"AAC" (space) message & send to 7575

اگلا مہورت

انسانی تاریخ کی دلخراش اور لرزا دینے والی قربانی‘ سانحۂ کربلا کی یاد میں دنیا بھر کے کلمہ گو مغموم ہیں۔ نواسۂ رسولﷺ امامِ عالی مقامؓ کی کنبے اور ساتھیوں سمیت شہادت ظلم‘ آمریت اور جبر کے پرچارکوں کے لیے بلاشبہ ایک کھلا پیغام ہے کہ بظاہر دکھائی دینے والا ان سبھی کا غلبہ وقتی اور آنکھ کا دھوکہ ہے‘ جوں جوں بڑھتا ہے‘ توں توں گھٹتا بھی چلا جاتا ہے یعنی ظلم کی رات بھلے کتنی ہی طویل ہو جائے سورج کی پہلی کرن ہی اس رات کے خاتمے کی پیغام رساں ہوتی ہے۔ دہشت اور بربریت کی علامت سمجھے جانے والے جابر ترین حکمران آج تاریخ کے اوراق میں دفن ہو چکے ہیں‘ ان کا نام لیوا بھی کوئی نہیں‘ ان کا صرف ایک ہی تعارف ہے کہ یہ انسانیت سوز مظالم کی سبھی حدیں پار کر کے ہر حوالے سے مر چکے ہیں جبکہ ان کی بدمستی اور گھمنڈ کی بھینٹ چڑھ کر ناحق مارے جانے والے آج بھی زندہ اور تاریخ کے ناقابلِ فراموش ابواب ہیں۔
دورِ حاضر کی سپر پاور امریکہ بہادر اور اس کا پروردہ اسرائیل بھی اسی گمان اور مائنڈ سیٹ کے ساتھ آپے سے باہر ہو کر عالمی امن کو تہہ و بالا کر کے بارود سے خون کی ہولی کھیلنے نکلے تھے لیکن میرے رب کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ طاقت اور بے پناہ اسلحہ کے زور پر تسخیر کرنے کا خواب دیکھنے والوں کو وہ دھول چاٹنا پڑی کہ دنیا بھر میں ان کی سبکی اور جگ ہنسائی کے تماشے گھر گھر دیکھے گئے۔ ایران کی حیرت انگیز جنگی حکمتِ عملی نے سپرپاور کے تمام پول کھولنے کے ساتھ ساتھ اس کی ہیبت اور دہشت کے سارے بت چکنا چور کر ڈالے۔ چشمِ فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ترنوالہ سمجھنے والے اپنے گلے میں ہڈی پھنسنے کے بعد پاکستان کے مرہونِ منت نکلے‘ بیشک میرا رب جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت کے گڑھوں میں اوندھے منہ گرا دیتا ہے۔ پیغام رسانی سے لے کر ثالثی کے سبھی اعصاب شکن مراحل میں پاکستان کا کردار دنیا بھر میں ممتاز اور مسلمہ ہے۔ خدا کرے یہ امن پائیدار رہے اور دھول چاٹنے والوں کی زبانوں پر اس کا ذائقہ ہمیشہ تازہ اور جما رہے‘ لیکن یہود و نصاریٰ کی فطرت و خصلت کا پرچہ قرآن حکیم نے کئی جگہ آؤٹ کیا ہے۔ سورۃ المائدہ میں اللہ رب العزت کا فرمانِ عالی شان ہے: (مفہوم) اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ۔ یہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہی میں سے ہو گا۔ بیشک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ اسی طرح سورۃ البقرہ میں فرمانِ الٰہی ہے: (مفہوم) اور یہودی اور عیسائی آپ سے ہرگز راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ آپ ان کے طریقے کی پیروی نہ کرنے لگیں۔ آپ فرما دیجیے کہ یقیناً ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے (اور وہی سچی ہدایت ہے)۔ اور اگر آپ اس علم کے بعد جو آپ کے پاس آ چکا ہے‘ ان کی خواہشات کی پیروی کریں گے تو اللہ کے مقابلے میں آپ کا کوئی دوست اور نہ ہی کوئی مددگار ہو گا۔ ان قرآنی تعلیمات پر غور و فکر کریں تو ماضی بعید و قریب سے لے کر لمحۂ موجود تک سبھی خاکے بخوبی دیکھے اور سمجھے جا سکتے ہیں‘ یعنی سمجھنے والوں کے لیے واضح اشارے ہیں۔
اس جنگ بندی کو مستقل منظرنامہ سمجھنے والے خاطر جمع رکھیں! عالمی طاقت ہونے کے خمار کا بخار جوں کا توں ہے۔ البتہ فیس سیونگ اور محفوظ واپسی کے لیے کچھ حجتیں مجبوری ضرور بن گئیں جنہیں کڑوی گولی سمجھ کر نگل تو لیا گیا ہے لیکن موقع ملتے ہی یہ اپنی اصلیت اور خصلت ضرور دکھائیں گے۔ اس ثالثی میں ضرورتوں کا خلوص اور مطالبوں کا سلام جہاں شاملِ حال ہے وہاں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ:
یہ شرافتیں نہیں بے غرض
انہیں آپ سے کوئی کام ہے
پاک امریکہ تعلقات کے سبھی تجربات اور مشاہدات کی جمع تفریق کریں تو لاحاصل ہی حاصل نکلتا ہے یعنی کام ختم دام ختم۔ غرض سے جڑے مراسم نبھانے والوں میں ضیا الحق ہوں یا پرویز مشرف دونوں ہی استعمال تو خوب ہوئے لیکن ملک و قوم کو بھی بس خرچ ہی کر ڈالا۔ انفرادی فائدے اٹھانے والوں سے لے کر مراعات اور آسانیاں حاصل کر کے دنیا سنوارنے والوں تک سب کو سبھی جانتے ہیں لیکن امریکی نوازشات کے ثمرات بس انہی خواص میں بندر بانٹ تک محدود رہے اور عوام کو ہونے والے خساروں کے انڈے بچے آج بھی برابر نکل رہے ہیں۔ افغان مہاجرین سے لے کر ان کے ساتھ آنے والی مہلک برائیاں جہاں ہماری کئی نسلیں نگل گئیں وہاں ان کی معاشی اجارہ داری بھی معیشت کو گھن کی طرح چاٹ گئی۔ افغان مہاجرین کو بھائی چارے کے نام پر گلے سے لگانے والے دراصل انہیں اپنی اکانومی بنا کر لائے تھے لیکن ملک کے اقتصادی اور سماجی ڈھانچے کو محض ڈھانچہ بنا کر رکھ دیا۔ اسی طرح مشرف نے بھی ڈو مور کے مطالبے کو اس طرح نصب العین بنایا کہ امریکی ایجنسیاں اور ادارے ملک بھر میں دندناتے پھرتے تھے‘ جس پر انگلی اٹھا دی اسے پارسل بنا کر پیش کیا جاتا رہا۔ افغان جہاد کے ہیرو ہوں یا نائن الیون کے سہولت کار‘ کوئی طولِ اقتدار تو کوئی استحکامِ اقتدار کے لیے اپنی اپنی ڈیوٹی ادا کرتا رہا۔
خدا کرے کہ ثالثی کا ملک کو حقیقی فائدہ پہنچے ‘ لیکن جنگ بندی کو آئندہ جارحیت تک ایک وقفہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ منہ کی کھانے کے بعد امریکہ بہادر کسی صورت یہ سُبکی زیادہ دیر برادشت نہیں کر پائے گا۔ نئی حکمتِ عملی اور نئے جواز اور توجیہات کے ساتھ وہ اوقات ضرور دکھائے گا۔ یہ جنگ مشرقِ وسطیٰ میں تقسیم اور نفاق کا بیج بونے کا سبب بھی بن چکی ہے‘ اس تناظر میں امریکہ اپنے اہداف کے تعاقب اور تسلسل میں کسی حد تک کامیاب بھی رہا ہے۔ پاکستان بھی مشرقِ وسطیٰ کی بعض ریاستوں کو کھٹکتا ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا! ماضی میں بھاری قیمتیں چکانے کی بدعت مزید دوام پکڑنے کے اشارے اور امکانات بھی بدستور موجود ہیں۔
عالمی امن کے لیے گراں قدر خدمات کا سہرا ہم سجا چکے ہیں۔ مبارک‘ سلامت اور ستائش ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی رونقیں بحال ہو چکی ہیں‘ ایران میں تعمیرِ نو اور بحالی کا کام جاری ہے۔ امریکہ اور اسرائیل خجالت کے بعد یقینا نئی شرانگیزی کے لیے اگلا مہورت نکال رہے ہوں گے۔ اس حال میں جان کی امان پاؤں تو عرض ہے کہ مملکتِ خداداد میں بسنے والے بھی توجہ کے طلبگار ہیں۔ وہ نسل در نسل پستے اور مرتے چلے آرہے ہیں۔ طرزِ حکمرانی پر اٹھنے والے کڑے سوالات مستقل لاجواب ہیں‘ گورننس کے نام پر سرکاری ادارے آپے سے باہر ہیں۔ قانون اور ضابطے دہرے معیار کے ساتھ اس طرح لاگو ہیں کہ تگڑا انہیں گھر کی باندی بنائے بیٹھا ہے تو ماڑے کی زندگی اجیرن ہے۔ روٹی کی بھوک سے لے کر بنیادی ضروریاتِ زندگی تک مستقل محرومی ہے‘ عزتیں سرِعام پامال ہیں تو دادرسی اور انصاف کونے جھانک رہے ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں زندگی اس قدر مشکل ہے کہ بیان سے باہر ہے‘ آسمان کہاں کہاں گرے‘ زمین کہاں کہاں پھٹے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں