ایک طرف سرکار نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے شروع ہونے والی جنگ کے بہانے پٹرول‘ ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے ذریعے عوام کا رہا سہا تیل بھی نچوڑ لینے کا اہتمام کر لیا ہے جبکہ دوسری طرف سیاسی طور پر تقسیم در تقسیم‘ مہنگائی کے ہاتھوں تنگ و پریشان‘ غمِ روزگار میں گردن گردن دھنسے ہوئے اور احتجاج کے سلسلے میں حکومتی سفاکی سے خوفزدہ عوام خود پر ہونے والے اس تباہ کن حملے کے باوجود خاموش تو ہیں‘ لیکن سوال یہ ہے کہ عوام کو کوہلو میں ڈال کر ان کا تیل نکالنے کا یہ عمل کب تک چلتا رہے گا ؟
حقیقت یہ ہے کہ سرکاری بیانات اور سرکار کے اعمال میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ جنگ کے آغاز کے فوراً بعد آبنائے ہرمز کی بندش اور تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے اندیشے پر تیل کی ممکنہ کمی کی خبروں پر سرکار نے فرمایا کہ ان کے پاس ملکی ضروریات کیلئے اگلے 28 دن کے تیل کا ذخیرہ موجود ہے۔ اس کے بعد ایک اور خوشخبری سنائی کہ سعودی عرب نے پاکستان کو آبنائے ہرمز کے بند ہونے کی صورت میں متبادل راستے سے بلا رکاوٹ تیل فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ابھی ان بیانات کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ سرکار نے اس جنگ کو بہانہ بناتے ہوئے اپنے پاس موجود کم قیمت پر خریدے گئے 28 روزہ تیل کے ذخائر کی قیمت میں تاریخی اضافہ کر دیا۔
اس اضافے پر بھی دو وزرا نے نہایت ہی غیر سنجیدہ بیانات داغ دیے۔ خواجہ آصف نے فرمایا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے کا'' محدود‘‘ اضافہ بہت محنت کا کام ہے‘ اگر ہم نے پیشگی منصوبہ بندی نہ کی ہوتی تو آج پٹرول 375 روپے فی لٹر ہوتا۔ بندہ پوچھے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لٹر اضافہ کرنا کون سا محنت طلب کام ہے ؟ یہ اضافہ صرف ایک نوٹیفکیشن کی مار ہے اور مجھے یقین ہے کہ سرکار نے یہ نوٹیفکیشن پہلے ہی تیار کر رکھا تھا‘ اس میں صرف اضافی قیمت کی رقم درج کرنا تھی۔ تیل کی قیمتوں میں اس کمرتوڑ اضافے کے بعد دوسرا بیان ہمارے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے دیا کہ حکومت اس اضافے کے اثرات عام آدمی پر نہیں پڑنے دے گی۔ اس بیان کے اگلے ہی دن حکومت نے عام آدمی کے استعمال میں آنے والے مٹی کے تیل کی قیمت میں یکمشت 130 روپے فی لٹر کا عالمی ریکارڈ قائم کرنے والا اضافہ کر دیا۔
جنگوں اور آفات وغیرہ کی صورت میں اس قسم کے حالات پیدا ہو جاتے ہیں کہ اشیا کی سپلائی کم‘ نقل و حمل مہنگی اور دستیابی مشکل ہو جاتی ہے نتیجتاً قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے لیکن موجودہ صورتحال ابھی اس نہج پر نہیں پہنچی تھی کہ تیل کی قیمتوں میں 20 فیصد کے لگ بھگ اضافہ کر دیا جاتا۔ ایمانداری کی بات ہے کہ میں نہ تو عالمی تیل کی منڈی سے اور اس کی قیمتوں کے میکانزم سے ہی کچھ زیادہ آگاہ ہوں اور نہ ہی وال سٹریٹ وغیرہ میں ہونے والے عالمی سطح کے کاروباری معاشی فیصلوں کی چالاکیوں سے واقف ہوں لیکن میرے ذہن میں اٹھنے والے دو سوالات مجھے ضرور پریشان کر رہے ہیں۔ پہلا یہ کہ اگر ہمارے پاس 28 دن کا تیل کا ذخیرہ موجود تھا اور سعودی عرب نے آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ہمیں متبادل راستے سے تیل دینے پر رضامندی والی خوشخبری بھی دے چکا تھا تو ان حالات میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا کیا جواز تھا ؟ یاد رہے کہ عراق ایران جنگ کے باعث 1980ء کی دہائی میں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں خطرناک صورتحال کے مدنظر سعودی عرب نے‘ جس کے تیل کی غالب مقدار مملکت کی مشرقی بندرگاہوں سے اور خصوصاً ابقیق (Abqaiq) آئل پراسیسنگ سنٹر سے ایکسپورٹ ہوتی تھی‘ اپنے تیل کی دنیا بھر کو بلا رکاوٹ سپلائی جاری رکھنے کیلئے متبادل بندوبست کر لیا تھا۔ سعودی عرب نے مشرقی ساحل سے ابقیق سے مغربی ساحل کی بندرگاہ یامبو(Yambo) تک پانچ ملین بیرل یومیہ کی استعداد والی 1200 کلو میٹر طویل پائپ لائن بچھا ئی ہوئی ہے۔ میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر اس جنگ کے فوری اثرات کے تحت حکومت کو ''بہت محنت‘‘ کر کے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 55 روپے فی لٹر اور مٹی کے تیل کی قیمت میں 130 روپے اضافہ کرنا پڑا ہے تو یہی محنت ہمارے خطے کے دیگر ممالک اور ہمسایوں نے کیوں نہیں کی ؟ آخر ہماری ہمسائیگی میں واقع ممالک نے اپنے ہاں تیل کی قیمتوں میں ہمارے جیسا اضافہ کیوں نہیں کیا ؟
ہمارے حکمران ایک عرصے سے ہمیں ہمسائیگی میں ہونے والی ہر چھوٹی بڑی خرابی سے آگاہ کر کے یہ احساس دلاتے رہتے ہیں کہ ہم گویا جنت کے مکین ہیں جبکہ ہمارے ہمسائے دوزخ میں مقیم ہیں لیکن ہمسائیگی میں ہونے والی ہر ایسی چیز جو ہم سے بہتر ہو اس کی خبر ہم تک نہیں پہنچنے دی جاتی۔ پٹرول کی قیمتوں کو ہی دیکھ لیں۔ میں اس خطے کے دیگر ممالک میں فیول کی قیمتوں کا باہمی موازنہ مقامی کرنسی میں نہیں کروں گا کہ اس کو ڈالر یا پاکستانی روپوں میں تبدیل کرنا پڑے گا بلکہ میں یہ موازنہ قیمتوں میں اضافے کی شرح فیصد میں بتاؤں گا تاکہ آپ قارئین کو آسانی رہے۔
یہ تقابلی قیمتیں جنگ شروع ہونے سے پہلے اور جنگ شروع ہونے کے بعد مورخہ سات مارچ 2026ء کی ہیں۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز صرف ہم پاکستانیوں کے تیل کی سپلائی روکنے کیلئے بند نہیں کی گئی۔ جنگ سے قبل بھارت میں پٹرول کی قیمت 94.77 بھارتی روپے تھی جو آج بھی 94.66 روپے ہے یعنی وہاں پٹرول کی قیمت میں اضافہ صفر فیصد ہے۔ بنگلہ دیش میں پٹرول کی قیمت 125 ٹکہ فی لٹرتھی جو اضافے کے بعد اب 130 ٹکہ فی لٹر ہو گئی ہے یعنی اضافے کی شرح صرف چار فیصد ہے۔ نیپال میں جو سراسر لینڈ لاک ملک ہے اور وہاں پہنچنے والا تیل اپنے بحری سفر کے بعد پورے بھارت کو عبور کر کے آتا ہے‘ اہلِ نیپال کو جنگ سے پہلے 186 نیپالی روپوں میں پڑتا تھا۔ اب اس کی قیمت چار روپے اضافے کے بعد 190روپے فی لٹر ہو گئی ہے۔ ہماری حکومت کے برعکس کیا وہاں کی حکومت نے اس سلسلے میں ''بہت محنت‘‘ نہیں کی اس لیے وہاں پٹرول کی قیمت میں اضافے کے شرح 2.15 فیصد ہے۔ اس سلسلے میں یہ عاجز افغانستان کے بارے میں آپ کو یہ ہرگز نہیں بتائے گا کہ وہاں پٹرول کی قیمتوں پر ایک پیسے کا بھی اثر نہیں پڑا کیونکہ وہاں ملاؤں کی نااہل حکومت برسراقتدار ہے جنہیں محنت کرنے کا سلیقہ نہیں ہے۔ حتیٰ کہ سری لنکا میں پٹرول کی قیمت‘ جو اس تنازعے سے قبل 365 سری لنکن روپے تھی‘ جنگ کے بعد بڑھ کر 370 سری لنکن روپے ہو گئی ہے۔ یہ اضافہ وہاں کی سرکار کی کسی محنت یا بھاگ دوڑ کے بغیر ہی 1.37 فیصد پر تھم گیا۔ جبکہ ہمارے ہاں یہ ہوا کہ حکومت پٹرول کی قیمتوں کو کم سے کم رکھنے کی کوششوں میں ہلکان ہو گئی اور اس کی شبانہ روز محنت کے طفیل ہم پاکستانیوں پر یہ کرم فرمائی ہوئی کہ ہمارے ہاں پٹرول کی قیمت جو 266.17 روپے فی لٹر تھی بڑھ کر 331.17 روپے فی لٹر ہو گئی۔ اسی خطے کے دوسرے ممالک کے برعکس جہاں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی شرح صفر سے پانچ فیصد تک ہے‘ ہمارے پٹرول کی قیمت میں اضافے کی شرح 20.66 فیصد ہے۔
ہمارے ہاں 21 فیصد کے لگ بھگ ہونے والا یہ اضافہ صرف اس خطے میں پٹرول کی قیمت میں ہونے والا بلند ترین اضافہ نہیں بلکہ مجھے گمان ہے کہ دنیا بھر میں ہونے والا بلند ترین اضافہ ہے۔ اگر ہماری محنتی حکومت رمضان المبارک میں اتنی محنت نہ کرتی تو شاید پٹرول کی قیمت کے درجات اس بلندی تک نہ پہنچتے۔ یہ جنگ تو خدا جانے کب جا کر رکے گی۔ سرکار کو چاہیے کہ وہ اس دوران مزید محنت کرنے کے بجائے پٹرول کی قیمت اور پاکستان کے عوام کو اللہ کے سپرد کر کے خود دھنیا پی کر سو جائے۔ ویسے بھی اتنی محنت کے بعد آرام کرنا تو بنتا ہے۔