تہران اور امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کا درمیانی فاصلہ دس ہزار دو سو کلو میٹر ہے۔ قریب ترین شہر نیویارک ہے جو مشرقی ساحل پر ہے۔ یہ تہران سے 9879کلو میٹر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کی لڑائی میں امریکی سرزمین محفوظ ترین مقام ہے۔ چند امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے علاوہ امریکہ کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ امریکہ شاد ہے‘ آباد ہے‘ زندگی معمول پر ہے‘ کوئی بمباری نہیں۔ کوئی میزائل نہیں‘ کوئی افراتفری نہیں۔ اشیائے خور و نوش کی قلت نہیں۔ کوئی سراسیمگی نہیں۔ منی سوٹا سے لے کر فلوریڈا تک‘ نیویارک سے لے کر لاس اینجلس تک‘ زندگی اپنی دلچسپیوں کے ساتھ پوری طرح رواں دواں ہے۔ سکول‘ کالج‘ کلب‘ ڈسکو‘ طرب گاہیں‘ بازار سب کھلے ہیں۔صدر ٹرمپ ان کے رشتہ دار‘ ان کے رفقائے کار‘ ان کے احبا‘ سب مزے میں ہیں۔ مالی نقصان کے علاوہ ایران امریکہ کا اب تک کچھ نہیں بگاڑ سکا۔ امریکہ ایک بڑی معیشت ہے۔ عظیم الجثہ۔ قوی ہیکل۔ دیو نما۔ قرضوں کے باوجود اس کی معیشت کو کوئی دھچکا نہیں لگتا۔ ہم جذباتی قوم ہیں۔ شادیانے بجا رہے ہیں کہ ایک ایک انٹرسیپٹر امریکہ کو اتنے میں پڑ رہا ہے‘ اس سے اس کی کمر ٹوٹ جائے گی۔ بچوں جیسی بات ہے۔ ابھی آپ نے صرف ایک طیارہ بردار جہاز کا نام سنا ہے۔ ابراہام لنکن۔ ایسے گیارہ طیارہ بردار جہاز امریکہ کے پاس ہیں جو نیوکلیئر ہیں۔ ان کے علاوہ امریکہ کے پاس درجنوں Amphibious ایئر کرافٹ کیریئر بھی ہیں جو خشکی اور پانی دونوں میں کام کرتے ہیں۔
دوسری طرف ایران کی صف اوّل کی‘ بلکہ صف دوم کی بھی تمام لیڈر شپ شہید ہو چکی ہے‘ ہزاروں افراد مارے جا رہے ہیں‘ معصوم بچیوں تک کو قتل کر دیا گیا۔ ایران نے اسرائیل میں تباہی پھیلائی ہے مگر دشمن تو امریکہ ہے‘ ارد گرد کی مسلم ریاستوں میں الگ حالتِ جنگ نافذ ہے۔ فرض کریں خدانخواستہ ایران قطر‘ یو اے ای‘ بحرین‘ کویت‘ سعودی عرب سب میں تباہی مچا دے تب بھی اصل دشمن امریکہ خوش ہی ہو گا‘ اسرائیل میں بھی گھی کے چراغ جلیں گے۔ رہی اسرائیل کی تباہی تو یہود کو اپنے بندوں کے مرنے کا ذرا بھی رنج نہیں۔ نیتن یاہو ایک قصاب ہے۔ اسے ذبح کرنے کیلئے یہودی بکرے چاہئیں‘ اور یہودیوں سے بہتر قربانی کے بکرے کون سے ہوں گے؟ اسے کسی اسرائیلی کے مرنے کا اتنا قلق بھی نہ ہو گا جتنا پالتو مرغی کے مرنے پر ہوتا ہے۔ رہا اسرائیل کا جانی نقصان! تو اس کی تلافی امریکہ ہمیشہ کی طرح فوراً کر لے گا۔ فرض کیجیے امریکہ‘ خدا نخواستہ ایران پر ایٹم بم گراتا ہے۔ ہم یہ بھی فرض کرتے ہیں کہ ایران کے پاس بھی ایٹم بم ہے‘ تو کیا ایران امریکہ پر جوابی ایٹم بم گرا سکے گا؟ یہ ناممکن ہو گا۔ دس ہزار کلو میٹر فاصلہ طے کرنا جبکہ امریکی جہاز کتوں کی طرح اس کے پیچھے لگے ہوں گے‘ ناممکن ہو گا۔
ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ٹرمپ نارمل انسان ہے؟ کیا کوئی نارمل انسان امریکی منصبِ صدارت سنبھانے کے فوراً بعد یہ اعلان کر سکتاہے کہ کینیڈا کو امریکہ کا حصہ بن جانا چاہیے اور گرین لینڈ امریکہ کا ہے؟ اور تو اور‘ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کس قدر مضحکہ خیز اور بے سروپا ہے کہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران کا نیا سپریم کمانڈر اس کے مشورے سے چنا جانا چاہیے تھا۔ اس ذہنی حالت والا شخص کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتا ہے۔ یہ جسٹس کھڑک سنگھ سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ کھڑک سنگھ پٹیالا کے مہاراجہ کا ماموں تھا۔ جاگیردار تھا۔ پنچایت میں بیٹھ کر فیصلے کرتا تھا۔ فراغت اور آسودگی نے زندگی میں یکسانیت اور بیزاری پیدا کر دی تھی۔ ریاست میں چیف جسٹس کا عہدہ خالی ہوا‘ اُس زمانے میں پٹیالا جیسی نیم آزاد ریاستوں میں چیف جسٹس کی تقرری وائسرائے کرتا تھا۔ مہاراجہ نے ماموں کا نام تجویز کر دیا اور فائل ماموں کے حوالے کر دی۔ کھڑک سنگھ فائل لے کر وائسرائے کے سامنے پیش ہوا۔ انگریز نے پوچھا نام؟ بتایا کھڑک سنگھ! تعلیم؟ کھڑک سنگھ نے کھڑک کر جواب دیا: کیوں‘ کیا بچوں کو پڑھانا ہے؟ آخر پنچایتوں کے فیصلے کرتا آیا ہوں۔ کچھ مزید سوال جواب ہوئے تو وائسرائے جان گیا کہ بابا خاصا کھسکا ہوا ہے۔ اس نے سوچا مہاراجہ نے اس کا نام تجویز کیا ہے‘ خود ہی بھگتے گا۔ وائسرائے نے منظوری دے دی۔ کھڑک سنگھ جسٹس کھڑک سنگھ بن کر پٹیالا آ گیا۔ پہلا مقدمہ جو پیش ہوا ایک شخص کے قتل کا تھا۔ جسٹس کھڑک سنگھ عدالت کی کرسی پر آ کر بیٹھا تو دیکھا کہ چار افراد ایک طرف کھڑے تھے اور دوسری طرف ایک بڑھیا بین کر رہی تھی اور روئے جا رہی تھی۔ جسٹس کھڑک سنگھ نے پوچھا کیا بات ہے تو بڑھیا نے کہا کہ ان چاروں نے میرے میاں کو قتل کیا ہے۔ ایک کے ہاتھ میں برچھی تھی۔ ایک کے پاس کدال تھا۔ یہ کماد کی فصل سے بر آمد ہوئے اور میرے میاں پر پل پڑے۔ یہاں تک کہ اسے مار دیا۔ اتنے میں ہجوم میں سے ایک شخص‘ جو کالا کوٹ پہنے تھا‘ آگے بڑھا اور دلائل دینے شروع کیے جن کا مطلب یہ تھا کہ چاروں ملزمان بے گناہ ہیں اور بڑھیا کا مؤقف سچ پر مبنی نہیں ہے۔ جسٹس کھڑک سنگھ نے پولیس سے پوچھا کہ یہ کالے کوٹ والا کون ہے؟ پولیس نے جواب دیا کہ وہ ملزموں کا وکیل ہے۔ کھڑک سنگھ نے کہا اچھا! تو ملزموں کا ساتھی ہوا نا! یہ کہہ کر جسٹس کھڑ ک سنگھ نے حکم دیا کہ اسے ملزموں کے ساتھ کھڑا کیا جائے‘ پھر اس نے فیصلہ سنایا کہ چاروں مجرموں کو اور ان کے وکیل کو موت کی سزا دی جائے۔
صدر ٹرمپ اس عہد کے کھڑک سنگھ ہیں۔ اس سے پہلے کہ وہ انسانیت کو کوئی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچائیں‘ ان کے عرب حلیفوں پر لازم ہے کہ جا کر ان سے بات کریں اور انہیں سمجھائیں کہ یہ خطہ جاپان کی طرح نہیں ہے‘ باقی دنیا سے الگ تھلگ ایک جزیرہ! یہ تو وہ خطہ ہے جو اصل میں ایک ملک تھا۔ سعودی عرب‘ ایران‘ اسرائیل‘ خلیجی ریاستیں کبھی سب ایک ہی قلمرو کے صوبے تھے۔ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے۔ باہم پیوست! یہ ممکن نہیں کہ امریکہ ایران پر بم گرائے تو خطے کے باقی ممالک تباہی سے بچ جائیں! امریکہ کے عرب حلیفوں نے صدر ٹرمپ کو خوش کرنے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تحفے میں جہاز دیے۔ زر و سیم کے خزانے ان کی نذر کیے۔ عرب دوشیزاؤں کی لہراتی رقص کرتی زلفوں سے ان کا استقبال کیا۔ ان خدمات کا صلہ کیا ملا؟ آج ایران کے جوابی میزائل ان ریاستوں پر برس رہے ہیں تو امریکہ اتنا بھی نہیں پوچھ رہا کہ کتنے بندے مرے ہیں اور کس حال میں ہو؟ ان ریاستوں میں قائم امریکی چوکیاں ان ریاستوں کیلئے سامانِ ہلاکت بن گئی ہیں! عجیب قابلِ رحم حالت ہے ان ریاستوں کی! سب کچھ ہے ان کے پاس مگر کچھ بھی نہیں ہے۔ اس دنیا میں بقا کا ایک ہی راستہ ہے‘ لڑنے کی صلاحیت۔ جن طاقتوں کے پاس سامانِ حرب ہو وہ باقی رہ جاتی ہیں ورنہ کچلی جاتی ہیں۔ بسا اوقات سامانِ حر ب کی موجودگی بھی بقا کی کوئی ضمانت نہیں۔ سلطنت عثمانیہ‘ جرمنی‘ اٹلی‘ سب سر تا پا مسلح تھے مگر کھیت رہے۔ تو جن کے پاس سامانِ حرب بھی نہ ہو ان کے بچنے کا امکان کدھر سے آئے گا! اونچی عمارتوں‘ شاپنگ مالوں اور اونٹوں کی ریس سے دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ خدا نخواستہ‘ خدا نخواستہ ایران پر تباہی آئی تو امریکی خدمت گار بھی نہیں بچ پائیں گے!!! اس لیے بہتر ہے کہ جا کر پاؤں پکڑیں‘ دست بستہ‘ خمیدہ گردن عرض کریں کہ بس! عالی جاہ بس! رحم کیجیے۔ کسی نظام الملک کو ٹرمپ کے پاس بھیجیں جو جا کر وہی شعر پڑھے جو نظام الملک نے نادر شاہ کے حضور پڑھا تھا اور قتلِ عام رکوایا تھا!!!