"KMK" (space) message & send to 7575

موسم اور موسمیاتی تبدیلیاں

مجھے سردی اور جنگل سے محبت ہے۔ یہ مسافر سردیوں میں کہیں نہ کہیں کوئی جنگل تلاش کرتا تھا اور وہاں چل پڑتا تھا۔ پہلے پہل تو یہ شوق شکار سے پورا ہوتا رہا‘ پھر آہستہ آہستہ شکار کے شوقین دوستوں کا سارا گروپ بکھرا اور نتیجتاً شکار سے فارغ ہو گئے۔ پھر اپنی اہلیہ کے ساتھ مختلف جنگلوں میں ریسٹ ہاؤس تلاش کیے اور سردیوں میں چند دن ادھر ڈیرہ لگا کر اپنی علت پوری کی۔ اس دوران پنجاب اور تب کے صوبہ سرحد میں درجن بھر جگہیں ایسی تھیں جہاں چار دن مزے سے گزر جاتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ یوں ہوا کہ جنگلات کے ریسٹ ہاؤسز بھی ملک میں باقی ہر چیز کی طرح برباد ہو گئے۔ آخری چکر میں عیسن والا جنگل کے ڈانڈے والا ریسٹ ہاؤس کی بجلی کٹ چکی تھی‘ ٹرانسفارمر غائب ہو چکا تھا‘ بستر غلیظ اور عمارت خستگی کی آخری حد پر تھی۔ پھر یوں ہوا کہ جنگلوں میں ساتھ دینے والی رخصت ہو گئی اور یہ باب بند تو نہ ہوا مگر برباد ضرور ہو گیا۔
کئی سال بعد خیبر پختونخوا میں دریائے کنہار کے کنارے قصبے پارس سے دریا پار کرکے اور مشکل سے راستے کے اختتام پر شاران کے جنگل جا پہنچا۔ دونوں بچوں نے بھی شاید آخری بار اس قسم کی جگہ پر جانے کیلئے اپنے مسافر باپ کا ساتھ دیا۔ انہوں نے آئندہ کیلئے انکار تو نہیں کیا مگر جب بھی اس قسم کا کوئی پروگرام بنانے کی گفتگو شروع ہوئی تو وہ بات کو کسی اور طرف لے گئے۔ انکار نہ کرنے کے باوجود مجھے سمجھ آ گئی کہ وہ اب میری طرح خجل ہونے میں کوئی راحت یا دلچسپی محسوس نہیں کرتے۔
جب بھی سردیاں شروع ہوتی ہیں میں کسی جنگل میں دو چار دن اکیلے ہی بسر کرنے کا ارادہ کرتا ہوں مگر کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کہاں جاؤں؟ سارے جنگل بھی برباد ہو گئے ہیں اور ریسٹ ہاؤسز بھی۔ اوپر سے اب سردیاں بھی غچہ دینے پر آ گئی ہیں۔ کیا زمانہ تھا جب سردی پڑتی تھی۔ جب میں بچوں کو یہ کہتا ہوں کہ ہمارے بچپن میں بڑی سردی پڑتی تھی تو وہ مسکراتے ہیں۔ ایک بار تو یوں ہوا کہ ایک بیٹی کہنے لگی: دراصل آپ کے بچپن کی سردی کے ساتھ بھی کیک والا معاملہ ہے جو آپ کو اپنے بچپن میں دنیا کا سب سے مزیدار کیک لگتا تھا۔ وہ دراصل بوہڑ دروازے کے دائیں طرف ایک چھوٹی سی گورداسپور بیکری کے کیک کی بات کر رہی تھی۔ ایک روز میں نے انہیں اس بیکری کے سامنے سے گزرتے ہوئے بتایا کہ مجھے اپنے بچپن میں اس بیکری کا کیک دنیا کا لذیذ ترین کیک لگتا تھا۔ میں ابا جی کے ساتھ سکوٹر پر سکول سے واپس آتے ہوئے ہر ہفتے اس کیک کی فرمائش کر دیتا۔ گول شکل کا یہ سادہ سا کیک شروع شروع میں بارہ آنے یعنی پچھتر پیسے کا آتا تھا۔ بچوں کو تو آنے ٹکے والا حساب ہی سمجھ نہیں آتا۔ تب روپے میں سولہ آنے ہوتے تھے۔
میں نے اس کیک کا کئی بار تذکرہ کیا۔ ایک بار تو میری اہلیہ نے مجھے زور دے کر کہا کہ میں وہ کیک خریدوں۔ لیکن میں نے صاف انکار کر دیا۔ اس نے حیرانی سے کہا کہ آپ ہمیشہ اس بیکری کے کیک کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور اب لینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ میں نے کہا: نیک بخت! ہمیں بچپن میں بہت کم چیزوں تک رسائی تھی اور ہماری دنیا بڑی محدود تھی۔ چاچا سولی کی دکان سے ٹکے میں ملنے والے کشتی کیک کے مقابلے میں‘ جس سے انڈے کی ہَمک آتی تھی‘ یہ کیک ایسا لذیذ اور مزیدار لگتا تھا کہ اس کے ذائقے کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن ہی نہیں۔ اب جبکہ میں دنیا بھر میں درجنوں اقسام کے اعلیٰ ترین اور خوش ذائقہ کیک کھا چکا ہوں‘ اپنے بچپن والے اس کیک کا منہ میں بسا ہوا ذائقہ اور تصور میں محفوظ لذت کو برباد نہیں کرنا چاہتا۔ میں سالہا سال اس جگہ سے گزرتے ہوئے پلٹ کر گورداسپور بیکری کو دیکھتا رہا‘ پھر یہ تکلف بھی ختم ہو گیا۔ چند برس قبل گزرتے ہوئے حسبِ عادت گورداسپور بیکری کو دیکھنا چاہا تو وہاں کسی بیکری کا نام ونشان تک نہ تھا۔ بچپن کی ایک اور یاد موجود سے عدم کی طرف رواں ہو چکی تھی۔
معاف کیجئے! میں پھر بہک گیا تھا‘ بات سردی پر بچوں کے طعنے کی ہو رہی تھی۔ میں نے اپنی بیٹی کو کہا کہ میرے بچپن کی سردی اور گورداسپور بیکری والے معاملے میں کوئی موازنہ نہیں۔ کیک کا ذائقہ ایک تصور ہے جو میں یادوں میں سنبھالے بیٹھا ہوں جبکہ سردی وہ حقیقت ہے جسے میں کہرے کی شکل میں اپنے سکول کے گھاس پر دیکھتا تھا اور سائیکل سے اتر کر اپنے سویٹر سے جھاڑتا تھا اور حاجی بٹے کے باغ میں امرود کے پتوں پر جمے ہوئے برف کے قطروں کو انگلی مار کر اڑاتا تھا۔ یہ کوئی تصوراتی یا خیالاتی چیزیں نہیں تھیں۔ یہ سردی کی مادی اور طبعی نشانیاں تھیں جنہیں میں چھو کر محسوس کرتا تھا۔ اب نہ وہ سردی رہی ہے اور نہ اس کی شدت۔ تب ہم شاید سخت جان زیادہ تھے اور کم لوازمات میں زندگی گزارنے کے ہنر سے واقف تھے۔ سردیوں میں چھ سات کلومیٹر سائیکل پر سفر اور قمیض کے اوپر محض ایک جرسی‘ سکول میں کوٹ ملنے یا پہننے کا کوئی تصور ہی نہ تھا۔ جس دن مجھے دستانے ملے وہ دن ایسا خوشیوں بھرا تھا کہ بتا نہیں سکتا‘ اور جس دن وہ دستانے کسی نے آدھی چھٹی کے دوران میرے ڈیسک کے خانے سے نکال لیے تھے وہ دن اس سے بڑے صدمے والا دن تھا۔
میں سات آٹھ سال کا تھا جب مجھے گرم چیک کپڑے کا ایک اوور کوٹ سلوا کر دیا گیا تو میرا خوشی سے برا حال تھا۔ دراصل میں ابا جی کے اوور کوٹ سے بڑا متاثر تھا اور یہ اوور کوٹ اسی وجہ سے بنوا کر دیا گیا تھا۔ میں اسے پہن کر ابا جی کے ساتھ علی الصبح حاجی بٹے کے باغ میں سیر کیلئے جاتا تھا۔ بوٹ گھاس پر پڑے ہوئے کہرے اور شبنم کے باعث گیلے ہو جاتے تھے۔ نیچے گرے ہوئے امرود کو اٹھانے کیلئے کوٹ کی جیب سے ہاتھ نکالتا تو لمحوں میں سن ہو جاتا تھا۔
سردیوں میں جنگل جانے کا معاملہ بھی بڑا عجیب تھا۔ بس آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا معاملہ ہی سمجھ لیں۔ بس جنگل ہو اور سردی ہو‘ بھلے جنگل شہر کے کنارے پر ہی کیوں نہ ہو۔ اب بھلا یہ کیا کہ خانیوال شہر سے محض پانچ چھ کلومیٹر کے فاصلے پر موجود پیرووال کے جنگل میں ڈیرہ لگا لیا جائے یا چیچہ وطنی شہر سے چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر جنگل میں قیام کیا جائے۔ آخری بار جب چیچہ وطنی کے جنگل میں ٹھہرے ہوئے تھے اور صبح ناشتے کیلئے ریسٹ ہاؤس کے باورچی کو ہدایات دے رہے تھے کہ ہمدم دیرینہ منیر ابن رزمی اپنے ایک وکیل دوست کے ہمراہ سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی لے کر آ گیا۔ جنگل میں منگل والا محاورہ سنتے برسوں گزر گئے تھے مگر اس کی عملی تصویر اس دن دیکھی۔
نہ اب ویسی سردیاں رہی ہیں‘ نہ وہ جنگل رہے ہیں‘ نہ اب ویرانوں میں جا کر رہنا ہی ممکن رہا ہے کہ حالات ہی ویسے نہیں رہے اور سب سے بڑھ کر اب عمر اور وقت نے دھوکا دینا شروع کر دیا ہے۔ کئی جگہوں پر جانے کیلئے تو صرف اس لیے بھی دل نہیں کرتا کہ وہاں جاکر مایوسی نہ ہو اور وہاں کی تصویر یادوں کے البم میں جس خوبصورتی کے ساتھ آویزاں ہے کہیں وہ خراب نہ ہو جائے۔ پاکستان میں جنگلات کا رقبہ کُل ملکی رقبے کا تقریباً چار فیصد کے لگ بھگ ہے جبکہ ہمارے ہمسائے بھارت میں یہ رقبہ 24.4فیصد یعنی تقریباً پانچ گنا زیادہ ہے۔ حالانکہ بھارت میں فی مربع کلومیٹر آبادی 480نفوس جبکہ پاکستان میں 310افراد ہے یعنی بھارت پر فی مربع کلومیٹر آبادی کا دباؤ ہم سے زیادہ ہے۔ لیکن وہاں جنگلات کی صورتحال ہم سے کہیں بہتر ہے۔ ہم موسمیاتی تبدیلیوں سے شدید متاثر ہونے والے ملکوں میں شامل ہیں لیکن کسی کو مستقبل کی کوئی فکر نہیں۔ جنگل کٹ رہے ہیں موسم کا ستیاناس ہو رہا ہے لیکن حکمرانوں سے لے کر عوام تک سب دیہاڑی لگا کر خوش ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں