اس ملک میں جن لوگوں کے پاس پیسہ آیا ہے وہ اتنا آیا ہے کہ شمار سے باہر ہے۔ ایک طرف امیر‘ امیر سے امیر تر ہوتا جا رہا ہے تو دوسری طرف غریب‘ غریب سے غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ پیسے کا تو یہ عالم ہے کہ جن پر ہُن برسا ہے وہ ایسے برسا ہے کہ انہیں جل تھل کرکے رکھ دیا ہے۔ لیکن اس سے یہ ہوا ہے کہ اس پیسے نے امارت تو بخش دی ہے مگر شرفِ انسانی کو بالکل ہی بے وقعت کرکے رکھ دیا ہے۔ دولت اور اس کے ساتھ ساتھ طاقت‘ اقتدار اور اختیار بہرحال سلیقہ‘ انسانیت‘ سماجی و معاشی ذمہ داری اور تمیز نہیں سکھا سکتے۔ بڑی گاڑی دیکھ کر بالکل اندازہ نہیں ہوتا کہ اس کے اندر کتنا چھوٹا آدمی ہو سکتا ہے۔ گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ کے دوران ملتان سے اسلام آباد کا کئی بار سفر کرنا پڑا۔ اس سفر میں خانیوال سے پنڈی بھٹیاں تک ایم فور موٹروے یکطرفہ دو لین پر مشتمل ہے۔
دولین پر مشتمل موٹروے میں بائیں لین تو ہیوی ٹریفک کیلئے ہی مخصوص سمجھیں اور خاص طور پر ٹرک اور ٹرالر بائیں لین میں چل رہے ہوتے ہیں۔ اب باقی ایک لین بچتی ہے جس پر تیز رفتار گاڑیاں بھی چل رہی ہوتی ہیں اور اس دوران ساٹھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والے کسی ٹرک کو اس کا بھائی بند یعنی دو سرا ٹرک سوا ساٹھ کلو میٹر کی رفتار سے کراس کرنے لگتا ہے تو اس دوران پیچھے سے آنے والی تیز رفتار ٹریفک کو ایک آدھ منٹ کیلئے اپنی رفتار کم کرکے بائیں لین والے ٹرک کو دائیں لین والے ٹرک کو گھسٹ گھسٹ کر آگے نکلتا ہوا دیکھنا پڑتا ہے۔ تاہم ساٹھ کلو میٹر رفتار والے ٹرک کو سوا ساٹھ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار والے ٹرک کے ہاتھوں کراس ہونے کا منظر صرف میرے جیسے ایک آدھ ڈرائیور ہی دیکھتے ہیں‘ باقی گاڑیوں والے رفتار کم کرنے اور لین کے خالی ہونے والے جھنجھٹ میں پڑنے کے بجائے انتہائی بائیں طرف موجود سڑک کے ہارڈ شولڈر والی جانب سے زُوں کرکے گاڑی گزارتے ہیں اور ہم جیسے احمقوں پر دل ہی دل میں ہنستے ہیں۔ غلط جانب سے اوور ٹیک کرنے میں چھوٹی گاڑیوں سے لے کر لینڈ کروزر اور ویگو ڈالوں سے لے کر مسافر ویگنوں تک سبھی شامل ہیں۔ ڈھٹائی اور بے حیائی کا یہ عالم ہے کہ اسی طرح طوفانی رفتار سے بائیں جانب کراس کرنے والی ایک مرسیڈیز کے ڈرائیور کو تھوڑی دیر بعد ہی سپیڈ کیمرے کی زد میں آکر چالان کراتے دیکھا۔ مگر چند منٹ کے بعد اس گاڑی نے اسی طوفانی رفتار سے دوبارہ کراس کیا۔ شومیٔ ٔقسمت کہ تھوڑی ہی دیر بعد ایک اور سپیڈ کیمرے والے ناکہ لگائے بیٹھے تھے۔ وہاں دیکھا تو وہی نوجوان دوسرا چالان کروا رہا تھا اور اپنے اس کارنامے پر مسکرا رہا تھا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ آپ کے پاس بڑی گاڑی ہے‘ آپ کے پاس بہت پیسے ہیں اور آپ پر دو کلو میٹر بعد چالان ہونے پر جرمانے کی رقم ادا کر سکتے ہیں‘ مسئلہ یہ ہے کہ اب قانون توڑنا اور اس کا مذاق اڑانا اشرافیہ کا مزاج بن چکا ہے۔ قانون کی پابندی کرنا باعثِ شرم ٹائپ شے بن کر رہ گئی ہے۔ ایم فور پر تین ساڑھے تین گھنٹے سفر کے دوران آتے جاتے ہر بار یہی تماشا دیکھا ہے۔ دو لین پر مشتمل اس موٹروے کی انتہائی جانب والا ہارڈ شولڈر تقریباً تیسری لین کی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور ایم ٹو پر موجود دائیں لین‘ جو بنیادی طور پر اوور ٹیک کرنے کیلئے ہے‘ کے مقابلے میں اوور ٹیک کرنے والی لین بن چکا ہے۔
برسوں پرانی بات ہے‘ میں اپنے گھر والوں کے ساتھ ملتان سے خانیوال جا رہا تھا۔ درمیان میں قادر پورراں بائی پاس کی سڑک جو یکطرفہ دو لین ہے اس کی بائیں لین یعنی ہیوی ٹریفک کی زد میں رہنے والی سائیڈ کی ری سرفسنگ ہو رہی تھی۔ بائیں لین کی اوپر والی تہہ اتاری جا چکی تھی اور ساری ٹریفک دائیں طرف والی اکلوتی لین پر چل رہی تھی۔ سالم والی لین اور مرمت ہونے والی لین کے درمیان اورنج رنگ کی پلاسٹک تکونیں رکھی ہوئی تھیں تاکہ کوئی جلد باز ڈرائیور پھرتی دکھاتے ہوئے مرمت ہونے والی لین میں نہ چلا جائے۔یہ سڑک چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی صورت میں مرمت کی جا رہی تھی اور حالیہ ٹکڑا بمشکل دو اڑھائی کلو میٹر پر مشتمل تھا۔ یہاں سے ٹریفک کو سنگل لین کی صورت میں گزرنا تھا اور اوور ٹیکنگ عملی طور پر ممکن نہیں تھی۔ اس ٹکڑے سے گزرنے میں زیادہ سے زیادہ تین سے چار منٹ لگتے ہوں گے اور کوئی تیز رفتار ڈرائیور اگر اپنے آگے والی گاڑی کے پیچھے چلنے پر مجبور بھی ہو تو اسے بمشکل ایک ڈیڑھ منٹ کی تاخیر ہوتی کیونکہ اس سے آگے والی گاڑی بھی چل تو رہی تھی۔ اس وقت اس ٹکڑے پر کوئی خاص ٹریفک نہیں تھی‘ میں اس سڑک پر لگے ہوئے رفتار بورڈ سے تھوڑی کم رفتار سے جا رہا تھا کہ پیچھے سے ہوٹر بجاتا ہوا ایک پولیس کا ڈالا آ گیا۔ ظاہر ہے میرے پاس اسے گزرنے کیلئے راستہ دینے کی گنجائش ہی نہیں تھی تاہم میں نے انہیں کسی قسم کی غیر ضروری تاخیر سے بچانے کیلئے کوشش کی کہ میں اپنی رفتار بڑھا لوں جبکہ میرے آگے کوئی گاڑی بھی نہیں تھی‘ اس لیے میں نے اس سڑک پر ڈرائیونگ کی حد رفتار سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلانا شروع کردی مگر پولیس کا ڈالا مسلسل ڈِپر مار کر مجھے راستہ دینے کیلئے سائیڈ پر کرنے پر مُصر تھا۔ میرے دائیں طرف ڈیوائیڈر اور بائیں طرف پلاسٹک کی کونیں تھیں جن کے ساتھ کھدی ہوئی سڑک تھی۔ آپ بتائیں میں کدھر جاتا؟
خیر یہ راستہ اسی کشمکش میں محض دو تین منٹ کے اندر اندر گزر گیا۔ جونہی میں دوبارہ دو لین والے حصے پر پہنچا ڈالے نے مجھے کراس کیا اور آگے سے ہاتھ نکال کر رکنے کا اشارہ کیا۔ اس ڈالے کے پیچھے ایک جج صاحب کی کالی کار تھی جس پر ترازو والی پیتل کی پلیٹ چمک رہی تھی۔ میں نے گاڑی روکی تو کالی گاڑی سے ایک صاحب نکل کر آئے اور مجھے کہنے لگے کہ میں نے راستہ کیوں نہیں دیا۔ میں نے نہایت تحمل کے ساتھ کہا کہ میں بھلا راستہ آپ کو دے ہی کیسے سکتا تھا‘ میرے پاس تو آپ کو دینے کا راستہ تھا ہی نہیں۔ وہ جزبز کہنے لگا: آپ گاڑی نیچے اتار سکتے تھے۔ میں نے کہا: میری گاڑی چھوٹی سی ہے‘ آپ کی بڑی گاڑی اس خراب راستے پر زیادہ سہولت سے اتر سکتی تھی۔ اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ کہنے لگا: آپ نے گاڑی مزید تیز کیوں نہیں کی؟ میں نے کہا: حد رفتار100 کلو میٹر ہو سکتی تھی اور میں اسی رفتار سے جا رہا تھا۔ رفتار مزید بڑھاتا تو یہ قانون کی خلاف ورزی ہوتی اور آپ بھی مجھے اس سے زیادہ رفتار سے اوور ٹیک نہیں کر سکتے۔ بالکل لاجواب ہو کر کہنے لگا: سکارٹ والی جج صاحب کی گاڑی کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے پر آپ کا چالان ہو سکتا ہے۔ میں نے جواب دینے کے بجائے سٹارٹ گاڑی بند کی‘ اہلیہ اور بچوں کو باہر آنے کا اشارہ کیا اور ان صاحب سے کہا کہ آپ گاڑی چالان کرکے تھانے بند کر دیں‘ میرے بارے فیصلہ کر لیں کہ کیا کرنا ہے۔ بچے کسی پیچھے آنے والی بس پر سوار ہو کر خانیوال چلے جائیں گے۔ یہ کہہ کر میں نے چابی ساتھ کھڑے پولیس والے کے ہاتھ پر رکھ دی۔ وہ تو بالکل ہلکا بکا رہ گیا۔ مجھے اندازہ ہوا وہ صرف زبانی معافی یا معذرت کرکے اپنی انا کی تسکین کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں چاہتا۔
اتنے میں جج صاحب کی گاڑی کے ڈرائیور نے اس شخص کو واپس آنے کا اشارہ کیا۔ مجھے گمان ہوا کہ سیاہ شیشوں کے پیچھے شاید ہمارا پرانا وکیل دوست جو ملتان میں جج تھا‘ بیٹھا ہے جو میری طبیعت سے بخوبی واقف ہے۔ جب وہ واپس جانے لگا تو اللہ جانے مجھے کیا سوجھی‘ میں نے اسے کہا کہ اتنی دیر آپ لوگوں کو میری گاڑی کے پیچھے لگنے کے باعث نہیں ہو گی جتنی آپ کی اَنا کی تسکین کی کوشش میں ضائع ہوئی ہے۔ وہ سنی اَن سنی کر کے چلا گیا۔
اس ملک میں طاقتور اور زورآور کالے شیشوں کے پیچھے بیٹھے اپنی انا کی تسکین کی خاطر ہر شے‘ ہر ادارے اور سارے نظام برباد کر رہے ہیں لیکن اپنے ناکام اور لاحاصل تجربات سے سبق نہیں سیکھ رہے۔