"AHC" (space) message & send to 7575

اللہ کی گھات اور سپر تہذیب

گلستان اسے کہتے ہیں جہاں پھول‘ پودے اور گھاس ایسے ہوں جیسے ایران اور کشمیر کا سبز قالین ہو۔ چاروں طرف سرو کے قد آور درخت ہوں‘ ان درختوں کی اوٹ میں بل کھاتی ہوئی پہاڑی کی بلندی سے آبشار بہہ رہی ہو۔ اس پر چڑھتے سورج کی کرنیں پڑیں تو یوں محسوس ہو جیسے سنہرے رنگ کے غزال چوکڑیاں بھرتے نیچے اُتر رہے ہیں۔ پتھروں سے ٹکراتے پانی کے قطرے اچھلیں تو ایسے لگے جیسے خلیج فارس کے رنگا رنگ موتی اور مرجان فضا میں چمک دکھلاتے اور واپس آبشار کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہی پانی نالہ بن کر گلستان میں چلتا ہے۔ کوئل کُوکُو کرتی ہے تو پرندے اپنی اپنی بولیاں بولتے ہیں۔ جی ہاں! اس مقام پر فجر اور اشراق کے رنگ نرالے اور انوکھے ہیں۔ لوگو! کیا شک ہے مصورِ پاکستان حضرت علامہ اقبال ؒ نے برصغیر کے مقہور مسلمانوں کیلئے جس آزاد وطن کا خواب دیکھا تھا وہ پاکستان ہے۔ اس کے لیے حضرت اقبال ؒ نے کہا تھا:
خطر پسند طبیعت کو سازگار نہیں؍ وہ گلستان کہ جہاں گھات میں نہ ہو صیّاد
قارئین کرام! میں پاکستان کو ختم المرسلین حضرت محمدﷺ کے مبارک قدموں کا نقش سمجھتا ہوں۔ مکہ مکرمہ چلیں‘ اپنے حضورﷺ کے میلادی شہر میں چلیں‘ تو وہاں نہ جھرنے ہیں نہ آبشاریں‘ نہ رنگا رنگ پھول ہیں اور نہ ہی درختوں کی قطاریں مگر یہ ایک گلستاں ہے۔ اس گلستاں اور چمنستاں‘ جس کی حدود کے اندرون کو حرم کہا جاتا ہے‘ یہاں ہر ایک کی جان‘ مال‘ عزت اور آبرو محفوظ ہے۔ یہاں کے پرندوں اور جانوروں کو بھی امان حاصل ہے کہ کوئی ان کا شکار نہیں کر سکتا۔ حضور کریمﷺ نے جب اہلِ مکہ کو ''لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی دعوت دی تو مکہ کے سرداروں نے کلمہ طیبہ کو اپنی تہذیب پر نظریاتی حملہ قرار دیا؛ چنانچہ جو جو اقرار کرتا چلا گیا وہ ابوجہل کے ظلم و ستم کا نشانہ بنتا چلا گیا۔ جب یہ ظلم حد سے بڑھنے لگا‘ ستم ناقابلِ برداشت ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفجر نازل فرمائی۔
اللہ تعالیٰ نے فجر کی قسم کھا کر مکہ کے مظلوموں کو اپنے حبیبﷺ کے ذریعے پیغام دیا کہ رات جس قدر بھی اندھیری ہو‘ اس کے اُفق پر سفیدی کا نمودار ہونا طے ہے۔ اسی کا نام فجر ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جفت اور طاق عدد کی قسم اٹھائی‘ یعنی مہینہ 29 راتوں کا ہو یا 30 راتوں کا‘ سب راتیں گزرتی چلی جائیں گی۔ ٹائم قریب آتا چلا جائے گا۔ سورج نکل کے رہے گا۔ آفتاب چمک دکھلا کر رہے گا۔ اشراق کا ٹائم آ کر رہے گا۔ ان قسموں میں اہلِ دانش کیلئے ایک سبق ہے۔ لوگو! اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سرزمین عرب کی ایسی تین تہذیبوں کا ذکر کیا کہ ان کی عظمت سے سارا جہان واقف تھا۔ پہلی تہذیب عاد قوم کی تہذیب تھی۔ یہ تہذیب ''ربع الخالی‘‘ میں دریافت ہو چکی۔ یہ نہایت دراز قد لوگ تھے۔ دوسری تہذیب ثمود قوم کی تھی جنہوں نے پہاڑ تراش کے اپنے گھر بنائے تھے۔ تیسری فرعونی تہذیب تھی۔ فرمایا: ''(ان تہذیبوں نے اپنے اپنے وقتوں میں) انسانیت کو ظلم کے طغیان وطوفان کی نذر کر دیا۔ ہر سُو دہشت کا راج قائم کر دیا۔ (میرے محبوبﷺ! ذرا دیکھ! پھر تیرے رب نے ان کے ساتھ نبٹنے کا کیسا انداز اختیار کیا) تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا دے مارا۔ کوئی شبہ میں نہ رہے (اے میرے حبیبﷺ!) تیرا رب ہر لمحے گھات لگائے ہوئے ہے۔ (الفجر: 11 تا 14‘ مفہوم)
جی ہاں! اہلِ مکہ نے جب امن کے گلستان کو اجاڑنا شروع کیا تو پھر وہ دن بھی آیا جب مکہ کی بت پرستانہ تہذیب مٹ رہی تھی‘ بت ٹوٹ رہے تھے۔ کریم رب کے کریم محبوبﷺ نے حضرت بلالؓ کو آواز دی‘ کعبہ کی چھت پر انہوں نے اذان دی۔ یہ اذان اعلان تھا کہ ''حق آ گیا اور باطل مٹ گیا‘‘۔ باطل تہذیب مٹ گئی‘ پُرامن تہذیب غالب آ گئی۔ گلستان آباد ہو گیا‘ چہار سو بادِ نسیم چلنے لگی۔ پرندے چہچہانے لگے۔ کوئل کُوکُو کرنے لگ گئی۔ سب کو معاف کر دیا گیا۔ اللہ اللہ! علامہ اقبالؒ نے جس گلستان کی بات کی‘ وہ گلستان عملی طور پر قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ہاتھوں وجود میں آیا۔ اس گلستان میں ایک نگہبان بھی ہے۔ یہ نگہبان اللہ کی برہان ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کی کمان ہے۔ اس کا ایک تیر پاک افواج ہیں تو دوسرا تیر 25کروڑ عوام ہیں۔ عوامی تیروں میں علمائے حق کی لِسان ہے تو سچی سیاست کے علمبرداروں کی زبان ہے۔ دیانتدار تجار کی ہوس سے پاک تجارت ہے تو اہلِ قلم کی شفاف صحافت ہے۔ اے اہلِ وطن! ہمیں پاک وطن کی کمان پر بھی نظر رکھنا ہو گی کہ عدل کا تیر سیدھا رہے‘ بیورو کریسی کا تیر بھی سیدھا رہے۔ زندگی کے ہر شعبے کا تیر مستقیم رہے۔ سب مستقیم ہوں گے‘ پاک وطن کے دشمنوں کی گھات میں ایک کمان بن کر رہیں گے۔ اپنے اپنے میدان کے شکاری بن کر رہیں گے۔ ملک کے نگہبان بن کر رہیں گے تو پاکستان نامی گلستان روز بروز شاد وآباد ہوتا چلا جائے گا۔ عزم عالی شان کا شاہکار بنتا چلا جائے گا‘ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
آج یکم مئی ہے۔ اسی مہینے کے پہلے عشرے میں اَکھنڈ بھارت کے علمبرداروں نے ہم پر یلغار کی‘ ہم سب ایک کمان میں یکجا ہو کر بنیانٌ مرصوص بن گئے۔ جی ہاں! طاقت ہوتے ہوئے بھی ہم حد سے آگے نہیں بڑھے۔ اس کا نام ہے گلستان میں بسنے والی پُرامن تہذیب۔ افغانستان میں ہم نے دو بار قربانیاں دیں تاکہ ہماری پُرامن تہذیب کے پڑوس میں امن رہے۔ ہم نے دور جا کر سارے جہاں کو بھی پُرامن تہذیب کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کی۔ بوسنیا اور افریقہ کے کئی ممالک شاہد ہیں۔ اہلِ فلسطین کو دشمن کی تہذیب سے نکال کر پُرامن تہذیب کا حصہ بنانے میں قائداعظمؒ اور ان کے بنائے ہوئے پاک وطن کی جدوجہد کی عمر 95 سال ہو چکی ہے۔ ہندوتوا کی ظالمانہ تہذیب نے اہلِ کشمیر اور بھارت کی اقلیتوں کے ساتھ جو غیر مہذب ظالمانہ رویہ روا رکھا ہوا ہے‘ پاکستان اسے حقوق کی تہذیب میں لانا چاہتا ہے۔ یاد رہے! ساری دنیا میں امریکہ وہ ملک ہے جس نے سب سے پہلے ایٹم بم بنایا۔ اسے تہذیب شکن بم کہا جا سکتا ہے۔ امریکہ نے انسانی تاریخ میں سب سے پہلے اس بم کو جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی میں پھینکا۔ دونوں شہروں کی تہذیب پلک جھپکنے میں ختم ہو گئی۔
امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو دھمکی دی کہ ہم ایران کو جہنم بنا دیں گے‘ اس کی تہذیب کو ختم کر دیں گے۔ آغاز میناب شہر کے سکول ''شجرہ طیبہ‘‘ سے کیا گیا۔ اس سکول میں چھ سے بارہ سال کی بچیاں تعلیم حاصل کرتی تھیں۔ حملے کا دن ان کے دستر خوان کا دن تھا۔ طالبات ایک بڑے دستر خوان پر کھانے سجا کر بیٹھی ہی تھیں کہ امریکہ نے میزائل داغ دیا۔ 170کے قریب بچیاں شہید اور زخمی ہو گئیں۔ میناب شہر آبنائے ہرمز کا ساحلی شہر ہے۔ یعنی پیغام یہ تھا کہ خلیج کے تیل کی خاطر تہذیب ختم کی جا سکتی ہے۔ پاکستان نے امن کی کوششوں کو مزید تیز کر دیا۔ لوگو! اللہ تعالیٰ گھات لگائے ہوئے ہے۔ صورتحال یہ ہو گئی کہ صدر ٹرمپ نے ایک میٹنگ میں پریشان ہو کر کہا: اگر میں فتح کا اعلان کرکے خلیج کی دلدل سے نکل آئوں تو کیا یہ بہتر رہے گا؟ یکدم سناٹا چھا گیا۔ پیغام واضح تھا کہ امریکہ ناکام ہو چکا ہے۔ پاکستان کی کوششوں سے سعودی عرب‘ ترکیہ‘ ایران اور خود پاکستان اکٹھے ہو چکے ہیں۔ باہم اعتماد ہے! عمان اور پاکستان باہم مل کر امن کیلئے کوشاں ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی عمان‘ ماسکو کا چکر لگا کر‘ گزشتہ مہینے تین بار پاکستان آ چکے۔ یعنی پاک وطن کا کردار بنیادی ہے۔ ساری دنیا کے دانشور بہرحال یہی کہہ رہے ہیں کہ امریکی تہذیب جس کے بارے اہلِ امریکہ نے کہا تھا کہ اب یہی تہذیب دنیا کو ہمیشہ لیڈ کرے گی‘ وہ اپنی آخری ہچکیوں کی جانب چل پڑی ہے۔ جی ہاں! اللہ گھات لگائے ہوئے ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں