اللہ تعالیٰ نے رمضان کے مبارک مہینے کو قرآن کریم کا مہینہ قرار دیا ہے۔ اس لیے کہ اس ماہِ مقدس ہی میں قرآن مجید نازل کیا گیا۔ یہ مہینہ اختتام پذیر ہے اور اہلِ اسلام عید کے میدان میں اکٹھے ہونے والے ہیں۔ اس مہینے میں ہم پر اسرائیل اور امریکہ نے جنگ مسلط کی ہے۔ غزہ اور لبنان زخمی ہیں تو ایران بھی زخمی ہے۔ خلیجی ممالک مشکلات کا شکار ہیں۔ معاشی طور پر دیکھیں تو ساری دنیا ہی مصیبتوں کے بھنور کی جانب بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ آج سے کوئی 20سال قبل سعودی عرب جانا ہوا تو جدہ میں سعودی صحافت کی عظیم شخصیت جناب خالد المعینا سے ملاقات ہوئی۔ یہ انگریزی اور اردو زبانیں بہت اچھی طرح بولتے ہیں۔ پاکستان کی حکومت انہیں صدارتی تمغے سے بھی نواز چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں اردو زبان میں ان کے کئی انٹرویوز ہمارے الیکٹرانک میڈیا پر نشر ہو چکے ہیں۔ وہ بھی یہی دہائی دیتے نظر آتے ہیں کہ موجودہ جنگ کا سب سے بڑا مجرم نیتن یاہو ہے۔ محترم خالد معینا نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ سُنی اور شیعہ کی باتوں کو سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب جنگیں ہوتی ہیں تو پورے خطے میں مسلم دنیا کا نقصان ہوتا ہے لہٰذا تقسیم کے اس رویے سے ہمیں اپنے معاشروں کو بچانا چاہیے۔
اسی طرح سابق سعودی انٹیلی جنس چیف جناب شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا ہے کہ سعودی عرب کو خواہ مخواہ جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے‘ ایسا کرنے والوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ ایران کے اندر سعودی سفیر نے کہا کہ اسرائیل سے ایف 35 نے اڑان بھری‘ اس نے عراق کی فضا میں جا کر سعودی عرب میں میزائل پھینکا۔ واپسی جاتے ہوئے اس کا ایک ایسا سسٹم اوپن رہ گیا جس سے یہ حقیقت لیک ہو گئی۔ برطانیہ کی وزارتِ خارجہ نے بھی دنیا کو بتایا کہ قبرص کے برطانوی اڈے پر جو ڈرون گرا وہ ایرانی ڈرون کی نقل تھا‘ اسے ایران نے نہیں بھیجا تھا۔ جی ہاں! یہ ہیں وہ حرکتیں جو اسرائیل اور امریکہ اس لیے کر رہے ہیں تاکہ مسلم ممالک آپس میں لڑ پڑیں اور باقی دنیا بھی اس طرح موجودہ جنگ کا حصہ بنے کہ یہ جنگ تیسری عالمی جنگ بن جائے۔ اللہ تعالیٰ نے صہیونی یہود کے بارے میں کیا خواب آگاہ کیا ''یہ (بڑی) جنگ کے لیے جب کبھی آگ بھڑکاتے ہیں‘ اللہ (کچھ لوگوں کے ذریعے) اس آگ کو بجھا دیتا ہے‘ یہ لوگ زمین میں فساد ( اور دہشت گردی) کے لیے کوشاں رہتے ہیں جبکہ اللہ فسادی لوگوں کو پسند نہیں فرماتا‘‘ (المائدہ: 64)۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ ساتھ اپنے داماد اور وزیر دفاع کا بھی نام لے کر برہمی کا اظہار کیا کہ یہ مجھے حملہ کرنے کیلئے دلائل دیتے رہتے تھے۔ نتیجہ اب یہ نکلنا شروع ہو گیا ہے کہ ایران کا پلڑا بھاری ہوتے دیکھ کر صدر ٹرمپ نے اعتراف کر لیا ہے کہ اگر اس وقت امریکہ جنگ سے نکلتا ہے تو ایک گھنٹے کے اندر اندر ایران اسرائیل کا خاتمہ کر دے گا۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ کا قریبی ساتھی مسٹر جوزف کینٹ‘ جسے انہوں نے انسدادِ دہشت گردی سینٹر کا سربراہ بنایا تھا‘ اس نے یہ کہتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے کہ ایران سے ہمیں کوئی خطرہ نہ تھا۔ امریکہ نے اس پر حملہ کرکے غلط کام کیا ہے۔ یہ اسرائیل کی جنگ ہے جو ہم لڑ رہے ہیں۔ اسرائیل کی خاطر ہمارے فوجی مر رہے ہیں۔ ہمارے اڈے تباہ ہو رہے ہیں۔ جی ہاں! ایران کی ثابت قدمی کی وجہ سے یورپ اور نیٹو اس جنگ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں۔ یاد رہے! آٹھ ماہ پہلے بھی اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر جنگ مسلط کی تھی۔ اس کا زوردار جواب ملا تو پاکستان اور سعودی عرب نے اس جنگ کو رکوانے کیلئے اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ کردار اب بھی جاری ہے۔ یہ کردار کس قدر مبارک ہے‘ اسے ہم رحمتِ دو عالم حضرت محمد کریمﷺ کی ایک دعا میں ملاحظہ کرتے ہیں۔
اللہ کے آخری رسول حضور کریمﷺ قبا کے علاقے میں تشریف لے گئے۔ واپسی پر آپﷺ اَوس قبیلے کی بستی میں سے گزرے تو وہاں موجود مسجد میں تشریف لے گئے۔ دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ صحابہ کرام ؓ نے بھی آپﷺ کے ساتھ نماز ادا کی۔ صحابہ کرامؓ بتاتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ نے سلام پھیرنے کے بعد اپنا چہرہ مبارک ہماری طرف کیا اور فرمایا: میں نے اللہ کے سامنے تین درخواستیں پیش کیں‘ دو تو اللہ نے قبول فرما لیں جبکہ ایک بات کے بارے میں فرمایا کہ اسے رہنے دیں۔ پہلی گزارش میں نے اپنے رب کریم سے یہ کی کہ میری امت کو قحط سالی سے ہلاک نہ کیا جائے۔ اللہ نے یہ دعا قبول کر لی۔ دوسری درخواست یہ کی کہ میری امت کو غرق کرکے ہلاک نہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول کر لی۔ تیسری درخواست یہ کی کہ میری امت کے درمیان آپس میں جنگ نہ ہو‘ جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ بات کرنے سے روک دیا۔ (صحیح مسلم)
اسی طرح صحیح مسلم ہی میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسولﷺ سے یہ وعدہ کیا کہ سارے جہاں سے بھی لوگ جمع ہو کر حملہ آور ہو جائیں تب بھی آپﷺ کی امت کو مٹا نہ سکیں گے۔ یہاں تک کہ ان سے بعض لوگ بعض کو ہلاک کرنا شروع کر دیں۔ موطا امام مالک میں روایت ہے کہ علی بن احمد سمہودیؒ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ کے اس فرمان کی روشنی میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ مسلمانوں کے اندر باہمی فتنہ و فساد قربِ قیامت تک جاری رہے گا۔ وہ مسجد جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولﷺ کی دعا کو شرفِ قبولیت عطا فرمایا‘ اس مسجد کا نام ''اجابہ‘‘ ہے۔
باہمی جنگوں سے بچنے کے لیے امت کے نمایاں لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ کوشش کرنا ہو گی کہ جنگ ہونے ہی نہ پائے۔ حکمرانوں کو اپنی پالیسیاں اس طرح بنانا ہوں گی کہ ان کی پالیسیاں مشاورت اور عدل پر قائم ہوں تاکہ کسی کو دنگا فساد اور باہمی لڑائی کا موقع ہی نہ مل سکے۔ مسلمانوں کے تمام ممالک اس کا اہتمام کریں۔ مشترکہ پلیٹ فارم بنائیں جہاں وہ اپنے باہمی مسائل مل جل کر حل کریں۔
مسجد اجابہ کو سعودی فرمانروا شاہ فہد بن عبدالعزیز مرحوم نے اپنے دور میں نئے سرے سے تعمیر کیا تھا۔ یہ مسجد بڑی خوبصورت ہے۔ تجویز یہ ہے کہ اس مسجد سے ملحق ایک ایسی عمارت بنائی جائے جہاں اُن دو مسلم ممالک کے حکمران مل بیٹھیں جو آپس میں برسر پیکار ہوں۔ اگر ایک ہی مسئلے پر زیادہ ممالک باہم برسرپیکار ہوں تو سب یہاں جمع ہوں۔ یہاں سب اپنے پیارے محبوب اور عظیم رسولﷺ کی دعا کو یاد کریں کہ حضورﷺ نے اپنی امت کی محبت میں یہاں کس قدر لمبی دعا کی‘ اپنے اللہ سے گارنٹیاں لیں۔ امت کے علماء کو بھی فرقہ ورانہ گفتگو سے بچ کر امت کے اتحاد کو سامنے رکھ کر ایسی گفتگو سے احتیاط کرنا ہوگی کہ جس سے باہم فتنہ وفساد کی آگ بھڑک اٹھے۔ صحافت کے شعبے کی بھی ذمہ داری ہے کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں محتاط گفتگو ہو۔
حضور کریمﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ ''بعض اوقات ایک شخص کوئی ایسا جملہ بول دیتا ہے جسے وہ معمولی سمجھتا ہے مگر اس جملے کی وجہ سے وہ ستر سال جہنم میں جا گرتا ہے‘‘ (مسند احمد، ابن ماجہ) یعنی جس جملے سے جنگ اور فتنہ وفساد شروع ہو جائے‘ مسلمانوں میں انتشار و افتراق کا احتمال ہو‘ وہ جملہ بندے کو جہنم میں لے جائے گا۔ اسی طرح حضورﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ اچھے جملے کے (پُرامن نتائج کی وجہ سے) بندہ جنت میں چلا جاتا ہے۔ آئیے! اس عید کے موقع پر اچھے بول بولنے کا عزم کریں۔