امریکہ میں بیک وقت کئی چیزیں چل رہی ہیں۔ ایران پر حملہ تو ایرانیوں سے زیادہ امریکیوں کیلئے حیران کن نکلا ہے جس کی وجہ سے وہاں کئی ایشوز دب کر رہ گئے ہیں۔ سب سے بڑا ایپسٹین فائلز کا سکینڈل تھا جو بڑے بڑے لوگوں کیلئے بڑا خطرہ بن گیا تھا‘ جس میں کئی گرفتاریاں بھی ہوئیں اور کچھ افراد کو بڑے بڑے عہدوں سے استعفیٰ بھی دینا پڑا۔ توقع کی جا رہی تھی کہ ابھی مزید لوگ بھی اس کی زد میں آئیں گے۔ بل کلنٹن اور ان کی بیگم صاحبہ بھی ایک طویل انکوائری کا سامنا کر چکے ہیں‘ جس کی وڈیو ریکارڈنگ شاید آپ کی نظروں سے گزری ہو۔ میں نے یہی سوال امریکہ میں اپنے دوست صحافی انور اقبال سے پوچھا کہ کیا ایپسٹین فائلز پر اٹھنے والے شور شرابے سے بچنے کیلئے ایران پر حملہ کیا گیا ہے تاکہ امریکی میڈیا اور عوام کی توجہ ایپسٹین فائلز سے ہٹائی جائے‘ جس میں اب ایسے ایسے نام آنا شروع ہو گئے تھے کہ دنیا گنگ ہو کر رہ گئی۔ دنیا بھر کا میڈیا اسے فالو کر رہا تھا‘ لیکن جب سے ایران پر حملہ ہوا ہے سب کی توجہ خلیج کی جنگ پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایپسٹین فائلز ایسا سکینڈل ہے جو اس طرح ختم نہیں ہو گا۔ جونہی ایران جنگ ٹھنڈی پڑے گی تو یہ ایشو دوبارہ میڈیا اور کانگریس کی توجہ حاصل کر لے گا کیونکہ اس میں جو نام سامنے آرہے تھے وہ اتنے اہم ہیں کہ اسے امریکی میڈیا یا عوام بھلا نہیں پائیں گے۔
ویسے میں حیران ہوتا ہوں کہ بعض لوگ اندر سے کتنے بے رحم ہوتے ہیں اور ایسے لوگ ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔ ایک امریکی ٹی وی شو کا کلپ دیکھ رہا تھا جس میں ایک پینلسٹ ایران میں سکول پر حملے میں شہید ہونے والی ڈیڑھ سو سے زائد بچیوں کی بات کر رہا تھا تو ایک اور شخص درمیان میں بول اٹھا کہ امریکہ نے اچھا کیا کہ انہیں مار دیا‘ ورنہ ان کی ساری عمر برقعے اور گھر کے اندر قید میں گزرنی تھی۔ اس پر سب صدمے میں چلے گئے۔ میں خود کافی دیر تک حیرانی سے یہ سب سنتا رہا کہ کوئی اتنا بے رحم اور سفاک کیسے ہو سکتا ہے کہ دوسرے کے بچوں کے بارے کہے کہ انہیں مار ڈالو! چاہے وہ بچے غزہ کے ہوں‘ ایران کے یا اسرائیل کے؟
اب تک ہم کتابوں میں پڑھتے اور فلموں میں دیکھتے آئے تھے کہ ریڈ انڈینز کو وائلڈ ویسٹ میں کیسے بے رحمی سے ختم کیا گیا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ شاید یہ کتابی باتیں ہوں گی اور حد درجہ مبالغہ آمیز۔ یقینا ان پر باہر سے آنے والوں نے کچھ مظالم کیے ہوں گے لیکن بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ ریڈ انڈینز کی نسلیں ہی ختم کر دی جائیں؟ اب جب سے میں نے امریکی پینلسٹ کا وہ خوفناک بیان سنا ہے تو مجھے لگنے لگا ہے کہ وہ سب کتابی باتیں نہیں تھیں۔ یہ سب کچھ دیکھ کر یہی خیال ابھرتا ہے کہ انسان سے زیادہ خطرناک جانور شاید ہی پیدا ہوا ہو۔ انسان کے دل میں جہاں دوسرے انسانوں سے محبت کرنے کا جذبہ ہے وہیں اس کے اندر دوسروں سے نفرت کرنے کا بھی بہت جذبہ موجود ہے‘ اور ٹی وی پر بیٹھ کر اس قسم کا بیان دینا اس کی ایک مثال ہے۔ یہ نفرت دونوں اطراف سے ہے۔ حیرانی ہوتی ہے کہ اتنی نفرت اور بربریت کے ساتھ یہ لوگ راتوں کو کیسے سوتے ہوں گے۔ یہ سب برسوں سے ایک دوسرے کے بچے مار رہے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کو یقینا معلوم ہوگا کہ جس جگہ کو ان کے میزائل نے لاک کیا ہے وہ بچیوں کا سکول ہے‘ لیکن وہی بات کہ نفرت اس لیول تک پہنچ چکی ہے کہ اب انہیں کوئی بچہ نظر نہیں آتا۔ اگر اس سے پہلے کچھ تھوڑا بہت عالمی دنیا کے ردِعمل کا احساس تھا‘ تو سات اکتوبر 2023ء کے بعد سے اسرائیل کی اہلِ غزہ کے خلاف بربریت نے وہ تکلف بھی ختم کر دیا‘ اور ایک ایسی جنگ اور تباہی شروع ہو چکی جس کا نتیجہ آج ہم ایران اسرائیل اور امریکہ کی جنگ کی شکل میں دیکھ رہے ہیں‘ جس میں پورا مشرقِ وسطیٰ بھی تباہی کا سامنا کررہا ہے۔ ایک کارروائی نے شام‘ لبنان‘ یمن سے ایران تک نہ صرف خوفناک تبدیلیاں برپا کی ہیں بلکہ بہت اہم لوگ اور لیڈران بھی اس کا نشانہ بنے ہیں۔
یاد آیا کہ بعض دفعہ ایک بظاہر عام سا واقعہ کتنے بڑے المیے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ بعض لوگوں کو شاید یقین نہ آئے کہ پہلی عالمی جنگ شروع ہونے کی وجہ آسٹرین ہنگرین ایمپائر کے ایک شہزادے کا قتل تھا۔ اندازہ کریں کہ قتل کرنے والے کچھ اور لوگ تھے یا ان کے مقاصد مختلف تھے مگر اس کی قیمت دنیا کے اُن ممالک کے بے گناہ شہریوں نے ادا کی جنہیں دوسروں کی طرح بعد میں پتا چلا تھا کہ ایک شہزادے کو بوسنیا کے دورے کے دوران ایک شخص نے گولی مار کر قتل کر دیا۔ اس ایک قتل کی وجہ سے چار سال تک جنگ چلی۔ لاکھوں ‘ کروڑوں لوگ مارے گئے‘ کروڑوں نے اس عذاب کو جھیلا۔ اسی طرح دوسری عالمی جنگ عظیم شروع ہونے کی وجہ پہلی عالمی جنگ تھی۔ یورپی میڈیا اور اقوام نے طعنے دینا شروع کر دیے اور یوں بدلے کی آگ بھڑکائی گئی جو آخر کار 1939ء میں دوسری جنگ عظیم کی شروعات کا سبب بنی۔ بدلے اور انتقام کی آگ مزید دو کروڑ انسانوں کو نگل گئی۔ انسانوں نے جنگ و جدل سے بچنے کیلئے اپنے گھر‘ گاؤں‘ قصبے اور شہر چھوڑ دیے‘ تکلیف دہ ہجرت کا دکھ جھیلا کیونکہ کچھ انسان اپنی انا اور برتری کی رعب و دبدبہ اور طاقت دوسروں پر جمانا چاہتے تھے۔
اگر دیکھا جائے تو انسان ایک دوسرے کا لہو اس لیے بہاتا آیا ہے تاکہ وہ دوسروں پر ثابت کر سکے کہ اس کا ملک‘ اس کی زبان‘ اس کا رنگ‘ اس کا معاشرہ‘ اس کی قوم اور سب سے بڑھ کر اس کا مذہب دوسری اقوام اور دیگر لوگوں سے زیادہ نیک اور مقدس ہے۔ مان لیا کہ دنیا میں اکثر جنگیں معیشت کی وجہ سے بھی ہوئی ہیں لیکن ان جنگوں کو بھی ہمیشہ مذہب کا تڑکا لگا کر لڑا گیا۔ اگر دیکھا جائے تو آج بھی آپ کو مذہبی رنگ نمایاں نظر آئے گا۔ دراصل مذہب کے نام پر انسان کسی بھی قیمت پر جا کر لڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ میں اکثر ایک کتاب‘ The Better Angels of Our Natureکا حوالہ دیتا ہوں جو 2011ء میں شائع ہوئی تھی۔ یہ غیرمعمولی کتاب ہزاروں سالہ انسانی تاریخ کی سٹڈی کا نچوڑ ہے۔ اس کتاب کا مرکزی خیال یہ تھا کہ وقت کے ساتھ انسانی معاشروں میں تشدد کم ہوا ہے۔ انسان جو ایک دوسرے کو تباہ کرتا چلا آتا تھا‘ وہ تباہی اب کم ہوئی ہے۔ وقت کے ساتھ انسانی ذہن اور تہذیب نے ترقی کی ہے۔ انسان کے اندر جدید ٹیکنالوجی اور تعلیم نے وحشت اور بربریت کو کم کیا ہے۔ انسان وقت کے ساتھ ساتھ مہذب ہوا ہے اور اس کے اندر ایک دوسرے کیلئے سپیس پیدا ہوئی ہے۔ اس نے وحشی پن چھوڑ کر انسانیت کو گلے لگایا ہے۔ اس کتاب میں باقی سہولتیں اور کمفرٹ‘ جو انسان کو اس وقت جدید ترقی کی وجہ سے ملا ہوا ہے‘ پر بھی تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ لیکن اب جب ایران کے سکول پر ہونے والے حملوں میں ڈیڑھ سو سے زائد معصوم بچیوں کی لاشوں کی تصویریں دیکھی ہیں تو یقین کریں اس کتاب اور اس تصور سے یقین اٹھ گیا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ انسانی معاشروں میں تشدد کم ہوا ہے۔ کم کب ہوا بلکہ یہاں تو ایسے ایسے بم اور میزائل بنا لیے گئے ہیں جو ایک لمحے میں ہزاروں‘ لاکھوں لوگوں کو بغیر کسی قصور کے موت کے منہ میں پہنچا سکتے ہیں اور یہ مناظر کسی فلم یا فکشن کے نہیں ہیں۔ یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے۔ انسان پہلے سے بھی زیادہ تشدد پسند‘ بے رحم اور سفاک ہو گیا ہے۔