"KMK" (space) message & send to 7575

ہمارے امانت دار

قارئین کو اب تک میری کم علمی اور بے بضاعتی کا اندازہ ہو چکا ہو گا اور ان کیلئے اب یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں کہ یہ فقیر جب کسی معاملے میں اپنی لاعلمی کے باعث تنگ و پریشان ہوتا ہے تو قبلہ شاہ جی جیسے سمجھداروں سے رابطہ کر لیتا ہے۔ تاہم پہلے یہ کم علمی کا معاملہ کبھی کبھار ہی آشکار ہوتا تھا لیکن اب جبکہ دنیا کے حالات میں برق رفتار تبدیلیوں نے تھوڑی بہت پرانی معلومات کو بھی گہنا کر‘ بلکہ فارغ کر کے رکھ دیا ہے‘ معاملہ بالکل ہی چوپٹ ہو گیا ہے۔ چلیں روزمرہ کے حالات کی حد تک تو ان تبدیلیوں کی سمجھ بھی آتی تھی لیکن جب سے زور آوروں نے جغرافیہ تبدیل کرنے کی خواہش کا دامن تھاما ہے‘ ہم جیسے لوگ جن کا مطلق جغرافیائی علم گلگشت ہائی سکول میں ماسٹر گلزار حسین مرحوم اور ماسٹر عبدالقادر مرحوم و مغفور کے پڑھائے ہوئے جغرافیہ پر مبنی تھا‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ بیکار ہوتا جا رہا ہے۔ جغرافیہ میں تبدیلی کی مصیبت کھڑی کرنے میں ہمارے محبوب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیش پیش ہیں۔ ان کا جس ملک سے جھگڑا ہوتا ہے اس پر حملہ کر دیتے ہیں۔ اگر حملے کے نتیجے میں اس پر قبضہ نہ کر سکیں تو دنیا کے نقشے کو سامنے رکھتے ہوئے صدیوں اور عشروں سے طے شدہ اس ملک کے ارد گرد کے جغرافیائی مقامات پر خیالی حملہ کرتے ہوئے نقشہ جاتی قبضہ کر لیتے ہیں۔ اس نقشہ جاتی قبضے کے بعد بطور فاتح اپنے قبضہ کردہ علاقوں کا نام تبدیل کر کے اس خیالی فتح کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہم نے دنیا کا جغرافیہ پڑھتے ہوئے امریکہ کے جنوب میں واقع خلیج کا نام خلیج میکسیکو ہی پڑھا تھا۔ یہ خلیج اپنے جنوب اور مغرب میں واقع ہمسایہ ملک میکسیکو کی مناسبت سے خلیج میکسیکو کہلاتی ہے۔ اپنی پہلی مدتِ صدارت کے دوران جب ٹرمپ صاحب کو میکسیکو سے غیرقانونی طور پر امریکہ آنے والے میکسیکن باشندوں پر غصہ آیا تو انہوں نے امریکہ اور میکسیکو کے درمیان واقع سرحد پر باڑ لگانے کا منصوبہ شروع کیا۔ اس باڑ پر آنے والے خرچے کا اندازہ ہوا تو یہ کام درمیان میں چھوڑ دیا۔ اب کی بار آئے تو ان غیرقانونی تارکین وطن کو جہازوں میں بھر کر واپس میکسیکو بھجوانا شروع کر دیا۔ میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین باؤم نے اس پر ہچر مچر کی تو ٹرمپ صاحب نے پہلے تو میکسیکو کو سنگین نتائج کی دھمکی دی‘ تاہم خواتین کے بارے میں اپنی مہربان طبیعت کے پیشِ نظر کوئی عسکری کارروائی کرنے کے بجائے خلیج میکسیکو کے نام پر قبضہ کرتے ہوئے اسے خلیج امریکہ قرار دے دیا۔ پنجابی کی کہاوت کہ ''ڈاڈھے دی ست ویہاں سو ہوندی اے‘‘ یعنی زور آور کی سات بیسیاں سو ہوتی ہے۔ لہٰذا گوگل نے اپنے نقشوں میں خلیج میکسیکو کے ساتھ بریکٹ میں اسے خلیج امریکہ بھی لکھنا شروع کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ہمارا سارا پڑھا ہوا جغرافیہ صفر کر کے رکھ دیا ہے۔
اگلے روز اخبار میں پڑھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اس بار خلیج ہرمز کا نام بدل کر خلیج ٹرمپ کر دیا ہے۔ تھوڑی دیر پہلے شاہ جی ملے تو ان سے نام کی اس نامعقول قسم کی تبدیلی بارے پوچھ لیا۔ کہنے لگے: اگر ملتان میں کسی بھی پروجیکٹ پر آئے بغیر مریم نواز شریف کی بدست مبارک افتتاح والی تختی لگ سکتی ہے تو آبنائے ہرمز فتح کیے بغیر اس کو مفتوحہ علاقہ سمجھتے ہوئے اس کا نام کیوں تبدیل نہیں ہو سکتا؟ میں نے عرض کی کہ شاہ جی! ٹرمپ کا اس دور دراز والی خلیج سے کیا تعلق ہے تو وہ فرمانے لگے: اگر وہاڑی میں منظور ہونے والے میڈیکل کالج کا نام کسی قسم کے منطقی جواز اور تعلق کے بغیر نواز شریف میڈیکل کالج رکھا جا سکتا ہے تو خلیج ہرمز کا نام خلیج ٹرمپ کیوں نہیں ہو سکتا؟ اگر ملتان کے ساٹھ‘ ستر سالہ قدیم فاطمہ جناح ہسپتال کا نام شہباز شریف ہسپتال ہو سکتا ہے‘ ملتان میں بننے والی ایگریکلچرل یونیورسٹی کا نام نواز شریف ایگریکلچر یونیورسٹی اور انجینئرنگ یونیورسٹی کا نام نواز شریف انجینئرنگ یونیورسٹی ہو سکتا ہے تو آبنائے ٹرمپ کیوں نہیں ہو سکتا؟
اگر گزشتہ حکومتوں کے عشروں قبل بنائے ہوئے سینکڑوں رورل ہیلتھ سنٹروں کا نام مریم نواز شریف کے نام پر ہو سکتا ہے تو بھلا ایک آبنائے کا نام تبدیل کرنے سے کون سی قیامت آ جائے گی؟ ملتان انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کا نام تبدیل کر کے چودھری پرویز الٰہی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی ہو سکتا ہے تو ایسا کیوں نہیں ہو سکتا؟ ڈیرہ غازی خان میں بننے والے کارڈیالوجی ہسپتال کا نام عثمان بزدار اپنے ابا جی کے نام پر سردار فتح محمد بزدار انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی رکھ سکتے ہیں تو صدر ٹرمپ کون سا گیا گزرا بندہ ہے۔ دوسری بار امریکہ کا صدر بنا ہے‘ یہ کوئی کم بات ہے؟ ویسے بھی آبنائے ہرمز کے نام کی تبدیلی پر کون سے میرے یا تمہارے ٹیکس کے پیسے لگ رہے ہیں؟ ادھر ہمارے ٹیکسوں سے اکٹھے کیے ہوئے کروڑوں اربوں روپے کے پروجیکٹس کے نام حکمران اپنے اور اپنے والدین کے نام پر رکھ رہے ہیں اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ ملتان کا ہر سرکاری پارک ڈوگر خاندان کے ہر چھوٹے بڑے فرد کے نام سے معنون ہے۔ لیہ میں قائم یونیورسٹی کے ایک کیمپس کا نام وہاں کے ایم پی اے اعجاز اچلانہ کے ابا جی کے نام پر ''بہادر کیمپس‘‘ ہے۔ ان کے والد صاحب کو تو چھوڑیں ایم پی اے صاحب نے خود کبھی یونیورسٹی کی شکل نہیں دیکھی۔ ادھر امریکہ میں صدر ٹرمپ کے حامیوں نے مہم شروع کر رکھی ہے کہ نئے امریکی پاسپورٹوں پر صدر ٹرمپ کی تصویر چھپی ہے۔ مجھے خطرہ پڑ گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی دیکھا دیکھی کہیں ہمارے حکمران بھی پاسپورٹ پر اپنی یا اپنے بزرگوں کی تصویر لگانے کا بل پاس نہ کروا لیں۔ ادھر تو یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے دل میں خیال آئے کہ اتنے عرصے سے کرنسی نوٹوں پر اکیلے بیٹھے بیٹھے قائداعظم محمد علی جناح اداس ہی نہ ہو گئے ہوں لہٰذا ان کے پہلو میں کسی قائداعظم ثانی کو بٹھا کر ان کی تنہائی اور اداسی رفع کر دی جائے۔ ویسے بھی سنا ہے اب نئے ڈیزائن کے نوٹ چھپنے والے ہیں۔ کیا خبر کسی کو یہ نادر خیال آ ہی جائے۔ میں نے کہا: شاہ جی! میں نے تو آپ سے ایک معمولی سا سوال پوچھا تھا آپ پورا دفتر کھول کر بیٹھ گئے ہیں۔
شاہ جی نے میری بات سنی اَن سنی کرتے ہوئے کہا: تمہیں میرے سیاسی نظریات کا بخوبی علم ہے گو تھوڑا سا ہی سہی‘ لیکن میرا جھکاؤ جدھر ہے تمہیں اس کا بھی علم ہے۔ لیکن اس سب کے باوجود حق یہ ہے کہ جان اللہ کو دینی ہے۔ اب یہ سب کچھ برداشت سے باہر ہو گیا ہے۔ خود پسندی‘ خود نمائی‘ ذاتی تشہیر اور نرگسیت کی اس کثرت سے اب جی اُوب چکا ہے۔ تم نے بھی آدھی دنیا دیکھ رکھی ہے یورپ‘ برطانیہ‘ امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ کے علاوہ بھی کسی ایسے ملک کا نام لے لو جہاں جمہوریت یا آئینی بادشاہت ہی کیوں نہ ہو اور ریاستی وسائل اور پیسے سے بننے والے پروجیکٹس پر حکمرانوں کے نام‘ تصاویر‘ اشتہار اور بینر دکھائی دیے ہوں۔ آمریت اور شخصی بادشاہت کو چھوڑ کر آپ کو وہاں کسی علامتی بادشاہ کی‘ کسی جمہوری صدر کی یا کسی منتخب وزیراعظم کی‘ ان کے کسی عزیز رشتہ دار کی یا کسی وزیر مشیر کی کوئی تصویر‘ کوئی افتتاحی تختی یا کوئی تشہیری بینر دکھائی نہیں دیتا۔ ہمارے حکمران خود نمائی‘ جعلی شہرت‘ ذات کی مشہوری اور انا کی تسکین کیلئے عوام کی امانت ‘ ریاستی پیسے کو جس بے دردی سے خرچ کر رہے ہیں انہیں اس کا حساب دینا ہو گا۔ بحیثیت حکمران وہ اس پیسے کے مالک نہیں محض کسٹوڈین یعنی رکھوالے یا امانت دار ہیں۔ بعض اوقات حیرت اور افسوس ہوتا ہے کہ ہمیں یہ کیسے امانت دار نصیب ہوئے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں