"SBA" (space) message & send to 7575

Too Little Too Late

گئے دور کی کہاوت ہے کہ سانچ کو آنچ نہیں۔ پھر ابنِ انشا جی کا دور دَر آیا۔ جب لوگ سچ بھی سونے کے بھاؤ تول کر بول کے کاروبارمیں جُت گئے۔ کچھ نے اتنی احتیاط برتی کہ سچائی بے رحمی کی بس تلے آکر رگڑی گئی۔ تبھی تو انشا جی نے کہا تھا:
سچ اچھا پر اس کے جلو میں زہر کا ہے اک پیالہ بھی
پاگل ہو کیوں ناحق کو سقراط بنو خاموش رہو
مگر سچ ہر حال میں کھل جاتا ہے‘ دیر لگ سکتی ہے۔ یہ لکھتے لکھتے انگلیاں فگار‘ گلے سوکھے‘ مگر زنجیرِ عدل ہلی نہ گھنٹا بجا۔ اب خدا خدا کر کے سپریم کورٹ میں عمران خان کی ایک ایسی اپیل سامنے آئی جس میں وکیل نے سابق وزیراعظم‘ قیدی نمبر 804 تک رسائی مانگی تھی۔ اس وکیل کو رسائی تو پھر بھی نہ ملی مگرعدالتی معاون کے ذریعے سپریم کورٹ نے وہ سچائی‘ جس پہ ہم نے وکالت نامہ سمیت بار بار بولا اور لکھا ''بیماری کیوں چھپائی‘‘۔ اسے جمعرات کے دن آٹھ صفحات کی رپورٹ‘ جس کے 22 پیراگراف ہیں‘ کے ذریعے طشت از بام کیا۔ رپورٹ سپریم کورٹ کے نامزد کردہ وکالتی کمیشن کے ذریعے عدالتِ عظمیٰ میں پیش ہوئی۔ اس موقع پہ بنچ نمبر ایک میں سماعت ان تین نکتوں سے واضح ہے۔
عمران خان کی بیماری پر سماعت کا پہلا نکتہ: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی صاحب نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ عمران خان قیدی ہیں لیکن ساتھ ہی سابق وزیراعظم پاکستان بھی۔ عمران خان کی صحت کا معاملہ سنجیدہ ہے‘ اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل آف پاکستان بھی حاضر ہوئے جنہیں ہدایت کی گئی کہ اگلے تین دن میں‘ 16فروری سے پہلے طبی ماہرین کے ذریعے عمران خان کا میڈیکل چیک اَپ پھر سے کرایا جائے۔ اٹارنی جنرل نے اثبات میں سر ہلایا اور عدالت سے وعدہ کیا کہ قیدی نمبر 804کی آنکھوں کا معائنہ 16فروری سے پہلے لازماً کروا دیا جائے گا۔
عمران خان کی بیماری پر سماعت کا دوسرا نکتہ: ہم نے سوشل میڈیا پر پچھلی رپورٹ دینے والے ڈاکٹروں پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تو دربار کے وظیفہ خواروں نے اسے سیاسی مہم جوئی کہہ ڈالا۔ آج سب سے بڑی عدالت کے سب سے بڑے منصف نے بھری پوری اوپن عدالت میں حکم دیا کہ اب عمران خان کا چیک اَپ اُن ڈاکٹروں سے نہ کرایا جائے جن سے پہلے کرایا جا چکا ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ ہمارا احتجاج اور اعتراض دونوں بجا تھے۔ ساتھ ہی چیف جسٹس نے یہ آرڈر بھی پاس کیا کہ عمران خان کی آنکھ کا چیک اَپ ایسے ماہر امراضِ چشم سے کرایا جائے جس پہ عمران خان مطمئن ہوں۔
عمران خان کی بیماری پر سماعت کا تیسرا نکتہ: عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلمان کی تقریباً پچھلے ساڑھے نو ماہ سے والد تک ٹیلی فون کے ذریعے رسائی کا سلسلہ رکا ہوا تھا۔ جمعرات کی سماعت میں اس آہنی دیوار میں پہلا سوراخ ہوا۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ قاسم اور سلمان کو ان کے والد سے بات کرنے کی سہولت 16فروری سے پہلے پہلے لازماً دی جائے۔
وقت سدا ایک سا نہیں رہتا‘ اس لیے پرانے زمانے لد گئے مگر جاتے جاتے انصاف کے پکے پیمانے بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اس زمانے میں مظلوموں کی داد رسی کے لیے بادشاہ اپنے محل کے باہر زنجیرِ عدل لٹکاتے تھے۔ پھر بادشاہ سلامت دربار میں ہوں یا حرم میں‘ زنجیرِ عدل ہلتی تو اس کا گھنٹا پورے محل میں گونج اٹھتا۔ ہرکارے اور درباری فریادی کو ساتھ لے کر شاہی محل کے اندر جاتے۔ یوں فریاد رساں کو فوراً بادشاہ تک رسائی اور شنوائی مل جاتی۔ دور بدلا تو حقیقت کے شاعر عبدالحمید عدم کو کہنا پڑ گیا:
ہم کو شاہوں کی عدالت سے توقع تو نہیں
آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں
شاعرِ عوام حبیب جالب عوام کے ساتھ کھڑا ہونے‘ عوامی آواز میں اپنی الہانی آواز ملانے کے جرم میں دھر لیے گئے۔ حبیب جالب شیر کا کلیجہ اور عقابی آنکھ رکھتے تھے۔ مارشل لاء کا زمانہ تھا۔ انہیں ایسی عدالت میں پیش کیا گیا جس کے باہر برائے نام بھی لفظ ''عدالت‘‘ نہیں لکھا تھا۔ اس لیے کہ اس بیرک میں عدل کا داخلہ سرے سے بند تھا‘ جیسے پرانے دور میں افرنگی راج کے پبّ اور کلب میں گوروں کو چھوڑ کر کتوں اور کالوں کا داخلہ ممنوع رہا۔ حبیب جالب اور ان کے ساتھیوں کو بغیر کسی فردِ جرم‘ فیئر ٹرائل‘ دلیل و وکیل کے سزا سنا دی گئی۔ جالب صاحب نے اس کھلی ناانصافی کے خلاف ایسا احتجاج کیا جو رہتی دنیا تک بے انصافی کرنے والوں کا پیچھا کرے گا:یہ منصف بھی تو قیدی ہیں ہمیں انصاف کیا دیں گے؍ لکھا ہے ان کے چہروں پر جو ہم کو فیصلہ دیں گے
پرانے زمانے کے اکھان اور ٹوٹکے بھی بہت کام کے تھے۔ بڑی بڑی حقیقتیں بغیر کسی لفاظی کے سیدھی دل میں اتر جاتیں۔ مثال کے طور پر ناک میں انگلی‘ کان میں کھجلی مت کر‘ مت کر‘ مت کر۔ یہ اپنی ذات سے بھی بے ڈھنگے تجربات سے منع کرنے کا بھرپور فارمولا ہے۔ پچھلے ہفتے سے قانون و انصاف کے دنیا میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے ایک آرڈر ایسا جاری ہوا جس نے بہت سوں کو حیران کر رکھا ہے۔ وہ آرڈر تھا عمران خان سے وکیلانہ ملاقات کا‘ جس کے کئی پہلو بڑے دلچسپ ہیں۔ اس لیے قابلِ بیان بھی۔ مثال کے طور پہ جس وکیل نے عمران خان تک رسائی کی درخواست دائر کی وہ سماعت کے لیے مقرر تھی۔ عدالتی کارروائی شروع ہوئی تو عدالت میں موجود ایک دوسرے وکیل صاحب کو عدالتی کمیشن بنا کر قیدی نمبر804 کے ساتھ ملاقات کروا دی گئی۔ قیدیوں کے جیل رولز اور جیل مینول میں قریبی سے پہلے خاندانی ملاقات کا ذکر ہے۔ عمران خان کے بیٹے قاسم اور سلمان پاکستان آنے کے لیے ویزے کے انتظار میں ہیں۔ سرکار دربار کبھی ہاں‘ کبھی نہ کی پالیسی میں گو مگو کا شکار ہے۔ کبھی سوچتی ہے قاسم اور سلمان کو پاکستان آنے کی اجازت دے دی جائے۔ پھر خیال آتا ہے کہ بیٹے باہر نکل کر یقینا اپنے والد کی قیدکی اصل حالتِ زار پر ضرور بولیں گے۔ جب وہ بولیں گے عوامی غم و غصہ مزید بڑھے گا۔ غم و غصہ ہو تو احتجاج کو کون روک سکتا ہے؟
عدالتی کارروائی آپ نے پڑھ لی۔ عمران خان نے اپنی ذات کے حوالے سے کہا کہ میں اندر ہی ٹھیک ہوں‘ بس میرے بیٹوں سے میری ملاقات کروا دو۔ کپتان نے ثابت کر دیا کہ وہ نواز شریف نہیں عمران خان ہے۔ نظام نے ثابت کیا کہ وہ ناکام نہیں‘ سرے سے ناکام ہے۔ بجلی چوروں کو سہولت دینے کے لیے سورج پر بھی ٹیکس لگ گیا۔ جو غریبوں کو مفت بجلی دینے کا مجرم ہے۔ کچھ دن اور گزرے تو سورج ساکن نامعلوم پر دہشت گردی کا پرچہ بھی درج ہو گا۔ پتانہیں کیوں جان بوجھ کر ہر شعبہ برباد اور صرف چند گھرانے آباد رکھنے کی ضد ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں