نئے مالی سال کا پہلا بجٹ آچکا ہے جبکہ ننھے مُنے چھوٹے موٹے اور سپلیمنٹری بجٹ سال بھر آتے رہیں گے‘ یعنی بڑا دھماکا ہر سال جون کے مہینے میں طے ہے جبکہ چھوٹے موٹے ڈرون حملے حسبِ ضرورت جاری رہیں گے۔ بجٹ کو عوام دوست ثابت کرنے کیلئے وہی روایتی اور گھسے پٹے حربے آزمانے کے علاوہ جہاں اقلیتی اشرافیہ کو مزید مستحکم کرنے کی بدعت کو دوام بخشا ہے وہاں رعایا کیلئے حالاتِ بد کو بدترین کرنے کے سبھی اسباب جوں کے توں رکھنے کا بندوبست بھی کر ڈالا ہے۔ تعلیم اور صحت کے ساتھ بجٹ میں وہی سلوک کیا گیا جس کی جھلک طرزِ حکمرانی میں بخوبی دیکھی جا سکتی ہے۔ حکومتِ پنجاب نے گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں نئے مالی سال میں صحت عامہ کی مد میں 500ارب 62کروڑ روپے مختص کیے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 130ارب روپے کم ہیں۔ اس تناظر میں پنجاب کے فی کس عوام کے حصہ میں صحت عامہ کی مد میں تقریباً 3920 روپے سال بھر کے لیے آتے ہیں۔ اسی طرح تعلیم کی پتلی حالت مزید پتلی کرنے کے لیے 750ارب روپے کا بجٹ تجویز کیا گیا ہے‘ یاد رہے گزشتہ بجٹ میں یہ رقم 812 ارب روپے تھی۔ اس طرح تعلیمی مد میں تقریباً 5873 روپے سالانہ فی کس بنتے ہیں۔ ان دونوں اہم ترین شعبوں میں بھاری کٹوتیاں حکومتی ترجیحات کا پرچہ آؤٹ کرنے کے لیے کافی ہیں۔ تاہم امن و امان کے نام پر وی وی آئی پی شخصیات کی نقل و حمل اور تحفظ کیلئے خصوصی اقدامات اور خطیر فنڈز بھی مختص کیے گئے ہیں۔ البتہ صحت کیلئے ''ھوالشافی‘‘ تعلیم کیلئے ''ربّ زدنی علما‘‘ خوراک کیلئے ''واﷲ خیر الرازقین‘‘ اور امن و امان کیلئے ''فی امان اﷲ‘‘ جیسے وظیفے پڑھنے پر قطعی کوئی ممانعت نہیں۔ ایسے وظائف سے رحمتِ خداوندی کی امید تو بجا طو رپر کی جاسکتی ہے لیکن حکومت کی طرف سے کسی خیر کی توقع سراسر اپنی ذمہ داری پر وابستہ کرنی چاہیے۔
اُدھر حکومت عوام دوست اور تاریخی بجٹ میں مصروف رہی اِدھر سانحہ چکوال میں ناحق ماری جانے والی آسٹریلیا پلٹ نو سالہ ہانیہ کی پوسٹمارٹم رپورٹ آگئی ہے‘ جس میں اس کے جگر‘ دل اور پھیپھڑوں سمیت دیگر اندرونی اعضا چھلنی ہونے کی نشاندہی ہو گئی ۔ اسی دوران آسٹریلوی وزیراعظم نے ہانیہ کے قتل کی ایسی صاف و شفاف تحقیقات کامطالبہ کیا ہے جسے دنیا تسلیم کرے۔ آسٹریلوی وزیر اعظم کو کیا معلوم کہ ہمارے حکمران کس قدر اہم امور میں مصروف ہیں۔ ہمارے ہاں تو ایسے واقعات معمول ہیں۔ حکومت کو بجٹ کی منظوری اور حکمرانی کے دیگر جوہر دکھانے سے فرصت ملے تو اس خاندان کی طرف توجہ مرکوز کرے ۔ البتہ سی سی ڈی کے کمانڈر ظلم کا شکار ہونے والے خاندان کے گھر ضرور گئے اور اندراجِ مقدمہ سمیت دیگر پورے کیے جانے والے قانونی تقاضوں بارے آگاہ کیا اور انصاف کی فراہمی کی بھی یقین دہانی کرائی۔سی سی ڈی کو اپنی ساکھ اور شہرت کا مان رکھنا ہوگا۔ خیال رہے کہ یہ مان کہیں ٹوٹ نہ جائے۔
بجٹ کے موسم میں فیصل واوڈا نے ایک بار پھر لنکا ڈھانے کا بیڑا اُٹھا لیا ہے۔ سبھی وزرائے اعلیٰ کے آئندہ عزائم و اہداف کے علاوہ کرپشن کہانیاں بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ سبھی ایک کنٹینر کے اوپر ہوں گے یا کنٹینر کے اندر ہوں گے۔ دور کی کوڑی لانے والے فیصل واوڈا کی دبنگ انٹری کو 28ویں ترمیم سے اس طرح منسوب کر رہے ہیں کہ برسرِ اقتدار دو بڑی اتحادی جماعتیں مل کر تاخیری حربوں کے ساتھ ترمیم کھٹائی میں ڈالنے کیلئے کوشاں ہیں۔ تبھی تو وزرائے اعلیٰ سے لے کر وزارتوں میں جاری کرپشن کہانیاں ریکارڈ کی طرح سنائی اور بجائی جا رہی ہیں۔ کھلے عام دیے جانے والے پیغام میں واضح کیا جا رہا ہے کہ 28ویں ترمیم پر کسی گیم یا سیاست کی صورت میں فائلوں میں بند کالے کرتوت ازخود نکلنا شروع ہو جائیں گے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان سبھی کی کالک چلتی سرکار پر یوں مل دی جائے کہ مزید چلنا محال ہوتا چلا جائے گا۔
دوسری طرف سہیل وڑائچ صاحب نے اس بار خطرے کی گھنٹی کے بجائے گھنٹا بجا ڈالا ہے۔ پہلے کالم پر شدید ردِ عمل کے بعد جوابِ شکوہ کے طور پر اپنے مخصوص اسلوب میں اضافی تکلف کے ساتھ پہلا کالم بڑی مہارت سے دہرایا‘ یعنی بھگو کر مارنے سے پہلے کالم کی سنگینی اور خبریت میں مزید اضافہ کر دیا۔ وڑائچ صاحب الفاظ کو اس قدر کھلا کُرتا پہناتے ہیں کہ بوقتِ ضرورت آسانی سے گھمایا بھی جا سکتا ہے جبکہ ہمارے بعض اناڑی الفاظ پر اس قدر چست قبا چڑھاتے ہیں کہ گھومنا تو درکنار ہلنے کی اجازت بھی نہیں ملتی۔ البتہ وزیر باتدبیر سے اختلافات کو ہوا دینے والے ہوں یا بغلیں بجانے والے سبھی خاطر جمع رکھیں اور آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا؟ واقفانِ حال بخوبی جانتے ہیں کہ بظاہر دکھائی دینے والی لڑائی کسی مناسب وقت پر صلح صفائی میں تبدیل ہو سکتی ہے جبکہ نورا کشتی کے امکان کو بھی قطعی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ راج نیتی میں تھیوریز کی لانچنگ سے لے کر سکرپٹڈ اختلافات بھی بوقتِ ضرورت چلتے اور خوب بکتے ہیں۔ گلے ملتے ہی گِلے بھی ایسے رفو چکر ہوتے ہیں جیسے کبھی کوئی گلہ تھا ہی نہیں‘ دکھائی دینے والی اکثر لڑائیاں لڑائی نہیں ہوتیں۔ شریکِ اقتدار حکومتی اتحاد کو ہی دیکھ لیجئے‘ ان کی لڑائیاں مفادات کی ہوتی ہیں تو دوستی اہداف کی‘ تاہم ایسے کالموں پر مستقبل کے خاکے ضرور بنائیے لیکن پس منظر اور ماضی کے حوالے ہرگز نظرانداز نہ کیجئے۔ آندھی کی طرح چلنے والے ان کالموں نے سوشل میڈیا اور ٹی وی ٹاک شوز میں خوب رونق لگا رکھی ہے‘ ریٹنگ وغیرہ بھی خوب آرہی ہے لیکن ہمارے ہاں ایسی سچوایشن کو ڈی کوڈ کرنے کا رواج اور ہنر کم ہی دیکھنے میں آیا ہے۔
بات کالم کی چل نکلی ہے تو 'بٹ صاحب‘ کے کالم کا ذکر بھی کرتا چلوں جس پر سرکاری بابوؤں کی ایک تنظیم نے سائبر کرائم ونگ کو درخواست دی ہے کہ ''بیورو کرپٹ‘‘ کا لفظ استعمال کرنے پر موصوف کالم نگار کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ کالم نگار نے تو اس اصطلاح سے پہلے 'کچھ‘ کا لفظ لگا کر راستہ چھوڑ دیا تھا مگر بقول شاعر:
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے
توپوں کا رُخ خود اپنی طرف موڑنے نے نہ صرف مذکورہ کالم کو ٹاپ ٹرینڈ بنا ڈالا بلکہ اب کرپشن کی داستانیں بھی کھلنا شروع ہو چکی ہیں‘ نیب کیسز‘ دہری شہریت اور پلی بارگین کے گڑے مردے بھی نکل کر سامنے آرہے ہیں۔ تعجب ہے ان افسران کی بے خبری پر کہ اسمبلی فلور پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے کچے چٹھے کھولنے سے لے کر بیرونِ ممالک کالا دھن اور جائیدادوں کا اعلانیہ ذکر کیا تھا‘ اس وقت تو کسی کو ہوش نہیں آیا‘ کسی کو سائبر کرائم کا رستہ سجھائی نہ دیا‘ شاید وزیر باتدبیرکے خلاف کسی درخواست کی جرأت ہی نہ ہوئی۔