"RS" (space) message & send to 7575

خطے میں استحکام کیلئے بیجنگ کا روڈ میپ

ہر سال مارچ کے مہینے میں جب بیجنگ کے تیان آن من سکوائر پر بہار کی دستک ہوتی ہے تو پوری دنیا کی نظریں چین کے عظیم عوامی ہال (Great Hall of the People) پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔ یہاں چین کے دو سیشنز یعنی نیشنل پیپلز کانگریس (NPC) اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس (CPPCC) کے سالانہ اجلاس منعقد ہوتے ہیں۔ یہ محض رسمی ملاقاتیں نہیں ہوتیں بلکہ چین کے اس سیاسی و معاشی انجن کا پاور ہائوس ہیں جو نہ صرف چین بلکہ عالمی معیشت کی سمت کا تعین کرتا ہے۔ اس سال یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوئے جب دنیا جغرافیائی سیاسی تنائو خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور عالمی سپلائی چین کے بحران کی زد میں ہے۔ چین کے سیاسی نظام کی بنیاد دو بڑے اداروں پر ہے۔ نیشنل پیپلز کانگریس چین کا اعلیٰ ترین ریاستی ادارہ اور مقننہ ہے‘ جس کے پاس قانون سازی‘ بجٹ کی منظوری اور ملک کی اعلیٰ قیادت بشمول صدر اور وزیر اعظم کے انتخاب یا ان کی توثیق کا اختیار ہوتا ہے۔ یہ ادارہ ریاست کی پالیسیوں کو قانونی شکل دیتا ہے۔ دوسری طرف چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس ایک وسیع البنیاد مشاورتی ادارہ ہے جس میں ملک بھر کے ممتاز ماہرین‘ سائنسدان‘ ماہرین معیشت اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ یہ ادارہ براہِ راست قانون سازی تو نہیں کرتا لیکن پالیسی سازی میں حکومت کو گرانقدر مشورے فراہم کرتا ہے‘ جسے چین میں مشاورتی جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے۔ انتہائی اہمیت کے حامل یہ دونوں ادارے مل کر چین کے سیاسی استحکام‘ سماجی ہم آہنگی اور طویل مدتی منصوبوں کی کڑی نگرانی کرتے ہیں۔
ہر سال مارچ میں منعقد ہونے والے چینی شہ دماغوں کے اجلاس میں وزیر اعظم گورنمنٹ ورک رپورٹ پیش کرتے ہیں‘ جس میں گزشتہ ایک سال کے دوران حاصل کردہ اہداف‘ معاشی ترقی کی رفتار اور درپیش چیلنجز کا تفصیلی حساب دیا جاتا ہے۔ اس رپورٹ پر این پی سی کے مندوبین تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ اس کے بعد مندوبین ہزاروں کی تعداد میں مختلف تجاویز پیش کرتے ہیں جن کا تعلق جدید ٹیکنالوجی سے لے کر دیہی زراعت تک کے شعبوں سے ہوتا ہے۔ ان تجاویز کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاتا ہے اور پھر بحث و مباحثے کے بعد اگلے سال کے لیے معاشی اور سماجی ترقی کے اہداف مقرر کیے جاتے ہیں۔ یہ منظم عمل اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ چین کی ترقی میں کوئی تعطل نہ آئے اور حکومتی پالیسیاں بدلتے ہوئے عالمی حالات کے عین مطابق رہیں۔
اس سال کے اجلاس میں چین نے اپنی معیشت کو نئی معیاری پیداواری قوتوں (New Quality Productive Forces) کی بنیاد پر استوار کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب چین صرف روایتی مینوفیکچرنگ پر انحصار نہیں کرے گا بلکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)‘ کوانٹم کمپیوٹنگ‘ بائیو ٹیکنالوجی اور گرین انرجی کے شعبوں میں عالمی قیادت حاصل کرے گا۔ حالیہ اجلاس میں جی ڈی پی کی شرح نمو کا ہدف پانچ فیصد کے قریب رکھا گیا ہے جو عالمی کساد بازاری کے باوجود ایک پُراعتماد اور حقیقت پسندانہ ہدف ہے۔ اس کے علاوہ دفاعی بجٹ میں متوازن اضافہ اور ڈیجیٹل اکانومی کو مزید وسعت دینے کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ بیرونی دبائو اور پابندیوں کے باوجود چین کی معیشت کا پہیہ رواں رہے۔
غزہ اور لبنان میں جاری کشیدگی اور بحیرہِ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں نے چین کی سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ۔ چین دنیا بھر میں ایندھن خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کی توانائی کی سپلائی کا ایک بہت بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے سمندری راستے سے گزرتا ہے۔ اس اہم راستے میں رکاوٹ یا کشیدگی کا مطلب یہ ہے کہ چین کے لیے ایندھن مہنگا ہو جائے گا اور مال لانے لیجانے میں تاخیر ہو گی۔ چینی قیادت اس صورتحال پر شدید فکر مند ہے کیونکہ تجارتی راستوں میں یہ تعطل نہ صرف چین کی اپنی کارخانوں کی پیداوار بلکہ پوری دنیا کی تجارت کو نقصان پہنچا رہا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ اقدامات اور زمینی کارروائی سے خطے کے امن کو لاحق خطرات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایران پر سخت معاشی پابندیوں اور اسرائیلی حملوں نے پورے خطے کو ایک بڑی تباہ کن جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ چین اس بگڑتی صورتحال کو عالمی امن اور معاشی استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ بیجنگ کا مؤقف بڑا واضح ہے کہ تہران کے خلاف یکطرفہ پابندیاں اور دھمکیاں مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں مزید الجھانے کے مترادف ہیں۔ چین کے نزدیک ایران اس خطے کا انتہائی اہم حصہ ہے اور اس کے خلاف کسی بھی قسم کی زیادتی یا حملے کے اثرات پوری دنیا کی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر پڑیں گے۔ چین نے حالیہ برسوں میں ثابت کیا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں محض ایک تجارتی کھلاڑی نہیں بلکہ ایک مؤثر سیاسی ثالث بن کر ابھرا ہے۔ ایران اور سعودی عرب کی تاریخی صلح کرانا چین کی سفارتی کامیابیوں میں نمایاں مثال ہے‘ جس نے ثابت کیا کہ بیجنگ پیچیدہ علاقائی تنازعات کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چین اب اسی اثر و رسوخ کو ایران اور مغرب کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے کیونکہ چینی قیادت کا ماننا ہے کہ امریکہ کو طاقت کی پالیسی ترک کر کے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔ اس بنا پر کہا جا سکتا ہے کہ چین مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سے کسی طرح بھی بے خبر نہیں ۔ وہ اس خطے کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس کی معیشت کا بڑا حصہ یہاں سے ہونے والی درآمدات و برآمدات پر منحصر ہے۔ جاری جنگ اور آبنائے ہرمز و بحیرہ احمر کی صورتحال کی وجہ سے سب سے زیادہ چین کی تجارت متاثر ہو رہی ہے‘ جس سے اس کی سپلائی چین اور توانائی کی ترسیل کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ تاہم چین کی روایتی پالیسی دوسرے ممالک کی جنگوں میں فریق بننے یا خود جنگیں لڑنے کی نہیں ہے‘ وہ پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے۔ اسی معاشی مفاد اور امن پسندانہ پالیسی کے تحت چین اپنا تمام تر سیاسی و معاشی اثر و رسوخ استعمال کر کے کشیدگی کو ختم کرانے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ عالمی تجارت کا پہیہ بلا تعطل چلتا رہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری خونریزی پر چین کی اعلیٰ قیادت نے انتہائی دو ٹوک مؤقف اپنایا ہے۔ جاری پارلیمانی سیشنز کے دوران چینی وزارتِ خارجہ نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے بغیر عالمی معیشت کا استحکام ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے چین نے فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینیوں کے لیے ایک خود مختار ریاست (Two State Solution) کی بھرپور حمایت کی ہے۔ چین عالمی برادری پر مسلسل یہ زور دے رہا ہے کہ وہ طاقت کے وحشیانہ استعمال کے بجائے مذاکرات کی میز پر معاملات کو حل کرے۔
چین کے یہ دو سیشنز اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ بیجنگ عالمی سٹیج پر ایک امن پسند طاقت کے طور پر مکمل طور پر اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ این پی سی اور سی پی پی سی سی کے ذریعے طے پانے والے فیصلے ظاہر کرتے ہیں کہ چین اپنی اندرونی معیشت اور ٹیکنالوجی کو اتنا مضبوط بنانا چاہتا ہے کہ وہ مغربی جارحیت اور معاشی پابندیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر سکے۔ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لیے چین کا سفارتی محاذ پر متحرک ہونا اس بات کی علامت ہے کہ اب طاقت کا مرکز کوئی ایک ملک نہیں رہا۔ چین کثیر جہتی نظام (Multilateralism) کا علمبردار بن کر سامنے آیا ہے‘ جہاں مسائل کا حل بموں اور گولیوں کے بجائے فہم و فراست اور میز پر بیٹھ کر تلاش کیا جاتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں