"KMK" (space) message & send to 7575

پھر وہی مکھڈی حلوہ

اسے آپ حیران کن اتفاق کہیں‘ میں نے جب صبح اخبار کا ادارتی صفحہ کھولا تب میں برادرِ عزیز وہاب نیازی کا کالا باغ سے بھیجا گیا ماما حنیف کا مکھڈی حلوہ کھا رہا تھا۔ صبح صبح برادر محترم اظہار الحق کا کالم پڑھنا اس عاجز کیلئے بقیہ سارا دن سرخوشی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ ملکی مسائل سے شروع ہونیوالا یہ کالم چند ہی سطروں کے بعد اس عاجز کی طرف مڑ گیا۔ ابتدا میں جو کچھ تھا وہ ایک دوست کی محبت کا آئینہ دار تھا۔ سرائیکی کی ایک کہاوت ہے کہ ''بھاندے دی ہر شے بھاندی اے‘ تے اَن بھاندے دی کئی شے نیں بھاندی‘‘ یعنی جس سے آپ محبت کرتے ہوں اسکی ہر بات اچھی لگتی ہے اور جو بندہ ہی آپ کو اچھا نہ لگے اسکا کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔ چونکہ یہ فقیر اظہار صاحب کو ''بھاندے‘‘ لوگوں میں شامل ہے لہٰذا انہیں ہرصورت میں بھاندا ہے۔
ویسے تو مکھڈی حلوہ بھولنے کی چیز ہی نہیں تاہم گزشتہ دنوں ٹرمپ کی آمد کے حوالے سے اظہار صاحب نے کالم میں مکھڈی حلوے کا ذکر کیا تو یاد آیا کہ مکھڈی حلوہ کھائے بہت دن ہو گئے ہیں۔ یادش بخیر‘ آخری بار یہ حلوہ کالا باغ میں دریائے سندھ کے کنارے پر ایک پرانے ریسٹ ہاؤس کے برامدے میں بیٹھ کر کھایا تھا۔ ایک طرف نواب کالاباغ امیر محمد خان کا قدیمی گھر المعروف بوہڑ والا بنگلہ تھا اور سامنے میلوں پھیلا نیلگوں پانی‘ دور پرے نو بڑے اور تین چھوٹے دروں پر مشتمل لوہے کا پرانا پل اور ریسٹ ہاؤس کی دیوار سے ٹکراتا ہوا پانی۔ یہ سب کچھ مل کر ایسا ماحول بنا رہے تھے ایسے میں چنے‘ پوریاں اور مکھڈی حلوہ گویا جنت سے اترے ہوئے میوے کی مانند لطف دے رہا تھا۔ ایسے ناشتے لوگوں کو کم کم نصیب ہوتے ہیں۔ میں اور عامر جعفری میانوالی پہنچے تو یہ طے پایا کہ کل صبح کا ناشتہ کالا باغ میں کیا جائے گا۔ عامر جعفری کی کالا باغ سے بچپن کی یادیں وابستہ ہیں۔ عامر کے والد گرامی سید انجم جعفری کالا باغ ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے جن کی سرکاری رہائش گاہ پُل کے مشرقی سرے پر تھی جبکہ کالا باغ شہر پُل کے پار مغرب کی جانب ہے۔ علی الصبح میانوالی سے کالا باغ پہنچے تو مقصد صرف ناشتہ تھا۔ بلکہ ناشتہ بھی ضمنی چیز تھی‘ اصل چیز مکھڈی حلوہ تھا۔ صبح محض لسی کے دو گلاس سے ناشتہ کرنے والے اس مسافر نے اُس روز مکھڈی حلوے کے طفیل ناشتے سے خوب انصاف کیا۔ مکھڈی حلوے سے بہتر اگر کوئی حلوہ ہو سکتا ہے تو وہ کوئی دوسرا مکھڈی حلوہ ہی ہو سکتا ہے۔ واپسی پر کھانڈ (چینی) اور گڑ والا حلوہ علیحدہ علیحدہ پیک کروا لیا۔
سابق امیر جماعت اسلامی ضلع میانوالی برادرم وہاب نیازی بہاء الدین زکریا یونیورسٹی میں میرے جونیئر تھے اور آج کل نائب قیّم جماعت اسلامی صوبہ شمالی پنجاب ہیں۔ انہیں فون کر کے کہا کہ کسی طور کالاباغ کا مکھڈی حلوہ ملتان بھجوایا جائے۔ اگلے دن وہاب نیازی نے بتایا کہ آپ کی فرمائش کی تعمیل میں کالاباغ کا مکھڈی حلوہ ملتان جانے والی نیو خان کی بس کے ڈرائیور کے حوالے کر دیا گیا ہے اس سے وصول کر لیں۔اس حلوے میں کئی حصے دار ہیں۔ برادرِعزیز شاکر حسین شاکر اس لیے اس حلوے میں حصے دار ہے کہ جب میں نے وہاب نیازی کو فون کیا تو ساتھ بیٹھے ہوئے شاکر حسین شاکر کی آنکھوں میں جو چمک اور چہرے پر جو تاثرات تھے ان کی الفاظ میں منظر کشی کی جائے تو سرائیکی میں ایسے بندے کو جو کہا جاتا ہے وہ نہ لکھا جا سکتا ہے اور نہ ہی کالم میں اسے دکھانا ممکن ہے۔ دوسرا حصے دار شوکت گجر ہے، اگر اسے حصہ دیے بغیر کوئی چیز کھا لی جائے تو وہ بندے کو اُلٹی پڑ جاتی ہے۔
اظہار صاحب کا گزشتہ کالم پڑھ کر اُنکے پنڈی گھیب کے مکھڈی حلوے کو دنیا کا سب سے بہترین حلوہ قرار دینے کے قطعی فیصلے کو چیلنج کرنے کی اس مسافر کو مجال ہی نہ تھی سو حسبی نسبی اعوان کو فون کرتے ہوئے راجوں مہاراجوں کے دربار میں سوال کرنے والے عاجزوں کی طرح پہلے جان کی امان طلب کی جو انہوں نے شانِ خسروانہ سے عطا کر دی۔ امان حاصل کرنے کے بعد عرض کیا کہ صرف پنڈی گھیب کا حلوہ کھا کر اسے دنیا کا بہترین مکھڈی حلوہ قرار دینا سوائے اپنے علاقے کی محبت کے اور کچھ بھی نہیں۔ اظہار صاحب نے تقریباً تقریباً ڈانٹتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ مکھڈی حلوے کے بارے میں اٹک اور میانوالی کے علاوہ کسی کو تبصرہ کرنے کا حق حاصل نہیں۔ نہایت ہی عاجزانہ انداز میں پھر عرض کی کہ حضور حلوہ کھانے والا خواہ میانوالی یا اٹک سے تعلق نہ بھی رکھتا ہو‘ منہ میں زبان تو رکھتا ہی ہے۔ ذائقے کی حس مالکِ کائنات نے ہر انسان کو عطا کی ہے حلوہ کھانے کے بعد اس کے درجے کا تعین کرنا حلوہ کھانے والے ہر شخص کا بنیادی حق ہے‘ اسی قسم کے یکطرفہ فیصلوں سے تنگ آ کر کرکٹ میں نیوٹرل امپائر کے تصور نے جنم لیا تھا۔
میانوالی سے واں بھچراں اور قائدآباد سے ہوتے ہوئے خوشاب پہنچیں تو وہاں ڈھوڈے نے بہار لگا رکھی ہے۔ پہلی بار قائد آباد سے گزرا تو ساتویں جماعت میں معاشرتی علوم کی کتاب میں اُون کے کارخانوں کے حوالے سے قائدآباد کا ذکر یاد آیا۔ کبھی قائدآباد وولن ملز دنیا بھر میں اپنے گرم کپڑے کے حوالے سے مشہور تھی۔ جیسے بہت سی چیزیں برباد ہوئیں اب یہ وولن ملز بھی ماضی کا حصہ ہے۔ خوشاب کا ڈھوڈا ملتانی سوہن حلوے کا دور پار کا رشتہ دار ہے۔ ایک روایت کے مطابق خوشاب میں ڈھوڈے کی ابتدا لالہ ہنس راج نے کی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد لالہ ہنس راج بھارت جاتے ہوئے اسکا فارمولا اپنے شاگرد امین کو دے گیا۔ امین سے یہ فارمولا اسکے شاگرد انور تک پہنچا۔ نتیجتاً شہر میں موجود ڈھوڈے کی درجنوں دکانوں میں سے بیشتر پر امین ڈھوڈا ہاؤس لکھا ہوا ہے‘ بقیہ دکانوں پر انور ڈھوڈا ہاؤس کا بورڈ لگا ہوا ہے اور جو چند دکانیں بچ جاتی ہیں ان پر مختلف ناموں کے بورڈ آویزاں ہیں۔ اڈے کے اردگرد واقع تقریباً ہر دکان پر انتباہ کے طور پر لکھا ہوا ہے کہ شہر کی قدیمی برانچ یہاں منتقل ہو گئی ہے‘ ہماری کوئی برانچ نہیں اور نقالوں سے ہوشیار رہیں۔ پردیسی بندہ کیا کرے اور کس سے ڈھوڈا خریدے؟
برسوں گزرے بچوں کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کیلئے وادیٔ سون سکیسر کا انتخاب کیا۔ پہلے پڑاؤ کیلئے کلرکہار کا انتخاب کیا۔ دو تین دن مور دیکھتے اور سنتے گزارے۔ پھر وہاں سے سوڈھی جے والی چلے گئے۔ جھیل اچھالی‘ کھبیکی‘ جاہلر اور چٹا گاؤں کا نظارہ کرتے ہوئے واپسی پر خوشاب آ گئے۔ تب یہاں ملتان سے تعلق رکھنے والا چھوٹے بھائیوں جیسا دوست یوسف نسیم کھوکھر ڈپٹی کمشنر تھا۔ ملتان واپسی سے قبل سوچا کہ جاتے ہوئے خوشاب کا ڈھوڈا لے جائیں۔ یوسف نسیم کھوکھر نے رہنمائی کیلئے اپنے دفتر کا ایک بندہ ساتھ بھجوا دیا۔ اس نے ہماری رہنمائی کیا کرنی تھی اسے خود علم نہیں تھا کہ اصلی دکان کون سی ہے۔ گائیڈ تو وہ خاصا نکما تھا تاہم باتونی بہت اعلیٰ درجے کا تھا۔ اس نے ہمیں اپنے زورِ کلام سے اس بات پر قائل کر لیا کہ بڑے ناموں والی دکانوں کے بجائے خود چکھ کر فیصلہ کریں کہ کس کا ڈھوڈا زیادہ خوش ذائقہ اور مزیدار ہے۔ پانچ چھ دکانوں کا ڈھوڈا چکھنے کے بعد ذائقے کی حس کا دھڑن تختہ ہو گیا اور وہی حال ہو گیا جو چائے انڈسٹری میں Tea Taster کا ہوتا ہے اور اس کی چکھنے اور سونگھنے کی حس کو دوبارہ نارمل کرتے ہیں۔ ہمارے پاس ایسی سہولت نہیں تھی لہٰذا اگلی دکان سے ڈھوڈا خریدا اور واپس چل پڑے۔ اب کسی دن اسلام آباد جانے سے پہلے وہاب نیازی سے کالاباغ کے ماما حنیف کا مکھڈی حلوہ منگواؤں گا اور اظہار الحق صاحب سے کہوں گا کہ وہ پنڈی گھیپ سے اپنا 'دنیا کا سب سے مزیدار‘ حلوہ منگائیں۔ پھر ہم بیٹھ کر فیصلہ کریں گے کہ کون سا مکھڈی حلوہ نمبر وَن ہے۔ ذائقے کا فیصلہ زورِ قلم سے نہیں صرف کھا کر ہی کیا جا سکتا ہے۔
قارئین ! آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ پھر وہی مکھڈی حلوہ۔ یہ صرف حلوہ نہیں‘ اس پورے خطے کی تہذیبی اور ثقافتی روایت ہے جسے پروان چڑھنا چاہیے۔ اس پر تو دس کالم بھی کم ہیں یہ تو ابھی تیسرا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں