مملکت خداداد میں بسنے والے عوام نما رعایا ایک بار پھر طرزِ حکمرانی کا شکار ہیں۔ ملک کے طول و عرض سے لے کرایوانِ اقتدار تک ادھم کا سماں ہے۔ جابجا ہرسُو منہ چڑاتے سوالیہ نشان مزید کڑے ہوتے چلے جا رہے ہیں لیکن جوابدہی سے گریزاں سبھی ذمہ دار انجان بنے اور اترائے پھرتے ہیں۔ عوام کی حالتِ زار اس طرح تار تار ہے کہ مرزا غالبؔ کا یہ شعر حسبِ حال لگتا ہے:
چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن
ہماری جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے
ذلت‘ دھتکار اور پھٹکار کے چلتے پھرتے سبھی مناظر عوام کا مستقل نصیب بنانے کے لیے مسودہ منظوری کے مراحل میں ہے۔ رائج قوانین اور ضابطے عوام کو تحفظ اور امان دینے سے پہلے ہی قاصر اور گریزاں تھے‘ جبر کے نئے شکنجے رہی سہی کسر نکال کر گورننس کو مزید چار چاند لگا دیں گے۔ جس طرح احساسِ عوام کے تحت قانون سازی اور دیگر اقدامات پر زور ہے یوں لگتا ہے کہ بات چار پانچ سو چاند چڑھانے تک ضرور جا پہنچے گی۔ جہاں ہر روز ایک نیا چاند چڑھایا جاتا ہو وہاں گرہن کی پروا کس کو ہو؟ ملک کے دور دراز اور افتادہ علاقے تو درکنار‘ صوبائی دارالحکومت سمیت سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں اندھیر نگری اور چوپٹ راج کا سماں ہے۔ کہیں معصوم بچیاں حیوانیت کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں تو کہیں سرکاری اہلکاروں کی دہشت جینے کا حق چھینے ہوئے ہے۔ پہلے سے موجود قوانین اور ضابطوں کی کتابوں کو دفترِ خاموش بنا کر نئے ادارے اور فورسز بنانے کا تجربہ روزبروز اُلٹا پڑتا چلا جا رہا ہے۔ تحقیرِ انسانیت سے لے کر غریب ماری کے بڑھتے ہوئے دلخراش واقعات گورننس کے ماتھے پر نت نئے جھومر سجارہے ہیں‘ سبھی آپے سے باہر اور اختیارات کی مستی میں بدمست ہیں۔ حرماں نصیبی کا عالم یہ ہے کہ راہ چلتے حادثات عوام کا نصیب بنتے چلے جا رہے ہیں۔ کہیں آوارہ کتے معصوم بچوں اور راہگیروں کو بھنبھوڑ ڈالتے ہیں تو کہیں کم مایہ بستی کے خستہ حال گھر میں قائم ٹیوشن سنٹر کا کمرہ چھت گرنے سے معصوم بچوں کی اجتماعی قبر بن جاتا ہے۔
قصور کی معصوم زینب سے پہلے بھی معصوم بچے بچیاں درندگی کے بعد قتل کا شکار تھے اور سرگودھا کی منتہیٰ کے بعد بھی یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ حکومتی رِٹ اور ریاست کا خوف نہ کل کسی کو تھا اور نہ آج دکھائی دیتا ہے۔ معاملہ ہاتھ سے نکل جائے تو سرکاری پھرتیاں اور آنیاں جانیاں دیکھنے والی ہوتی ہیں۔ سانحہ پر وقت کی گرد پڑتے ہی چل سو چل تے بَلّے بَلّے۔ ریفارمز کے نام پر ڈیفارمزکے ڈھیر روزبروز بڑھتے چلے جارہے ہیں۔ درجن بھر سرکاری بابو ایسے من موجی ہیں کہ حکومت بھی انہیں کنٹرول کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے سرکاری ہسپتالوں کی صفائی رپورٹ تو روزانہ طلب کر رکھی ہے لیکن ہاتھ کی صفائی کی سبھی رپورٹیں نیت اور ارادوں کا پول برابر کھول رہی ہیں۔
متنازع ٹیلی کام بل پر حکومتی سقراطوں‘ بقراطوں کو ڈھونڈے سے بھی جھانکنے کو کونے نہیں مل رہے تھے‘ اب بغلیں بجاتے پنجاب اسمبلی میں بھی ایسا مسودہ کمال مہارت سے منظور کرانے لے آئے جس کی بابت سپیکر پنجاب اسمبلی کو بھی لاعلم رکھا گیا اور بل پاس کرانے کے لیے قانون سازی کی تگ و دو جاری ہے۔ اس کا نام تو کافی لمبا چوڑا ہے لیکن ہنرمندانِ حکومت نے فرسودہ اور غلامانہ قدیمی قوانین کو بڑے سلیقے سے انگریزی کے چند الفاظ کا لبادہ اس لیے اوڑھایا ہے کہ کہیں اس میں پوشیدہ ارادے آشکار نہ ہو جائیں یعنی کڑوے باداموں پر گڑچڑھا کر کھلانے کی کوشش تو خوب کی گئی لیکن ارکانِ اسمبلی کے شدید ردعمل نے نیا پنڈورا باکس کھول ڈالاجبکہ وزیروں‘ مشیروں اور ترجمانوں کے دفاعی بیانیے اس قدر کھوکھلے اور بے سروپا ہیں کہ ان پر تبصرہ بھی الفاظ کا ضیاع نظرآتا ہے۔ پیش کاروں کی اس کاریگری کا پرچہ آؤٹ ہونے پر سپیکر پنجاب اسمبلی کی اپنے سٹاف پر برہمی اور خفگی کے مناظر سوشل میڈیا پر وائرل اور زبان زدِ عام ہیں۔
بنیادی انسانی حقوق سے متصادم اس مجوزہ قانون کے مسودے کے نقطے ملائیں تو بننے والے خاکے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ظالمانہ راج کو بھی مات دیتے نظر آتے ہیں۔ اس قانون کو دورِ جدید سے منسوب کرنے والے حکومتی ترجمان ہوں یا تخلیق کار‘ ان سبھی کے علم میں اضافے کے لیے کلکتہ غنڈہ ایکٹ 1923ء کی تشریح بزبان اے آئی پیشِ خدمت ہے‘ سرکار اس غنڈہ ایکٹ کا اپنے مسودے سے موازنہ کرنے کا رِسک لے تو یہ عقدہ بھی بہ آسانی کھل جائے گا کہ ہم آج بھی ایک صدی سے زائد فرسودہ نظام کے پیروکار ہیں۔
''کلکتہ غنڈہ ایکٹ 1923ء ایک متنازع نوآبادیاتی قانون تھا جس نے پولیس کو یہ اختیار دیا کہ وہ کسی بھی شخص کو ماورائے عدالت صوبہ بدر کر سکے۔ بنیادی طور پر یہ ایکٹ جرائم اور عوامی خلفشار کو روکنے کے لیے بنایا گیا تھا جبکہ غنڈے کی اصطلاح ایک معمہ اور وضاحت طلب تھی‘ یعنی پولیس کمشنر کو ملنے والے وسیع تر اختیارات جسے چاہیں غنڈہ قرار دے ڈالیں۔ یہ غنڈہ ایکٹ کلکتہ میں بڑھتے ہوئے منظم جرائم کو روکنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا جس کی آڑ میں فرمانبردار اشرافیہ کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ مزاحمتی تحریکوں کو کچلنے کے لیے اس ایکٹ کو بطور ہتھیار بھی استعمال کیا جاتا رہا۔ جس کے نتیجے میں مہاجر‘ محنت کش اور حکومت کے ساتھ تعاون سے انکاری عناصر کو ریاستی جبر سے دیس نکالا جیسی ظالمانہ سزاؤں کا بھی سامنا رہا‘‘۔
نوآبادیاتی اور فرسودہ قوانین میں جدت کا تڑکا لگانے کے لیے نئے مجوزہ ایکٹ میں ڈیجیٹل کڑا پہنانے کا بھی اہتمام کر رکھا ہے‘ جبکہ سفری دستاویزات سے لے کر بینک اکاؤنٹس‘ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سمیت نجی زندگی سے منسوب امور بھی قابلِ دست اندازی پولیس تجویز کیے گئے ہیں۔ ایسے قوانین ہر دور میں حکومتیں کبھی طولِ اقتدار کے لیے تو کبھی استحکامِ اقتدار کے لیے بناتی چلی آئی ہیں۔ دورِ ایوبی میں ایبڈو قوانین سے لے کر پنجاب اسمبلی میں تازہ ترین ''Punjab Control of Habitual Offenders and Anti-Social Behaviour Bill, 2026‘‘تک سبھی حجتیں ایک ہی مائنڈ سیٹ کی پیداوار ہیں۔ دورانِ اسیری نوازشریف کئی بار اس پچھتاوے کا اظہار کر چکے ہیں کہ کاش! وہ آرٹیکل 62‘63ختم کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کی پیشکش مسترد نہ کرتے۔ نیب بنانے والوں کو کیا معلوم کہ سیاسی مخالفین کو سرنگوں اور زیر عتاب رکھنے کا یہ ادارہ اُلٹا انہی کے گلے پڑے گا۔ مسلم لیگ (ن) نے اپنے ہی بنائے ہوئے احتسابی ادارے میں مکافاتِ عمل کی چکی دیگر اَسیروں اور جماعتوں سے زیادہ پیسی ہے۔ اس تناظر میں یہ متنازع بل بھی آنے والے دنوں میں گلے کا طوق اور پاؤں کی بیڑی بن سکتا ہے۔ جس طرح آرٹیکل 62‘ 63 کا گڑھا آصف زرداری اور ان کے حواریوں کے لیے کھودا گیا تھا لیکن اسی گڑھے میں خود جناب اوندھے منہ جاگرے۔ ہر گزرتا لمحہ نیت اور ارادوں کے بھید بھاؤ سمیت ایسے ایسے عقدے کھول رہا ہے کہ سبھی کچھ عیاں ہوتا چلا جا رہا ہے۔ خوش کن اعدادوشمار ہوں یا دلفریب وعدے‘ خوشحالی کے جھانسے ہوں یا معاشی استحکام کے دلاسے‘ سب زبانی جمع خرچ ثابت ہوتا چلا جا رہا ہے۔ معیشت کا پیندہ چاٹ کھانے والے اصلاحات اور اقدامات کے سمندر اُنڈیل دیں تو بھی ایک قطرہ نہیں ٹھہرنے والا۔ ہر طرف جھانسا ہی جھانسا ہے‘ کئی دہائیوں سے باریاں لگا کر شوقِ حکمرانی پورے کرنے والے اپنی خواہشات اور ضروریات کے اسیر ہیں اور انہیں عوام بھی ایسے ہی چاہئیں‘ سسکتے اور بلکتے۔