پاکستان نے افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی مسلسل اور بزدلانہ دہشت گردی کا جو مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا ہے‘ وہ محض فوجی کارروائی نہیں بلکہ خطے کی بدلتی جیو پولیٹکل حقیقتوں کا واشگاف اعلان ہے۔ اس وقت جب پاک فضائیہ کے شاہینوں نے سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانِ عبرت بنا یا ‘ ملک کے اندر اور باہر کچھ حلقے یہ سوال اٹھا رہے تھے کہ آخر ایک برادر اسلامی ملک پر فضائی کارروائی کی نوبت کیوں آئی؟ کیا سفارت کاری کے تمام دروازے بند ہو چکے تھے؟ اور کیا اس حساس معاملے کو مذاکرات کی میز پر حل نہیں کیا جانا چاہیے تھا؟ ان سوالات کے جوابات اُن تلخ حقائق میں چھپے ہیں جو گزشتہ دو برسوں سے پاک افغان تعلقات پر سیاہ بادلوں کی طرح سایہ فگن ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ طویل عرصے سے افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف تخریبی سرگرمیوں‘ خودکش حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کیلئے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ یہ ماننا عقلِ سلیم کیلئے ناممکن ہے کہ افغان قیادت ان مراکز سے لاعلم ہو یا ان کی منشا کے بغیر سرحد پار سے مسلح جتھے پاکستان میں داخل ہو کر شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے خون سے ہولی کھیل سکیں۔ پاکستان نے ہمیشہ بڑے بھائی کا کردار ادا کرتے ہوئے نہایت صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان نے متعدد بار سفارتی آداب اور بین الاقوامی قوانین کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ٹھوس شواہد افغان قیادت کے سامنے رکھے۔ کابل کے حکمرانوں کو بارہا باور کرایا گیا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان امن کا راستہ ایک دوسرے کی خود مختاری کے احترام سے ہو کر گزرتا ہے۔ مگر صد افسوس کہ کابل کے مقتدر حلقوں نے پاکستان کے تحفظات کو دور کرنے کے بجائے شدت پسند عناصر کی پردہ پوشی اور سرپرستی جاری رکھی۔ یہی وہ معاندانہ طرزِ عمل اور دوغلی پالیسی تھی جو گزشتہ سال اکتوبر میں شدید کشیدگی کا باعث بنی اور پاکستان کو قومی سلامتی کی خاطر افغانستان کے ساتھ مجبوراً تجارتی راستے بند کرنا پڑے۔
بیس سال تک جنگی صعوبتیں اٹھانے کے بعد عالمی برادری بالخصوص مسلم ممالک کو یہ توقع تھی کہ دنیا کو اب مختلف طالبان دیکھنے کو ملیں گے۔ افغان قیادت دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے ملک کے پسماندہ عوام کے مفاد میں فیصلے کرے گی لیکن ہوا اس کے برعکس۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے اکا دکا واقعات کو ہم معمول کا حصہ سمجھ کر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے نمٹ رہے تھے لیکن فروری کا مہینہ ایک ہولناک موڑ ثابت ہوا۔ اسلام آباد سے لے کر باجوڑ اور بنوں تک دہشت گردی کی جو نئی لہر اٹھی اس کے کھرے افغان سرحد کے اس پار موجود پناہ گاہوں سے جا ملے۔ جب ہمارے سکیورٹی اداروں کے پاس یہ ناقابلِ تردید ثبوت آگئے کہ ان حملوں کی منصوبہ بندی سرحد پار بیٹھ کر کی گئی ہے تو پاکستان نے 21 فروری کی شب افغانستان میں فتنۂ الخوارج اور کالعدم ٹی ٹی پی کے مراکز پر پہلی سرجیکل سٹرائیک کی‘ جس نے دہشت گردوں کے پورے اعصابی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ سمجھداری کا تقاضا تو یہ تھا کہ افغان قیادت اس انتباہ کے بعد ہوش کے ناخن لیتی اور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کیلئے عملی اقدامات کرتی مگر کابل نے اس جوابی کارروائی کو اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا۔ جمعہ کی شب طالبان رجیم نے اشتعال انگیزی کی تمام حدیں پار کر دیں اور پاک افغان سرحد کے 15مختلف سیکٹرز میں 53مقامات پر بیک وقت بھاری اسلحے سے فائرنگ کا آغاز کر دیا۔ یہ حملہ کسی معمولی سرحدی جھڑپ سے کہیں زیادہ ایک منظم جنگی مہم جوئی تھی۔ اس حملے نے ایک بہت بڑے جھوٹ کا پول بھی کھول دیا۔ پہلی بار کالعدم ٹی ٹی پی کے جنگجو اور افغان طالبان ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر پاکستان پر حملہ آور تھے۔ یہ وہی طالبان ہیں جو اس سے قبل عالمی فورمز پر انکاری تھے کہ ٹی ٹی پی کے ساتھ ان کا کوئی تنظیمی یا نظریاتی تعلق نہیں ہے۔ آج دنیا نے کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ فتنۂ خوارج اور افغان طالبان ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔ اس گٹھ جوڑ کے پیچھے چھپے اصل چہرے بھی اب بے نقاب ہو چکے ہیں۔ انٹیلی جنس رپورٹس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ افغان طالبان رجیم اور بھارت کا گہرا گٹھ جوڑ پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہے۔ بھارت جو معرکۂ حق میں پاکستان سے ہزیمت اور رسوائی اٹھا چکا ہے‘ اب کابل کو اپنی پراکسی کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ بھارتی پیسہ اور افغان سرزمین کا ملاپ ایک ایسے زہریلے مرکب کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا مقصد پاکستان کی معیشت اور سلامتی کو ضرب لگانا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری کے مطابق افغان طالبان اس وقت خطے میں دہشت گردی کے سب سے بڑے سہولت کار بن کر ابھرے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی حالیہ رپورٹ بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ اس وقت افغانستان کی سرزمین پر 21کے قریب بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں بلا روک ٹوک اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں‘ جو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی امن کیلئے بھی خطرہ ہیں۔
پاکستان اس کھلی جارحیت اور اپنی رِٹ کو چیلنج کرنے والے اقدامات کو مزید برداشت نہیں کر سکتا تھا چنانچہ افواجِ پاکستان نے آپریشن غضب للحق کا آغاز کیا۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے دشمن کے 29سٹریٹجک مقامات پر ایسی کاری ضرب لگائی کہ دشمن کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا۔ اس فیصلہ کن کارروائی کے نتائج دشمن کیلئے عبرت ناک تھے۔ افغان طالبان کی 104چیک پوسٹیں ملبے کا ڈھیر بنا دی گئیں جبکہ 135کے قریب ٹینک اور جدید مسلح گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ پاک فوج نے جرأت و بہادری کی داستان رقم کرتے ہوئے 22ایسی اہم چیک پوسٹوں پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا جو دہشت گردوں کی دراندازی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی تھیں۔ وہ افغان رہنما جو کل تک سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر بیٹھ کر پاکستان کو دھمکیاں دے رہے تھے‘ پاکستان کے عزم اور ٹیکنالوجیکل برتری کا سامنا نہ کر سکے اور اپنی چوکیاں چھوڑ کر پہاڑوں کی طرف فرار ہو گئے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ جس دشمن نے خود جنگ کا شعلہ بھڑکایا تھا‘ وہ اب میدانِ عمل میں ہزیمت اٹھانے کے بعد سفید جھنڈا لہرا کر مذاکرات کی دہائی دے رہا ہے۔ طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امن اور بات چیت پر زور دیا ہے‘ یہ بیان دراصل افغان طالبان کی عسکری شکست کا کھلا اعتراف ہے۔ آج افغان طالبان مذاکرات کی بات کر رہے ہیں لیکن پاکستان گزشتہ دو برسوں سے امن کا راستہ نہیں دکھا رہا تھا؟ کیا پاکستان نے برادر اسلامی ممالک کی سہولت کاری کے ذریعے کابل کو یہ نہیں سمجھایا تھا کہ دہشت گردوں کی پشت پناہی خود ان کے اپنے مفاد میں نہیں ہے؟ کون نہیں جانتا کہ ہر بار مذاکرات کی میز کو الٹنے والا‘ وعدوں سے پھر جانے والا اور برادر مسلم ممالک کی خیر خواہی کو ٹھکرانے والا ہمیشہ کابل ہی تھا۔ اس وقت آپریشن غضب للحق اپنے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ ارکان کے ساتھ جی ایچ کیو میں عسکری قیادت کے ساتھ اہم نشست ہو چکی ہے جس میں بڑے فیصلے کیے گئے ہیں‘ لیکن ظاہر ہے ہم بھی امن چاہتے ہیں۔ برادر اسلامی ممالک کے علاوہ چین جیسے دوست ممالک بھی پاکستان سے رابطہ کر رہے ہیں جس کے مثبت نتائج سامنے آئیں گے لیکن ذرا تصور کریں کہ اس صورتحال میں افغانستان کی پوزیشن کیا رہ گئی ہے۔ ایک وقت تھا جب پاکستان مذاکرات کی بات کر رہا تھا اور برادر اسلامی ممالک کی سہولت کاری بھی حاصل تھی اور آج ایک وہ مقام ہے کہ افغانستان سفید پرچم لہرا کر مذاکرات کی خواہش کا اظہار کر رہا ہے۔ افغانستان نے پستی کا یہ سفر شدت پسند گروہوں کو بچانے کیلئے طے کیا ہے۔ مذاکرات تو آج نہ سہی کل ہو جائیں گے لیکن اگر افغانستان کی جانب سے شدت پسند گروہوں کو بچانے کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہا تو اسے پستی کی گہرائیوں سے کوئی نہیں نکال سکتا۔