پاک امریکہ رومانس اور ہنی مون زوروں پر تھا کہ ٹرمپ بہادر کے جنگی جنون نے سب تہس نہس کر ڈالا۔ عین ممکن ہے کہ امریکی صدر جنگی مصروفیات سے کچھ وقت نکال کر ہمارے محبوب وزیراعظم کو وائٹ ہاؤس مدعو کر کے پُرتکلّف ضیافت اور خوش گپیوں کے دوران امن کے داعی کا ٹائٹل بصد شکریہ لوٹاتے ہوئے کہیں جنگ میری مجبوری ہے مگر آپ دل چھوٹا نہ کریں۔ ٹرمپ نے جب جب جنگیں رُکوانے کا از خود کریڈٹ لیا‘ تب تب پاکستان نے حکومتی سطح پر انہیں نوبیل پیس پرائز سے نوازنے کا مطالبہ کیا لیکن ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف کے جذبات کا بھرم کبھی نہیں رکھ پائے۔ گزشتہ برس ادھر وزیراعظم نے اُنہیں امن کا داعی قرار دیا تو اُدھر ٹرمپ نے سلامتی کونسل میں غزہ جنگ بندی کی قرار داد 'ویٹو‘ کر ڈالی لیکن وزیراعظم نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے مطالبے پر نہ صرف ڈٹے رہے بلکہ موقع ملتے ہی ٹرمپ کے ستائشی کلمات کے جواب میں انہیں سیلوٹ بھی کر ڈالا۔ شاید وہ اپنے اخلاقی حربوں سے ٹرمپ کو متاثر کرنا چاہتے تھے کہ وہ کسی صورت ان جذبات کی لاج رکھ لیں اور جنگی جنون سے باز رہیں۔ شاید اسی ستائشِ باہمی کا نتیجہ تھا کہ وہ غزہ امن بورڈ کا ہنسی خوشی حصہ بن گئے۔
ابھی 'امن کے داعی‘ کی بلائیں لی جا رہی تھیں کہ اسرائیل کے اشتراک سے اس نے ایران پر بھرپور حملہ کر ڈالا۔ ایران کے لیے یہ حملہ نہ صرف عین متوقع تھا بلکہ وہ سالہا سال سے اس جنگ کی تیاری میں مصروف تھا۔ مشترکہ حملوں میں سپریم کمانڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت دیگر اہم شہادتوں کے علاوہ سکول پر بمباری کے نتیجے میں 168کم عمر بچیاں‘ اساتذہ اور والدین بھی شہید ہو چکے جبکہ ہسپتالوں اور شہری علاقوں میں بمباری کے نتیجے میں ہونے والے ہلاکتیں اور تباہی اس کے علاوہ ہے۔ امریکہ کو فوجی اڈے اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے کی قیمت خلیجی ممالک کو یوں ادا کرنا پڑی کہ ایرانی میزائلوں نے پورا خطہ ہی انگار وادی بنا ڈالا۔ جن عرب ریاستوں کو دارالسکون اور محفوظ ترین مقام سمجھا جاتا تھا‘ ان سبھی کے بھرم درہم برہم کر ڈالے۔ ایران کو تر نوالہ سمجھ کر بھرپور جارحیت کرنے والے گٹھ جوڑ کے سبھی مغالطے نہ صرف دور ہوتے چلے جا رہے ہیں بلکہ اسرائیل پر میزائلوں کی بارش نے سبھی اندازے بھی غلط ثابت کر ڈالے۔
ایران کی مزاحمت اور جوابی حملوں نے اقوام عالم کو نہ صرف ششدر کر ڈالا ہے بلکہ امریکہ نواز ممالک میں بھی تشویش کی لہر دوڑ چکی ہے کہ ایرانی میزائل ان کے تعاقب میں ہیں۔ کہیں ایران کو صفائیاں دی جا رہی ہیں تو کہیں توجیہات پیش کی جا رہی ہیں۔ امریکیوں کا انخلا بھی ان سبھی ممالک سے برابر جاری ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ پٹرولیم مصنوعات کے علاوہ دیگر اشیائے ضروریہ کی قلّت کے خدشات بھی بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔ طلب اور رسد کا نظام بھی معطل ہو چکا ہے۔ عالمی غنڈہ گردی زوروں پر ہے اور بظاہر یہ زور ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔ کسی سربراہِ مملکت کو بیوی سمیت بیڈ روم سے اُٹھا کر امریکہ کے زندان میں ڈال دیا جاتا ہے تو کسی کو اہلِ خانہ سمیت بمباری سے شہید کر دیا جاتا ہے۔ یہ دیدہ دلیری اور ننگی جارحیت آنے والے دنوں میں دنیا کو مزید تباہی اور بربادی کے علاوہ بھوک اور قحط جیسے عذابوں سے دوچار کرنے کا باعث بنے گی۔ یوں لگتا ہے کہ ٹرمپ بہادر کی ضد اور جنون تیسری عالمی جنگ کا باعث بننے جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی ادارے اس انسانی المیے کو روکنے میں بجا طور پر ناکام اور بے بس نظر آتے ہیں۔
تیسری عالمی جنگ رکوانے کا سہرا سر پہ سجائے ٹرمپ بہادر اپنے شہ بالوں سے جو اُمیدیں لگائے ہوئے ہیں وہ سبھی کہیں ٹوٹتی تو کہیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں کیونکہ جنگ صحیح اور غلط کا فیصلہ نہیں کرتی‘ بچا کون ہے صرف یہ بتاتی ہے۔ کیا عربی کیا عجمی‘ اپنے اپنے بچاؤ کے لیے سبھی بھاگے پھر رہے ہیں۔ امن کی فاختائیں اُڑانے والوں کے اپنے طوطے اُڑ چکے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ اپنی اپنی مجبوریوں اور ضرورتوں میں بٹے سبھی اسلامی ممالک محض استعمال ہونے کے لیے ہی معرضِ وجود میں آئے ہیں۔ غیرتِ قومی سے لے کر خودمختاری سمیت نجانے کیا کچھ امریکہ بہادر کے آگے گروی ڈال رکھا ہے۔ قدرتی وسائل کے انبار سمیت دھن دولت کے کوہِ ہمالیہ میں بیٹھے سبھی فرمانروا اپنے اپنے دفاع میں بے بس اور محتاج دکھائی دیتے ہیں۔ اس منظرنامے کے نقطے ملائیں تو بننے والے خاکے میں صاف دکھائی دیتا ہے کہ ہم 57 اکیلے اور وہ دو کا ٹولہ۔ مطلب اسرائیل اور امریکہ کا گٹھ جوڑ دنیائے اسلام کے سبھی ممالک پر بھاری اور برتر ہے۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ مسلم اُمّہ میں ایران واحد ملک ہے جس نے بلاخوف وخطر اور سبھی مصلحتوں سے بے نیاز ہو کر حملہ آوروں کو اپنے وجود اور منفرد تشخص کا بھرپور جلوہ دکھایا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی بے پناہ طاقت اور جدید ٹیکنالوجی کے باوجود مزاحمت اور جوابی حملے دھول چٹانے کے مترادف ہیں لیکن تنِ تنہا یہ مقابلہ آخر کب تک ممکن ہے؟
مملکتِ خداداد میں اندرونی انتشار اور مسلسل دہشت گردی کے تانے بانے بھی سرحد پار سے اس طرح جا ملتے ہیں کہ سب کو سبھی جانتے ہیں۔ کس کو کس کی اشیرباد حاصل ہے‘ کون کس کے ایما پر کام کرتا ہے‘ یہ سبھی بھید بھاؤ برابر کھلتے چلے جا رہے ہیں۔ تاریخ کو پیٹنے سے کچھ وقت نکال کر اگر اس سے کچھ سیکھ لیا جائے تو سمت کا سدھار ممکن ہو سکتا ہے۔ جنرل ضیاء الحق نے پرائی جنگ اور افغان جہاد کی برانڈنگ کی تو جنرل مشرف نے 'ڈو مور‘ کے مطالبے کو نصب العین بنا کر اسے دوام بخشا۔ افغان مجاہدین کو کیمپوں سے نکال کر ملک کے طول و عرض میں بسانے کے بھیانک جرم کی سزا‘ پاکستان کے عوام جہاں نسل در نسل کاٹتے رہے ہیں وہاں افغانوں کی تیسری نسل بھی پروان چڑھ چکی ہے۔ گویا لمحوں کی خطائیں صدیوں کی سزاؤں میں بدل چکی ہیں۔ وفاؤں کا صلہ امریکہ نے نہ کبھی ماضی میں دیا ہے نہ مستقبل میں اُمید رکھنی چاہیے۔ امریکہ کا آسرا ہمیشہ بڑی شے کے بجائے بُری شے ثابت ہوا ہے۔ پاک امریکہ دوستی کا چورن بیانیوں اور تقریروں میں تو بیچا جا سکتا ہے لیکن ماضی کے سبھی ادوار میں پاک امریکہ تعلقات کی جمع تفریق کا حاصل یہ ہے کہ ''ماڑے اور تگڑے میں دوستی نہیں‘ سیچوایشن کے مطابق انڈر سٹینڈنگ ضرور ہو سکتی ہے‘‘۔ جب تک سیچوایشن جاری ہے تب تک انڈر سٹینڈنگ بھی چلتی رہتی ہے‘ گویا سیچوایشن ختم تو انڈر سٹینڈنگ ختم۔ البتہ سیچوایشن فرینڈ ہونے کا کلیم ضرور کیا جاسکتا ہے۔
جنرل ضیاء الحق کے لیے صدر رِیگن کے تعریفی کلمات ہوں یا جنرل مشرف کے لیے صدر بش کے ستائشی کلمات! سبھی کو ڈی کوڈ کریں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے ''کام ختم تعلق ختم!‘‘۔ آج بھی ٹرمپ بہادر کبھی تعریفوں کے پُل باندھتے ہیں تو کبھی پذیرائی کے پہاڑ پہ بٹھا دیتے ہیں۔ ایک طرف بھارت نواز افغانستان ہے تو دوسری طرف بھارت خود گھات لگائے بیٹھا ہے۔ داخلی انتشار اور شرپسند عناصر ریاست کو کمزور کرنے کے لیے بدستور سرگرم ہیں۔ ایسے میں ٹرمپ بہادر کی ہلّہ شیری اور مداح سرائی زیبِ داستاں سے بڑھ کر کچھ نہیں۔ افتادِ طبع کے مارے صدر ٹرمپ بدترین انسانی المیے کی وہ فصل کاٹنے کے لیے بے چین ہیں جس کی تیاری اور آبیاری میں ہمارے شریکے شامل اور پیش پیش ہیں۔ تاہم خیال رہے! کہ کوئی رومانس کی آڑ میں ہم سے دوبارہ دغا نہ کر جائے جو اس کی پرانی عادت اور فطرت ہے۔