"SBA" (space) message & send to 7575

جی ہاں! عمران خان کسی ڈیل کیلئے تیار نہیں

کسی نادیدہ یا اتفاقاً وقوع پذیر ہونے والی غلطی پر نادم و شرمندہ ہونے کیلئے بڑا ظرف درکار ہے۔ ایسا کام کم ظرف نہیں کر سکتے‘ پھر بے ظرف لوگوں سے شکایت کیسی؟ جب سے عمران خان کو جنگی قیدیوں جیسی قید تنہائی میں ڈالا گیا تب سے ہر روز سرکار اور دربار کے پیڈ کانٹینٹ والے دو پکے راگ ضرور الاپتے ہیں۔ بَھدی آواز میں راگِ ڈیل اور روہانسے لہجے والا راگِ ڈھیل۔ مگر اب ان راگیوں کو تیاگی کی آواز سنائی دی ہے جس نے جوزف گوئبلز کے تازہ شاگردوں کو تاحیات شرمندہ کر ڈالا‘ کیونکہ یہ شاگردانِ عزیز صرف شرائطِ لذید پر ڈھول ڈھمکے کے ساتھ ساڑھے تین سال سے عمران خان ڈیل مانگ مانگ کر تھک گئے ہیں‘ کہتے کہتے خود تھک گئے۔ ساتھ یہ بھی کہا: ڈیل تو دور کی بات ہے‘ قیدی نمبر 804کیلئے ڈھیل بھی موجود نہیں۔ اسی اثنا میں وفاقی کابینہ میں نواز شریف گروپ کے ایک پسندیدہ رکن نے ایسا زوردار بیان دے مارا جس پر کہنا بنتا ہے کہ سوسنار دی اِک لوہار دی۔
جس بیان کا ذکر ہو رہا ہے وہ کسی چلتی پھرتی پریس ٹاک یا ڈھیلے ڈھالے کمنٹ کی صورت میں سامنے نہیں آیا بلکہ اس کیلئے ایک باقاعدہ فارمل انٹرویو سجایا گیا۔ وہ بھی منسٹر کالونی اسلام آباد میں۔ اس انٹرویو کو تین بڑے انکشافی اعتراف کہا جا سکتا ہے۔
ڈیل پر پہلا اعترافی انکشاف: اس اعتراف کے حوالے سے میں نے اس صفحے پر چھپنے والے وکالت نامے میں لکھا اور اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر گفتگو کی‘ ٹی وی ٹاک شوز میں بھی اپنی رائے دی۔ رائے یہ تھی کہ عمران خان کی بیماری سے متعلق ہونے والا پبلک احتجاج Leaderless ہے۔ یہ کوئی گہری سائنس نہیں تھی‘ سامنے کی بات ہے۔ پارٹی کے عارضی عہدے رکھنے والے ہوں یا دوسرے ذمہ داران‘ ان میں سے کسی نے ایک جگہ بھی احتجاجی عوام کو لیڈ نہیں کیا۔ اس وقت اقتدار پر قابض ٹولہ یہ بنیادی‘ سیاسی حرکیات سمجھنے سے عاری ہے۔ ایسی کوئی بھی تحریک لازماً آگے بڑھے گی اور یقینا کامیاب ہو گی جو آرگینک ہو یا عرفِ عام میں عوام کی آزادانہ موومنٹ۔ جس کا مطلب ہے لوگ از خود اکٹھے‘ ٹولیوں میں باہر نکلیں۔ احتجاج تحصیل لیول اور وارڈ لیول تک ہو۔ علامتی راستے بند کرنا‘ سلو ڈاؤن‘ شٹر ڈاؤن‘ پہیہ جام‘ پلے کارڈ‘ نعرے بازی‘ یہ آرگینک تحریک کی علامت ہوتے ہیں۔ تب کچھ اقتدار پرستوں کا خیال تھا کہ سرے سے کوئی تحریک تو ہے ہی نہیں کیونکہ عمران خان‘ نواز شریف کی طرح پبلک کی حمایت سے محروم ہو چکے ہیں۔ قدرت کی کرنی ایسی ہوئی‘ ابھی میرا کہا ہوا میں تحلیل نہیں ہوا‘ نہ ہی میری تحریر کی سیاہی خشک ہوئی کہ سسٹم چیخ اٹھا۔ ایک وزیر نے آرگینک تحریک کے بارے پہلا بیان ان لفظوں میں دیا ''ڈاکٹر عاصم نے کہیں کہہ دیا کہ میں عمران خان کی صحت سے پوری طرح سے مطمئن ہوں۔ اس کے بعد اس کی وہ لے دے ہوئی کہ اس کو اپنا بیان واپس لینا پڑا۔ اسی طرح سلمان صفدر صاحب جیل ملنے کیلئے گئے تو باہر آکر کہہ دیا کہ خان صاحب کی صحت ٹھیک ہے تو ان کو اس قدر گالیاں پڑیں کہ پھر انہیں یہ بیان جاری کرنا پڑا کہ میں نے تو خان صاحب کی صحت کے حوالے سے کوئی بات کی ہی نہیں جبکہ اس بات کو پورے ملک نے دیکھا اور میڈیا پہ چلی وہ‘‘۔ (یہ الفاظ ہمارے نہیں وفاقی کابینہ کے ایک رکن کے ہیں)۔
ڈیل پر دوسرا اعترافی انکشاف: کابینہ کے اسی رکن نے عمران خان کو ڈیل دینے والے نظام کے ایجنٹوں کو ایسی تفصیل کے ساتھ ذلیل و خوار کیا جو قومی پریس کی شہ سرخیوں میں آ گئی۔ ذرا الفاظ پڑھیے ''تو وہاں پہ ان کا جو خفیہ ایجنڈا ہے‘ ان کی آپس میں گفتگو ہو رہی ہے۔ اس ایشو کو ایسے فلیئر اَپ کیا جائے کہ یہ ایشو ایجی ٹیشن یا سٹریٹ پروٹیسٹ میں تبدیل کر دیا جائے۔ ملک میں افرا تفری اور انارکی جو کہ ان کی کوشش بھی ہے کہ اس طرح کہ حالات پیدا ہو جائیں‘‘۔ ان ارشادات کا حاصل وصول یہ ہے کہ سرکار پی ٹی آئی کے لوگوں کے ٹیلی فون ٹیپ کر رہی ہے۔ اس بات سے نظام اور اس کے بینی فشری خوفزدہ ہیں کہ کسی وقت بھی عمران خان کے علاج اور رہائی کیلئے سٹریٹ پاور بے قابو ہو سکتی ہے۔
ڈیل پر تیسرا اعترافی انکشاف: اس انکشاف میں خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف نفرت‘ عداوت اور سازش‘ تینوں کے اشارے ملتے ہیں۔ موصوف کا تیسرا اعترافی بیان آپ خود پڑھ لیجیے ''اب آپ یہ دیکھیں گے دو‘ چار دِن میں خیبرپختونخوا کے عوام ان کو جوتے ماریں گے۔ کے پی میں جو کچھ ہورہا ہے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ وہ کے پی حکومت خود کروا رہی ہے۔ وزیراعلیٰ اس میں ملوث ہیں۔ ان کا ایک بیان موجود ہے جس میں انہوں نے کہا کہ لوگ سڑکوں پہ آئیں اور راستے بند کر دیں‘‘۔
اس وقت نظام پرتین شدید دباؤ ہیں جس کا سارا الزام فارم 47 حکومت عمران خان کے نام کر رہی ہے۔ پہلا پریشر غزہ میں فوج بھیجنے کا ہے جس کا ثبوت انٹرنیشنل میڈیا میں تو ہے ہی‘ لیکن ادھار کی سرکار اس پر شدید کنفیوژن پھیلا رہی ہے اور وہ بھی اعلیٰ ترین سطح پر۔ آپ مختلف وزارتوں کا مؤقف سن لیں‘ ایک نے کہا: اللہ کا خاص کرم ہے ہم قبلۂ اوّل کی خدمت کیلئے جارہے ہیں۔ دوسرے نے کہا: ہم غزہ میں جنگ بندی کیلئے جا رہے ہیں۔ تیسرا بول اٹھا: ہم غزہ کے مسلمانوں کیلئے امدادی اور بحالی کی کوششوں کیلئے جا رہے ہیں۔ ایک اور نے طرح لگائی کہ غزہ میں فورسز کو نہیں بھیجا جائے گا۔ دوسری جانب یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ امریکہ نے پاکستان سے دو کام ایسے لے لیے ہیں جن کا پچھلے سارے ادوار میں کوئی تصور تک نہ کر سکتا تھا۔ بدلے میں صدر ٹرمپ کی عاشق مزاج شاعروں والی بیان بازی کے سوا پاکستان کو اور کچھ نہیں ملا۔ ان میں سے پہلا کام بلوچستان میں سیندک گولڈ پروجیکٹ میں سافٹ انٹری ہے جہاں دو عدد امریکی کمپنیاں انگیج ہو چکی ہیں۔ دوسرے حکومتِ پاکستان نے ایک ایسی ممبر شپ لی ہے جس کے نتیجے اسرائیل کا نیتن یاہو‘ بھارت کا نریندر مودی اور شہباز شریف ایک پرچم کے سائے تلے ایک میز پر بیٹھیں گے۔ کوئی سمجھائے کوئی بتائے کسی ملک کو تسلیم کرنا اس سے زیادہ اور کس کو کہتے ہیں۔ اس تسلیم و رضا کا ثبوت برطانیہ کے سابق ڈپلومیٹ Craig Murrayنے20فروری کو یوں بیان کیا: Imran Khan's imprisonment Enables Israel Zionism's global dominance۔
اب آئیے عمران خان کی ڈیل سے انکار پر۔ میں اس کی تصدیق کرتا ہوں وہ ڈیل نہیں کرے گا۔ اس کی آنکھیں کسی کے سامنے نہیں جھکیں گی۔ Absolutely Not۔
لب کچھ بھی کہیں اس سے حقیقت نہیں کھلتی
انسان کے سچ جھوٹ کی پہچان ہیں آنکھیں
آنکھیں نہ جھکیں تیری کسی غیر کے آگے
دنیا میں بڑی چیز مری جان! ہیں آنکھیں

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں