ایک طرف مسائل اور مصائب کے پہاڑ ہی پہاڑ ہیں‘ دوسری طرف موضوعات کی قلت بھی درپیش ہے۔ اس گمبھیر صورتحال کے نقطے ملائیں تو بننے والے سبھی خاکے ہوشربا اضافوں کے ساتھ حالاتِ بد کا تسلسل اور چلتے پھرتے استعارے ہیں۔ روزِ اوّل سے لمحۂ موجود تک عوام کی حالتِ زار کی جمع تفریق کریں تو حاصل ہونے والے اعداد و شمار اور داستانِ غم اس قدر طویل اور بھیانک ہے کہ کہیں الفاظ اظہار سے قاصر ہیں تو کہیں ترجمانی سے گریزاں۔ کیسے کیسے روپ بہروپ اور بھید بھاؤ کھلتے چلے جا رہے ہیں‘ کوئی سات پردوں میں بھی بے پردہ ہے تو کوئی نقاب اترنے کے باوجود ڈھٹائی پر آمادہ اور نازاں دکھائی دیتا ہے۔ مملکتِ خداداد میں بسنے والوں کا سب سے بڑا مسئلہ وہ طرزِ حکمرانی ہے جو انہیں نسل در نسل زندہ درگور کیے ہوئے ہے۔ باپ کے بعد بیٹا اور دادا کے بعد پوتا شوقِ حکمرانی میں عوام کو بنیادی حقوق سے لے کر باعزت گزر بسر سمیت ان سبھی ضروریات سے محروم کرنے کا باعث ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے میں بسنے والوں کا حق ہوتا ہے۔ باریاں لگا کر حکمرانی کرنے والے ہوں یا ان باریوں میں اپنی باری کی نقب لگا کر حکمرانی کرنے والے سبھی ایک دوسرے کے ریکارڈز ریکارڈ مدت میں توڑتے چلے آئے ہیں۔ پچاس سال پرانا اخبار اٹھا کر دیکھ لیں حالاتِ حاضرہ کی من و عن عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔ یعنی:
عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
اک عمر چلے گھر نہیں آیا
گھر کی تلاش میں کتنی نسلیں رزقِ خاک بن چکی ہیں لیکن منزل ملی نہ نشانِ منزل۔ جھانسوں اور دھوکوں کے مارے عوام کو شاید اب ان دھوکوں کی لت پڑ چکی ہے تبھی ہر دور میں جانتے بوجھتے فریب کھا کر بھی ہر بار لٹنے کو تیار رہتے ہیں۔ زمینی حقائق اور درپیش کڑے چیلنجز سے بے نیاز نمائشی اقدامات اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندے کو گورننس ثابت کرنے کے لیے سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کے باوجود حالات جوں کے توں بلکہ بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت میں بنی گالا کی رہائش گاہ پر اٹھنے والے اعتراضات کو معمولی جرمانے سے ختم کروا کر تجاوزات کے نام پر سینکڑوں بستیاں نہ صرف اجاڑی گئیں بلکہ بے سروسامانی کے پروانے بھی نیاز کی طرح بانٹے گئے۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد کی کئی بستیوں پر وہ قیامت ڈھائی گئی کہ گویا کسی دشمن نے حملہ کر دیا ہو لیکن اسلام آباد میں اشرافیہ کے متنازع ٹاور کے خلاف کارروائی کے بجائے کمیٹی پر اکتفا کیا گیا ہے جبکہ وزیر باتدبیر اور وزیراعظم اپنے اپنے پیج پر قائم ہیں‘ دیکھتے ہیں کون کس کے پیج پر آتا ہے۔ ٹوئن ٹاورز کی تعمیر سے لے کر الاٹمنٹ سمیت ریگولیٹری کے دیگر سبھی امور میں معاون اور مددگار بننے والے آج قانون اور ضوابط کا جھنڈا اٹھائے چڑھ دوڑے ہیں۔ آنے والے دنوں میں حکومت کے لیے یہ معاملہ ٹیسٹ کیس بننے جا رہا ہے لیکن حکومتیں ایسے ٹیسٹ میں ہمیشہ فاتح اور کامیاب ہی ٹھہرتی ہیں کیونکہ ہارنے کے لیے ماڑے اور بے وسیلہ عوام جو موجود ہیں۔ اس صورتحال پر ایک صاحب نے آڑے ہاتھ لیتے ہوئے ماضی کے چند اوراق پلٹے تو ہیں لیکن ہمارے ہاں ماضی سیکھنے کے بجائے پیٹنے کے زیادہ کام آتا ہے۔ اگر چند اوراق اور پلٹ جاتے تو عوام مزید ناموں اور ان کے کارناموں سے ضرور آشنا ہو جاتے۔ خیر! اس کنٹرولڈ لفظی گولہ باری نے ہلچل تو ضرور مچائی لیکن یہ ہلچل اس طوفان کے آگے بے معانی ہے جو وزیر موصوف اٹھانے کے درپے ہیں۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا؟
اسی طرح مہنگائی اور گرانی کے کئی زمانوں پہ بھاری نئے ریکارڈز بنائے جا رہے ہیں جن کے آگے مہنگائی جیسے الفاظ بے معانی دکھائی دیتے ہیں‘ مہنگائی کے جن کی دھمال جابجا ہر سُو جاری ہے۔ پٹرول اور یوٹیلیٹی بلوں سمیت اشیائے ضروریہ قوتِ خرید سے کوسوں دور نکل چکی ہیں جن کی واپسی کا امکان اور گمان ہی محال ہے۔ بات انرجی کی چل نکلی ہے تو انرجی سیکٹر میں کئی دہائیوں سے جاری گورکھ دھندے کا کچھ احوال بھی شیئر کرتے چلیں۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں بھی آئی پی پیز کی پیروکار نکلیں۔ آئی پی پیز کو قومی خزانے سے بجلی نہ بنانے کی بھاری ادائیگیاں کی جاتی ہیں اور تقسیم کار کمپنیاں متواتر بجلی نہ دینے کی بھاری قیمت عوام کا خون چوس کر وصول کر رہی ہیں یعنی ایک طرف آئی پی پیز کو اس سروس کی قیمت ادا کی جارہی ہے جو وہ فراہم ہی نہیں کر رہی جبکہ دوسری طرف تقسیم کار کمپنیاں طویل لوڈ شیڈنگ کی ناقابلِ برداشت قیمت بلز کی صورت میں وصول کر رہی ہیں۔ 15غیر ملکی آئی پی پیز کا ماتم کرنے کے بجائے ان 76 کمپنیوں کی بھی کچھ خبر لیں جن میں اکثریت کا تعلق ہماری راج نیتی سے جڑی اشرافیہ سے ہے جبکہ سات کمپنیوں پر مشتمل ننھی منی اقلیت بھی بالواسطہ کہیں نہ کہیں راج نیتی کا طواف کرتی نظر آتی ہے۔ حکمرانوں کے بجلی بنانے کے یہ کارخانے عوام کی حالت خراب کرنے میں پیش پیش ہیں اور گزشتہ 10 برسوں کے دوران 8344 ارب روپے صرف کپیسٹی چارجز کی مد میں ان کمپنیوں کو ادا کیے گئے ہیں‘ یعنی بجلی نہ بنانے کی قیمت ملک و قوم کے پیسے سے ادا کی گئی۔ آفرین ہے ان سبھی کی عقل و دانش کے میناروں کو جنہوں نے یہ جان لیوا معاہدے کر کے قوم کو مستقل مرگ سے دوچار کر ڈالا۔ جب ضرورت فرض پر غالب آجائے تو حکمران ایسے ہی فیصلے کرتے ہیں۔ گورننس اکانومی بن جائے تو میرٹ اور احساس کا جنازہ اسی دھوم سے نکلتا ہے۔ انرجی سیکٹر میں ناقابلِ فہم معاہدوں اور بھاری ادائیگیوں کی وارداتوں کی مزید وضاحت سے اختصار اور احتیاط سے کام لیتے ہوئے زہرا نگار کی ایک نظم کے چنیدہ اشعار پیشِ خدمت ہیں:
روایتوں کا تقدس عقیدتوں کا بوجھ
پھر اپنی راہ کی پہچان‘ اپنے گھر کی تلاش
ہم ان کی قید سے چھوٹیں تو کس طرح چھوٹیں
بجائے اس کے کہ ہم ان سے سرخرو ہوتے
انہوں نے زخم دیے ایسے بھر نہیں پائے
وہ ایک خواب جسے سیت کر رکھا برسوں
اسے خود اپنی ہی نیندوں سے چاک کر ڈالا
وہ خاک جس سے کہ پھولوں کو رنگ ملتے ہیں
وہ خاک اپنے ہی چہروں پہ مل کے لوٹ آئے
خارجی محاذ پر تاریخ ساز کامیابیوں کا جشن بجا‘ خطے میں جنگ بندی کے لیے مصالحانہ کوشش پر ستائش بھی ضروری‘ لیکن بدحالی‘ بدامنی اور بھوک کے مارے چلتے پھرتے ان غریبوں کا بھی خیال رہے جن کی میعادِ برداشت ختم ہوئے مدت بیت چکی ہے۔ سکولوں سے باہر ان کروڑ ہا بچوں کا بھی خیال کریں جو کتابوں کے بجائے ننھے منے ہاتھوں میں اوزار اور وائپر تھامنے پر مجبور ہیں جبکہ ہاتھوں میں ڈگریوں کے پلندے اٹھائے بیروزگاروں کی بڑی کھیپ بھی ہر سال تیار ہو رہی ہے۔ تھانہ‘ ہسپتال اور پٹوار میں ذلت دھتکار اور پھٹکار کے مناظر ہی معاشرے کا اصل چہرہ ہیں۔ تنگ آمد بجنگ آمد کا مقام آن پہنچا ہے۔ یاد رہے کہ وقت کا ہونا مہلت کی ضمانت ہرگز نہیں۔