"AAC" (space) message & send to 7575

ننھے منّے ٹرمپ

ثالثی کا دوسرا راؤنڈ تمام کوششوں اور سبھی انتظام و انصرام کے باوجود شروع نہ ہو سکا۔ اس مقصد کیلئے فریقین میں اتفاقِ رائے پیدا نہیں ہو سکا۔ ٹرمپ بہادر نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ تازہ تصویر سوشل میڈیا پر جاری کر دی جس میں موصوف سیاہ چشمہ لگائے‘ مشین گن اٹھائے ایران کو دھمکا رہے ہیں کہ ''شرافت چھوڑ دی میں نے‘‘۔ ٹرمپ کی افتادِ طبع اور طرزِ حکمرانی کے سبھی پہلوؤں کا جائزہ لیں تو دیدہ دلیری اور سینہ زوری کے سوا کچھ پلے نہیں پڑتا۔ پاکستان کی تمام تر مصالحانہ کوششوں اور بھاگ دوڑ کے باوجود مذاکرات کو بڑی پارٹی کی طرف سے بدستور ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی کا سامنا ہے۔ ایران پر پہلے حملے سے لے کر اس کے حیران کن جوابی حملوں کے سبب جہاں پلان اے‘ بی اور سی ناکام ہوئے وہاں ٹرمپ بہادر کا جنون خطے کو جنگ میں جھونکنے کیلئے مستقل پینترے بدل رہا ہے۔ ایسے میں جنگ بندی کو چائے کا وقفہ ہی تصور کرنا چاہیے کیونکہ جہاں جنگ معیشت کا درجہ رکھتی ہو وہاں سارے اصول ضابطے بے معانی اور ان کی خواہش تو ویسے ہی مضحکہ خیز دکھائی دیتی ہے۔ ایسے میں حالات کی سنگینی اور بہتر عکاسی کیلئے اشفاق حسین کے مشہورِ زمانہ اشعار پیشِ خدمت ہیں:
بہت مضبوط لوگوں نے کبھی بھی امن کی خواہش نہیں کی ہے؍ کہ خواہش امن کی کمزور لوگوں کی تمنا ہے
یہ مجبوروں کی دنیا ہے یہ محکوموں کی بستی ہے
مگر مجبوروں کی دنیا میں محکوموں کی بستی میں
کبھی جب آگ لگتی ہے تو سارا آسمان رنگین ہوتا ہے
زمیں شعلے اُگلتی ہے؍ کبھی کمزور اور محکوم مل کر
اک نئی تحریک کا آغاز کرتے ہیں
پھر اپنی آرزوؤں کے جہانِ نو کا استقبال کرتے ہیں
نئی تاریخ ان کی انقلابی داستاں میں رنگ بھرتی ہے
یہ اپنی جان دیتے ہیں وہ ان کو زندہ کرتی ہے
مگر تاریخ تو تاریخ ہے؍ یہ خود کو دہراتی رہے گی
سبھی کمزور اور مظلوم اور محکوم جب انعام پا جاتے ہیں
اپنی زندگی میں انقلابِ تازہ کی بنیاد رکھ چکتے ہیں
تب ان میں سے کچھ مضبوط تر انسان
اپنی تازہ تر طاقت کے ہونٹوں سے
نئی تاریخِ ظلم و جبر دہراتے ہیں
لیکن ان کی آنکھوں میں حصولِ امن کی خواہش نہیں ہوتی
تو کیا یہ صرف کمزوروں کی خواہش ہے؟
ان اشعار کے تانے بانے ملائیں تو اس جنگی معیشت سے جا ملتے ہیں جس کے پھیلاؤ اور استحکام کیلئے ٹرمپ بہادر بے چین اور بوکھلائے پھر رہے ہیں جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے اور مستقل جنگ بندی کیلئے اپنی تجاویز بذریعہ پاکستان امریکہ تک پہنچا دی ہیں۔ دوسری طرف روسی صدر پوتن نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے پُرتپاک استقبال کے ساتھ سٹرٹیجک تعلقات مضبوط بنانے کے علاوہ امن کیلئے سب کچھ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی میں توسیع ہماری کوششوں کا نتیجہ ہے اور ہم نے ہمت نہیں ہاری جبکہ امریکہ بدستور کھلی دھمکی دے رہا ہے کہ ایران کیلئے کوئی رعایت نہیں۔ امریکی کانگرس میں بھی نوک جھوک بڑھتے بڑھتے اب جھڑپ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ صدر اور وزیر دفاع کو جھوٹے ہونے اور دلدل میں پھنسانے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔ کانگرس کے ارکان نے ختم ہوتے اسلحہ کی طرف نشاندہی کرتے ہوئے یہ بھی باور کرایا ہے کہ اب چین کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہے۔ اسی طرح پاکستان اور روس کے علاوہ سبھی ممالک کی عملی کوششیں اور امن کی خواہشات ایک طرف اور ٹرمپ بہادر کی تازہ ترین مسلح تصویر دلوں کے بھید بھاؤ سمیت سارا پرچہ ہی آؤٹ کیے ہوئے ہے۔ ایک چینی کہاوت ہے کہ ایک تصویر ہزار الفاظ پر بھاری ہوتی ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی فرضی تصویر NO MORE MR. NICE GUY! کے کیپشن کے ساتھ جاری کر کے سبھی عالمی کوششوں کو الفاظ اور بیانات کا گورکھ دھندا بنا ڈالا ہے۔ گویا: اس تصویر کو فل سٹاپ اور اشفاق حسین کے اشعار کی تصویری تشریح بھی کہا جاسکتا ہے۔
کمال کے اشعار ہیں جو عالمی مضبوط لوگوں سے لے کر مملکت خداداد کے مضبوط اور بااثر لوگوں تک سبھی پر فِٹ بیٹھتے ہیں۔ عالمی سامراج آسان ہدف ممالک کو مجبوروں کی دنیا اور محکوموں کی بستی بنانا چاہتے ہیں جبکہ ہمارے اپنے عوام نما رعایا کو مجبور اور محکوم ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ عالمی سامراج امن کو اپنی معیشت کی ضد تصور کرتا ہے تو ہمارے اپنے امن و امان کا چورن بیچ کر بھی عوام کو بے امان ہی رکھتے ہیں۔ عالمی سامراج مجبور اور ضرورتمند قوموں کو ماچس کی ڈبی سے لے کر خوراک‘ ادویات سمیت دیگر اشیائے ضروریہ کیلئے بھی اپنا ہی محتاج رکھتا ہے جبکہ امور مملکت چلانے کیلئے ناقابلِ برداشت کڑی شرائط کے ساتھ نہ صرف مالی قرضے دیتا ہے بلکہ انہی قرضوں کی قسط ادا کرنے کیلئے مزید قرضوں کے خصوصی پیکیج بھی آفر کرتا ہے اور ہمارے اپنے عوام کی محرومیوں کو ان کا نصیب ثابت کرنے کیلئے کیسے کیسے جواز اور ڈھکوسلے پیش کر تے چلے آرہے ہیں۔ سکولوں سے باہر اور بنیادی تعلیم سے محروم کروڑ ہا بچے ہوں یا پیٹ بھر روٹی اور تن ڈھانپنے سے عاجز عوام‘ سبھی کی بدنصیبی طے شدہ منصوبے اور حکمرانی کا اعجاز ہے۔ اس تمہید اور گردان کا مقصد ٹرمپ کی افتادِ طبع اور ان اشعار کی مارکیٹنگ ہرگز نہیں بلکہ یہ باور کرانا ضروری ہے کہ ٹرمپ امریکی صدر یا محض ایک کردار کا نام نہیں بلکہ ایک کیفیت کا نام ہے جو بے پناہ طاقت‘ اختیار اور بے تحاشا دھن دولت کے علاوہ عالمی غنڈہ گردی کی صورت میں سر کو چڑھ گئی ہے۔ سیانے کہتے ہے: انسان کا مزاج ہی بالآخر اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ اسی طرح ٹرمپ کے مزاج نے کرسیٔ صدارت کو سنبھالنے کے بجائے بدستور ہچکولوں پر رکھا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں اسی کیفیت کے نقطے ملائیں تو بننے والی شکلیں اور خاکے شمار نہیں کیے جا سکتے جو اختیار اور اقتدار سے لے کر دھونس اور دھاندلی کے زور پر آپے سے باہر ہیں۔ یہ سبھی کردار روزِ اوّل سے لمحۂ موجود تک ہر دور میں کئی اضافوں کے ساتھ اسی کیفیت کے تحت لوکل ٹرمپ بنے ہوئے ہیں۔ ان مقامی ٹرمپوں کو حالاتِ مذکور کے تحت ننھے منھے ٹرمپ بھی کہا جا سکتا ہے جو حصولِ اقتدار سے لے کر طولِ اقتدار تک‘ غریب ماری سے لے کر ماروماری تک‘ مال بنانے سے لے کر نسلیں اور دن سنوارنے تک‘ شکم پروری سے بندہ پروری تک‘ مصاحبین سے معاونین تک‘ اقتدار اور وسائل کے بٹوارے سے لے کر بندر بانٹ تک‘ عوام کو بنیادی ضروریات سے محروم رکھ کر ہوشربا ترقی اور خوشحالیوں کے کوہِ ہمالیہ تک جا پہنچنے کو جائز اور حلال سمجھتے ہیں۔ خاطر جمع رکھیں! جب تک ٹرمپ بہادر اور ان کے پیروکار ننھے منھے ٹرمپ قائم ہیں تب تک گلشن کا کاروبار اُلٹا اور یونہی چلے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں