اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک میں قرآن کریم نازل فرمایا۔ اس سال ماہِ رمضان کا آٹھواں روزہ تھا کہ اچانک انڈیا کا وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل جا پہنچا۔ تل ابیب کے ایئرپورٹ پر جہاز سے جونہی اترے‘ نیتن یاہو سے اس طرح گلے ملے جیسے بچھڑے ہوئے دو بھائی عشروں بعد ملے ہوں۔ دونوں پیچھے ہٹے تو نیتن یاہو کی بیوی آگے بڑھی اور اس نے تپاک سے وزیراعظم مودی سے مصافحہ کیا۔ اُس نے زعفرانی رنگ کا کوٹ پہن رکھا تھا جبکہ مودی نے بھی اپنے کوٹ کی جیب میں زعفرانی رنگ کا رومال نمایاں کر رکھا تھا۔ یہ پیغام تھا کہ تمہارا ہندو مذہب اور اس کا زعفرانی رنگ ہمارے ہاں اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ ہم نے اپنے وجود کے اکثر حصے کو زعفرانی رنگ میں رنگ لیا ہے۔ قارئین کرام! یہ منظر دیکھتے ہی میں سمجھ گیا کہ امریکہ‘ اسرائیل اور بھارت باہم مل کر ایران پر حملہ کرنے جا رہے ہیں۔ میرا دماغ فی الفور ساڑھے چودہ سو سال پیچھے مدینہ منورہ میں یہود کے قبیلے بنو نُضیر کے کردار کی جانب چلا گیا۔ ان لوگوں نے اللہ کے رسولﷺ کو اپنے علاقے میں تشریف آوری کی دعوت دی اور پھر ایک جگہ لے جا کر بٹھایا اور کہا کہ ہم آپﷺ کے لیے کھانا تیار کر رہے ہیں مگر باہر جا کر انہوں نے آپس میں مشورہ یہ کیا کہ اوپر سے بھاری پتھر حضور کریم سرکارِ مدینہﷺ پر پھینک دیا جائے۔ اللہ نے اپنے رسول کو خبر دے دی‘ آپﷺ وہاں سے تیزی سے اٹھے اور چل دیے۔ یعنی مذاکرات کے بہانے بلانا اور پھر ہیڈ آف سٹیٹ کو شہید کرنے کی سازش کرنا یہودیوں کی پرانی روایت ہے۔ اللہ کے رسولﷺ نے ان لوگوں کو جب مدینہ سے نکالا تو یہ سب خیبر میں جا کر آباد ہو گئے۔
اب سات سرداروں پر مشتمل ان لوگوں نے ایک وفد بنایا۔ اس وفد کا سربراہ بنو نضیر قبیلے کا سردار حُیی بن اخطب تھا۔ یہ وفد مشرکینِ مکہ کے پاس پہنچا‘ وہاں اس وفد کا پُرتپاک استقبال ہوا۔ اسی طرح جس طرح نریندر مودی کا استقبال تل ابیب میں ہوا ہے۔ مکہ کے بت پرست سرداروں سے اس وفد نے کہا کہ تم لوگ مدینہ منورہ پر حملہ کرو‘ ہم لوگ افرادی قوت‘ اسلحہ اور پیسے کے ساتھ تمہارے شانہ بشانہ ہوں گے۔ سیرت ابن ہشام میں ہے کہ اس جنگی منصوبے کی تفصیلات کو سن کر مشرک سردار بہت خوش ہوئے۔ انہوں نے اس منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے اپنی اسمبلی کا اجلاس بلا لیا۔ ''سُبل الھدیٰ والرشاد‘‘ میں ہے ''دارالندوہ‘‘ میں خصوصی اجلاس ہوا۔ یہودی وفد بھی یہاں موجود تھا۔ بالکل اسی طرح جس طرح اسرائیل کی اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلایا گیا اور وہاں نریندر مودی اور نیتن یاہو نے خصوصی تقاریر کیں اور اشاروں کنایوں میں واضح کر دیا کہ ہم دونوں اکٹھے ہیں‘ ہندوتوا اور صہیونیت باہم ایک ہیں۔ دونوں مہا بھارت اور گریٹر اسرائیل چاہتے ہیں۔ دونوں ہی باقی دنیا سے بڑھ کر خصوصی مخلوق ہیں‘ برہمن تم ہو اور یہود ہم ہیں۔ ساڑھے چودہ سو سال قبل مکہ میں بھی کچھ ایسا ہی منظر تھا بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر تھا۔ ''المغازی الواقدی‘‘ میں ہے کہ سردارِ مکہ ابوسفیان نے یہودی وفد سے کہا: آپ لوگ ہم قریش میں سے 50 سردار چُن لیں۔ آپ (ساتوں) بھی ان کے ساتھ شامل ہو جائیں‘ ہم سب جا کر کعبہ کا غلاف پکڑتے ہیں‘ کعبہ کی دیواروں کے ساتھ اپنے سینے چمٹاتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ ہم سب آپس میں اکٹھے ہو کر محمد (ﷺ) کی دشمنی میں سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے‘ جب تک ہم میں سے ایک شخص بھی زندہ رہا وہ اسلام کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔ ہم ایک دوسرے کو بے یارو مدد گار نہیں چھوڑیں گے‘ پیغمبرِ اسلام کے خلاف ہم سب یکجان رہیں گے؛ چنانچہ قریش اور بنونضیر کے سرداروں نے مل کر کعبے کا غلاف پکڑا‘ دیواروں کے ساتھ اپنے سینوں کو چمٹایا اور مدینہ منورہ کی ریاست کے خاتمے اور رجیم چینج کا عہد کیا۔
'سیرت ابن ہشام‘‘ اور ''البدایہ والنھایہ‘‘ میں ہے کہ قریش نے یہود سے پوچھا: تمہارے پاس پہلی آسمانی کتابیں ہیں‘ تم یہ بتائو کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد (ﷺ) کا؟ ہم بیت اللہ کو آباد کرنے والے ہیں‘ حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں‘ موٹے اونٹ ذبح کرتے ہیں اور بتوں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں۔ یہودی وفد نے کہا: اللہ کی قسم! تم محمد (ﷺ) سے کہیں بڑھ کر حق کے ساتھ وابستہ ہو‘ تم اللہ کے اس گھر کی تعظیم کرتے ہو‘ موٹے اونٹ ذبح کرتے ہو‘ (حاجیوں کو کھلاتے پلاتے ہو) اور ان معبودوں کی پوجا کرتے ہو جن کی پوجا تمہارے باپ دادا کیا کرتے تھے۔ اس پر اللہ نے اپنے نبیﷺ کو قرآن کریم میں مخاطب کر کے فرمایا ''(میرے حبیب! ذرا دیکھیے تو سہی) ان لوگوں کو کہ جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا ہے‘ یہ بتوں اور باطل نظام کو ماننے کا اعلان کرتے ہیں اور کافروں سے کہتے ہیں کہ تم مسلمانوں سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔ ان لوگوں پر اللہ نے لعنت کر دی ہے جس پر اللہ لعنت کر دے (میرے رسول! آپ) اُس کے لیے (کڑے وقت میں) کسی کو مددگار نہیں پائو گے‘‘ (النساء: 51 تا 52)۔
لوگو! غور فرمائو! سیرۃ الحلبیہ کے حوالے سے دارالسلام سے شائع شدہ سیرت انسائیکلوپیڈیا میں ہے کہ یہود کے اس فتوے کے بعد کہ قریش کا دین حضرت محمد کریمﷺ کے دین سے بہتر ہے‘ ابوسفیان نے جھٹ سے کہا: ہمیں تمہارے فتویٰ پر یقین تب آئے گا جب تم ہمارے معبودوں کو سجدہ کرو گے۔ چنانچہ یہود کا وفد‘ جس میں چوٹی کے علما (حاخامات) بھی شامل تھے‘ بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہو گیا۔ 'سیرت ابن ہشام‘ میں ہے کہ مکہ کے بت پرست یہود کے فتویٰ اور اس سجدے پر بہت خوش ہوئے اور انہوں نے یہود کو اپنی وفاداری کا یقین دلایا کہ وہ مل کر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوں گے۔ 'تاریخ الیھود فی البلاد العرب‘ میں مشہور یہودی مؤرخ مسٹر اسرائیل وُلفنسن (Israel Wolfensohn) لکھتے ہیں: یہودی وفد جو علماء اور سرداروں پر مشتمل تھا‘ اسے اچھی طرح علم تھا کہ کعبہ مقدسہ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ وحدہٗ لاشریک کی عبادت کے لیے بنایا تھا۔ اس کے برعکس مشرکین نے اس میں تین سو ساٹھ بت نصب کر رکھے تھے جن کی وہ پوجا پاٹ کرتے تھے جبکہ مسلمان اپنی پیشانی صرف اللہ وحدہٗ لاشریک کے حضور سجدہ ریز کرتے تھے۔ ان تمام حقائق کو جانتے ہوئے بھی یہود نے ایک ایسے فائدے کی خاطر جھوٹ بولا جو محض شک و شبہے کا شکار ایک چانس تھا۔ اب صدیاں بیت گئیں لیکن ان کے (سجدہ ریز) ماتھے سے (بتوں کی پوجا) کی سیاہی صاف نہیں ہو سکی۔ ان کے اپنے اہلِ انصاف لوگوں نے بھی اس جھوٹ پر لعنت کی ہے۔ جو شے ہر صاحبِ ایمان کے دل کو دُکھی کرتی ہے وہ یہودی وفد کی یہ بات ہے کہ بت پرست لوگ توحید کے علمبردار مسلمانوں سے بہتر ہیں۔
اللہ اللہ! آج اگر ڈاکٹر ولفنسن زندہ ہوتے تو دیکھتے کہ آج ہندوتوا کے بت پرست اور یہود پھر سے ایک ہو چکے ہیں بلکہ اب تو (امریکی) مسیحی بھی ان دونوں کی پشت پر ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ مزید غزدہ ہوتے کہ ان سب نے مل کر اس وقت ایران کے رہبر اعلیٰ سید علی خامنہ ای پر حملہ کیا جب دونوں ملکوں میں جوہری پروگرام پر مذاکرات کامیاب ہو چکے تھے۔ یوں 28 فروری 2026ء کا دن اسی طرح بدعہدی کا دن ہے جس طرح ساڑھے چودہ سو سال پہلے بدعہدی کا دن تھا جب یہود نے حضرت محمد کریمﷺ پر حملہ کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ غزہ‘ ایران‘ عراق‘ شام‘ لبنان‘ لیبیا اور سوڈان کے مظلوم شہیدوں کو مبارک! اللہ تعالیٰ سب کو فردوس بریں میں حضورﷺ کی مجلس میں حاضری کے شرف سے مشرف فرمائے۔