"AHC" (space) message & send to 7575

پاک، ایران و عربستان، باہم برادران

اللہ تعالیٰ کی زمین پر پاک وطن کا ایک اہم ترین ہمسایہ ایران ہے۔ جب میں ہائی کلاسز کا طالب علم تھا تب میں نے ایران کی قدیم تاریخ کا مطالعہ کیا تھا۔ آج سے کوئی 35سال قبل یہی مطالعہ مجھے ایران لے گیا۔ ایران کے تاریخی مقامات کو دیکھنے کیلئے میں نے ایران کے نقشے کے ساتھ ایک عالمی نقشہ بھی خرید لیا۔ یہ نقشے فارسی زبان میں تھے۔ عالمی نقشے میں عرب دنیا کو ''عربستان‘‘ لکھا گیا تھا۔ اس لحاظ سے پاکستان‘ ہندوستان اور افغانستان سب فارسی الفاظ ہیں۔ ہم اہلِ پاکستان کے قومی ترانہ میں بھی بیشتر الفاظ فارسی زبان ہی سے ہیں۔ اس لحاظ سے آج کے کالم کا عنوان فارسی میں ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس عنوان کو اردو زبان میں بھی ایسے ہی پڑھا جائے گا۔ کالم کا عنوان تب میرے ذہن میں آیا جب امریکی کانگریس کے ایک اہم ترین سینیٹر کا بیان سامنے آیا۔ ان صاحب کا نام لنڈسے گراہم (Lindsey Graham) ہے۔ یہ سینیٹ کی بجٹ کمیٹی کے چیئرمین اور صدر ٹرمپ کے انتہائی قریبی ساتھی ہیں۔ مڈل ایسٹ آئی‘ وال سٹریٹ جرنل اور یروشلم سے New Me نامی نیوز لیٹر نے انکشاف کیا کہ حالیہ جنگ سے کوئی ایک ماہ قبل لنڈسے گراہم نے عربستان کا دورہ کیا اور عربستان کے حکمرانوں کو آگاہ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملہ کرنے جا رہے ہیں‘ آپ بھی ہمارے ساتھ اس حملے میں شامل ہو جائیں۔ جی ہاں! ایران اس سے قبل ہی واضح کر چکا تھا کہ اگر اب کے ہم پر اسرائیل اور امریکہ نے حملہ کیا تو ہم اُن اڈوں پر حملہ کریں گے جو ہمارے اڑوس پڑوس میں واقع ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کا پروگرام یہ تھا کہ جنگ ہم شروع کریں گے اور جب ایران اپنے اڑوس پڑوس میں واقع ہمارے اڈوں پر حملہ کرے گا تو یہ اڑوس پڑوس عرب ممالک ایران پر حملہ کر دیں گے۔ جب نو علاقائی مسلم ممالک ایران پر حملہ کریں گے تو ہم دونوں چپکے سے نکل یعنی کھسک جائیں گے۔ یوں مسلمان باہم لڑتے مرتے رہیں گے۔ ان ملکوں کا جوان اور جذباتی خون اس جنگ کو مزید ایندھن فراہم کرتا رہے گا۔ یوں سالوں تک باہم لڑ لڑ کر یہ دیوانے لوگ جب تباہی کے آخری سرے پر پہنچ جائیں گے تب ہم ان کی سپورٹ بند کر کے صلح کے چیمپئن بن جائیں گے اور خطے میں اپنی مرضی کی جغرافیائی تبدیلیاں بھی کر لیں گے۔ اس طرح گریٹر اسرائیل کا ہمارا منصوبہ عملی شکل اختیار کر لے گا۔
قارئین کرام! میں صدقے قربان جائوں اپنے پاک وطن پر کہ جو ''لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ کی اساس پر حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں وجود میں آیا۔ اس کی سول اور ملٹری قیادت نے مندرجہ بالا ناپاک چالبازی کو بروقت بھانپ لیا اور اسے بھاپ کی طرح اڑانے کا فیصلہ کر لیا۔ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سرگرم ہو گئے۔ فیلڈ مارشل سید حافظ عاصم منیر بھاگ دوڑ کرنے لگے۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے رابطے تیز کر دیے۔ جنگ کا آغاز ہوا تو عربستان اور اڑوس پڑوس کو خراجِ تحسین کہ اس نے صبر اور حوصلے کے دامن کو تھامے رکھا۔ اس دامن کو مزید مضبوط کرنے کیلئے مزید صلح جو لوگ آگے بڑھے۔ روس اور چین بھی آگے آئے۔ یورپ اس جنگ میں خاموش رہا۔ سپین نے تو واضح طور پر اس جنگ کو شروع کرنے والوں پر تنقید کی۔ جب جنگ کو شروع ہوئے دو ہفتے ہونے کو آئے‘ ایران میں رجیم چینج بھی نہ ہو سکی‘ آدھا اسرائیل اور آدھا تل ابیب کھنڈر بن گیا تو لنڈسے گراہم تنقید کا ہتھوڑا لے کر عربستان کو کوسنے لگا کہ اگر وہ (Don't Join the US- Israeli war on Iran) ایران کے خلاف اسرائیل امریکہ جنگ میں شامل نہیں ہوتے تو انہیں نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ ایسی ہی دھمکی ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپ کے بعض ملکوں کو دی مگر یہ دھمکی اس لیے کارگر نہ ہو سکی کیونکہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ امریکی ہاتھی (جو ریپبلکن پارٹی کا انتخابی نشان ہے) وہ اپنا سارا توازن کھو بیٹا ہے۔ لامحالہ گرتے گرتے وقت لے گا۔ مگر اس سے بچنا بھی ہے کہ یہ کسی پر گر نہ پڑے۔ یوں بھاری بھر کم زخمی ہاتھی کو دنیا والے زخموں سے چور دیکھ بھی رہے ہیں اور اس کے پاس کھڑے ہونے سے ڈر بھی رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ سے قبل ایران کو 'جہنم‘ بنانے کا اعلان کیا اور پھر جنگ کے دوران تیل کے مراکز پر حملے کیے۔ تہران پر سیاہ دھوئیں کی چادر چھا گئی۔ سانس لینا مشکل ہو گیا۔ بچے سانس کی مشکل سے دوچار بلبلا اٹھے۔ سڑکوں پر کیمیکل بھی پھینکا گیا‘ جس سے آگ لگ گئی۔ یوں تہران شہر جہنم کا نمونہ پیش کرنے لگا۔ جنگ فوجوں کے درمیان ہوتی ہے۔ یہ جنگ نہیں بزدلی ہے۔ بزدلی سنگدلی بن کر شہری آبادیوں کو جھلسا رہی ہے۔ غزہ اور لبنان کے ساتھ ساتھ تہران کے نئے محاذ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ ایران کی آبادی کچھ اس طرح ہے کہ اس کے وسط میں فارسی بولنے والے شیعہ مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ سنی مسلمان کم تعداد میں ہیں مگر اس آبادی کے گرد یعنی ایران کی سرحدوں پر سُنی مسلمان اکثریت میں ہیں جبکہ سرحدی علاقوں میں فارسی بان شیعہ نسبتاً تھوڑی تعداد میں ہیں۔ یہ سب مسلمان ہیں‘ باہم برادران ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کا جو بم بھی گرتا ہے‘ ہر بم کا شکار دونوں ہوتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی نظر میں جو بم بھی گرتا ہے وہ اہلِ اسلام پر گرتا ہے۔ شجرہ طیبہ نامی بچیوں کے ایلیمنٹری سکول کی عمارت پر جو بم گرا وہ ہم سب کی ننھی اور معصوم بچیاں تھیں۔ 170کے قریب ان بچیوں کے ہاتھ‘ پائوں بکھرے پڑے تھے۔ چھوٹے چھوٹے بستے جن میں مائوں نے ٹفن رکھے تھے‘ وہ رنگا رنگ کے کھانے بکھرے پڑے تھے۔ کتابیں اور کھانے خون آلود تھے۔ ننھی پریوں کے جسموں کے لوتھڑے کھانوں کے ساتھ مکس ہو چکے تھے۔ اے کاش! ریڈ کراس یا کوئی عالمی تنظیم آگے بڑھے‘ اس کھانے کو ٹفنوں سمیت محفوظ کر لے۔ آج کی نام نہاد مہذب تہذیب کی ایک یادگار محفوظ ہو جائے۔ شاید کہ ہمارے بعد آنے والی انسانیت تیل کی دولت اور سونے چاندی سمیت ریئر ارتھ منرلز کی خاطر ایسے مناظر بپا کرنے سے بچ جائے۔
اللہ کی پناہ! انسان بھی عجب چیز ہے۔ ایسے مناظر کے بعد وہ اپنے دفتر میں بیٹھتا ہے۔ تقدس و پارسائی کا روپ دھارتا ہے۔ کچھ مذہبی لوگ اسے مقدس مانتے ہوئے چھوتے ہیں‘ جیسے کہ وہ برکت حاصل کر رہے ہیں اور پھر وہ اپنے خالق کے سامنے فریاد کرتے ہیں کہ ان صاحب کی برکت ان کی قوم کے شاملِ حال رہے۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ آسمان سے دانش و دانائی ان صاحب کے دل اور دماغ پر پڑتی رہے۔ دعا آگے بڑھتی ہے۔ اے رب! ان صاحب کے لیے مدد دینے والی بھلائی کا فیصلہ فرما دے۔ اپنی حمایت اس کو عطا فرما دے تاکہ یہ ہماری افواج اور قوم پر مہربانی کرتا رہے۔ اے رب! ہمارے صدر کو وہ وقت عطا فرما جس کا وہ محتاج ہے۔ وہ ہماری عظیم قوم کی خدمت کرے۔ ہماری قوم میں ایسا اتحاد پیدا کر کہ ہم تقسیم نہ ہوں۔ اپنی آسمانی برکت ہمارے صدر پر نازل فرما دے۔ آمین!
قارئین کرام! اب ایک اور لیڈر ہے‘ وہ اپنے والد کی گداز اور نرم و ملائم محبت سے محروم ہو چکا ہے۔ اپنی عظیم ماں کی مامتا کی محبت سے تہی دامن ہو چکا ہے۔ اہلیہ محترم کا جسم بم کے ٹکڑوں کی نذر ہو چکا۔ ڈیڑھ سالہ بیٹی زہرا فردوس کے دروازے پر ماں کا ہاتھ تھامے ذرا پہلے ہی جا کھڑی ہوئی ہے۔ اہلِ ایران کا یہ لیڈر شجرہ طیبہ کی بچیوں کی مظلومانہ شہادتوں کو ذہن میں لاتا ہے۔ ساتھ اپنی زہرا کی تصویر کو ہم آہنگ کرتا ہے اور دھیمی دھیمی آواز میں بولتا ہے۔ میری محبوب ملت کو سلام! جس کو جنگ کا شکار کر دیا گیا۔ ہم اپنے رب کی بندگی میں رہتے ہوئے لڑیں گے۔ آخری آدمی تک دشمن کا راستہ روکیں گے۔ وحشت ودرندگی کو روکنے تک ثابت قدم رہو۔ اے دنیا بھر کی انسانیت! دونوں رہنمائوں کو پہچانو۔ یہ کون ہیں؟ آئیے! عزم کریں عالم اسلام ہی نہیں‘ پورے انسانی جہان کو باہم برادران بنائیں۔ میرا پاک وطن اسی راستے پر ہے۔ پاکستان زندہ باد!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں