"SK" (space) message & send to 7575

مقامی حکومتوں کی ساخت اور اختیارات کا ابہام

یہ بات عالمی طور پر تسلیم شدہ ہے کہ ریاست کو شہریوں کے قریب لانے کا مؤثر ترین طریقہ اختیارات کو مقامی حکومتوں تک منتقل کرنا ہے۔ اس سے حکومت کو شہریوں کے سامنے جوابدہ بنانے اور شہریوں کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔مقامی حکومتوں تک اختیارات کی منتقلی کے اصول کو آئین کے آرٹیکل 140-A کے ذریعے دستوری حیثیت دی جا چکی ہے‘ تاہم اس رسمی توثیق کے باوجود ہمارے ہاں بااختیار مقامی حکومتیں ابھی تک وجود میں نہیں آ سکیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صوبائی اسمبلیاں اور صوبائی حکومتیں ان کے قیام کی راہ میں مسلسل مزاحمت کرتی ہیں۔ اگرچہ اٹھارہویں آئینی ترمیم نے وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات اور مالی وسائل کی تقسیم کو بڑی حد تک واضح کر دیا لیکن اس ترمیم میں مقامی حکومتوں کے ڈھانچے‘ ان کے اختیارات اور ذمہ داریوں کے بارے میں تفصیلی وضاحت موجود نہیں۔ یوں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کو اصولی طور پر تسلیم تو کر لیا گیا مگر ادارہ جاتی سطح پر اس کی واضح ساخت طے نہیں کی گئی۔
مقامی حکومتوں کے قیام کے حق میں ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ اس سے جنوبی پنجاب جیسے دور دراز علاقے کے رہائشیوں کو اپنے مسائل کے حل کیلئے لاہور نہیں جانا پڑے گا۔ بظاہر یہ دلیل معقول محسوس ہوتی ہے مگر اس کے اندر ایک خامی بھی ہے۔ اس استدلال سے یہ مفروضہ پیدا ہوتا ہے کہ جیسے لاہور کے رہائشیوں کو حکومتی اداروں تک رسائی میں کوئی رکاوٹ درپیش نہیں۔ مزید یہ کہ اگر اسی تصور کو بنیاد بنا کر مقامی حکومتوں کا نظام تشکیل دیا جائے تو اس بات کا خطرہ رہتا ہے کہ صوبائی سطح پر موجود مرکزیت پسند حکومتی ڈھانچے کو ہی چھوٹے پیمانے پر مقامی سطح پر دہرا دیا جائے۔ اس صورت میں اختیارات کی حقیقتاً نچلی سطح تک منتقلی کے بجائے محض چھوٹے پیمانے کی صوبائی حکومتیں وجود میں آ جائیں گی۔ایک مؤثر اور پائیدار مقامی حکومتی نظام کیلئے چند بنیادی سوالات کے واضح جوابات بہت ضروری ہیں۔
سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ مقامی حکومت کی حکمرانی کا ڈھانچہ کیا ہو گا اور وہ کس طرح تشکیل دیا جائے گا؟ یہ بھی اہم ہے کہ منتخب مقامی اداروں کی مدت کو کس طرح یقینی بنایا جائے اور کیا آئین کے آرٹیکل 140-A کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی انتخابات کا بروقت انعقاد ممکن ہو سکے؟ مقامی حکومتوں کو کون سے فرائض‘ مالی اور انتظامی اختیارات منتقل کیے جائیں‘ یہ بھی ایک بنیادی سوال ہے۔ عملی طور پر اختیارات کی تفویض‘ تقسیم اور مقامی خودمختاری کے درمیان فرق کو واضح کرنا ضروری ہے۔ اگر مقامی خود مختاری کا مطلب یہ ہے کہ مقامی حکومتیں اپنی ترجیحات کے مطابق وسائل مختص کر سکتی ہیں تو پھر یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر ان ترجیحات کا صوبائی یا قومی ترجیحات سے اختلاف ہو جائے تو اس کو کس طرح حل کیا جائے گا۔ مثلاًاگر کسی علاقے میں تعلیم یا بنیادی صحت کے مقابلے میں پینے کے پانی کی فراہمی فوری اہمیت کا زیادہ بڑا مسئلہ ہو تو کیا مقامی حکومت کو یہ اختیار ہونا چاہیے کہ وہ اپنے وسائل اسی ترجیح کے مطابق استعمال کرے؟ یا پھر صوبائی حکومت اپنی ترجیحات کے مطابق مقامی حکومتوں کی رہنمائی کرے اور مخصوص شعبوں کیلئے فنڈز فراہم کرے؟ یہ سوال بھی اہم ہے کہ ابتدائی مرحلے میں مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی کس حد تک کی جائے؟ ممکن ہے کہ ان اداروں کی محدود انتظامی استعداد کے باعث ابتدا میں ان کے دائرہِ کار کو بنیادی خدمات تک محدود رکھا جائے‘ جیسے تعلیم‘ صحت‘ پانی‘ نکاسی آب اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ۔ تاہم بعض ماہرین کی رائے ہے کہ مقامی حکومتوں کو زیادہ مؤثر بنانے کیلئے پولیس‘ اراضی ریکارڈ اور شہری منصوبہ بندی جیسے بعض شعبوں کو بھی مرحلہ وار ان کے دائرہِ اختیار میں لایا جا سکتا ہے۔
مقامی حکومتوں کے ڈھانچے کے بارے میں ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ کیا پورے ملک کیلئے ایک ہی ماڈل موزوں ہو سکتا ہے؟ عموماً یہ تجویز دی جاتی ہے کہ مقامی حکومتیں ضلع کی سطح پر قائم کی جائیں‘ مگر بڑے شہروں کی پیچیدگیاں اس سے مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔ اس کی ایک واضح مثال کراچی ہے‘ جہاں متعدد اضلاع‘ کنٹو نمنٹس اور مختلف انتظامی ادارے موجود ہیں۔ کراچی نہ صرف ملک کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ معاشی سرگرمیوں کا مرکز بھی ہے‘ اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ کیا سیاسی طور پر کراچی کو ایک واحد‘ بااختیار اور خودمختار شہری حکومت کے تحت چلانا ممکن ہے‘ جس کے پاس مناسب مالی وسائل اور پیشہ ورانہ عملہ ہو اور جو شہری خدمات کے ساتھ ترقیاتی اداروں اور پانی و صفائی کے نظام کو بھی مؤثر انداز میں سنبھال سکے۔ اسی طرح کوئٹہ جیسے شہروں میں آبادی کی نسلی اور سماجی ساخت بھی مقامی حکمرانی کیلئے الگ نوعیت کے سوالات پیدا کرتی ہے۔ مقامی حکمرانی کے نظام میں سرکاری اثاثوں کی ملکیت کا سوال بھی نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ سرکاری زمین‘ سرکاری عمارتیں‘ ملازمین کی رہائشگاہیں اور کسی علاقے میں موجود قدرتی وسائل جیسے گیس‘ کوئلہ یا دیگر معدنیات کس سطح کی حکومت کی ملکیت ہوں گے‘ اس کا براہِ راست تعلق مالی خودمختاری اور حکومتی اختیار سے ہے۔ اگر مقامی حکومتوں کے پاس اپنے اثاثے نہیں ہوں گے تو وہ مالی طور پر خودمختار بھی نہیں ہو سکیں گی اور نہ ہی وہ ترقیاتی منصوبوں کیلئے آزادانہ فیصلے کر سکیں گی۔ اسی طرح انسانی وسائل کا مسئلہ بھی اہم ہے۔ مقامی حکومتیں اپنا عملہ کس طرح بھرتی کریں گی اور انہیں کن شعبوں کے ماہرین درکار ہوں گے‘ اس کا تعین بھی ضروری ہے۔ اگر مقامی حکومتیں بغیر کسی اصلاح کے صوبائی بیورو کریسی کے ڈھانچے کو ہی نقل کر لیں تو اس سے کارکردگی بہتر ہونے کے بجائے مالی بوجھ بڑھنے کا خطرہ ہوگا۔ اگر اہم انتظامی افسران صوبائی یا وفاقی ملازمین ہوں اور عارضی طور پر مقامی سطح پر تعینات کیے جائیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ مقامی منتخب نمائندوں کے سامنے کس حد تک جوابدہ ہوں گے۔
اختیارات کی حقیقی منتقلی کیلئے ضروری ہے کہ صوبائی حکومتوں کے حجم میں کسی حد تک کمی لائی جائے تاکہ فرائض اور اختیارات کے دہرے پن کو ختم کیا جا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد وفاقی سطح پر بھی ریاستی اداروں کے حجم میں کوئی نمایاں کمی نہیں کی گئی‘ جس سے یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ریاست کے مجموعی حجم کو کم کرنے کیلئے کوئی سیاسی ارادہ موجود ہے یا نہیں۔ جہاں تک مالی اختیارات کی منتقلی کا تعلق ہے تو پاکستان میں مالی اختیارات بڑی حد تک وفاق کے پاس مرتکز ہیں۔ سب سے زیادہ منافع بخش ٹیکس‘ جیسے غیر زرعی آمدن پر ٹیکس‘ درآمدات اور اشیا پر سیلز ٹیکس وفاق کے پاس ہیں۔ صوبے زرعی آمدن‘ خدمات پر سیلز ٹیکس‘ جائیداد ٹیکس اور جائیداد کی منتقلی سے متعلق محصولات وصول کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض محصولات مقامی حکومتوں کو بھی منتقل کیے جاتے ہیں۔ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے ذریعے جبکہ صوبوں اور مقامی حکومتوں کے درمیان تقسیم صوبائی مالیاتی کمیشن کے ذریعے طے کی جاتی ہے۔ اس سے ایک عمودی عدم توازن کی صورت پیدا ہوتی ہے جس میں آمدن کے اختیارات اوپر کی سطح پر مرتکز ہوتے ہیں جبکہ اخراجات کی ذمہ داریاں نچلی سطحوں پر منتقل کی جاتی ہیں۔ اس کیساتھ ساتھ ایک افقی عدم توازن بھی موجود ہے‘ یعنی مختلف صوبوں اور مختلف اضلاع کے درمیان وسائل کی غیر مساوی تقسیم۔ مثال کے طور پر جنوبی پنجاب اور لاہور کے درمیان وسائل کی تقسیم میں نمایاں فرق دیکھا جا سکتا ہے۔ اس پس منظر میں مقامی حکومتوں کو مالی اختیارات دینا نہ صرف انتظامی ضرورت بلکہ علاقائی انصاف کیلئے بھی اہم ہے۔اس تمام بحث کے بعد یہ نتیجہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ پاکستان میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے بارے میں اب بھی نمایاں ابہام موجود ہے۔ مقامی حکومتوں کے ڈھانچے‘ اختیارات اور مالی بنیادوں کے بارے میں واضح اور عملی فیصلے کیے بغیر یہ نظام مضبوط بنیادوں پر قائم نہیں ہو سکتا۔ جب تک ان بنیادی سوالات کے واضح جواب نہیں دیے جاتے‘ مقامی حکومتیں آئین میں درج ایک عہد سے زیادہ حیثیت اختیار نہیں کر سکیں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں