خیبر وکربلا والے

آج کل کینیڈا کی شہریت رکھنے والے پروفیسر جیانگ بین الاقوامی میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہیں جس کی بنیادی وجہ ان کی تین پیش گوئیاں ہیں‘ جن کا اظہار انہوں نے 29مئی 2024ء کو اپنے یوٹیوب چینل پر ریکارڈ کیے گئے ایک لیکچر کے دوران کیا۔ ان کی پہلی پیش گوئی یہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کر لے گا۔ دوسری پیش گوئی کے مطابق ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کرے گا جبکہ تیسری اور حیرت انگیز پیش گوئی یہ تھی کہ ایران کے خلاف جنگ امریکہ کیلئے تباہ کن ثابت ہو گی۔ ان کا یہ لیکچر ابتدائی طور پر خاطر خواہ توجہ حاصل نہ کر سکا؛ البتہ ان کی پہلی پیشگوئی مذکورہ لیکچر کے چھ ماہ بعد ہی درست ثابت ہوئی جب نومبر 2024ء میں ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخاب جیت گئے۔ جب پروفیسر جیانگ نے وہ لیکچر اپنے چینل پر ریکارڈ کیا تھا‘ اُن دنوں امریکی صدارتی انتخابات کی مہم زوروں پر تھی اور تقریباً تمام معتبر سروے رپورٹس اور معروف تجزیہ کاروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخاب ہارتے نظر آرہے تھے‘ مگر الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کامیاب ٹھہرے۔ گزشتہ ہفتے جب امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران پر اچانک حملہ کرکے باقاعدہ جنگ کا اعلان کیا تو پروفیسر جیانگ کی دوسری پیش گوئی بھی سچ ثابت ہو گئی جس کے نتیجے میں ان کا مئی 2024ء کا بظاہر غیر معروف لیکچر اچانک بین الاقوامی میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔
گزشتہ چند دنوں میں پروفیسر جیانگ کے یوٹیوب چینل پر لاکھوں نئے صارفین کا اضافہ ہوا ہے۔ ان دنوں ان کی وڈیوز کو پوری دنیا سے لاکھوں افراد توجہ سے دیکھ رہے ہیں اور پروفیسر جیانگ مسلسل بین الاقوامی میڈیا پر گفتگو کرتے نظر آرہے ہیں۔ اب میڈیا نمائندگان ان سے تیسری پیشگوئی سے متعلق استفسار کر رہے ہیں تو وہ اپنے مؤقف پر قائم رہ کر دلائل سے یہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ ایران کو امریکہ پر کئی لحاظ سے برتری حاصل ہے اور اسرائیل اور امریکہ مل کر بھی ایران میں رجیم چینج کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں کر سکیں گے۔
اسرائیل اور امریکہ کم و بیش گزشتہ تین دہائیوں سے ایران پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کرتے آرہے تھے مگر صدر ٹرمپ کے کئی پیشرو صدور اسرائیل کی خواہش پر ایران پر چڑھ دوڑنے کیلئے خود کو تیار نہیں کر پائے۔ دوسرے لفظوں میں شاید اس کیلئے مناسب وقت اور سازگار حالات کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ نائن الیون کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گردی اور کیمیائی ہتھیاروں کو جواز بنا کر پہلے عراق پر حملہ کیا گیا اور پھر تیونس‘ مصر‘ یمن میں حالات خراب کیے گئے اور لیبیا میں دہائیوں سے قائم بادشاہت کا خاتمہ کیا گیا۔ دسمبر 2024ء میں شام میں بھی امریکی مداخلت کے بعد بشارلاسد کے اقتدار کا خاتمہ کرکے امریکہ نے اپنے من پسند شخص کو مسندِ اقتدار پر فائز کر دیا۔ دوسری طرف سعودی عرب‘ عمان‘ قطر اور متحدہ امارات میں امریکہ نے مکمل دفاع کی ضمانت کے عوض خلیجی ریاستوں کے تیل کی پیداوار پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا اور اس کی آمدن سے کمائی گئی دولت اپنے ہی ملک کی سٹاک مارکیٹ میں انویسٹ کرکے امریکہ میں معاشی اشاریوں کو مستحکم رکھا۔ اسی دوران ایران کے اندر حکومت مخالف لبرل عناصر کی پشت پناہی کر کے ایران کے سپریم لیڈر اور روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای کے اقتدار کے خاتمے کی کوششیں کی گئیں مگر امریکہ اور اسرائیل گٹھ جوڑ کو اپنے مقصد میں کامیابی نہیں مل سکی۔ گزشتہ سال بھی ایران پر جنگ مسلط کی گئی مگر جلد ہی جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا۔ اس جنگ میں ایران نے محدود پیمانے پر اسرائیل کی طرف میزائل داغ کر اپنی جنگی صلاحیتوں کو آزمانے کے ساتھ ساتھ اسرائیل کی دفاعی پوزیشن کا بغور جائزہ لیا۔ اسی دوران اس نے اپنی جنگی کمزوریوں کی بھی نشاندہی کی اور انہیں دور کرکے ایک بڑی اور فیصلہ کن جنگ کیلئے خود کو تیار کیا۔ صدر ٹرمپ کی دوسری مدت کے آغاز سے ہی اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے فلسطین پر بلاشرکت غیرے اپنا کنٹرول مضبوط کرنے کیلئے جس شدت سے غزہ میں انسانی حقوق کی پامالی کرکے ہزاروں معصوم بچوں کے خون سے ہولی کھیلی‘ اس پر پوری دنیا سے بہت سخت ردعمل آیا مگر امریکہ مسلسل اسرائیل کی حمایت میں پیش پیش رہا۔ اس کے بعد اسرائیل اور امریکہ کا اگلا ہدف ایران کا جوہری پروگرام ٹھہرا جس کیلئے رجیم چینج لازم قرار دیا گیا۔ ایران کی قیادت بھی گزشتہ کئی برسوں سے اس حتمی معرکے کیلئے تیاریوں میں مصروف تھی۔
گزشتہ ہفتے جب اسرائیل اور امریکہ نے مل کر تہران میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور اعلیٰ قیادت پر ایک منظم وار کیا‘ جس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر اپنی بیٹی‘ داماد اور ننھی نواسی سمیت جام شہادت نوش کر گئے‘ تو پورے ایران میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ اس کے چند گھنٹوں بعد تہران کے جنوبی شہر میناب میں واقع ایک ایلیمنٹری سکول پر خونیں حملے میں 165بچیوں کو شہید کر دیا گیا تو ایران سمیت پوری دنیا میں شدید غم و غصّے کا اظہار کیا گیا۔ یوں آیت اللہ علی خامنہ ای کی اہلِ خانہ سمیت شہادت نے منقسم ایرانی قوم کو دوبارہ متحد کر دیا۔ امریکی عوام کی واضح اکثریت اس جنگ کے خلاف نظر آتی ہے اور تقریباً 80فیصد امریکی اسے اسرائیل کی جنگ سمجھتے ہیں۔ برطانیہ سمیت یورپ کے بیشتر ممالک اس جنگ میں براہِ راست شرکت سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں اور نیٹو میں شامل کئی ممالک بھی اس ضمن میں تذبذب کا شکار ہیں۔ سپین کے وزیراعظم نے امریکہ کو اپنی ایئر بیس کے استعمال سے صاف انکار کر دیا ہے۔ دوسری طرف ایران نے پوری قوت سے اسرائیل کے اندر اپنے میزائل پروگرام کی طاقت آزمائی شروع کر رکھی ہے جس نے اسرائیل کے دفاعی حصار کا پول کھول کر رکھ دیا ہے اور تل ابیب اور دیگر کئی اہم شہروں میں تباہی مچادی ہے۔ اس کے علاوہ ایران نے میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال سے دبئی‘ ابو ظہبی‘ عمان اور قطر میں امریکی سفارتخانوں‘ فوجی اڈوں اور اہم ہوٹلوں پر بھی حملے کیے ہیں جس سے تمام خلیجی ریاستوں میں موجود امریکی فورسز کے ساتھ ساتھ لاکھوں مغربی افراد کو جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں واقع سی آئی اے دفتر کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا ہے اور یوں ایران نے اپنے اوپر مسلط کی گئی جنگ کو پورے خطے میں پھیلا دیا۔ ایران کی بھرپور جوابی کارروائی سے پوری دنیا ورطۂ حیرت میں مبتلا ہو چکی ہے۔
پروفیسر جیانگ سمیت دفاعی امور کے ماہرین اور سیاسی تجزیہ کاروں کی اکثریت اس نکتے پر متفق ہے کہ ایران پر جنگ مسلط کرتے ہوئے اسرائیل اور صدر ٹرمپ نے ایران کی جنگی صلاحیتوں میں جس چیز کو یکسر نظر انداز کیا ہے وہ اس قوم کی مسلکی اور نظریاتی اساس ہے جو اسے اسلامی تاریخ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے میراث میں ملی ہے جس حیدرِ کرارؓ نے اپنی بے مثل شجاعت سے جنگِ خیبر میں مرحب کو واصلِ جہنم کیا اور یہود کے خلاف فتح کو یقینی بنایا‘ جن کے والد گرامی جنابِ ابو طالب نے اللہ کے آخری رسول حضرت محمد کریمﷺ کی پرورش کی اور کفارِ مکہ کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر ان کی حفاظت کی اور جن کے لخت جگر اور نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ نے کربلا میں معرکہ حق و باطل میں اپنے شیر خوار بچوں سمیت کل 72جانثاروں کے خون سے دین حق کی سربلندی اور جرأت و بہادری کی ایک نئی تاریخ رقم کی مگر باطل کی بیعت قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے 86 برس کی عمر میں اہل و عیال سمیت شہادت قبول کرکے سانحہ کربلا کی یاد تازہ کردی اور خود مزاحمت کا استعارہ بن کر ایرانی قوم کو اس معرکے کیلئے تیار کردیا۔ اب اسرائیل اور امریکہ کا واسطہ خیبر و کربلا والوں سے پڑ گیا ہے اور اگر آنے والے دنوں میں روس اور چین نے اپنا وزن ایران کے پلڑے میں ڈال دیا تو غالب امکان یہی ہے کہ پروفیسر جیانگ کی تیسری پیش گوئی بھی جلد سچ ثابت ہو جائیگی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں