"MSC" (space) message & send to 7575

’’شفیق الامت‘‘سے محرومی

حضرت مولانا فضل الرحیم اس دنیائے رنگ و بُو میں (کم وبیش) 81برس گزار کر اس دنیا میں جا بسے ہیں‘جہاں انہیں ہمیشہ کے لیے رہنا ہے۔ان کے عظیم المرتبت والد حضرت مفتی محمد حسن اور برادران بزرگوار حضرت مولانا عبیداللہ اور حضرت مولانا عبدالرحمن برسوں پہلے وہاں منتقل ہو چکے تھے‘اُنہیں ان کا شدت سے انتظار ہوگا‘ ان کا وہاں پُرجوش استقبال کیا جا رہا ہو گا۔ انہیں بہتر صحبت میسر آ گئی ہے لیکن ان کے نیاز مندوں کی بڑی تعداد ان سے اب فیض ِ صحبت نہیں اٹھا سکتی۔ محرومی کا یہ داغ ہر اس دل پر لگ گیا ہے‘ جس میں وہ بس رہے تھے۔ حضرت عالمِ اسلام کی ممتاز درس گاہ جامعہ اشرفیہ کے سرپرست اعلیٰ اور مہتمم تھے۔ ان کے والدِ گرامی اور برادرانِ عزیز کی رخصتی کے بعد یہ ذمہ داری ان کے کاندھوں پر تھی۔ انہوں نے اسے بخیرو خوبی نبھایا۔ جامعہ کی اعلیٰ اور ارفع روایات کی پاسداری کی اور اسے نوجوان لیکن تربیت یافتہ ہاتھوں کو سونپ کر سفرِ آخرت اختیار کر لیا۔ اب حضرت مولانا عبیداللہ‘ مولانا عبدالرحمن اشرفی اور ان کے اپنے بیٹے مل کر اس چراغ کو روشن رکھیں گے۔ اس جامعہ کی بنیاد حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ حضرت مفتی محمد حسن نے قیامِ پاکستان کے کچھ عرصہ بعد رکھی تھی‘ نہر کے کنارے وسیع قطعہ اراضی حاصل کیا گیا‘ جو دیکھتے ہی دیکھتے شہرِ علم میں تبدیل ہو گیا۔ اس جامعہ کے لیے نہ تو چندے کی کوئی اپیل ہوتی ہے‘ نہ اس کے صحن میں عطیات کے لیے کوئی بکس نصب کیا گیا ہے۔ نہ ہی صاحبانِ استطاعت کے دروازوں پر دستک دینے کی کوئی روایت قائم کی گئی ہے۔ اہلِ دل خود چل کر آتے اور حسبِ توفیق تعاون کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہر سال سینکڑوں طلبہ یہاں سے فارغ التحصیل ہوتے اور دنیا بھر میں روشنی پھیلاتے ہیں۔ اشرفی طلبہ جہاں بھی جاتے ہیں‘ مختلف مسالک اور مکاتبِ فکر کو جوڑنے اور ''بنیانٌ مرصوص‘‘ بنانے میں لگ جاتے ہیں۔ اپنا مؤقف شائستگی اور متانت سے بیان کرتے‘ اور دوسروں کی بات توجہ سے سنتے ہیں۔ مفتی محمد حسن کا لہجہ اور انداز ان کی اولاد اور طلبہ کو منتقل ہوا‘ اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔
مفتی صاحب مرحوم کے بارے میں یہ بات زبانِ زد خاص و عام ہے کہ انکی ٹانگ کو کوئی ایسی بیماری لاحق ہوئی کہ اسے کاٹنے کے سوا چارہ نہ رہا۔ ڈاکٹر جب اس حتمی نتیجے تک پہنچے تو مفتی صاحب نے بے ہوشی کی دوا کھانے یا انجکشن لگوانے سے انکار کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں اس طرح نماز قضا ہونے کا خدشہ تھا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بے ہوشی کی نشہ آور دوا استعمال کرنے سے اجتناب (انکے نزدیک) لازم تھا۔ انہوں نے ڈاکٹروں سے کہا کہ وہ انہیں بے ہوش کیے بغیر آپریشن کر گزریں‘ تعمیل کر دی گئی‘ پورے صبر و سکون اور نظم و ضبط کیساتھ حضرت اس مشکل مرحلے سے گزر گئے۔
مفتی صاحب کی زیارت کا شرف تو حاصل نہیں ہوا کہ وہ میرے لاہور میں آنے سے پہلے ہی انتقال کر چکے تھے لیکن ان کے فرزندانِ ارجمند سے تعارف کی سعادت حاصل ہوئی اور نیاز مندانہ تعلق ایسا قائم ہوا کہ جو توانا سے توانا تر ہوتا چلا گیا۔ مولانا عبیداللہ دو چار ہفتوں میں ایک بار روزنامہ ''پاکستان‘‘ کے دفتر تشریف لاتے یا ان کی خدمت میں حاضری ہوتی‘ ان کی نصیحت بھری عالمانہ گفتگو دل و دماغ کو روشن کرتی چلی جاتی۔ عزیزم عمر شامی بھی خوب لطف اٹھاتے اور ایک ملاقات کے بعد دوسری ملاقات کا انتظار کرنے میں لگ جاتے۔ روزنامہ ''پاکستان‘‘ کا انتظام ہم نے سنبھالا تو دعائیہ تقریب کے مہمانِ خصوصی وہی تھے‘ ان کے چھوٹے بھائی مولانا عبدالرحمن اشرفی بھی مصری کی ڈلی تھے‘ اتحاد و اتفاق کی تلقین کرتے اور لڑتے بھڑتے لوگوں کو مصافحے بلکہ معانقے تک لے آتے۔ حضرت مولانا فضل الرحیم سے تعارف ہوا‘ تو دل ہاتھ سے نکلتا چلا گیا۔ ان کے معاونِ خاص مولانا مجیب الرحمن انقلابی کے ذریعے مسلسل رابطہ رہتا۔ وہ حافظِ قرآن تھے‘ تلاوت کرتے تو یوں معلوم ہوتا قرآن کریم نازل ہو رہا ہے؎
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن
اقبال کے الفاظ میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ بھی صورتِ قرآن تھے۔ جب ملاقات ہوتی‘ ان سے سورۂ رحمن سنانے کی فرمائش کی جاتی‘ وہ تلاوت کا آغاز کرتے تو عالم بقعہ نور بن جاتا۔ کوئی ایک برس پہلے ان پر فالج کا حملہ ہوا اور حضرت کی قوتِ گویائی متاثر ہو گئی۔ بولتا ہوا چمن خاموش ہو گیا۔ سُن تو لیتے تھے بول نہیں سکتے تھے‘ لکھ کر اظہار کرتے یا اشاروں سے کام چلا لیتے۔ منہ سے کچھ کھانا بھی ممکن نہ رہا۔ نالی کے ذریعے خوراک فراہم کی جاتی‘ لیکن کمزوری بڑھتی چلی گئی۔ نماز باجماعت کا معمول جاری رہا۔ مسجد میں جانا ممکن نہ رہا تو گھر ہی پر اس کا اہتمام کرنے لگے۔ چار جنوری کی شب بھی اپنے پوتے کی امامت میں نمازِ عشاء ادا کی‘ اس کے بعد نڈھال ہوئے اور سوئے خلد روانہ ہو گئے۔
نمازِ جنازہ سے پہلے اُن کے رفیقِ خاص مولانا محمد یوسف خان نے گفتگو شروع کی‘ تو ان کے اساتذہ‘ رفقاء اور طلبہ کی تفصیل بیان کرتے چلے گئے۔ انہوں نے ممتاز ترین اساتذہ سے دینی علوم کی تحصیل کے بعد بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ درس و تدریس کا آغاز کیا تو آخری سانس تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ دورۂ حدیث میں اسباق پڑھاتے رہے۔ سنن ابن ماجہ‘ پھر ترمذی اور پھر صحیح بخاری کا درس آپ کے ذمے رہا۔ شیخ الحدیث ہونے کے ساتھ حکومت پنجاب کے قرآن بورڈ کی سربراہی بھی سنبھالے رکھی‘ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن رہے‘ رابطہ عالمِ اسلامی کے تحت رابطہ ادب اسلامی کے صدر رہے۔ متحدہ علما بورڈ کی صدارت بھی فرمائی۔ متعدد کتب تحریر کیں‘ اخباری مضامین لکھے‘ لیکن کوئی کتاب قیمتاً فروخت نہیں کی۔ ان کے اکلوتے صاحبزادے حافظ زبیر حسن نمازِ جنازہ کی امامت کیلئے کھڑے ہوئے تو ہزاروں افراد ان کی اقتدا میں تھے۔ جامعہ اشرفیہ کا ہال‘ صحن اور سبزہ زار ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے‘ تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی بھاری تعداد بھی ان کیلئے محوِ دعا تھی۔
حضرت مولانا تواضع‘ عاجزی‘ انکساری‘ مہمان داری‘خوش خلقی میں اپنی مثال آپ تھے۔ ہر ایک سے شفقت سے پیش آتے‘ اکابرین نے انہیں ''شفیق الامت‘‘ کا خطاب عطا کر دیا۔ پورے عالمِ اسلام میں انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ پوری دنیا کے علماء سے ان کے روابط تھے‘ وہ ان سب کو پاکستان سے جوڑنے کی سعی کرتے رہتے۔ ان کے ایک شاگرد نے ایک بار ان کے سامنے اپنا خواب بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجھے حضورﷺ کی زیارت نصیب ہوئی تھی‘ انہوں نے آپ کو سلام کہا‘ اور فرمایا کہ انہیں بتا دینا کہ ان کا ہدیہ مسلسل مجھ تک پہنچ رہا ہے۔ حضرت کا معمول تھا کہ روزانہ بارہ مرتبہ سورۂ اخلاص (اول و آخر) بارہ مرتبہ درود شریف کے ساتھ بارگاہِ رسالت میں پیش کرتے۔ قبولیت کی اس نوید نے ہر شخص کو مبہوت کر دیا۔
مولانا فضل الرحیم کے رخصت ہونے سے جامعہ اشرفیہ ہی نہیں پورا پاکستان ایک بے لوث دعا گو سے محروم ہو گیا ہے۔ تحریک پاکستان میں مولانا اشرف علی تھانوی کے زیر ہدایت مفتی محمد حسن نمایاں رہے تھے۔ انکا گھرانہ پاکستان اور اسکے نظریے کی حفاظت کا حق ادا کر رہا ہے۔ ہر مسلک اور ہر مکتب کے لوگ انہیں اپنا سمجھتے‘ اور انکی بات توجہ سے سنتے ہیں۔ اے ہمارے رب‘ جامعہ اشرفیہ کے نئے پاسبانوں کو ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما۔ وہ ایک دوسرے کی طاقت بن کر ہم سب کی طاقت بنے رہیں۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں