"AHC" (space) message & send to 7575

خبردار! یہود کا نقشِ قدم!

اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری الہامی کتاب کا آغاز ''سورۃ الفاتحہ‘‘ سے کیا۔ فاتحہ کا مطلب ہی افتتاح ہے۔ افتتاحی سورت کا اختتام جس ساتویں آیت پر ہوتا ہے اس میں دو الفاظ ''مغضوب‘‘ اور ''الضالین‘‘ قابلِ غور ہیں۔ پہلے لفظ کا مطلب ہے: وہ لوگ جن پر غضب کیا گیا جبکہ دوسرے لفظ کا مطلب گمراہ لوگ ہیں۔ اللہ کے آخری رسول حضور نبی کریمﷺ نے دونوں الفاظ کی تفسیر خود فرما دی کہ ان الفاظ سے مراد یہود اور نصرانی ہیں۔ (سنن ترمذی۔ علامہ البانی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے)
لوگو! اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول اکرمﷺ نے اپنی امت کو قیامت تک آگاہ فرماتے اور خبردار کرتے ہوئے مزید یاد دلایا ''تم لوگ اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک ہاتھ (تقریباً ڈیڑھ فٹ یا ایک میٹر) میں پیروی کرو گے۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم لوگ اس (بربادی) میں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلو گے‘‘۔ صحابہ کرام ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسولﷺ! کیا ان لوگوں سے مراد یہود اور نصرانی ہیں؟ آپﷺ نے بے ساختہ فرمایا ''یہ نہیں تو اور کون ہیں؟‘‘۔ (بخاری و مسلم)
قارئین کرام! یہودی جو اپنے زمانے کی امتِ مسلمہ تھے‘ مختلف فرقوں مثلاً اشکنازی‘ سفاردی اور ہاردی وغیرہ میں بٹ گئے اور آپس میں فرقہ پرستی میں مبتلا ہو کر اس قدر دشمنی پر اتر آئے کہ ان کے بعض لوگ بت پرست مشرک اقوام کے ساتھ مل کر اپنے مخالف فرقے کے لوگوں سے جنگ کرتے۔ انہیں قتل کرتے‘ بے گھر کرتے اور قیدی بنا لیتے تھے۔ صدیوں سے یہ ایسا ہی کرتے چلے آ رہے تھے۔ حتیٰ کہ یہ لوگ ختم المرسلین حضرت محمد کریمﷺ کی مدینہ تشریف آوری سے پہلے تک یثرب اور خیبر میں رہتے ہوئے بھی ایسا ہی کرتے چلے آ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو یہ حرکت اور بُری خصلت یاد دلائی تو سورۂ فاتحہ کے بعد اگلی سورۃ ''البقرہ‘‘ میں یاد دلائی۔ آئیے! ملاحظہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہود سے کیا فرمایا: ''(اے اہلِ یہود!) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے (موسیٰ علیہ السلام اور دیگر انبیاء کے ذریعے) تم سے پختہ عہد لیا تھا کہ تم لوگ (فرقہ پرستی اور قبائلی عصبیت کا شکار ہو کر) اپنا خون نہیں بہائو گے اور نہ ہی اپنے آپ (یعنی اپنے مخالف فرقے یا قبیلے کو) اپنے گھروں (یعنی مخالفوں کے گھر اہلِ ایمان ہوتے ہوئے ایک ہی گھر ہیں) سے نکالنا۔ تم لوگوں نے (اس عہد پر پختہ رہنے کا) اقرار کیا۔ اس عہد کی گواہی تم خود بھی دیتے ہو۔ اس سب کے باوجود تم ایسے (بگڑے ہوئے) لوگ ہو کہ اپنے آپ کو ( یعنی اپنے ہی مخالف مسلک اور مخالف قبیلے) کو قتل کرتے ہو اور اپنے میں سے ہی ایک گروہ کو ان کے گھروں سے نکال باہر کرتے ہو۔ ظلم اور زیادتی کرتے ہوئے ان کے خلاف جنگی جتھے بندیاں کرتے ہو۔ پھر جب وہ جنگی قیدی بن کر تمہارے پاس آتے ہیں تو ان کی رہائی کے لیے تاوان (کرنسی کا لین دین) کرتے ہو۔ حالانکہ ان لوگوں کا بے گھر کرنا ہی تم لوگوں پر حرام تھا۔ کیسا رویہ ہے تمہارا کہ تم تورات کے ایک حصے پر ایمان لاتے ہوئے (یہ کہتے ہو کہ قیدی کے فدیہ میں تخفیف کر کے یا خود پورا ہی ادا کرکے ثواب کما لیں گے) اور ایک(بڑے) حصے کا انکار (کرکے جنگ) کرتے ہو۔ (قتل کرتے ہو۔ غیروں سے مل کر اپنوں کو ان کے علاقوں سے نکالتے ہو)۔ آگاہ ہو جائو! جو کوئی تم میں سے ایسا کرے اس کا بدلہ دنیا کی زندگی میں ذلت اور رسوائی ہے جبکہ قیامت کے دن یہ لوگ سخت ترین سزا کی طرف پلٹا دیے جائیں گے۔ جو حرکتیںتم لوگ کر رہے ہو اللہ اس سے بے خبر نہیں ہے۔ (میرے حبیب!) یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اگلے جہان (کی نعمتوں کو چند روزہ) دنیاوی زندگی کے بدلے خرید لیا ہے۔ (یہ ایسا جرم ہے کہ) ان سے عذاب کو ہلکا نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی ان لوگوں کی(دنیا و آخرت میں) مدد کی جائے گی‘‘۔ (البقرہ: 84 تا 86)
قارئین کرام! قرآن مجید کی بیان کی ہوئی مندرجہ بالا حرکتیں یہود کے فرقے اشکنازیوں کی ہیں۔ جی ہاں! ہر فرقے کی حرکتیں مختلف نوعیت کی ہیں۔ اسرائیل میں اس وقت اشکنازیوں ہی کی حکومت ہے۔ باقی فرقوں کے مقابلے میں ان کی تعداد اسرائیل میں اسّی فیصد ہے۔ نیتن یاہو کا خاندان پولینڈ سے آیا ہوا اشکنازی ہے‘ اس کی بیوی بھی اشکنازی ہے۔ پولینڈ کے اشکنازی 1920ء میں فلسطین کی سرزمین پر لا کر آباد کیے گئے تھے۔ یاد رہے روس وہ ملک ہے جہاں اشکنازیوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔ یہودی اٹھارہویں صدی عیسوی کے آخری حصے میں فلسطین آنا شروع ہوئے۔ 1992ء میں جب میں روس گیا‘ ماسکو سے گھومتا ہوا جب میں واپسی کے لیے تاشقند ایئرپورٹ کے لائونج میں بیٹھا اپنی اسلام آباد کیلئے فلائٹ کا انتظار کر رہا تھا تو فلائٹ چند گھنٹے لیٹ ہو گئی۔ میرے سامنے چند پروازیں مسافروں سے بھری جا رہی تھیں۔ معلوم ہوا یہ اشکنازی یہودی ہیں جو اسرائیل جا رہے ہیں۔ برطانیہ نے اشکنازیوں کو فلسطین میں اس لیے اکٹھا کیا تاکہ اسرائیلی فوج بن سکے۔ اس کے بعد جب امریکہ نے عالمی بساط پر برطانیہ کی جگہ سنبھالی تو تب بھی یہ کام جاری رہا۔ لوگو! ان کی جو حرکتیں قرآن مجید نے بیان فرمائیں وہی آج بھی ہیں۔ ظلم وزیادتی ہے۔ عہد وپیمان کی کوئی حیثیت نہیں۔ عراق‘ شام‘ یمن‘ لیبیا‘ سوڈان اور لبنان وغیرہ کے بعد اب ایران پر جنگ مسلط ہے۔ ایران سے دونوں بار مذاکرات کے دوران عہد توڑ کر جارحیت کی گئی ہے۔
عسکری اور فوجی آسمان پر میں نظر ڈالتا ہوں تو اس آسمان پر مجھے 56 ستارے اور ایک چاند نظر آتا ہے۔ یہ چاند پاکستان ہے۔ 'لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘ کی اساس پر بنا نظریاتی ملک ہے۔ واحد مسلم ایٹمی پاور ہے۔ میزائل ٹیکنالوجی میں اعلیٰ مقام کا حامل ہے۔ عسکری آسمان پر اس کی اے آئی کی مہارت کو دنیا دیکھ چکی ہے۔ سفارتی محاذ پر نیک نامی حاصل ہے۔ کوئی نو ماہ قبل اسرائیل اور امریکہ نے ایران پر جو جنگ مسلط کی تھی‘ اسے بھی پاکستان نے مصالحانہ کوششوں سے رکوایا تھا۔ اب پھر وہ اسی کوشش میں دن رات کوشاں ہے۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف‘ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی کوششیں امن کے آسمان میں فاختہ بن کر محو پرواز ہیں۔ اس وقت دنیا بھر کی انسانیت عالمی جنگ کے سیاہ سایوں کو اپنی جانب بڑھتا ہوا دیکھ رہی ہے کہ پاک وطن کا پُرامن کردار آٹھ ارب انسانیت کو امن کی سفید چادر اوڑھا دے۔ یہ بہت بڑی سعادت ہے۔ ہم اس سعادت کے لیے اللہ کے حضور شکرگزار اور دعا گو ہیں۔
''سورۂ آلِ عمران‘‘ میں مسیحی برادری کا ذکر کثرت کیساتھ ہے۔ جنگ عظیم اول اور دوم میں زیادہ تر یہی باہم برسر پیکار تھے۔ یوکرین میں آج بھی یہ لوگ آپس میں برسرپیکار ہیں۔ ان کا تذکرہ کرکے اللہ تعالیٰ اہلِ اسلام کو نصیحت فرماتے ہیں: ''اللہ کی رسی کو (عرب و عجم اور تمام مسلم) اکٹھے ہو کر مضبوطی سے تھام لو۔ الگ الگ مت رہو۔ اللہ کی اس نصیحت کو یاد کرو جب تم دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں کو ملا دیا۔ تم اس (اللہ) کی نصیحت کے ذریعے باہم بھائی بھائی بن گئے۔ آگ کے گڑھے کے کنارے کھڑے تم اس میں (گرنے ہی والے) تھے کہ اللہ نے تمہیں اس میں (گرنے سے) بچا لیا‘‘ (آل عمران: 103) یاد رہے! اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ذریعے آگ کے گڑھے سے بچاتا ہے۔ اے امت مسلمہ! اپنا چہرہ ''البقرہ‘‘ اور ''آلِ عمران‘‘ کے آئینے میں دیکھ لو کہ ہم نے جب ''مغضوب‘‘ اور ''الضالین‘‘ کو اپنا سرپرست بنا لیا تو آج ہم انہی جیسے حشر سے دوچار ہیں۔ اللہ کی قسم! آج بھی ہم اکٹھے ہو جائیں‘ پاکستان کو سرپرست بنا کر امت چل پڑے تو بربادیوں سے نکالنے کی راہ اللہ تعالیٰ پیدا فرما دیں گے۔ اے میرے ہم وطنو! استحکامِ پاکستان کیلئے قربانی اور یکجہتی ہی وہ نعمت ہے جو پاک وطن کو عالمی امن کا چاند بنا سکتی ہے۔ تول کر بولنا اور پھونک کر قدم رکھنا لازم ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں