"SBA" (space) message & send to 7575

سیف سِٹی سائنس

پچھلے ہفتے قازقستان کے صدر نے وفد کے ہمراہ اسلام آباد کا دو روزہ سرکاری دورہ کیا۔ اس دوران ہر چوک میں کھانے کھلانے والے ٹرک‘ سکیورٹی کے نام پر شہریوں‘ فیملیز اور موٹر سائیکل سواروں کو تنگ کرنے والے ناکوں پر چھائے رہے۔ جب بھی کوئی کرکٹ ٹیم یا چھوٹا موٹا وفد بھی پنڈی‘ اسلام آباد آ جائے‘ جڑواں شہروں کی سڑکوں پر درجنوں ناکے لگا کر میلوں لمبی قطاروں میں شہریوں کو بے آبرو کرنے کے لیے ٹریفک کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے‘ عام لوگوں کو یہ بتانے کے لیے کہ آقا آیا ہے نگاہ روبرو رکھیں‘ آنکھیں نیچی اور گردن خم کر لیں۔ محض دس پندرہ منٹ کا سفر کئی کئی گھنٹے لگا کر Commuters کو کچھوے کی رفتار سے طے کرنا پڑتا ہے۔ اسلام آباد میں اب ناکے کا طریقہ بھی بدل گیا ہے‘ کیونکہ یہ ناکے اب ہر روز لگائے جا رہے ہیں۔ بندوق بردار اہلکار بیچ سڑک کے اپنی سواری کو ٹیڑھا کر کے کھڑا کرتے ہیں‘ اپنا منہ اور بندوق کی نوک ٹیکس گزاروں کی طرف کر لیتے ہیں‘ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ جب تک ہاتھ میں بندوق نہ ہو ٹیکس گزار بھی باجگزار کی حیثیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد کے شہری جن کی سکیورٹی کے نام پر سیف سٹی ‘ ICT ٹیگ‘ پنجاب اور سندھ جتنی پولیس‘ قسم قسم کے قانون نافذ کرنے والے ادارے‘ طاقت کے سب مراکز ہیں‘ وہاں پچھلے تقریباً 100دن کے عرصے میں دو مرتبہ ناکوں سے گزر کر دہشت گردی کرنے کے لیے آنے والے بیسیوں افراد کو شہید اور سینکڑوں شہریوں کو زخمی کر گئے۔ جو لوگ اسلام آباد کو نہیں جانتے اُن کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ جی الیون میں اسلام آباد کا جوڈیشل کمپلیکس‘ ڈپٹی کمشنر‘ چیف کمشنر اور تین قسم کی پولیس کے مرکزی دفاتر کا عین پڑوسی ہے۔ اس کا فاصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ‘ سپریم کورٹ آف پاکستان‘ وفاقی آئینی عدالت‘ وفاقی شرعی عدالت‘ وفاقی محتسب‘ وفاقی سروس ٹربیونل سے محض چند کلومیٹر کا ہے۔ اسی طرح ترلائی کلاں اسلام آباد کے اندر ایک منی اسلام آباد ہے‘ جہاں شہرِ اقتدار میں سب سے پہلے فارم ہائوسز بننا شروع ہوئے۔ یونیورسٹیاں‘ شادی آبادی خانے اور سینکڑوں پلازے اور ہاسٹل واقع ہیں۔ سی ڈی اے اور دیگر پرائیویٹ ہائوسنگ سوسائٹیوں کے مقابلے میں ترلائی کلاں شاہراہ دستور سے زیادہ نزدیک ہے۔ اگلے روز مسجد خدیجۃ الکبریٰ‘ جہاں شہریوں کا قتلِ عام ہوا‘ وہاں اور پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز‘ جہاں زخمی زیرِ علاج ہیں‘ وہاں آنے والے وزیروں اور سیاسی پولیس کے بڑے عہدیداروں کو شہریوں نے منہ پر کہا کہ ہم بھوکے مر گئے‘ ہمارے بچے لہولہان ہیں‘ ہمیں نہ تعلیم کے لیے پیسے ملتے ہیں نہ صحت کے لیے۔ سب کچھ سکیورٹی کے نام لگا دیا جاتا ہے‘ آپ بتائیں اسلام آباد کے عوام کے لیے سیکورٹی کہاں ہے۔
بہرحال صدرِ قازقستان کے وفد میں سینٹرل بار ایسوسی ایشن آف ریپبلک آف قازقستان کے چیئرمین Madi Myrzagarayev بھی شامل تھے۔ دو دن پہلے مجھے اطلاع دی گئی کہ سینٹرل بار کے صدر صاحب آپ کے لاء آفس میں آپ سے ملاقات چاہتے ہیں۔ طے شدہ وقت پر صدر اور جنرل سیکرٹری جو خاتون ہیں اور صدر کے لیے انگلش ٹرانسلیٹر کا کام بھی کر رہی تھیں‘ اُن کے وفد کی آمد ہوئی۔ صدر صاحب مجھ سے نئے دستور کے حوالے سے میرا Input اور معاونت چاہ رہے تھے۔ اُن کے پاکستانی ہمراہی ذیلدار احسن شاہ ایڈووکیٹ بتانے لگے کہ صدر صاحب وزیر قانون سے مل کر سیدھے آپ کے پاس پہنچے ہیں۔ مہمان نوازی کے سفارتی آداب کے مطابق گفتگو کا آغاز ہوا‘ جس میں اُنہوں نے مجھے قازقستان کے دورے کی دعوت بھی دی۔ میں نے یہ دعوت بخوشی قبول کی۔ ساتھ ہی مجھے کہنے لگے: آپ آئین ساز وزیر قانون رہے ہیں‘ اس لیے آپ سے بہت ضروری اور مفید رہنمائی لینے آیا ہوں۔
جب آفیشل گفتگو کا سیشن ختم ہوا تو میں نے موصوف سے پوچھا: آپ کے ہاں 80 بڑی پاکستانی کمپنیوں نے انویسٹمنٹ کی ہے‘ پاکستان سے اتنی بڑی تعداد میں کاروباری لوگ کس وجہ سے قازقستان میں انڈسٹری لگا رہے اور کاروبار بنا رہے ہیں؟ اس پر صدر صاحب کہنے لگے: آپ کو بھی قازقستان میں لاء آفس کھولنا چاہیے۔ پہلے ہمارے ہاں غیر ملکی وکلا کو پریکٹس کی اجازت نہیں تھی لیکن اب یہ اجازت مل گئی ہے۔ میں نے شکریہ کے ساتھ جواباً پوچھا: آپ کی کون سی پالیسی ہے جس نے پاکستانی سرمایہ کار اتنی دور سے متوجہ کر لیے؟ کہنے لگے: consistency‘ یعنی ریاستی پالیسیوں کا تسلسل۔ ساتھ ہی انویسٹمنٹ لے کر آنے والے سرمایہ کاروں کے لیے ہر طرح کی آسانیاں‘ سہولتیں اور تحفظ۔ اس پر مجھے تین ہفتے پہلے کی ایک نشست یاد آ گئی جس میں ایک بڑے ادارے سے ریٹائر ہونے والے صاحب مجھ سے پیشتر گفتگو کر رہے تھے‘ ایک مقرر چھوڑ کر ان کے بعد مجھے بات کرنا تھی۔ وہ صاحب ساتھ واپس آ بیٹھے‘ میں نے ان سے دریافت کیا: آپ جس قومی ادارے سے ریٹائر ہو کر آئے ہیں وہاں پالیسی کی بنیاد کیا تھی؟ ان کا لاجواب جواب سن کر میں صرف حیران ہوا‘ اس لیے کہ میں نے کئی بار پاکستانی سسٹم آف گورننس کو اندر سے بھی دیکھ رکھا ہے۔ جن خواتین و حضرات کو یہ سہولت نہیں ملی وہ جواب سن کر پریشان بھی ہو جائیں گے۔ فرمایا: ہمارے ہاں Tenure based پالیسی بنائی جاتی ہے۔ میں نے حیرانی چھپاتے ہوئے سوال کیا: پرسپیکٹو یعنی مستقبل کی ضروریات پر پالیسی نہیں بنتی؟ انہوں نے کہا: جی نہیں! ادارے کا جو سربراہ آتا ہے‘ وہ جتنے ٹنیور کے لیے کرسی پر بیٹھتا ہے اُس کی خواہش اور مرضی کے بطن سے پالیسی نکلتی ہے‘ جو ان کے نکلنے کے ساتھ ہی رخصت ہو جاتی ہے۔
ہمارے پڑوس میں مڈل ایسٹ کا سب سے تیز رفتار ترقی کرنے والا ملک متحدہ عرب امارات ہے۔ وہاں پوری دنیا کے پیسے والے لوگ لاکھوں کی تعداد میں منی بیگ پکڑے دن رات آتے رہتے ہیں۔ بیچارے دبئی کے شیخوں کو وہاں کی بیچاری پولیس سیف سِٹی کی سائنس سمجھانے میں کامیاب نہ ہو سکی‘ اس لیے آپ متحدہ عرب امارات کی ساری ریاستوں میں گھوم جائیں‘ کسی جگہ نہ یہ والا ناکہ ملے گا نہ یہ لائنیں اور نہ بے آسرا پردیسیوں پر تنی ہوئی بندوقیں۔ جن اداروں کو سیف سِٹی کی نام پر روزانہ‘ ماہانہ‘ سالانہ عوام کے ٹیکسوں سے سہولتیں اور گرانٹس ملتی ہے‘ وہ صرف کیمروں کے سامنے ماڈلنگ کے لیے باہر نکلنے والے VIP کے ساتھ حاضری لگواتے نظر آتے ہیں۔
اسلام آباد صرف شہرِ اقتدار نہیں پاکستان کا دل بھی ہے‘ جس پر ہر حملے کے بعد بڑی بڑی گاڑیاں دوڑتی ہیں اور لوگوں کو سیف سٹی سائنس سمجھاتی ہیں۔ دل خطرے میں ہو تو وجود کی سلامتی سوال بن جاتی ہے۔ ہر واردات کے بعد موقع واردات پر حاضری لگانے کے لیے پہنچنے والے کہتے ہیں‘ سیکورٹی مزید سخت کر دی‘ ہم نے لاشوں اور زخمیوں کو ریسکیو کر لیا۔ ریسکیوکرنا بچانے کو کہتے ہیں‘ میتیں اُٹھانے کو نہیں۔ ارسطو کہیں کے! ان کے خیال میں قوم کو شعور پر تندور کو ترجیح دینی چاہیے۔
گھاس سے بچ کے چلو ریت کو گلزار کہو
نرم کلیوں پہ چڑھا دوغمِ دوراں کے غلاف
خودکو دل تھام کے مُرغانِ گرفتار کہو
رات کو اس کے تبسم سے لپٹ کر سو جائو
صبح اٹھو تو اسے شاہدِ بازار کہو
ذہن کیا چیز ہے جذبے کی حقیقت کیا ہے
فرش پر بیٹھ کے تبلیغ کے اشعار کہو

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں