گلگت بلتستان میں سیاسی سرکس آج کل کھڑکی توڑ رش لے رہا ہے۔ شعبدے بازی سمیت کیسے کیسے کرتب دکھاتے بازیگر اپنا اپنا میدان لگائے ہوئے ہیں‘ اقتدار اور وسائل کے بٹوارے میں بندھے سبھی سماج سیوک نیتا ایک دوسرے کے مدمقابل انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ طعنوں سے لے کر للکاروں تک‘ لفظی گولہ باری سے لے کر تنقید کے نشتر چلانے تک سبھی حربے برابر آزمائے جا رہے ہیں۔ آفرین ہے عوام کے ضبط اور ظرف پر جو انہی کے گیت گائے اور لہرائے جا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل نمونے کے چند کلپ ان کی اخلاقیات اور طرزِ سیاست سے لے کر نیت اور ارادوں کے پول کھول رہے ہیں۔ ایک پارٹی کی تیسری نسل تو دوسری پارٹی کی دوسری نسل شوقِ حکمرانی سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ انتخابی بھاشن میں حالات کا رونا اس طرح رویا جا رہا ہے گویا تباہی اور بربادی کسی اور مخلوق سے منسوب ہو۔ اسی طرح چھ مرتبہ وزارتِ عظمیٰ اور نو مرتبہ وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے والی پارٹی کے سربراہ نے تو گلگت کے عوام سے برملا شکوہ بھی کر ڈالا کہ آپ لوگوں نے میری جلا وطنی کیوں ہونے دی‘ مجھے نکالا گیا‘ جیلوں میں ڈالا گیا‘ قصور آپ کا بھی ہے۔
بڑے میاں صاحب نے جہاں عوام کو قصور وار ٹھہرایا ہے وہاں اپنے اوپر ٹوٹنے والے سبھی عتابوں اور عذابوں کا نوحہ بھی خوب دہرایا ہے۔ تاہم یہ معمہ بدستور حل طلب ہے کہ نو برس گزرنے کے باوجود مجھے کیوں نکالا کا سوال جواب کیلئے کیوں بھٹکتا پھر رہا ہے۔ دومرتبہ وزارتِ اعلیٰ اور تین مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر براجمان رہنے والے جہاندیدہ کو اگر خود نہیں معلوم تو عوام کو کیا معلوم ہو گا۔ تاہم نکتے ملائیں تو نکالے جانے سمیت لوٹ آنے جیسے سوالوں کے جواب بھی بہ آسانی دریافت کیے جا سکتے ہیں لیکن سالہا سال سے زور فقط ایک سوال پر ہے ''مجھے کیوں نکالا؟‘‘ جبکہ لوٹ آنے کے بعد برادرِ خورد دوسری مرتبہ وزارتِ عظمیٰ اور صاحبزادی وزارتِ اعلیٰ کا قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس تناظر میں Come back سے جڑے سوالات نو سال پرانے سوال سے کہیں بڑے اور کڑے دکھائی دیتے ہیں۔
مملکتِ خداداد میں ایوان سے زندان اور زندان سے ایوان کا سفر کبھی معمہ نہیں رہا۔ واقفانِ حال سے لے کر سبھی خاص و عام بخوبی جانتے ہیں کہ راج نیتی کے اس کھیل میں اصول‘ نظریات اور اقدار ہمیشہ بے توقیری کا شکار ہی رہی ہیں۔ لاجواب سوال ہوں یا سوال میں چھپے مزید سوال سبھی جواب لے کر پیدا ہوتے ہیں لیکن جواب صرف ہوشمندوں کو ہی سجھائی دیتے ہیں۔ محمد خان جونیجو کی برطرفی سے جنم لینے والے سوال پر مٹھیاں بھر بھر مٹی نہ ڈالتے تو شاید مزید سوال پیدا ہی نہ ہوتے۔ محمد خان جونیجو سے لے کر نکالے جانے والے حالیہ وزیراعظم تک سبھی اپنے اپنے سوال کے کشکول میں جواب کے طالب ہی رہے۔ محمد خان جونیجو کی رخصتی کے بینی فشری کئی بار نکلتے اور لوٹ کر آتے رہے لیکن نو سال پہلے نکالے جانے کا صدمہ اور گھاؤ اس قدر گہرا ہے کہ اقتدار بھی بھرپائی نہیں کر پارہا۔ جن عوامی اجتماعات میں نکالے جانے کا سوال تواتر سے پوچھتے چلے آرہے ہیں‘ وہ آپ کو کیا بتائیں گے کیونکہ آپ کے پاس بھی تو ان کے کسی سوال کا جواب نہیں ہے۔ عوام آپ کے سوال پر لاجواب ہیں تو آپ روٹی کے سوال پر بھی لاجواب ہی پائے گئے ہیں‘ دونوں سوال بھوک کے گرد ہی گھومتے ہیں‘ کہیں پیٹ کی بھوک ہے تو کہیں اقتدار کی۔ ایک پرانی پنجابی فلم روٹی کے تھیم سانگ کا ایک شعر پیشِ خدمت ہے:
روٹی دا سوال اے‘ جواب جیہدا روٹی اے
وڈے سارے لوکاں لئی ایہہ گل بڑی چھوٹی اے
عوام کا سوال حکمرانوں کیلئے بے معنی اور حقیر ہو تو عوام بھی حکمرانوں کو درپیش سوالات سے منہ موڑ لیتے ہیں‘ جب عوام منہ موڑ لیں تو حکمران یونہی پوچھتے پھرتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیپٹن(ر) صفدر بھی گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں نواز شریف کے شانہ بشانہ اور پیش پیش ہیں۔ جوشِ خطابت میں موصوف نے عوام کا پیسہ کھانے والوں کیلئے دنیا و آخرت میں ذِلت کی دعا کے ساتھ ساتھ نسلوں کی تباہی کی بددعا بھی کر ڈالی۔ ان کے دعائیہ کلمات پر عوام کی طرف سے آمین کی صداؤں نے ماحول خاصا گرما ڈالا‘ سوشل میڈیا پر کیپٹن (ر) صفدر کا یہ کلپ بوجوہ مقبولیت پکڑ چکا ہے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی رہنماؤں کی گلگت بلتستان میں موجودگی بدشگنی قرار پا چکی ہے۔ ردِّ بلا کیلئے ان کی صوبہ بدری کے انتظامات کیے گئے ہیں۔ ادھر بلاول بھٹو زرداری نے شریکِ اقتدار دوستوں کو کھلا پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ جیسے لاہور میں چلتا ہے ویسے یہاں بھی چلے گا‘ یعنی پیسہ پھینک تماشا دیکھ۔ پہلی مرتبہ دیکھ رہا ہوں کہ جو وفاقی حکومت میں ہیں اور ان کے اُمیدوار مایوس ہیں‘ بھلے دوست ہیں ہمارے مگر اس مرتبہ وہ ہاریں گے۔
نورا کشتی کے یہ روپ بہروپ اگلے دو دن مزید جاری رہیں گے۔ انتخابی معرکہ ختم ہوتے ہی سبھی اپنے پرانے کام کی طرف لوٹ آئیں گے۔ وفاقی بجٹ اور 28ویں ترمیم جیسے کٹھن مراحل ان کے منتظر ہیں۔ زرداری صاحب کی سیاست کے داؤ پیچ 28ویں ترمیم پر کمزور اور بے بس پڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی توقعات اور سبھی امیدوں پر پانی پڑتا دکھائی دے رہا ہے‘ چارو ناچار 28ویں ترمیم کی کڑوی کسیلی گولی نگلنا تو پڑے گی۔ ایسے میں 18ویں ترمیم کے سبھی ثمرات سے محرومی کا صدمہ بھی درپیش ہے جبکہ 28ویں ترمیم کے بعد غیرمتوقع منظرنامہ بھی نیندیں اُڑائے ہوئے ہے۔ دور کی کوڑی لانے والے یہ عندیہ بھی دے رہے کہ عنقریب اقتدار کی ٹرین سے کئی اہم سواریاں سٹاپ آنے پر اتار دی جائیں گی۔
وفاقی اور صوبائی حکومتیں بند گلی میں پہنچ چکی ہیں۔ گورننس کے حوالے سے درپیش مسائل اور کڑے سوالات گلے کا طوق اور پاؤں کی بیڑیاں بنتے جا رہے ہیں۔ کہیں جھوٹے ایمانداروں کا راج ہے تو کہیں سچے بے ایمانوں کا سکہ چل رہا ہے۔ نمائشی اقتدامات عوام کی زندگیاں روز بروز اجیرن کرنے کا باعث ہیں۔ نظامِ تعلیم سے لے کر امن و امان تک‘ صحت عامہ سے لے کر تھانے اور پٹوار تک‘ نظامِ انصاف سے لے کرعدم مساوات تک‘ سماجی بگاڑ سے لے کر معاشرتی ناہمواریوں تک‘ خورد برد سے لے کر لوٹ مار تک‘ دھونس اور دھاندلی سے لے کر سینہ زوری تک سبھی مناظر ٹھہر سے گئے ہیں گویا یہی مستقل منظر نامہ ہے۔ پہلے سے موجود سرکاری اداروں کے متوازی اور متبادل نئے محکمے آپے سے باہر ہیں۔ نت نئی فورسزنے عوام کی تذلیل اور تضحیک کو نصب العین بنا لیا ہے۔ نہ کہیں شنوائی ہے نہ دادرسی‘ پورا ملک توشہ خانہ دکھائی دیتا ہے‘ عملاً نہ کوئی نظام ہے نہ قانون اور ضابطے‘ نیتوں کا کھوٹ عوام کی قسمت کھوٹی کیے چلے جارہا ہے‘ عوام سے قربانی پر قربانی مانگی جا رہی ہے‘ جبری ٹیکسیشن کا نظام آئے روز مرگِ نو کا پیغام لاتا ہے‘ قوتِ خرید دم توڑتی چلی جا رہی ہے‘ خوشحالی اور انقلاب کی باتیں بھاشن اور تقریروں تک محدود ہیں‘ عوام کی عملی زندگیاں قابلِ رحم اور روز بروز خستہ ہوتی چلی جا رہی ہیں‘ ایسے میں نظام کی تبدیلی ہو یا چہروں کی‘ عوام کو اس سے کوئی سروکار نہیں‘ عوام کا ایک ہی مطالبہ اور ایک ہی سوال ہے: روٹی دا سوال اے‘ جواب جیہدا روٹی اے۔