چند روز پہلے تک میرا خیال تھا کہ میں سفید پوش ہوں لیکن جب سات سات‘ آٹھ آٹھ کروڑ کے فلیٹ خریدنے والے لوگوں نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ سفید پوش ہیں تو نہ صرف یہ کہ میری ساری سفید پوشی کی ہوا نکل گئی ہے بلکہ مجھے لگتا ہے کہ میرے سفید کپڑے بالکل اُتر چکے ہیں اور میں فی الوقت سفید پوش نہیں بلکہ ایک ننگ دھڑنگ ''کاچھا پوش‘‘ ہوں۔ میں تو اب یہ سوچ کر ہی 'پسینو پسینی‘ ہو رہا ہوں کہ کل کلاں اگر کچھ کروڑ پتیوں نے کسرِ نفسی کی ایک دو مزید منزلیں طے کرتے ہوئے اپنے کاچھا پوش ہونے کا اعلان کر دیا تو میرا کیا بنے گا۔ کم از کم میرے پاس اب کاچھا پوش سے نیچے والی منزل پر کھسکنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
بھلا ہو وَن کانسٹیٹیوشن ایونیو نامی ٹوئن ٹاور کا جس نے اس بزعم خود قسم کے سفید پوش کو اس کی اصل حقیقت سمجھا دی۔ کانسٹیٹیوشن ایونیو کا اردو ترجمہ شاہراہِ دستور ہے بلکہ یہ ترجمہ بھی نہیں‘ یہ کانسٹیٹیوشن ایونیو کا سرکاری اردو نام ہے۔ جس جگہ یہ شہرۂ آفاق عمارت تعمیر ہوئی ہے وہ اس سڑک کا نقطۂ آغاز ہے اور اس پلاٹ کا نمبر ایک ہے۔ شاہراہِ دستور کو آپ شاہراہِ آئین بھی کہہ سکتے ہیں۔ اب اس بات سے اس ملک کے آئینی حالات کا اندازہ لگا لیں کہ جہاں سے اس ملک کی شاہراہِ دستور شروع ہوتی ہے وہاں کا آغاز ہی غیرقانونی تعمیر سے ہوا ہے۔ آئین اور قانون کی عین ناک کے نیچے کامل دو عشرے تک قواعد و ضوابط اور قوانین سے کھلواڑ ہوتا رہا۔ عدلیہ‘ انتظامیہ اور مقننہ دھنیا پی کر سوئی رہی۔ اس دوران بری امام کے مکین کسی عوضانے یا زرِ تلافی کے بغیر بے گھر کر دیے گئے اور یہاں مقیم سب خاک نشین در بدر ہو گئے۔ اب دھانسو لکھاری‘ حق گو دانشور‘ انسانی حقوق کے علمبردار‘ قانونی ماہرین اور اشرافیہ کے نمائندے وَن کانسٹیٹیوشن ایونیو کے مکینوں اور خریداروں کو بے دخل کرنے کے عوض انہیں ان کے ملکیتی اپارٹمنٹس کی مکمل ادائیگی کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ قانون کے اطلاق کے بارے میں ایک مشہور اصولِ قانون ہے کہ ''Ignorance of the law is no excuse‘‘ یعنی قانون سے لاعلمی کوئی عذر نہیں ہے۔ اب یہ کہنا کہ یہاں اپارٹمنٹس خریدنے والوں کو تو علم ہی نہیں تھا کہ اس عمارت کی بطور رہائشی ٹاور تعمیر سرے سے غیر قانونی ہے یا اس کی تعمیر میں قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔ وہ تو اس سلسلے میں لاعلم تھے اور اب ایسے معصوم لوگوں کی کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کو اس طریقے سے بلا معاوضہ ملیامیٹ نہیں کیا جا سکتا۔ لوگوں کی فوری نوعیت کی درخواستیں اعلیٰ عدالتوں میں سالہا سال اپنی باری کے انتظار میں الماریوں کی زینت بنی رہتی ہیں۔ انصاف کے طالب راہیٔ عدم ہو جاتے ہیں اور فوری نوعیت کا معاملہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے لیکن نسلہ ٹاور کراچی کے انہدام کے حکم بارے ایسا نہ ہوا اور جب تک یہ ٹاور‘ جو اپنے منظور شدہ نقشے سے تجاوز کر کے تعمیر کیا گیا تھا‘ مکمل طور پر گرا نہیں دیا گیا تب کے اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد اس کی تقریباً روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ کرتے رہے۔ اس ٹاور کی تعمیر کی باقاعدہ اجازت اور منظوری سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے دی تھی تاہم بلڈر نے ماسٹر پلان کے برعکس اس میں سروس روڈ اور عوامی و رفاہی استعمال کی کچھ زمین بھی شامل کر لی تھی۔ یعنی عمارت کا کچھ حصہ غیر قانونی اور خلاف از ضابطہ تھا لیکن ساری عمارت گرا دی گئی۔ اب وَن کانسٹیٹیوشن کا معاملہ پیش آن پڑا ہے جو سو فیصد غیرقانونی تعمیر پر مشتمل ہے تو قانون دانوں کو قانونی چک پھیریاں‘ لکھاریوں کو منطقی جواز‘ انسانی حقوق کے علمبرداروں کو خریداروں کے بنیادی حقوق اور اشرافیہ کو امرا کی ہمدردی کے مروڑ اٹھ رہے ہیں۔
وَن کانسٹیٹیوشن ایونیو نامی اس کثیرالمنزلہ عمارت میں ایک سے تین بیڈ روم پر مشتمل 263 لگژری فلیٹس ہیں۔ اس کی تعمیر میں کی جانے والی بے ضابطگیوں‘ گھپلوں‘ نالائقیوں‘ سفارشوں اور زور آوروں کی زور آوریوں کی کہانی بارہا دہرائی جا چکی ہے لیکن ہم اس قسم کی کہانیوں اور ان بے نتیجہ اختتاموں کی طویل تاریخ کے حامل ہیں۔ یہاں اس قسم کے بہت سے سکینڈل سامنے آئے‘ ان کی گرد آسمان تک اٹھی لیکن یہ ساری دھول وقت کی تہہ میں دب کر آنکھوں سے اوجھل ہو گئی۔ کس معاملے کا کیا انجام ہوا کسی کو معلوم نہیں۔ لیکن یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اس قسم کے کسی ہائی پروفائل کیس کا کبھی کوئی نتیجہ خیز انجام سامنے نہیں آیا۔ ہاں البتہ! غریبوں‘ بے سہارا لوگوں‘ خاک نشینوں اور بے وسیلہ لوگوں کو قانون نے نشانِ عبرت بنا کر ہمارے سامنے پیش کیا۔ قانون کی علمبرداری‘ آئین کی بالادستی اور انتظامیہ کی طاقت‘ سب کی سب تبھی میدانِ عمل میں دکھائی دیں جب ان کا نشانہ درج بالا طبقات تھے۔ ایسے معاملات میں غریب‘ سفید پوش‘ بے سہارا اور کمزور آدمی اپنی ساری عمر کی جمع پونجی سے محروم ہو گیا جبکہ غیرقانونی منظوری دینے والے سرکاری افسر کسی اور واردات میں‘ کسی اور غیرقانونی منظوری میں اور کسی اور پیداگیری میں مصروف ہو گئے۔ بہت ہوا تو کسی درمیانے یا نچلے درجے کے ملازم کو معطل کر دیا گیا۔ معطل ہونے والے ان افسروں اور ملازموں نے پیدا گیری والی دولت سے نامور وکیل کیے اور پھر انہی عدالتوں سے حکم امتناعی یا مکمل ریلیف والے بحالی کے احکامات حاصل کیے اور دوبارہ اپنی کرسیوں پر براجمان ہو گئے۔ غیرقانونی اجازت اور منظوریاں دینے والوں کا کام اسی طرح جاری و ساری رہا۔ ان معاملات میں رشوت‘ سفارش اور بڑوں کے احکامات کی بجا آوری کرنے والے کسی سرکاری افسر کا عملی طور پر کچھ بھی نہ بگڑا اور رشوت کی ندی میں غیرقانونی منظوریوں کا بیڑا پار ہوتا رہا۔
وَن کانسٹیٹیوشن ایونیو کے معاملے میں ہر پہلو زیر بحث ہے لیکن اس سارے غیرقانونی عمل کی اجازت‘ منظوری اور نگرانی کرنے والوں کے بارے میں کچھ خاص سنائی نہیں دے رہا۔ ایک بار‘ صرف ایک بار اس معاملے کو ٹیسٹ کیس بناتے ہوئے اس ساری تعمیر کے درجہ بدرجہ مراحل میں غیرقانونی منظوری‘ عدم نگرانی اور فرائض میں غفلت کے مرتکب افسران کو ان کے جرم کے مطابق سزائیں دی جائیں اور ان پر عمل درآمد بھی کیا جائے تاکہ آئندہ کیلئے اس قسم کی صورتحال کو پیدا ہونے سے پہلے روکا جائے۔ ہمارے ہاں ہمیشہ سے سانپ گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے کی روایت پختہ ہے۔
وَن کانسٹیٹیوشن ایونیو میں مختلف بیڈرومز اور درجوں پر مشتمل فلیٹس کی قیمتیں ساڑھے چار کروڑ سے 23کروڑ تک ہیں۔ ظاہر ہے اس قیمت کے فلیٹس خریدنا کسی ہماشما یا عام تام بندے کا کام نہیں اس لیے ان فلیٹس کو خالی کروانے کے عدالتی حکم پر اس طرح تو عملدرآمد نہیں ہو سکتا تھا جس طرح بری امام میں خاک نشینوں کے گھر تہِ خاک کرنے کے حکم پر ہوا تھا‘ اس لیے عدالتی احکامات کو چک پھیریاں دینے کیلئے ایک ہائی پاور کمیٹی بنا دی گئی۔ اس کمیٹی کی ایک میٹنگ میں رہائشیوں کی نمائندگی کرنے والوں نے انکشاف کیا کہ ان لگژری فلیٹس کو صرف امرا اور اشرافیہ نے ہی نہیں خریدا بلکہ اس خریداری میں بہت سے سفید پوش بھی شامل ہیں۔ ظاہر ہے اس عمارت میں کم از کم ساڑھے چار کروڑ والا لگژری فلیٹ خریدنے والے سفید پوش اب بھی کہیں نہ کہیں تو رہائش پذیر ہوں گے اور وہ والا گھر بھی کروڑوں کا تو ہو گا جبکہ یہ لگژری فلیٹس تو محض اضافی سہولت اور سٹیٹس کی سربلندی کا باعث ہیں۔ اب جبکہ اس ملک کے سفید پوش بھی کروڑوں روپے کی قیمت والے فلیٹ خریدنے کی استطاعت کے حامل ہو چکے ہیں تو ہمارے جیسے سفید پوشی کے دعویداروں کو اب اپنی نام نہاد کیٹیگری سے کھسک کر کاچھا پوش کیٹیگری میں بسرام کر لینا چاہیے۔ بندے کو حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے اپنے معاشی حالات کے مطابق اپنے معاشرتی درجے کو نیچے اوپر کر لینا چاہیے۔