عظیم آفاقی تاریخ پر الطاف حسین حالی نے کمال کی بات کی‘ لیکن اس کی جانب بعد میں آئیں گے۔ پہلے ذرا پیچھے چلتے ہیں‘ ماضی میں۔ یہ گزری صدی کے سال 1954ء کے ماہ جولائی کی 28 تاریخ ہے۔ لاطینی امریکہ کے ملک وینزویلا کے ایک چھوٹے سے گائوں سبانیتا کے انتہائی غریب خاندان میں دوسرے بچے نے جنم لیا۔ نومولود کا نام Hugo Rafael Chavez Frias رکھا گیا۔ غربت کا مارا یہ بچہ بڑا ہوا تو وقت کی طنابیں اُس کے ہاتھ میں آ گئیں؛ چنانچہ وہ لاطینی امریکہ میں انقلابی تحریکوں کا استعارہ بن کر سامنے آیا۔ یہی نہیں بلکہ ہوگو شاویز کے دورمیں وینزویلا میں عوامی انقلاب اور سوشلسٹ اکانومی‘ دونوں کی Historic reinvention اور تشکیلِ نو بھی ملتی ہے۔ شدید غربت میں جنم لینے والے ہوگو شاویز کے والدین کی سخت محنت نے اُسے وینزویلا ملٹری اکیڈمی میں داخلہ دلوا دیا جہاں سے گریجوایشن کرنے کے بعد ہوگو شاویز نے عملی کیریئر کی ابتدا پیرا ٹروپر کی حیثیت سے کی۔
ہوگو شاویز کی عملی سیاست کا دور تب شروع ہوا جب دنیا میں سوشلسٹ ریاستوں کے سکڑنے کا ٹائم تھا۔ ایسے میں لاطینی امریکہ جیسے ریجن کے اندر ایک نوجوان عملی طور پر سوشلسٹ نظام کو نافذ کرکے ناانصافی‘ غربت اور ایلیٹ مافیاز کو مائنس کر سکے گا‘ ایسا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ فوجی کیریئر شروع کرنے کے باوجود بچپن اور کالج کے زمانے کا انقلابی سوشلسٹ ہوگو شاویز کے دل کی گہرائی میں آگے سے آگے اترتا چلا گیا۔ شاویز کی انقلابی زندگی میں 1974ء بہت اہم سال سمجھا جاتا ہے۔ اس سال شاویز نے پڑوسی ملک پیرو کا سرکاری دورہ کیا جہاں اُس کی ملاقات پیرو کے فوجی حکمران جنرل جیون ولاسکو سے ہوئی۔ دونوں کے مابین سیاسی نظریات پر ایسی پُراثر گفتگو ہوئی جس کے نتیجے میں شاویز عملی سیاست کی طرف مائل ہو گیا۔ اس سے پہلے ہی ہوگو شاویز کال مارکس‘ لینن اور مائوزے تنگ کا لٹریچر پڑھ کر سوشلزم کا معتقد بن چکا تھا۔ 1977ء میں ہوگو شاویز نے خفیہ انقلابی تحریک کی بنیاد رکھی جس کا نام وینزویلن پیپلز لیبریشن آرمی رکھا گیا۔ جلد ہی وینزویلا کے نوجوان طلبہ اور ینگ آرمی آفیسرز اس تحریک سے بڑے پیمانے پر متاثر ہو نا شروع ہو گئے جس کے بعد اس تحریک کو بولیوین انقلابی موومنٹ200 کا نام دے دیا گیا۔ اس موومنٹ کیلئے واقعہ کارا کازو ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوا۔ لوگ Capitalistic Elite Capture سے سخت تنگ تھے‘ ہوگوشاویز کی موومنٹ نے 4 فروری 1992ء کو دارالحکومت میں فوجی بغاوت کا آغاز کیا مگر اُسے فوری کامیابی نہ مل سکی۔ یہ ناکامی شاویز کیلئے گڈ لَک ثابت ہوئی کیونکہ اقتدار میں موجود رجیم نے شاویز کو ٹی وی پر براہِ راست خطاب کی دعوت دی تاکہ وہ موومنٹ کے ساتھیوں سے ہتھیار پھینک دینے کا کہہ سکے۔ اس خطاب نے شاویز کیلئے عشروں کا سفر مختصر کر کے عام آدمی کے دل میں اُس کی محبت کا سکّہ جما دیا۔ ہوگو شاویز کے دور میں لاطینی امریکہ کے چار دوسرے ممالک میں سوشلزم نافذ ہوا جن میں کیوبا‘ نکارا گوا‘ بولیویا اور ارجنٹائن شامل تھے لیکن جو عالمی پذیرائی کیوبا کے ارنیسٹو چی گویرا کے بعد ہوگو شاویز کو ملی وہ کسی اور کے حصے میں نہ آ سکی۔
اگر ہم سوشلسٹ لاطینی امریکہ کے ممالک اور وہاں انقلابی ریاستی سربراہوں پر نظر ڈالیں تو اُن میں سے اہم ترین پانچ لیڈر گنے جاتے ہیں۔ ان میں سے پہلا سوشلسٹ لیڈر بولیویا کا ایو موریلس تھا۔ دوسرے نمبر پر برازیل کا لولا ڈیسلوا۔ تیسرے نمبر پر ایکوا ڈور کا رافیل کورئیا۔ چوتھے نمبر پر نکارا گوا کا ڈینیل اورٹیگا اور پانچویں نمبر پر کیوبا کے فیڈل کاسترو کا نام آتا ہے۔ لاطینی امریکہ کے سوشلسٹ انقلابی ملکوں کی تحریکوں کے حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ وہ جن تین زندہ سربراہانِ ریاست کو سوشلسٹ انقلابی رہنما گردانتے ہیں اُن میں سے دو مسلمان ہیں اور ایک موجودہ روس کے صدر ولادیمیر پوتن۔ دیگر دونوں رہنمائوں میں سے پہلے ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد ہیں جبکہ دوسرے نمبر پر عوامی جمہوریہ شام کے سابق صدر بشار الاسد کا نام لیا جاتا ہے۔ یہ تینوں رہنما ہوگو شاویز کے زندگی میں اُس کے انتہائی قریبی‘ ہم نوا اور ہم خیال سمجھے جاتے تھے۔ ان تینوں کا سیاسی مؤقف ہمیشہ اینٹی امپیریل ازم پر مبنی رہا۔
ہوگو شاویز 1999ء میں وینزویلا کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد ملک کے صدر بنے۔ ان کا عرصۂ اقتدار سوشلزم کے ادارہ جاتی نظام کے نفاذ کا عہد سمجھا جاتا ہے جس کی بڑی مثالیں یوں ہیں:
ہوگو شاویز کا پہلا انقلابی پراجیکٹ: ایک حوالہ ایسا بھی ہے جس کے تناظر میں وینزویلا اور پاکستان میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ دونوںممالک قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں اور ساتھ ہی کرپشن میں بھی عالمی ریکارڈ یافتہ۔ ہوگو شاویز کے منصبِ صدارت پر آنے سے پہلے وینزویلا کا بھی یہی حال تھا۔ ہوگو شاویز نے Barrio Adentro کے نام سے پہلا پراجیکٹ شروع کیا۔ اُسے طوفانی رفتار میں عام لوگوں تک پہنچا دیا۔ یہ تھا فری میڈیکل کیئر پروگرام۔ اس میں خاص طور سے اُن علاقوں کو ٹارگٹ کیا گیا جو اسپرین کی گولی سے آگے صحت کی کسی سپیشلائزڈ سہولت سے آشنا نہیں تھے۔ کیوبا نے اس ماڈل کو اپنے ہیلتھ کیئر پروگرام میں شامل کیا۔
ہوگو شاویز کا دوسرا انقلابی پراجیکٹ: یہ بات ہمارے قابضانِ اقتدار کی سمجھ میں کبھی نہیں آئی کہ بھوکے آدمی کو خالی پیٹ مہنگی مرسڈیز میں سیر کے بجائے بھوک مٹانے والی روٹی چاہیے ہوتی ہے۔ ہوگو شاویز غربت میں پلا بڑھا اس لیے اس نے پورے میں ملک میں Mision Mercal کے عنوان سے دوسرا پراجیکٹ فی الفور شروع کیا۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سبسڈائزڈ عوامی مارکیٹس کھول دی گئیں۔
ہوگو شاویز کا تیسرا انقلابی پراجیکٹ: اس کا ٹائٹل Mision Robinson رکھا گیا؛ یعنی تعلیم پھیلائو پروگرام۔ فوری طور پر ریاستی وسائل کو ہوگو شاویز نے پوری طرح سے عوامی مفاد کے پروگراموں میں جھونک دیا۔
ہوگو شاویز کا چوتھا انقلابی پراجیکٹ: اس پراجیکٹ کے ذریعے ہوگو شاویز نے اوپر درج عوامی بہبود اور ترقی کے تینوں پراجیکٹس کی بھرپور فنڈنگ کا روڈ میپ بنایا۔ فوری فنڈنگ کے لیے ملک بھر میں آئل انڈسٹریز‘ ٹیلی کام کے ادارے‘ بجلی کمپنیوں کو کرپشن کی گہری دلدل سے نکالنے کے لیے قومی ملکیت میں لے لیا۔
ہوگو شاویز کا پانچواں انقلابی پراجیکٹ: یہ لاطینی امریکہ کا بڑے پیمانے پر زرعی اصلاحات کا قانون تھا جس کے ذریعے فوری زرعی پیداوار شروع کرانے کے لیے زمین چھوٹے فارمرز اور ہاریوں؍ زرعی ورکروں میں تقسیم کر دی گئی۔ ان انقلابی پروگراموں کے نتیجے میں 2012ء تک وینزویلا میں غربت پچاس فیصد کم ہو گئی۔ یہ انہونی تھی۔
صدر مادورو کو بابائے کیپٹل ازم نے اغوا کر لیا۔ مادورو ہوگو شاویز کا کامریڈ ہے۔ بابائے کیپٹل ازم کا مغوی پاناما کا صدر جرنیل نوریگا نہیں۔ پابجولاں صدر مادورو نے آنکھوں پر پٹی کے باوجود وکٹری بنائی۔ ثابت کیا صدر مادورو اغوا ہوا سوشلزم نہیں۔ حالی نے یہی آفاقی سچائی بتائی:
جمگھٹے دیکھے ہیں جن لوگوں کے ان آنکھوں نے
آج ویسا کوئی دے ہم کو دکھا ایک ہی شخص
قیس سا پھر کوئی اُٹھا نہ بنی عامر میں
فخر ہوتا ہے گھرانے کا سدا ایک ہی شخص