"MSC" (space) message & send to 7575

مجبوری کا آپریشن

28فروری بروز ہفتہ جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو اس وقت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن ''غضب للحق‘‘ کے نتیجے میں افغان طالبان کے نقصانات کا یہ خلاصہ بیان کیا ہے: 331 کارندے ہلاک‘ 500 سے زائد زخمی‘ 104 چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ‘ 22 چیک پوسٹوں پر قبضہ‘ 163ٹینک اور مسلح گاڑیاں تباہ۔ اس کے ساتھ ہی بتایا گیا کہ افغانستان کے اندر 37مقامات کو فضائی کارروائی میں مؤثر طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال کا حل مذاکرات اور باہمی سمجھوتے میں ہے اور افغانستان بدستور پُرامن حل کا خواہاں ہے۔ جناب مجاہد کی پیشکش بظاہر خوش کن ہے لیکن درحقیقت یہ کھوکھلے الفاظ ہیں جن میں معانی بھرنے کی کوئی مؤثر کوشش گزشتہ چار سال میں نہیں کی گئی۔ کچھ عرصہ پہلے افغانستان کے ساتھ ایک سرحدی جھڑپ تک نوبت پہنچی تو قطر اور ترکیہ کی سہولت کاری سے پہلے دوحہ اور پھر استنبول میں مذاکرات کی میز بچھائی گئی تھی جس میں پاکستان اور افغانستان کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی تھی‘ پاکستان نے اپنی شکایات مدلل اور مفصل طور پر شواہد اور ثبوتوں کے ساتھ پیش کر دی تھیں‘ یہ واضح کر دیا تھا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ افغان طالبان کے نمائندے اس کا انکار نہیں کر سکے تھے لیکن وہ تحریری طور پر کوئی یقین دہانی کرانے یا مؤثر لائحہ عمل اپنانے پر تیار نہیں تھے۔ زبانی جمع خرچ سے پاکستان کی تشفی ہو سکتی تھی‘ نہ ہوئی اور یہ مذاکراتی عمل معطل ہو گیا۔ اس کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی پے در پے وارداتیں ہوئیں۔ افغان طالبان کو بار بار متوجہ کیا جا رہا تھا‘ احتجاجی مراسلے دیے جا رہے تھے۔ تنبیہات جاری کی جا رہی تھیں لیکن وہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے تھے۔ اگر ان کے پاس دہشت گردوں کا ناطقہ بند کرنے کی صلاحیت نہیں تھی تو انہیں پاکستان کے سکیورٹی اداروں کے ساتھ مل کر کارروائی کرنے پر تیار ہو جانا چاہیے تھا لیکن وہ خود کچھ کر رہے تھے‘ نہ پاکستانی دفاعی اداروں کی خدمات سے استفادے کو ممکن بنا رہے تھے‘ نتیجہ یہ نکلا کہ آپریشن غضب للحق تک نوبت پہنچ گئی۔ اب جو صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ ہر گز ہر گز پسندیدہ نہیں ہے۔ کوئی بھی پاکستانی اس کی تمنا کر سکتا تھا اور نہ ہی اس پر اظہارِ مسرت کر سکتا ہے۔ پاکستانی حکومت اور افواج نے مجبوراً یہ اقدام کیا ہے۔ اب گیند افغان طالبان کی کورٹ میں ہے وہ اگر مگر اور چونکہ چنانچہ سے کام لینے کے بجائے واضح الفاظ میں اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور پاکستان کے اطمینان کے مطابق اپنی سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کریں۔
چھ سال پہلے فروری ہی کے مہینے میں دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان جس معاہدے نے امریکی افواج کا انخلا افغانستان سے ممکن بنایا تھا‘ پاکستان نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں سہولت کاری کی تھی۔ ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی اس کے عالمی گواہوں میں شامل تھے۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل نے بذاتِ خود وہاں پہنچ کر اظہارِ اطمینان کیا تھا۔ پاکستان بھر میں مسرت کی لہر دوڑی تھی‘ وزیراعظم عمران خان اور مختلف سیاسی رہنماؤں نے مبارک بادیں دی تھیں اور وصول بھی کی تھیں۔ ہمارے علمائے کرام بھی خوشی سے پھولے نہ سمائے تھے۔ توقع تھی کہ برسوں کی خونریزی کے بعد افغانستان سُکھ کا سانس لے گا اور اس کے ہمسائے بھی چین سے رہیں گے۔ وسطی ایشیا تک رسائی ممکن ہو گی‘ تجارت اور ترقی کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ پاکستان نے 1979ء میں افغانستان میں سوویت فوجوں کے داخلے کے بعد سے ہر قدم پر اپنے افغان بھائیوں کا ساتھ دیا تھا۔ لاکھوں مہاجرین کے لیے اپنی سرزمین کھول دی تھی اور تمام تر بے سرو سامانی کے باوجود افغانستان کو سوویت قبضے سے آزاد کرانے کی جدوجہد میں شرکت کا عہد کیا تھا۔ ہمارے وزیر دفاع خواجہ آصف جب اُن دنوں کی یاد دلاتے ہوئے طالبان کو جھنجھوڑتے ہیں تو پوری پاکستانی قوم ان کے جذبات میں شریک نظر آتی ہے لیکن ان کی اس بات سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان اور افغان مجاہدین کو یہ ہدف امریکہ نے دیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان اور افغان مجاہدین نے اپنے طور پر صف بندی کر لی تھی۔ امریکہ کہیں بعد اس میں شریک ہوا۔ پاکستان نے سوویت قبضے کے خلاف عالمی کولیشن بنائی اور عالم اسلام نے بھی جوش و خروش سے جہادِ افغانستان میں حصہ ڈالا۔ نو سال کی جدوجہد کے بعد سوویت فوجیں واپسی پر مجبور ہوئیں تو سوویت یونین کا اپنا وجود بھی برقرار نہ رہ سکا۔ سوویت وفاق میں شریک ریاستوں نے بغاوت کر دی اور دنیا کے نقشے پر کئی آزاد ملک ابھر آئے۔ وسطی ایشیا سوویت نرغے سے نکل آیا۔ اگر افغان مجاہدین اپنے اختلافات پر قابو پا لیتے تو آج افغانستان ایک بڑی طاقت کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہوتا۔
افغان مجاہدین کی نئی نسل نے ''طالبان‘‘ کے نام سے خود اقتدار پر قبضہ کر لیا تو بھی پاکستان ان کی طاقت بنا رہا۔ بعدازاں اسامہ بن لادن اور القاعدہ کے حوالے سے ایک نئی کشمکش کا آغاز ہو گیا۔ طالبان اپنے مہمان کی ''حفاظت‘‘ سے دستبردار نہ ہوئے تو امریکہ اور نیٹو افواج اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ''اجازت‘‘ لے کر افغانستان پر چڑھ دوڑے۔ افغان طالبان کے اقتدار کا خاتمہ ہوا‘ پاکستان مخمصے میں مبتلا رہا‘ اس پر افغان طالبان کی سہولت کاری کے الزامات لگتے رہے‘ وہ کسی نہ کسی طور اپنے آپ کو بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ افغان طالبان کی جدوجہد جاری رہی اور بالآخر امریکہ اور نیٹو کی افواج کو افغانستان خالی کرنا پڑا۔
دوحہ معاہدے کے بعد طالبان کابل تو پہنچ گئے کہ افغان فوج تتر بتر ہو گئی تھی اور کابل کی غنی حکومت دھڑام سے گر گئی۔ واقعات کی طے شدہ ترتیب الٹ پلٹ ہو گئی۔ افغان طالبان کو ایک وسیع تر حکومت کا قیام عمل میں لانا تھا‘ اپنی سرزمین کو دہشت گردوں سے محفوظ بنانا تھا‘ وہ اپنے حصے کا کام نہیں کر سکے۔ نتیجتاً ان کی حکومت آج بھی بین الاقوامی طور پر ایک تسلیم شدہ حکومت نہیں ہے۔ پاکستان کی تمام تر سہولت کاری‘ تعاون اور نیک خواہشات کے باوجود افغان طالبان اس کی مشکلات میں اضافے کا سبب بن گئے ہیں۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا‘ اس کے ذریعے اسرائیل سے بھی رابطے قائم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں لیکن پاکستان کو نشانے پر رکھ لیا۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت‘ اسرائیل اور افغان طالبان کو امریکہ کی آشیر باد بھی حاصل ہو سکتی ہے‘ وہ چین کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کر سکتے ہیں لیکن فی الحال صدر ٹرمپ نے پاکستان کی کارروائی کی حمایت کی ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی پیٹھ تھپکی ہے۔ پاکستان نے فیصلہ کن قدم اٹھا لیا ہے‘ اب ہمارے دوستوں پر لازم ہے کہ اپنا کردار ادا کریں۔ افغانستان سے بامقصد اور معنی خیز مذاکرات کے ذریعے ہی حالات کو سنبھالا جا سکتا ہے۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں