عیش و آرام اور ٹھاٹ باٹ کے شاہانہ شب و روز سکون کے بجائے بے چینی کا باعث بننے لگے اور محل کا ماحول بھی مصنوعی محسوس ہوا تو طبیعت اکثر بوجھل رہنے لگی۔ دل گھبرایا تو ایک دن شہزادے نے گاڑی تیار کرنے کا حکم دیا اور بیٹھتے ہی رتھ بان سے کہا کہ شہر کی طرف چلو۔ شہزادے پر راج محل سے قدم باہر نکالنے پر صریحاً پابندی کے باوجود رتھ بان انکار کی جرأت نہ کر سکا۔ شہر پہنچے تو بازار میں ایک انتہائی ضعیف بوڑھا نظر آیا جس کی کمر جھکی ہوئی تھی‘ بال سفید اور جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ گیا تھا۔ دو قدم چلنا بھی محال تھا۔ کچھ آگے بڑھا تو ایک بیمار دکھائی دیا جو شاید کوڑھ کے مرض میں مبتلا تھا‘ اس کی قابلِ رحم اور تکلیف دہ حالت نے شہزادے کے ہوش اڑا دیے۔ سواری آگے بڑھی تو ایک مجمع کے آگے چار آدمی ایک میت کاندھوں پر اٹھائے لے جا رہے تھے۔ مجمع میں شریک سبھی سوگوار تھے اور بیشتر زار و قطار رو رہے تھے۔ شہزادے نے دریافت کیا کہ کاندھے پر لادے کپڑے سے ڈھکا‘ یہ کیا لیے جا رہے ہیں اور یہ سب باجماعت کیوں رو رہے ہیں؟ رتھ بان نے عرض کیا حضور! کوئی مر گیا ہے‘ اس کی لاش آخری رسومات کے لیے لے جا رہے ہیں اور رونے والے سب مرنے والے کے عزیز و اقارب اور اہلِ خانہ ہیں۔ شہزادے نے ابھی تک موت کا نام نہیں سنا تھا‘ متحیر ہو کر سوال کیا: یہ مرنا کیا ہوتا ہے‘ اور اس پر رونے کی کیا وجہ ہے؟ رتھ بان نے پھر عرض کیا کہ جناب جو پیدا ہوتا ہے اس نے ایک دن مرنا بھی ہوتا ہے۔ مرنے کے بعد غمزدہ اہلِ خانہ اور رشتہ دار اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ آتے ہیں اور مرنے والا اکیلا اُس جہان میں واپس چلا جاتا ہے جہاں سے وہ آیا تھا۔ شہزادے کے لیے سبھی مناظر پریشان کن تھے اور دل پر ضرب کی طرح لگے۔ بے اختیار سوچنے لگا کہ جب اس دنیا کو ایک دن چھوڑنا ہی ہے تو دنیا والوں سے محبت کرنا ہی بے کار ہے۔ اسی دوران ایک جوگی سامنے سے آتا دکھائی دیا جو عمررسیدہ ہونے کے باوجود چست تھا‘ آنکھوں سے بجلیاں کوندتی تھیں اور چہرہ پُرنور تھا۔ شہزادے نے سوال کیا کہ اس آدمی پر بیماری اور بڑھاپے کا اثر کیوں نہیں ہوتا؟ رتھ بان نے جواب دیا: حضور! یہ فقیر ہے‘ یہ ترکِ دنیا کر چکا ہے‘ لہٰذا اسے موت کا غم ہے نہ بیماری کا دکھ‘ یہ مرتے دم تک ایسے ہی خوش اور بے نیاز رہے گا۔ سواری آگے بڑھی تو ایک ندی نظر آئی‘ شہزادہ رتھ سے اترا‘ غسل کیا تو یہ خیال اس کے دماغ میں پختہ ہو چکا تھا کہ ''دنیا دکھوں کا گھر ہے‘‘۔ کئی گھنٹے خود کلامی اور غور و فکر میں مصروف رہا‘ دن ڈھلنے کو آیا تو واپسی کے لیے بوجھل اور اداس دل کے ساتھ سواری میں بیٹھا ہی تھا کہ راج محل سے قاصد بھاگا بھاگا آیا اور خوشخبری سنائی کہ فرزندِ ارجمند پیدا ہوا ہے۔ شہزادہ خود سے مخاطب ہوا ''یہ ایک نئی اور مضبوط زنجیر ہے جو مجھے توڑنا پڑے گی‘‘۔ جب محل کے قریب پہنچا تو ہر طرف مبارک سلامت کی دھوم تھی‘ جشن کا سماں تھا۔ ایک داسی نے مبارکباد کا گیت گایا تو دل پر پہلے سے چوٹ کھائے شہزادے نے اپنے گلے سے بیش قیمت موتیوں کا ہار اتار کر اس کے گلے میں ڈال دیا۔ شہزادے کی اس عنایت پر محل میں موجود سبھی ٹھٹک کر رہ گئے کہ اس پر اتنی نظرِ عنایت کیوں؟ مگر کون سوچ سکتا تھا کہ شہزادے کا گلے سے ہار اتارنا ترکِ دنیا کا اعلان تھا۔ رعایا نے خوشیاں منائیں‘ شہر میں چراغاں ہوا‘ راج محل میں رقص و سرود کی محفلیں منعقد ہوئیں۔ شہزادہ بھی بزمِ طرب میں شریک ہوا اور رات گئے تک گانا سنتا رہا۔ جب محفل برخاست ہوئی تو شہزادے نے سوچا کہ قلعے کے سبھی محافظ مست اور بے خبر ہیں‘ فرار ہونے کا اس سے بہتر موقع اور کیا ہو گا۔ رتھ بان کو بلایا اور سواری تیار کرنے کا حکم دیا اور دبے پاؤں بیوی کی خواب گاہ میں گیا تو دیکھا وہ اپنے نومولود بچے پر ہاتھ رکھے بے خبر سو رہی تھی۔ شہزادے نے اپنا گھر بار‘ بیوی بچہ اور سلطنت چھوڑ دی اور سچ کی تلاش میں جنگل کا رخ کر لیا۔ کئی برسوں کی سخت ریاضت اور گیان کے بعد وہ شہزادہ ''گوتم بدھ‘‘ کہلایا۔
اس طویل تمہید کا مقصد گوتم بدھ کی کہانی سنانا ہرگز نہیں بلکہ یہ باور کرانا مقصود ہے کہ کوئی راج محل‘ عیش و عشرت‘ محبوب بیوی اور لختِ جگر کو چھوڑ کر محض اس لیے جنگل میں نکل جاتا ہے کہ وہ عوام کی پریشان حالی اور دکھوں کے مناظر کی تاب نہ لا سکا جبکہ ہمارے ہاں عوام کی خستہ حالی اور پریشاں حالات ہی حکمرانی کا اصل حسن ہیں۔ ووٹ کی سیاہی عوام کے بختوں پر اس طرح مَلی گئی ہے کہ سیاہ بختی مقدر بنتی چلی جا رہی ہے۔ حکمرانی کے روپ بہروپ سے لے کر دہرے قوانین اور معیار نے سبھی بھید بھاؤ سمیت دلوں کے کھوٹ کھول ڈالے ہیں۔ باریاں لگا کر حکمرانی کرنے والے عوام کو نسل در نسل ذلت‘ دھتکار اور پھٹکار سے دوچار کیے ہوئے ہیں۔ جوں جوں عوام کی حالت خستہ ہوتی چلی جا رہی ہے توں توں حکمران اشرافیہ کے دھن دولت اور مال و اسباب کے ڈھیر کوہِ ہمالیہ بنتے چلے جا رہے ہیں۔ کوئی لختِ جگر کی بے گور و کفن لاش تدفین کے لیے اٹھائے پھر رہا ہے تو کوئی اپنی بیوی اور بیٹی کے گٹر میں بہہ جانے کی دہائی دینے پر دَھر لیا جاتا ہے اور لاشوں کی گواہی کے بعد قید و بند اور چھترول سے خلاصی ہوتی ہے۔ وطن کی محبت میں آنے والا اوورسیز پاکستانی خاندان اپنی لختِ جگر ہانیہ کو منوں مٹی تلے دفنا کر عجیب کشمکش کا شکار ہے۔ بچ جانے والوں کو لے کر واپس آسٹریلیا چلے جائیں یا معصوم بیٹی کے جسم کو گولیوں سے چھلنی کرنے والے قانون کے رکھوالوں کو سزا دلانے کے لیے سسٹم کی بھول بھلیوں میں بھٹک جائیں۔ گوتم بدھ تو ایک بوڑھے‘ ایک بیمار اور ایک جنازہ کو دیکھ کر ہوش گنوا بیٹھے۔ ہمارے ہاں ماورائے عدالت مارے جانے والوں کی لاشوں کی انبار لگانے والے ہر سوال پر لاجواب ہیں۔
ابھی تو معصوم ہانیہ کے قاتلوں کو ایس او پیز اور قانونی تقاضوں کی ڈھال فراہم کرنے میں مصروف تھے کہ غیرملکی خواتین کے ساتھ ہونے والی بھیانک واردات نے مشکلات سے دوچار کر ڈالا ہے۔ گویا: کہاں آن پھنسے ہیں۔ نوجوان ڈار اپنے خاندان کے لیے سبکی اور جگ ہنسائی کا باعث بن چکا جبکہ دفاعی بیانیہ ساز بھی اس بار ناکام اور بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ ایف آئی آر کا متن ملزمان کی تربیت کے سبھی پول کھول چکا لیکن دہرا معیار ملزمان کے لیے بدستور ڈھال بنا ہوا ہے۔ رسمی کارروائی کے لیے سی سی ڈی کو مراسلہ ارسال کیا گیا ہے کہ وہ مذکورہ کیس کی تفتیش کرنا پسند فرمائیں گے؟ اس کا جواب تاحال نامعلوم اور بدستور معمہ ہے۔ تعجب ہے! ماڑے ملزمان کے لیے نہ کوئی چٹھی‘ نہ کوئی مراسلہ‘ ادھر جرم کا ارتکاب ہوا اُدھر بندہ ہاف فرائی یا فُل فرائی لیکن قبیلۂ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے ملزمان کی باری آئی تو محکمہ دائیں بائیں جھانکتا پھر رہا ہے۔ چٹھیاں لکھی جا رہی ہیں‘ رائے طلب کی جا رہی ہے۔ اگر یہی ایف آئی آر کسی ماڑے ملزم سے منسوب ہوتی تو اب تک اس کا قصہ تمام ہو چکا ہوتا۔ شاعر نے کہا تھا:
ظلم بچے جَن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہیے
دعا ہے کہ خدا سسٹم کا بانجھ پن دور فرمائے۔