے ہیں‘ بین الاقوامی قوانین جن کی اجازت نہیں دیتے۔ اس کو اضطرار سمجھتے ہوئے میرا رجحان تو یہ ہے کہ وہ اپنے دفاع کا اہتمام کر سکتی ہیں۔ جس طرح اضطرار ایک عمومی کیفیت نہیں جس کا سامنا ہر کسی کو ہوتا ہے‘ اسی طرح لازم نہیں کہ ہر ملک یا قوم کو اس صورتِ حال کا سامنا ہو۔ دنیا میں آج کئی ممالک ہیں جنہیں بقا کا چیلنج درپیش نہیں۔ ان پر تو اس کا اطلاق نہیں ہوتا لیکن جس کیفیت سے ایران گزر رہا ہے یا پاکستان کو جس کا سامنا تھا اور ہے‘ اس میں میرا خیال ہے کہ اس کی گنجائش موجود ہے۔ مظلوم اور کمزور ممالک کے پاس راستہ یہی ہے کہ وہ صبر کے ساتھ‘ تصادم سے ممکن حد تک بچتے ہوئے خود کومضبوط بنائیں۔
بین الاقوامی نظام کے ناکارہ ہونے کا لازمی نتیجہ عالمی سطح کی انارکی ہے۔ اب ہر کسی کو خود اپنے دفاع کا اہتمام کرنا ہے۔ اگر دوسری طاقتیں اس وقت چپ ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی اخلاقی ضابطے نے انہیں خاموش کر رکھا ہے۔ وہ اس وقت کے انتظار میں ہیں جب وہ امریکہ کو چیلنج کر سکیں۔ دنیا تیزی کے ساتھ عالمگیر فساد اور خلفشار کی طرف بڑھ رہی ہے اور ایسے حالات پیدا کرنے کی ذمہ داری امریکہ پر ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ امریکہ کا سیاسی نظام ایک فرد کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے۔ اس میں اتنی سکت نہیں کہ ان ہاتھوں کو روک سکے جو دنیا کے ساتھ امریکہ کی تباہی کا سامان کر رہے ہیں۔ وہ اپنی عالمی حیثیت کھو رہا ہے۔ وہ ایک ایسا مؤقف اپنا چکا ہے کہ سابقہ اتحادی بھی اس کا ساتھ نہیں دے رہے۔ وہ اتحادی جو عراق پر قبضے جیسے غیر قانونی اقدام پر اس کے ساتھ کھڑے تھے‘ آج وہ بھی امریکہ کے ساتھ ہم قدم ہو نے سے گریزاں ہیں۔ کمزور ممالک اضطراری کیفیت میں ہیں‘ اس لیے سفرِ حیات میں سواری کو اپنے سامان کی حفاظت خود ہی کرنا ہو گی۔ کیا فرماتے ہیں علما اور اہلِ دانش بیچ اس مسئلے کے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں