"AHC" (space) message & send to 7575

اب ایران کی باری؟

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں واضح کہا ہے کہ ''ہم انسانوں کے درمیان دِنوں کو پھیرتے رہتے ہیں‘‘۔ چند روز قبل اسرائیل کے سابق وزیراعظم نفتالی بینِٹ نے ایسے ہی دنوں کو یاد کرتے ہوئے ایک تقریب میں کہا: ''ایران کا ہم پر احسان ہے کہ اس کے بادشاہ سائرس اعظم نے ہمیں بخت نصر کی قید سے آزادی دلا کر ہمیں ہمارا وطن واپس دلایا۔ یروشلم میں ہمارا ہیکلِ سلیمانی بھی بنوا کردیا۔ آج ہم بھی اہلِ ایران کو آزادی دلوا کر اپنے احسان کا بدلہ اتارنا چاہتے ہیں‘‘۔ قارئین کرام! حقیقت یہ ہے کہ بنو اسرائیل کے علما نے جس طرح تورات میں رد و بدل کیا اسی طرح آج کے اسرائیلی سیاستدان نے تاریخ میں رد و بدل کا ارتکاب کر ڈالا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران کے بادشاہ سائرس اعظم نے آج سے اڑھائی ہزار سال قبل بخت نصر کی بادشاہت کو شکست دے کر شام تک کا علاقہ فتح کر لیا تھا۔ اس میں فلسطین اور یروشلم بھی شامل تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسرائیلیوں کی نافرمانیوں کی وجہ سے سزا کے طور پر بخت نصر کو ان پر مسلط کیا تھا۔ بخت نصر نے حضرت سلیمانؑ کی بنائی ہوئی مسجد‘ جسے ہیکلِ سلیمانی کہا جاتا ہے‘ کو مسمار کر دیا تھا۔ یہود کو قتلِ عام کے بعد قیدی بنا کر بابل (عراق) میں لے جایا گیا تھا۔ یہ قید میں ہی تھے کہ سائرس اعظم شاہِ ایران نے بخت نصر کی بادشاہت کو ختم کرتے ہوئے شام اورفلسطین تک کو فتح کر لیا۔ سائرس اعظم نے اسرائیلیوں کو آزاد کر دیا اور کہا کہ ایران‘ عراق میں جہاں تم رہ رہتے آئے ہو‘ آزادی سے رہو۔ اپنے دیس جانا چاہتے ہو تو یروشلم چلے جاؤ؛ چنانچہ زیادہ تر یہود وہاں سے چلے گئے اور کم ہی تھے جو وہاں رہے۔ صدام حسین کے دور میں‘ جب پہلی خلیجی جنگ ہوئی تو تب عراق میں رہنے والے یہودی بھی وہاں سے اسرائیل چلے گئے تھے۔ ایران میں رہنے والے یہودی تھوڑی تعداد میں یروشلم گئے مگر زیادہ تعداد میں وہ ایران میں ہی مقیم رہے۔ وہ آج تک ایران میں بڑی تعداد میں موجود ہیں۔
یہاں جو بات قابلِ ذکر ہے وہ یہ ہے کہ سائرس نے وہ جنگ یہود کی آزادی کی خاطر نہیں لڑی تھی۔ ہاں! وہ ایک انصاف پسند اور رحمدل بادشاہ تھے۔ انہوں نے اپنی ساری سلطنت کے لوگوں کو آزادی دی کہ وہ اپنے اپنے مذہب پر آزادی کے ساتھ عمل کر سکتے ہیں‘ اپنی عبادت گاہ بنا سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے دن اس طرح ادل بدل کیے کہ بنو اسرائیل کو بدلے ہوئے دنوں میں اپنی اصلاح کا موقع مل گیا۔ ان کا وفد سائرس اعظم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض گزار ہوا کہ جس طرح باقی مذاہب کی منہدم عبادت گاہیں سلطنت بنا رہی ہے‘ ہمارا ہیکلِ سلیمانی بھی بنایا جائے۔ ان لوگوں نے جس طرح کا نقشہ دیا بادشاہ نے اسی طرح کا ہیکل بنوا دیا۔ ایران میں لاکھوں کی تعداد میں جو یہودی گزشتہ ڈھائی ہزار برسوں سے آباد ہیں‘ وہ تو خوشی اور خوشحالی سے آباد ہیں۔ اہلِ ایران پر جو حکمران ہیں وہ بھی ایرانی ہیں تو جناب نفتالی صاحب! تم لوگ کس کو کس سے آزاد کرانا چاہتے ہو؟ اتنا بڑا سیاسی جھوٹ بول کر تم لوگوں نے آٹھ مہینے پہلے ایران پر حملہ کیا اور اب دوسرے حملے کو بھی دوسرا مہینہ چل رہا ہے۔ غزہ کے باسیوں کو انہی کی زمین پر کارپٹ بمباری کرکے تباہ و برباد کیا گیا۔ وہی گھسے پٹے جھوٹ اب ایران کے بارے میں بول رہے ہو۔ یہی وہ ظالمانہ اور غیراخلاقی حرکات ہیں جن کی فردِ جرم اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں لگائی۔ اللہ رحمن بنو اسرائیل پر اپنے احسانات گنوانے ہیں‘ بنو اسرائیل کی بدعہدی اور ناشکری کے واقعات یاد دلاتے ہیں اور آخر پر فردِ جرم لگا کر بتایا کہ ہم نے انہیں بندر بنا دیا۔ یعنی ان کے اندر سے انسانیت ختم ہو گئی تو ان لوگوں کو اس حیوان کی شکل دی جو انتہائی شرارتی ہے۔ پھر اگلی ہی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں! ''(اے میرے حبیبﷺ!) اس زمانے کو ذہن میں لاؤ جب آپ کے رب نے فیصلہ اور اعلان کر دیا کہ وہ ہر صورت ان (یہود) پر ایسے لوگوں کو قیامت تک مسلط کرتا رہے گا جو اُن کو بدترین عذاب کا مزہ چکھاتے رہیں گے‘‘(الاعراف: 167)۔ قارئین کرام! غور فرمائیں۔ بخت نصر کے عذاب کے بعد سائرس اعظم کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے انہیں موقع دیا تو ان کی حرکتیں پھر پہلے جیسی ہو گئیں حتیٰ کہ ان لوگوں پر بت پرست رومی مسلط ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی رہنمائی کیلئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیجا تو ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی پاکباز والدہ محترم حضرت مریم پر نازیبا الزامات لگائے اور پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے مذہب اور معاشرے سے نکالتے ہوئے بت پرست رومیوں کے ذریعے سولی پر چڑھانے کا فیصلہ کیا۔ ٹھیک 70سال بعد انہی لوگوں نے رومی بت پرستوں کی حکومت کیخلاف بغاوت کر دی تو تب کی رومی حکومت نے ان کا ہیکل مسمار کر دیا۔ بنو اسرائیل کا قتلِ عام کیا اور سرزمینِ فلسطین سے دیس نکالا دے دیا۔ یہ جہاں بھی گئے ماریں کھاتے رہے۔ انہوں نے اللہ کے آخری رسول حضرت محمدﷺ کو ستایا تو مدینہ منورہ سے اجڑتے ہوئے نکلے۔ خیبر میں ان کی حکمرانی تھی‘ وہاں سے بھی فاتح خیبر حضرت حیدر کرارؓ کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے۔ کل کی بات ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہٹلر کے ہاتھوں سزا یاب ہوئے۔
20ویں صدی میں برطانیہ سپر پاور تھا۔ اس نے ان سے اپنی اور یورپ کی جان چھڑانے کیلئے ان کا ملک اسرائیل بنا دیا۔ 1948ء کے بعد آج تک یہ فلسطینی مسلمانوں‘ مسیحیوں اور دیگر کو قتل کرتے‘ گھروں سے نکالتے اور جنگیں کرتے چلے آ رہے ہیں۔ غزہ کو کھنڈر بنانے کے بعد جنوبی لبنان کو تباہ حال کرتے کرتے انہوں نے امریکہ کی مدد کے ساتھ ایران پر حملہ کر دیا۔ تکبر کے بڑے بڑے بول بولے۔اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نیتن یاہو اور اس کے سرپرست اعلیٰ کو سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اسرائیل کھنڈر بننا شروع ہو گیا‘ ایران کا نقصان بھی بہت ہو رہا ہے مگر اسرائیل کو 78 برسوں میں پہلی بار سزا مل رہی ہے اورایران کے ہاتھوں مل رہی ہے۔ اسرائیلوں پر جس نے بھی احسان کیا‘ بنو اسرائیل نے ظلم اور احسان فراموشی کے ساتھ بدلہ چکایا۔ جناب نفتالی! ایران کے پُرامن یہود بھی اس محسن کشی پر ناراض ہیں۔ اسرائیل کے اندر جو ایرانی یہود ہیں وہ بھی اسرائیلی وزیراعظم پر غضبناک ہیں۔ سفاردی اور ہاردی فرقے بھی نیتن یاہو اور اس کے ساتھیوں کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ ابھی اس جنگ کے خلاف امریکہ میں ایک کروڑ لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں۔ سورۃ الاعراف کی آیت: 167کا اختتام اس طرح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے رسول ﷺ کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں ''تیرا رب انتہائی تیزی کے ساتھ پیچھا کرکے ان لوگوں کو سزا دینے والا ہے‘‘۔ جی ہاں! اس بار صہیونی ظالموں کو سزا ایران کے ذریعے دی جا رہی ہے۔ نوشتۂ دیوار یہی نظر آ رہا ہے۔
پاک وطن کو خراجِ تحسین کہ اسلام آباد امن اور صلح کا سینٹر بن گیا‘ وہاں وزیر خارجہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی میزبانی میں سعودی عرب‘ ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا۔ بیجنگ میں اسحاق ڈار صاحب اور چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے جنگ کے خاتمہ کی تجاویز پیش کیں۔ پاکستان کی کوششوں سے سعودی عرب اور ایران باہم رابطے میں رہے۔ دوست اور بھائی بن کر تبادلہ خیالات کرتے رہے۔ ایران کے وزیر خارجہ جناب عباس عراقچی نے کہا کہ ہم گلف ریاستوں کے استحکام کا احترام کرتے ہیں‘ ہم سب مل کر دشمنوں کو یہاں سے نکالیں گے۔ پاک وطن خطے کے استحکام کی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کیلئے کردار ادا کر رہا ہے تو مستقبل کی ذمہ داریوں کیلئے بھی پابہ رکاب ہے۔ برطانیہ نے بھی اس جنگ میں شامل ہونے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ اس جنگ میں اخلاقی قدروں کو پامال کیا گیا ہے۔ سپین نے شروع سے ہی اس جنگ میں شامل ہونے سے صاف انکار کیا بلکہ اخلاقی طور پر ایران کا ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ اٹلی کے جذبات بھی ایسے ہی سامنے آئے۔ دنوں کا ادل بدل خبر دے رہا ہے کہ عالمی امن بھی ہو گا مگر دنیا نئی ہو گی‘ ضابطے نئے ہوں گے‘ جکڑ بندیاں ٹوٹیں گی‘ عالمی نظام نیا ہو گا اور شاید نئی جگہ پر ہو گا‘ ان شاء اللہ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں