اسلام آباد اور مارگلہ جنگلات کا مستقبل ؟ … (2)

اسلام آباد کے صحافی رپورٹ کر رہے ہیں کہ شکرپڑیاں سے پورا جنگل ختم کر دیا گیا ہے جبکہ سی ڈی اے کا کہنا ہے کہ ہم نے صرف جنگلی شہتوت کے درخت کاٹے ہیں۔ یہ جنگلی شہتوت‘ جسے پیپر ملبری بھی کہا جاتا ہے‘ ایک عجوبہ تھا جو کئی دہائیوں پہلے بابو کریسی نے وفاقی دارالحکومت میں لگایا تھا۔ یہ درخت شہر میں دمہ‘ الرجی اور پولن پھیلانے کا بڑا سبب تھا۔ ایک طویل عرصے تک اسلام آباد کے شہریوں نے اس درخت کے باعث تکلیف اٹھائی۔ لوگ دمے اور الرجی کی شدت کے باعث ہسپتالوں تک پہنچتے رہے۔ اب سی ڈی اے اس درخت کا خاتمہ کر رہی ہے اور شدید تنقید کی زد میں ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جہاں جہاں درخت کاٹے گئے وہاں صرف جنگلی شہتوت نہیں بلکہ دیگر درخت بھی کاٹے گئے ہیں جن میں شیشم‘ کیکر‘ چیڑ اور پُھلائی وغیرہ شامل ہیں۔ ویسے مجھے تو اب املتاس‘ کچنار اور جارکنڈا بھی کہیں نظر نہیں آتے جن کے پھول آنکھوں کو بھاتے تھے۔ اس وقت اسلام آباد میں زور وشور سے سڑکیں بن رہی ہیں‘ انڈر پاسز اور ایونیو تعمیر کیے جا رہے ہیں جبکہ باقی شہر نظر انداز ہو رہا ہے۔ اسلام آباد میں ماحولیاتی آلودگی‘ گرد وغبار اور دھول مٹی میں خاصا اضافہ ہو چکا ہے۔ شور‘ افراتفری اور وی آئی پی روٹس کے نام پر سڑکوں کی بندش کے مسائل اس کے علاوہ ہیں۔ سب سے زیادہ درخت ایف نائن پارک سے کاٹے گئے ہیں ۔ شکرپڑیاں کا علاقہ‘ جو مارگلہ نیشنل پارک میں شامل ہے‘ اس کے ساتھ پارک روڈ اور سرینگر ہائی وے کے اطراف میں بھی درختوں کی کٹائی کی گئی ہے۔ سیکٹر ڈی 12‘ ایف 10‘ جی 9‘ جی 10‘ ایچ 8 اور ایچ 9 میں بھی سینکڑوں کی تعداد میں درخت کاٹے گئے ہیں۔ کسی دور میں خوابوں کا شہر اسلام آباد اب خاصا بدصورت‘ مٹی سے اٹا ہوا اور گرد آلود نظر آتا ہے۔
ماحولیات کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق مارگلہ انکلیو تک سڑک بنانے کیلئے دس ایکٹر رقبے پر سبزہ ختم کیا گیا۔ جو درخت کاٹے گئے ان میں شیشم اور کچنار بھی شامل تھے۔ دوسری بڑی کٹائی ایچ 8 میں ہوئی جہاں 2023ء میں ڈیڑھ ایکڑ رقبے اور 2025ء میں ساڑھے چھ ایکڑ رقبے سے درخت کاٹے گئے۔ تیسری بڑی کٹائی شکرپڑیاں میں ہوئی ہے‘ جہاں کثیر تعداد میں درختوں کو بڑے بے رحمانہ طریقے سے کاٹا گیا ہے۔ لوک ورثہ میوزیم کے اطراف میں بھی درختوں کی کٹائی کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ کٹائی صرف اس لیے نہیں ہوئی کہ جنگلی شہتوت سے نجات حاصل کرنا مقصود تھا بلکہ یہ نئی تعمیرات کے لیے کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں کرکٹ سٹیڈیم بھی بننا ہے‘ نجانے اس کے لیے مزید کتنے درخت کاٹے جائیں گے۔ اب سول سوسائٹی اور صحافتی حلقے اس معاملے پر شدت سے آواز اٹھا رہے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پانی سر سے گزر چکا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہر میں درختوں کی مزید کٹائی پر پابندی لگا دی ہے۔
ماحولیاتی تحفظ کیلئے ضروری ہے کہ نئی تعمیرات کیلئے جنگل کاٹنے پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ اگر کسی درخت کو کاٹنا ناگزیر ہو تو اس موسم میں کاٹا جائے جب اس کی جگہ دوسرے پودے لگائے جا سکیں۔ شجرکاری کیلئے موزوں مہینے فروری‘ مارچ اور مون سون ہیں۔ کسی بھی تعمیر سے قبل اس جگہ کا ای آئی اے (انوائرمنٹ امپیکٹ اسیسمنٹ) سروے ہونا چاہیے اور نتائج عوام کے سامنے لائے جانے چاہئیں۔ جہاں بھی شجرکاری کی جائے وہاں صرف مقامی درخت لگائے جائیں اور ان پودوں اور درختوں پر پابندی لگائی جائے جو مقامی ماحول کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتے۔ درختوں کے ساتھ ساتھ جھاڑیاں‘ گھاس اور چھوٹے پودے بھی لگائے جائیں‘ یہ ماحولیاتی تنوع کیلئے ضروری ہے۔ شجرکاری کے بعد نئے پودوں کی نگرانی بھی ضروری ہے تاکہ دیکھا جا سکے کہ پودے صحیح طور پر نشوونما پا رہے ہیں یا نہیں۔ اس وقت شجرکاری بھی درست انداز میں نہیں کی جا رہی۔ نمائشی درخت لگائے جا رہے ہیں جو بڑے تو جلدی ہو جاتے ہیں مگر خطے کے موسم سے مطابقت نہیں رکھتے۔ موٹروے کے اطراف میں سفیدہ لگایا گیا جو کمزور درخت ہے اور آندھی میں اکھڑ جاتا ہے جبکہ زیرِ زمین پانی بھی بڑی مقدار میں جذب کر لیتا ہے۔ اسی طرح نئی رہائشی سکیموں میں پام‘ کھجور اور کانو کارپس لگائے جا رہے ہیں۔ کانو کارپس ایسا درخت ہے جو زیرِ زمین پانی جذب کر لیتا ہے اور اس کی جڑیں پھیل کر گھروں اور نالیوں کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس لیے شجرکاری میں یہ ضرور دیکھا جانا چاہیے کہ کون سے نئے درخت لگائے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد کو سایہ دار اور پھلدار درختوں کے ساتھ پائن ٹری کی بھی اشد ضرورت ہے۔ پائن یہاں کا مقامی درخت ہے اور درجہ حرارت میں کمی لانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسلام آباد کیلئے موزوں درختوں میں برگد‘ کچنار‘ املتاس‘ مورنگا‘ دلو‘ صنوبر‘ چنار‘ بیری‘ پاپولر‘ زیتون‘ انار‘ آم‘ انجیر‘ سیب‘ چیکو‘ پپیتا‘ املوک‘ آڑو‘ گولڈن شاور‘ شیشم‘ پیپل‘ کینو‘ السٹونیا‘ پلاس (ادویات میں کارآمد)‘ جامن‘ سفید شہتوت‘ لیموں اور جارکنڈا شامل ہیں۔ عوامی مقامات اور شاہراہوں پر بڑے درخت لگانے چاہئیں جبکہ گھروں میں نسبتاً چھوٹے درخت مناسب رہتے ہیں۔ اگر جھاڑیوں کی بات کی جائے تو اسلام آباد میں جیسمین‘ چائنیز بیری ٹری‘ پیری وینکل‘ مڈغاسکر‘ میری گولڈ‘ اولینڈر‘ گولڈن ڈیو ڈراپ‘ کم کم ٹری‘ آرکڈ اور وائلڈ لیڈورٹ لگائی جا سکتی ہیں۔ اگر آپ فلیٹس میں رہتے ہیں یا گھر میں لان موجود نہیں تو اِن ڈور پلانٹس جیسے پیس للی‘ ایلوویرا‘ سنیک پلانٹ‘ منی پلانٹ اور سپائڈر پلانٹ لگائے جا سکتے ہیں۔ یہ دھوپ کی کمی میں بھی بہترین رہتے ہیں اور ماحول کو صاف رکھنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ اگر گھر میں دھوپ آتی ہو تو جڑی بوٹیاں بھی لگائی جا سکتی ہیں‘ جن میں پودینہ‘ تھائم‘ پارسلے‘ بیسل اور اوریگانو شامل ہیں۔ اگر گھر میں کیاری موجود ہو تو ٹماٹر‘ مرچ‘ دھنیا‘ پودینہ‘ چنبیلی‘ رات کی رانی اور انگور کی بیل لگائی جا سکتی ہے۔
باغبانی ایک بہترین مشغلہ ہے جو انسان کو ذہنی سکون فراہم کرتا ہے۔ پودوں اور درختوں کو بدنما سمجھنے والوں کو اپنی سوچ بدلنی چاہیے۔ امیر ہو یا غریب‘ سب کے پھیپھڑے اسی ماحول میں سانس لیتے ہیں۔ درخت کاٹنے والوں کو یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ فضائی آلودگی امیری غریبی میں فرق نہیں کرتی۔ یہ بلاتفریق سب کی دشمن ہے اور بقا صرف درخت لگانے میں ہے۔ درخت لگاتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا جائے کہ ان کے درمیان کم از کم دس فٹ کا فاصلہ ہو اور انہیں گھر کی دیوار یا گیٹ سے کچھ دور لگایا جائے تاکہ جڑیں تعمیرات کو متاثر نہ کریں۔ پودوں میں آرگینک کھاد استعمال کی جائے جو کچن کے کچرے سے تیار کی جا سکتی ہے۔ کمزور پودوں کو سہارا دینے کیلئے چھڑی باندھی جا سکتی ہے تاکہ آندھی یا تیز ہوا میں وہ ٹوٹ نہ جائیں۔ اسلام آباد میں کئی جگہ بھنگ کا پودا بھی موجود ہے‘ جسے پیپر ملبری کے ساتھ ہٹانے کی ضرورت ہے۔ اگر کسی جگہ سے ماحول دشمن پودے یا درخت ہٹانے مقصود ہوں تو درخت کاٹنے والوں کے ساتھ ماحولیاتی ماہرین کو بھی بھیجا جائے تاکہ ہر قسم کا درخت بلاامتیاز کلہاڑوں کی زد میں نہ آ جائے۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق پاکستان میں ماحولیاتی آلودگی کے باعث اوسط عمر میں 3.3سال کی کمی واقع ہو چکی۔ اس کے علاوہ سالانہ ایک لاکھ اٹھائیس ہزار اموات کی بڑی وجہ آلودگی ہے۔ سموگ‘ سانس کی بیماریوں‘ الرجی اور دمہ جیسے امراض پر قابو پانا صرف اسی صورت ممکن ہے جب ہم درخت لگائیں گے۔ ہمیں بے ہنگم ترقی یا نمائشی سڑکوں اور انڈر پاسز کی ضرورت نہیں بلکہ ایک گرین انقلاب کی ضرورت ہے۔ انسان کی بنیادی ضروریات صاف پانی‘ ملاوٹ سے پاک خوراک اور صاف ستھری فضا ہیں۔ اب اس جانب سنجیدگی سے توجہ دی جانی چاہیے۔ شہر کنکریٹ اور سیمنٹ سے نہیں بلکہ انصاف اور امن سے بنتے ہیں۔ افسوس کہ اس منزل سے ہم ابھی کوسوں دور ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں