دنیا کی بدلتی صورتحال

بہت دنوں سے یہ بات زیرگردش تھی کہ ایران پر ایک بڑا حملہ ہونے والا ہے۔ اب تک جتنے بھی حملے ہوئے‘ ایران نے اپنے محدود وسائل میں ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا۔ ہم بہت سے دیگر ممالک کو دیکھتے ہیں کہ انہوں نے صہیونی قوتوں کے سامنے پسپائی اختیار کر لی‘ بہت سے ممالک خاموش ہو گئے‘ کچھ اپنے کام سے کام رکھتے ہیں لیکن ایران نے ہمیشہ اسرائیل کی جارحیت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس مقابلے میں اس نے اپنی ایک تہائی قیادت کھو دی‘ اپنے ایٹمی سائنس دانوں کی جان گنوا دی لیکن اپنے نظریے پر ڈٹا رہا۔ دنیا نے ایران پر اقتصادی پابندیاں لگائیں لیکن انہوں نے ان پابندیوں کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
جون 2025ء میں اسرائیل نے آپریشن رائزنگ لائن کے تحت ایران پر حملہ کیا اور اس کی عسکری اور جوہری قیادت کو نشانہ بنایا۔ اس کے ساتھ ایران کے ایٹمی ری ایکٹرز پر بھی حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں ایرانی فوج کے سربراہ جنرل باقری‘ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف حسین سلامی‘ کمانڈر غلام علی راشد‘ کمانڈر امیر علی حاجی زادہ‘ ایٹمی سائنسدان فریدون‘ فزسسٹ محمد مہدی تہرانچی‘ پروفیسر عبدالحمید‘ پروفیسر احمد رضا اور پروفیسر امیر حسین شہید ہو گئے۔ آئی اے ای اے کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں نطنز میں فیول افزودگی پلانٹ اور بجلی کا نظام تباہ ہو گیا۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے فوردو میں بھی جوہری سنٹر کو نشانہ بنایا جو یورینیم بنانے کا مرکز ہے جبکہ اصفہان میں لیبارٹری اور پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ افسوسناک صورتحال تھی کہ ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کیلئے ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر دیا جائے۔ اگر تابکاری کا اخراج ہو جاتا تو کتنا نقصان ہوتا؟ یہ سلسلہ آج سے شروع نہیں ہوا‘ یہ مدتوں کا قصہ ہے۔ ایران اور اسرائیل کے مابین 1979ء سے کوئی سفارتی تعلقات نہیں۔ 1989ء سے اس باہمی مخاصمت میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے برملا کہا کہ اسرائل اس خطے میں ایک کینسر ہے جس کو ختم ہو جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فلسطین پر صرف فلسطینیوں کا حق ہے۔ اب فروری 2026ء میں ایک بار پھر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا۔ اس بار کا حملہ سویلینز اور ایران کی سیاسی ومذہبی قیادت پر تھا۔ یہ حملہ بہت شدید تھا جس سے ایران کے بیس اضلاع متاثر ہوئے۔ اس حملے میں چھوٹے بچوں کا سکول بھی نشانہ بنا‘ جس میں اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد 148 تک پہنچ چکی ہے۔ 95 سے زائد طلبہ زخمی ہوئے ہیں۔ جب وہاں سے وڈیوز سوشل میڈیا پر اَپ لوڈ ہوئیں تو سب لوگ اشکبار ہو گئے۔ چھوٹے بچوں کے اعضا بکھرے پڑے تھے۔ کتابیں اور بستے خون آلود تھے۔ ہفتہ‘ 28 فروری کی صبح اسرائیل نے ایران پر حملہ ایسے وقت میں کیا جب امریکہ اور ایران کے مابین جوہری معاملے پر مذاکرات جاری تھے۔ اس آپریشن کو 'ایپک فیوری‘ کا نام دیا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے اس حملے کے بعد آبنائے ہرمز بندکر دی‘ جہاں سے دنیا بھر میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس سے پوری دنیا پر اثر پڑے گا۔ ایران نے پہلے ہی اعلان کر رکھا تھا کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔ ایران کی طرف سے قطر‘ ابوظہبی‘ کویت اور دبئی کی طرف میزائل داغے گئے۔ یہ حیران کن منظر تھا۔ دنیا کے جدید اور محفوظ سمجھے جانے والے ممالک میزائلوں کی زد میں آ گئے اور ان کی ایئر سپیس بھی بند کر دی گئی۔
سوال یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کو پورے مشرقِ وسطیٰ کو جنگ میں دھکیل کر کیا ملا؟ خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان پر بھی فضائی حملہ کیا ہے‘ جس میں اس کا نشانہ حزب اللہ تھی۔ اس وقت سب پریشانی اور تذبذب کا شکار ہیں۔ ہم پاکستانی پہلے ہی پاک افغان کشیدگی کو لے کر پریشان تھے‘ اب ایران کی جنگ نے پاکستانیوں کے جذبات کو اشتعال دلا دیا ہے۔ شیعہ ہوں یا سنّی‘ ایران کے ساتھ سب عقیدت رکھتے ہیں۔ ہفتے کے روز ہوئے حملوں میں ایرانی وزیر دفاع امیر نصیر اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور جانبر نہیں ہو سکے۔ اسی طرح اسرائیلی حملوں میں علی خامنہ ای کے داماد اور بیٹی بھی چل بسے۔ یہ حملے اتنے شدید تھے کہ ان میں 200 اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا اور 500 اہداف پر حملہ کیا گیا۔ دوسری طرف ایران نے بھی بھرپور حملہ کیا اور اسرائیل پر میزائل داغ کر صہیونیوں کی دوڑیں لگوا دیں۔ ایران کے جوابی حملے میں دبئی میں پام جمیرہ کے قریب بھی میزائل گرے‘ دوحہ اور بحرین میں بھی شدید دھماکے ہوئے۔ کویت اور دبئی کے ایئر پورٹس پر بھی دھماکے سنے گئے۔
البتہ اس جنگ میں ایک ایسا سانحہ ہوا جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ لوگ مذہبی عقیدت رکھتے ہیں۔ ان کی شہادت کی خبر دنیا بھر کے مسلمانوں پر بجلی بن کر گری ہے۔ ہر کوئی غم میں ڈوب گیا ہے۔ دنیا بھر سے مسلمان اس کی مذمت کر رہے ہیں۔ شہید ہونے والے سپریم لیڈر 1939ء میں مشہد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے دینی تعلیم حاصل کی اور 11 سال کی عمر میں عالم بن گئے۔ وہ 1979ء میں ایرانی انقلاب کے اہم رکن بن کر ابھرے۔ 1981ء میں ان پر ایک قاتلانہ حملہ ہوا جس سے ان کا دایاں بازو متاثر ہوا۔ 1989ء میں وہ ایران کے سپریم لیڈر منتخب ہوئے۔ 1981ء سے 1989ء تک وہ ایران کے صدر بھی رہے۔ انہوں نے ایران کی فوجی قوت پر بھرپور توجہ دی۔ اس کے ساتھ نظام حکومت‘ عدلیہ‘ پولیس اور پارلیمانی امور پر بھی خصوصی توجہ دی۔ وہ 36 سال چھ ماہ ایران کے سپریم لیڈر رہے۔ شہادت کے وقت ان کی عمر 86 برس تھی اور وہ روزے سے تھے۔ ان کی شہادت سے ایران‘ عراق‘ پاکستان سمیت دنیا بھر میں مسلمان غم میں ڈوب گئے ہیں۔
ایران نے اپنے سپریم لیڈر کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور شنید ہے کہ علی رضا اعرافی نئے عبوری سپریم لیڈر مقرر ہوئے ہیں۔ ایران کے سکیورٹی سربراہ نے کہا کہ ہے کہ ہم ایسی طاقت سے اپنے دشمنوں کو نشانہ بنائیں گے جو پہلے نہیں دیکھی گئی۔ ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے انتقام کو فرض قرار دیا ہے۔ اس بات کا بھی اعلان کیا گیا ہے کہ 'آپریشن وعدۂ صادق 4‘ جاری رہے گا۔ جب آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کی خبر آئی تو پاکستان بھر میں‘ بشمول گلگت بلتستان اور مقبوضہ کشمیر مظاہرے شروع ہو گئے۔ کراچی میں مظاہرین امریکی قونصل خانے میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کرنے لگے اور فائرنگ سے نو افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر ایسے ردعمل کے لیے شاید حکومت تیار نہیں تھی۔ اس وقت بھی لوگ سڑکوں پر ہیں۔ اسلام آباد‘ لاہور اور کراچی سمیت کئی شہروں میں احتجاج ہو رہا ہے۔ تاہم اس میں نجی و سرکاری املاک کو آگ لگانا درست نہیں ہے۔ ہم سب کو ایران پر حملے کا دکھ ہے اور ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت پر پوری پاکستانی قوم رنجیدہ ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ قانون کوہاتھ میں لے کر اپنے ملک میں بدامنی کی جائے۔ حکومت کو بھی تشدد کے بجائے نرمی کی پالیسی اپنانی چاہیے۔ مظاہرین دکھی ہیں‘ ان کو تسلی اور پرسہ دیا جائے۔ غیر ملکی سفارتکار ہمارے مہمان ہیں‘ ان کی جان ومال کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔ اگر ایران کی مدد کرنی ہے تو اس کا معاملہ اقوام متحدہ لے کر جائیں‘ ان کے عوام کو امداد بھیجیں‘ تمام ممالک سے بات کرکے جنگ بندی کرائیں۔
ایران اپنے نظریے پر ڈٹا ہوا ہے‘ وہ اسرائیل کی بدمعاشی کے آگے جھکنے کوتیار نہیں۔ اس وقت وہاں اکثر شہروں میں بجلی نہیں اور عوام کی انٹرنیٹ تک رسائی بھی نہیں۔ ایران سمیت کئی علاقائی ممالک کی فضائی حدود بند ہے۔ عوام کو امن‘ صاف پانی‘ ادویات‘ خوراک اور شیلٹر کی ضرورت ہے۔ مجھے افسوس ہے کہ عالمی طاقتوں نے اپنی حربی قوت کے نشے میں پورے مشرقِ وسطیٰ کو کشت وخون کی آگ میں جھونک دیا ہے۔ اس کے مزید کتنے بھیانک اثرات سامنے آئیں گے‘ چند دن میں یہ معاملہ واضح ہو جائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں