"RKC" (space) message & send to 7575

پرویز مشرف سے کامران ٹیسوری تک

سابق گورنر سندھ محمد زبیر سے بات ہورہی تھی‘ انہوں نے انکشاف کیا کہ کامران ٹیسوری کو اپنی برطرفی اور ان کی جگہ نہال ہاشمی کو گورنر سندھ بنائے جانے کا علم ٹی وی پر چلنے والی خبروں سے ہوا۔ اندازہ کریں کہ آپ ایک صوبے کے گورنر ہیں اور آپ کو علم تک نہیں کہ آپ کو ہٹایا جا رہا ہے۔ وہ خبر رپورٹرز تک پہنچ گئی لیکن گورنر صاحب کو کسی نے نہیں بتایا کہ آپ جا رہے ہیں۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ جب کامران ٹیسوری کو گورنر سندھ لگایا گیا تھا اُس وقت یہی تاثر دیا گیا تھا کہ وہ مقتدرہ کے قریبی اور ان کا ہی چوائس ہیں‘ ہمارا ان سے کچھ لینا دینا نہیں۔ یہاں تک کہ ایم کیو ایم لیڈروں کا بھی یہی کہنا تھا کہ وہ ہمارے نامزد کردہ نہیں ہیں‘ نہ ہی ہم سے پوچھ کر انہیں لگایا گیا ہے۔ سب کو علم تھا کہ وہ کس کی سفارش تھے۔ ٹیسوری صاحب کا شاید سونے کا کاروبار ہے اور دولت کی فراوانی بھی ہے‘ شاید یہی خوبی ان کا میرٹ بنی اور وہ سندھ جیسے اہم صوبے کے گورنر بنا دیے گئے۔
شروع کے دنوں میں لوگ اس تقرری پر حیران ہوتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ گورنر صاحب کے بعض بیانات تو ایسے بچکانہ تھے کہ سن کر ہنسی آتی تھی۔ ایک دفعہ انہوں نے کہا کہ وہ کراچی سے نوجوانوں کی موٹرسائیکل ریلی کی قیادت کرتے ہوئے بھارت پر چڑھائی کر دیں گے۔ اس پر میں نے ٹویٹر پر لکھا تھا کہ جان بوجھ کر ایسے نان سیریس لوگوں کو اتنے اہم عہدے دیے جاتے ہیں جس سے ان عہدوں کی قدر کم ہوتی ہے۔ ایسا نہیں کہ کراچی شہر میں اردو سپیکنگ قابل لوگ نہیں ملتے لیکن ہمارے ہاں قابل بندہ کسی کو نہیں چاہیے ہوتا۔ قابل اور ذہین بندے کو کنٹرول اور استعمال کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور یہ بات کسی کو پسند نہیں ہے۔ اس لیے نوٹ کریں کہ قابل لوگ اکثر ملک سے باہر نکل جاتے ہیں اور ہم اطمینان کا سانس لیتے ہیں کہ چلیں باہر جا کر اپنی قابلیت کے مظاہرے دکھائیں‘ ہم جیسے ہیں جہاں ہیں کی بنیاد پر ٹھیک ہیں۔ قابل اور ذہین لوگوں پر اعتماد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ وہ یس باس ٹائپ نہیں ہوتے۔ ہمارے ملک میں قابلیت نہیں بلکہ ذاتی وفاداری اور خوشامدی پن زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ خوشامدی ہو اور بھرپور نالائق ہو۔ بھٹو صاحب کو ہی دیکھ لیں انہوں نے ضیا الحق کو ساتویں نمبر سے اٹھا کر آرمی چیف بنایا تو اس کی وجہ ضیا الحق کا قابل ہونا نہیں بلکہ خوشامدی یا مؤدب ہونا تھا‘ جو بھٹو کو بہت پسند تھا۔ سعید مہدی لکھتے ہیں کہ ملتان میں بھٹو صاحب نے کور کمانڈر جنرل ضیا الحق سے ملنے کا کہا تو وہ صبح سے شام تک نواب صادق حسین قریشی کی سفید کوٹھی میں انتظار کرتے رہے۔ پھر ضیاالحق نے بھی میاں نواز شریف کا انتخاب کوئی قابلیت کی بنا پر نہیں کیا تھا‘ انہیں بھی نواز شریف کی مؤدبانہ شخصیت پسند آئی تھی۔ عابدہ حسین اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ وہ فخر امام کے ساتھ گورنر پنجاب غلام جیلانی سے ملنے گئیں تو ان کے دفتر کے باہر ایک نوجوان مٹھائی لیے بیٹھا تھا۔ پوچھنے پر پتا چلا کہ کسی بزنس مین کا بیٹا ہے ‘گورنر سے ملاقات کا انتظار کررہا ہے اور مٹھائی ساتھ لایا ہے۔ وہ میاں نواز شریف تھے‘ جو پہلے صوبائی وزیر خزانہ‘ پھر وزیراعلیٰ اور پھر وزیراعظم بنے۔ پھر جب جنرل جہانگیر کرامت کی جگہ نئے آرمی چیف کی تلاش شروع ہوئی تو نواز شریف نے بھی یہی کرائی ٹیریا اپنایا۔ چودھری نثار علی خان نے یہ کہہ کر جنرل پرویز مشرف کو وزیراعظم نواز شریف سے ملوایا تھا کہ سیدھا سا افسر ہے‘ اردو سپیکنگ ہے‘ اس کی پنجابی اور پٹھان افسروں میں کوئی لابی بھی نہیں ہے‘ ہمارے کنٹرول میں رہے گا۔ اس کے برعکس سینئر جنرل علی قلی خان کے والد بھی جنرل ہیں اور اب وہ خود بھی جنرل ہے‘ اوپر سے پٹھان ہے اور فوج میں ان کا زیادہ اثر و رسوخ ہے۔ پھر وہ گوہر ایوب کا بھی رشتہ دار ہے‘ لہٰذا چاہے وہ سینئر‘ قابل یا پروفیشنل ہے لیکن قابلِ بھروسا نہیں۔ قابلِ بھروسا صرف اردو سپیکنگ پرویز مشرف ہے جس کے آگے پیچھے کوئی نہیں۔ یوں نواز شریف نے بھی بھٹو والی غلطی دہرائی۔ قابلیت یا میرٹ کے بجائے اپنا سوچا کہ کون سا چیف میرے اقتدار کیلئے بہتر رہے گا کیونکہ وہ جنرل اسلم بیگ سے لے کر جنرل آصف نوازجنجوعہ اور جنرل جہانگیر کرامت تک سب سے اَن کمفرٹ ایبل رہے تھے۔ اب انہیں کمفرٹ ایبل جنرل درکار تھا۔ پھر سادہ نظر آنے والے مشرف نے نواز شریف کے ساتھ وہ کچھ کیا جو جنرل اسلم بیگ‘ جنرل جنجوعہ یا جنرل جہانگیر کرامت نے بھی نہیں کیا ۔ سیاسی حکمرانوں کو اس لیے یس باس اچھے لگتے ہیں۔ میر ظفراللہ جمالی وزیراعظم بنے تو پرویز مشرف کو باس کہتے تھے۔ کسی نے مذاق اڑایا تو جواب دیا تھا کہ میں تو انہیں باس تسلیم کر رہا ہوں‘ ورنہ انہیں باس کہتے سب ہیں لیکن میڈیا سامنے مانتے نہیں۔
عمران خان سے زیادہ امیدیں تھیں کہ وہ اعلیٰ عہدے میرٹ پربانٹیں گے کیونکہ کرکٹ میں ان کی یہی مشہوری تھی۔ لیکن وہ بھی یہ سیاسی سبق سیکھ چکے تھے کہ قابل اور ذہین لوگ قابلِ اعتماد نہیں ہوتے۔ ذہین اور سوچنے والا بندہ نیچے لگ کر کام نہیں کرتا۔ وہ پہلے سوال کرتا ہے اور پھر سامنے کھڑا ہوجاتا ہے‘ لہٰذا انہوں نے عثمان بزدار کو چنا‘ محمود خان کو چنا جو خواب میں بھی نہیں سوچ سکتے تھے کہ وہ کبھی وزیراعلیٰ بن سکتے ہیں۔ وجہ وہی تھی کہ وہ کبھی خان کے سامنے بات نہیں کر پائیں گے۔ اس لیے جب کامران ٹیسوری کو گورنر بنایا یا بنوایا گیا تو یہی کرائی ٹیریا مد نظر تھا کہ بندہ زیادہ پڑھا لکھا یا سمجھدار نہ ہو‘ اسے گورنر بنا دیا جائے تو یقینا وہ عمر بھر وفادار رہے گا۔ لیکن یہ دیکھ کر دکھ ہوا کہ موجودہ دورِ حکومت میں بھی وہی روایت برقرار ہے جو جنرل پرویز مشرف کے ساتھ روا رکھی گئی تھی۔ پرویز مشرف کو بھی ہوا میں برطرف کیا گیا۔ پرویز مشرف سے لاکھ اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ انہیں برطرف کرنے کا نواز شریف کا طریقہ بہت غلط تھا۔ انہوں نے اس کے نتائج بھی بھگتے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ نواز شریف نے 2014ء میں اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیرالاسلام کو برطرف نہیں کیا تھا‘ جن کے بارے انہیں علم تھا کہ عمران خان کے دھرنے کے پیچھے وہ تھے‘ بلکہ ایک بزنس ٹائیکون کو بھی نواز شریف کے پاس بھیجا گیا تھا کہ استعفیٰ دے دیں ورنہ دوبارہ وہی ہوگا جو پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر کو کیا تھا۔ اس لیے اگر کامران ٹیسوری کو وزیراعظم یا صدر نے چائے پر بلا کر ان کی خدمات پر شکریہ ادا کر کے اپنے فیصلے سے مطلع نہیں کیا تو حیرانی نہیں ہونی چاہیے۔ شاید اس کی وجہ وہی تھی کہ ان کے پیچھے وہ غیبی طاقت اب نہیں کھڑی تھی جس نے انہیں گورنر بنوایا تھا۔ شاید وہ صاحب ریٹائرڈ ہو گئے تھے‘ لہٰذا کسی نے ٹیسوری صاحب کو بتانے کی زحمت ہی نہیں کی کہ صاحب اب جانے کا وقت آگیا ہے۔
دوسری طرف اس سے بڑی حیرانی نہال ہاشمی کا گورنر سندھ لگنا ہے جن سے نواز شریف اور شہباز شریف دونوں سخت ناراض تھے۔ کچھ عرصہ قبل ایک وڈیو سامنے آئی تھی جس میں نہال ہاشمی نے نواز شریف سے ہاتھ ملانے کی کوشش کی تھی لیکن انہوں نے ہاتھ نہیں ملایا ۔ شہباز شریف ان کے مقتدرہ اور ججوں کے خلاف بیانات سے سخت ناراض تھے لیکن اب اچانک انہیں گورنر بنا دیا۔ اب یہ نہیں پتا کہ جب کبھی انہیں ہٹانا پڑا تو ان کے ساتھ بھی وہی سلوک ہو گا جو پرویز مشرف اور کامران ٹیسوری کے ساتھ کیا گیا یا پھر اب کی دفعہ کچھ مختلف ہو گا؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں