چھولے پٹھورے اور دیگر حساس مسائل

سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کیا ہے؟
یہ پراٹھا بھی نہیں تھا! سائز پوری کا تھا مگر پوری بھی نہیں تھی۔ تھا بہت مزیدار! منہ میں جا کر گُھل جاتا تھا۔ اور ساتھ جو چھولے تھے! سبحان اللہ! منفرد ذائقہ! میزبان سے پوچھا کہ یہ کیا ہے جو کھلا رہے ہو؟ کہنے لگا: سر جی کمال ہے۔ آپ کیسے پنجابی ہو جنہیں معلوم ہی نہیں کہ یہ پٹھورے ہیں! چھولے پٹھورے تو خاص پنجابی پکوان ہے! میں ٹھہرا اٹک کا! ہمارے علاقے میں گھروں میں مچھلی پکتی تھی نہ دال چاول! پٹھورے کون پکاتا۔ پھر پنڈی اسلام آباد آ گئے۔ یہاں بھی چھولے پٹھورے کا نام نہیں سنا۔
میلبورن میں یہ ایک انڈین پنجابی تھا جس کے ہاں ہماری دعوت تھی۔ جب اس نے کہا کہ آپ کیسے پنجابی ہو جسے پٹھوروں کا نہیں پتا! تو شرمندگی ہوئی۔ لاہور میں تو پھر ہونے چاہئیں! مگر لاہور میں بے شمار کھانے کھائے‘ دعوتوں میں شریک ہوئے‘ فوڈ سٹریٹوں میں گئے‘ کہیں پٹھوروں کا نام نہیں سنا۔ تجسس میں آسٹریلیا ہی سے عزیز گرامی یاسر پیرزادہ کو فون کھڑکایا۔ کہنے لگے: بالکل لاہور میں ہوتے ہیں! آپ آئیں گے تو کھلائیں گے آپ کو! مگر پھر یاسر کی تعیناتی اسلام آباد ہو گئی اور اسلام آباد میں موصوف یہ کہتے پائے گئے کہ فلاں جگہ سے حلوہ پوری منگوایا‘ ٹھیک نہیں تھا جبکہ لاہور میں کہیں سے بھی منگوا لیں‘ زبردست ہو گا۔ اب اس بات کی تردید کون کرے! کھانوں میں لاہور کا مقابلہ بیچارے پنڈی اسلام آباد کیا کریں گے! جڑواں شہروں میں تو ڈھنگ کی پکی ہوئی مچھلی نہیں ملتی! پٹھوروں کے حوالے سے ریسرچ کی تو پتا چلا پنڈی کی معروف اور قدیم‘ کرتارپورہ فوڈ سٹریٹ میں ایک دکان پر ملتے ہیں اور وہ بھی روایتی پٹھورے نہیں‘ آلو بھرے پٹھورے ہوتے ہیں۔ یہ تو بدعت ہوئی! لاہور کے پٹھورے تاحال نصیب نہیں ہوئے۔ (لاہور کے احِبّا نوٹ کریں)
میں پاکستان بننے کے چھ ماہ بعد آسمانوں سے اترا۔ نہیں معلوم جب ہندو سکھ مسلمان اکٹھے رہتے تھے‘ کیا صورتحال تھی۔ کیا یہ سب اکٹھے کھاتے پیتے تھے یا بیچ میں دھرم کے مسائل تھے؟ اتنا سنا ہے کہ گاؤں میں ہمارے گھر کے پڑوس میں ایک ہندو خاتون رہتی تھیں جو والد گرامی مرحوم کی ماسی (خالہ) بنی ہوئی تھیں۔ والدہ مرحومہ کی قریبی سہیلیاں بھی ہندو تھیں۔ آسٹریلیا رہ کر معلوم ہوا کہ ہندوؤں سکھوں کے ہاں سبزی کمال کی پکتی ہے۔ مسلمانوں کی غذا میں سرداری گوشت کو حاصل ہے مگر جو گوشت نہیں کھاتے‘ ان کا سٹرانگ پوائنٹ‘ ظاہر ہے سبزی ہی ہو گا اور سبزی وہ کمال کی پکاتے ہیں۔ کھانے والا انگلیاں چاٹتا رہ جاتا ہے۔ واپس آسٹریلیا چلتے ہیں۔ دعوت میں پٹھورے کھانے کے بعد تلاش ہوئی کہ کہاں کہاں‘ کس کس ریستوران میں دستیاب ہیں۔ معلوم ہوا تقریباً تمام انڈین ریستورانوں سے مل جاتے ہیں۔ میلبورن کے جن محلوں میں پاکستانی‘ انڈین‘ بنگالی اور سری لنکن کثرت سے پائے جاتے ہیں (اور جہاں سے سفید فاموں کی اکثریت ماشاء اللہ بھاگ جاتی ہے) ان میں ایک محلہ پوائنٹ کُک بھی ہے۔ (محلے کو وہاں سبرب (Suburb) کہتے ہیں)۔ پوائنٹ کُک میں ایک ریستوران کیسری نام کا ملا جس میں پٹھورے بھی مینو میں شامل تھے۔ میں اور میرا پوتا حمزہ وہاں پہنچ گئے۔ حمزہ کہنے لگا ابو! یہ پٹھورے وغیرہ آپ ہی کھائیے میں تو معمول کی روٹی اور سالن کھاؤں گا۔ ہم آرڈر دے کر بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میں ایک خودکار ٹرالی‘ خود بخود چلتی ہوئی نظر آئی۔ چلتے چلتے یہ طلسمی ٹرالی ہماری میز کے پاس آکر رُک گئی۔ یہاں پٹھوروں کا سائز اصلی پنجابی تھا یعنی خاصا بڑا۔ مشکل سے ایک کھایا گیا۔ اوپر سے ہم دادا پوتے نے ایک ایک گلاس مینگو لسی کا چڑھایا! ساری تعریفیں اُس ذات کے لیے ہیں جو زمین کے دور دراز گوشوں میں بھی ہماری مرضی کا رزق فراہم کرتی ہے! ایک اور قصۂ غم یہ ہے کہ جو روایتی مٹھائیاں ہمارے ہاں عنقا ہو گئی ہیں‘ بیرونِ ملک حلوائیوں کے پاس وہ سب موجود ہیں۔ مثلاً بوندی اور بوندی والے لڈو جن کے مقابلے میں موتی چور لڈو بالکل اچھے نہیں لگتے۔ مٹھائی بنانے والے ایک کاریگر سے اپنے ہاں اس نایابی کا سبب پوچھا تو وہ معیشت دان نکلا۔ کہنے لگا: صاحب!! جس شے کی طلب نہ ہو وہ بنائی بھی نہیں جاتی‘ اب لوگ یہ آئٹم پسند نہیں کرتے! بیرونِ ملک مٹھائی کی زیادہ دکانیں انڈین ہیں۔ پاکستانی اکثر یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ پاکستانی مٹھائی انڈین مٹھائی کے مقابلے میں سپیریئر ہے۔ مجھے یہ دعویٰ محض حب الوطنی پر مبنی نظر آتا ہے۔ ایک مختصر سرکاری دورے میں بھارت جانا ہوا تو تین دن کے دوران مٹھائی کی کیا جانچ پڑتال ہوتی مگر مشرقی پاکستان میں تین سال رہا۔ اپنے ہاں کی مٹھائی وہاں کی مٹھائی کے مقابلے میں ایسے ہی لگتی ہے جیسے بکرے یا دیسی مرغی کے گوشت کے مقابلے میں شیور کی فارمی مرغی کا گوشت نما گتّہ! یا تاشقند کے خربوزے کے مقابلے میں ہمارا نام نہاد خربوزہ!! بنگال کی چم چم‘ رس گلا اور ''مِشٹی دوہی‘‘ یعنی میٹھا دہی کمال کی مٹھائیاں ہیں۔ یہاں ان کا سوچا جا سکتا ہے‘ انہیں پانا ممکن نہیں۔ شام کو وہاں چائے کے ساتھ مٹھائی کھائی جاتی ہے جسے ناشتہ کہا جاتا ہے۔ پرانے ڈھاکہ میں نواب پور روڈ پر مرن چند کی مٹھائی کی دکان تھی۔ یاد آتی ہے تو دل میں لہر اٹھتی ہے جو اصل میں ہُوک ہوتی ہے۔ ایک قریبی دوست اور بیچ میٹ بھارت میں چار سال رہے۔ میٹھا کھانے کے شوقین بھی ہیں۔ ان کا تجربہ اور رائے پوچھی۔ اپنے تجربے کی رُو سے مجھ سے سو فیصد اتفاق کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستانی مٹھائیوں کا جواب نہیں اور یہ کہ ہمارے ہاں تو صرف نقل ہے! اس دوست کا نام اس لیے نہیں لکھ رہا کہ ہمارے حلوائی ان کے پیچھے ہی نہ پڑ جائیں۔ یہاں تو اب کسی کے خلاف‘ کسی بھی وقت‘ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
پٹھوروں کی طرح دوسہ بھی یہاں نایاب ہے۔ یہ جنوبی ہند کا خاص کھانا ہے۔ چاول کے آٹے سے بنی ہوئی‘ کاغذ کی سی پتلی روٹی! بہت سال گزرے کراچی میں ایک ریستوران تھا جہاں جنوبی ہند کے کھانے دستیاب تھے۔ اگر میں بھول نہیں رہا تو اس کا نام پانڈی روسہ تھا۔ پھر وہ ختم ہو گیا۔ ہو سکتا ہے اب وہاں اور بھی ایسے ریستوران ہوں۔ اسلام آباد میں ایک خاتون دوسہ اور جنوبی ہند کے دیگر کھانے مہیا کرتی ہیں۔ ان کی والدہ چنئی (مدراس) سے تھیں۔ میلبورن شہر کے سینٹرل ریلوے سٹیشن کی بغل میں ایک ریستوران ''چِلی انڈیا‘‘ کے نام سے ہے۔ یہاں کے دوسہ اور دیگر جنوبی کھانوں کا جواب نہیں۔ یہاں بھی حمزہ میرے ساتھ ہوتا ہے اور اپنی پسند کا کھانا کھاتا ہے جو میری پسند سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ سفید فام بھی یہاں کی بریانی اور مینگو لسی کے رسیا ہیں۔ بریانی بمقابلہ پلاؤ کے موضوع پر ایک کالم کچھ عرصہ پہلے لکھا جا چکا۔ دیگر تہذیبی شناختوں کی طرح پلاؤ بھی رُو بہ زوال ہے۔ اب تو یہاں سرخ مرچیں پکائی جاتی ہیں جنہیں ستم ظریفی سے بریانی کا نام دیا جاتا ہے۔ کراچی اور لاہور میں نام نہاد ''مغلئی‘‘ کھانے بیچے جا رہے ہیں جو مرچوں سے اٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ اور بات کہ مرچیں بڑے مغلوں کے زمانے میں تھیں ہی نہیں! برصغیر میں مرچیں پرتگالی لائے جو سب سے پہلے بمبئی میں کھانوں کا حصہ بنیں۔ مرہٹے جب مار دھاڑ کرتے شمالی ہند (دہلی) پہنچے تو ساتھ مرچیں بھی لائے۔ یہ اٹھارہویں صدی کا وسط تھا۔ قرب قیامت کی علامت دیکھیے کہ اب پلاؤ میں بھی مرچیں ڈالی جاتی ہیں۔ غنیمت ہے کہ پشاور مرچوں کی یلغار سے بچا ہوا ہے۔ پشاور (یونیورسٹی روڈ) کی مٹن joints کے کیا ہی کہنے! کارخانو بازار میں بہترین کابلی پلاؤ ملتا ہے۔ گوشت کی بوٹی اس پلاؤ میں مکھن کی طرح نرم ہوتی ہے۔ آپ ان سب کھانوں سے لطف اندوز ہوں۔ مجھے بھی گھر والے کھانے کے لیے بلا رہے ہیں۔ مسور کی دال پکی ہے!!

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں