بنگلہ دیش میں انتخابات (بڑی حد تک) بخیر و خوبی انجام پائے۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے زیر قیادت اتحاد نے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت حاصل کر لی ہے۔ سابق وزیراعظم مرحومہ بیگم خالدہ ضیا اور شہید صدر جنرل ضیا الرحمن کے (سی ایم ایچ لاہور میں پیدا ہونے والے) بیٹے طارق رحمن وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے زیر قیادت اتحاد نے 70سے زائد نشستیں حاصل کی ہیں‘ قائد حزبِ اختلاف کا کردار اس کے رہنما ڈاکٹر شفیق الرحمن ادا کریں گے۔ عوامی لیگ کو انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی‘ اس کی سربراہ اور سابق وزیراعظم حسینہ واجد بھارت میں پناہ لیے ہوئے ہیں‘ انہیں ایک عدالتی ٹریبونل موت کی سزا سنا چکا ہے‘ اور ان کے خلاف درجنوں مقدمات ہنوز زیر سماعت ہیں۔ دنیا بھر سے اخبار نویس اور مبصرین بنگلہ دیش پہنچے تھے‘ جماعت اسلامی اور اس کے اتحادی نوجوانوں کی جماعت نیشنل سٹیزن پارٹی کو بعض حلقوں میں بے قاعدگیوں کی شکایات ہیں۔ کئی مقامات پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے‘ اس کے باوجود انتخابی نتائج پر کوئی بڑا تنازع کھڑا نہیں ہوا۔ عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس نے بصد مسرت اعلان کیا ہے کہ ایک ''نیا بنگلہ دیش‘‘ ظہور میں آ چکا ہے۔ 60فیصد ووٹروں نے ووٹ ڈال کر انتخابات کی قبولیت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں رائے دہندگان کی شمولیت اس بات کا اعلان ہے کہ انتخابی عمل پر ان کا اعتماد پختہ تھا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے فوری طور پر طارق رحمن سے رابطہ کیا اور انہیں مبارکباد دی۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف بھی پیچھے نہیں رہے‘ انہوں نے مبارکباد کے ساتھ نئے وزیراعظم کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی اور جواب میں بنگلہ دیش کے دورے کی دعوت قبول بھی کر لی۔ شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی ہونے کے ناتے سیاست میں نمودار ہونے اور اقتدار پر فائز ہونے والی شیخ حسینہ نے جو زخم لگائے ہیں وہ بآسانی بھرے نہیں جا سکیں گے‘ لیکن ان کی جو درگت بنی اور بنگلہ دیش کے نوجوانوں نے انہیں جس طرح اقتدار سے باہر نکالا‘ اور ملک چھوڑنے پر مجبور کیا وہ بھی ایک ناقابلِ فراموش باب کے طور پر تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنے نصف صدی سے زائد گزر گیا‘ اس دوران اس نے بڑے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ فوجی انقلاب برپا ہوئے ہیں‘ حکمرانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ سیاسی مخالفین کو پھانسیوں پر لٹکایا گیا ہے۔ جماعت اسلامی کو جس ظلم و ستم کا نشانہ بنایا گیا‘ اس کا تذکرہ تو اب بھی دلوں کو دہلا دیتا ہے۔ پھانسیاں‘ قید و بند کی صعوبتیں‘ جبری گمشدگیاں معمول تھیں۔ بی این پی کی رہنما خالدہ ضیا کو طویل عرصہ تک قید رکھا گیا‘ طارق رحمن ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ جماعت اسلامی پر پابندی لگائی گئی‘ انتخابی عمل کے دروازے بی این پی پر بند کیے گئے‘ انتخابی دھاندلیوں کے ریکارڈ قائم کیے گئے‘ یہ سارے جتن کرنے کے باوجود حسینہ شیخ کے اقتدار کو دوام نہیں دیا جا سکا‘ آج ان کے اپنے وطن کی زمین ان پر تنگ ہے‘ وہ نریندر مودی کے سائے میں سانس لے رہی ہیں۔
جماعت اسلامی ایک بڑی طاقت بن کر ابھری ہے۔ دونوں بڑے اتحادوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ رہا۔ نوجوانوں کی بڑی تعداد اپنا وزن جماعت کے پلڑے میں ڈالے ہوئے تھی‘ انقلاب برپا کرنے والی نئی نسل اس کے شانہ بشانہ ہے لیکن وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہیں ہے‘ اس کے باوجود اسے نظر انداز کر کے بنگلہ دیش کی سیاست ہموار نہیں رہ سکے گی۔ توقع کی جانی چاہیے کہ دونوں بڑی جماعتیں اپنے اپنے حصے کا کردارادا کرکے جمہوریت کو مضبوط بنائیں گی اور بنگلہ دیش کا مستقبل اس کے ماضی کو دہرانے کی اجازت نہیں دے گا۔ عوامی لیگ کا مستقبل کیا ہو گا‘ یہ ابھی واضح نہیں ہے‘ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد اس کے حامی پھر سرگرم ہو سکتے ہیں لیکن اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ جمہوری عمل پختہ ہو جائے‘ ادارے مضبوط ہوں‘ عدلیہ آزادانہ کام کرنے لگے تو پھر اہلِ سیاست کی منہ زوریوں کو لگام دی جا سکتی ہے۔
بنگلہ دیش میں جب ووٹوں کی گنتی جاری تھی‘ پاکستان میں عمران خان کی بینائی موضوعِ بحث بنی ہوئی تھی۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بند سابق وزیراعظم سے سپریم کورٹ کے حکم پر ملاقات کرنے والے ممتاز قانون دان سلمان صفدر نے ان کی صحت کے بارے میں جو رپورٹ پیش کی تھی‘ اس نے ماحول کو گرما (بلکہ بھڑکا) دیا تھا۔ بتایا گیا کہ اکتوبر میں ان کی ایک آنکھ میں تکلیف ہوئی لیکن جیل حکام نے بروقت نوٹس نہیں لیا۔ علاج میں تاخیر کے سبب بینائی صرف 15فیصد رہ گئی۔ خان صاحب کو جیل میں فراہم کی جانے والی سہولتوں اور ماحول کا بھی رپورٹ میں تفصیلی تذکرہ کیا گیا تھا۔ مجموعی طور پر ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جا رہا تھا لیکن آنکھ کے علاج کے حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات نے بڑی تعداد کو مشتعل کر رکھا ہے۔ ضرورت اس بات کی تھی اور ہے کہ ان کا علاج ان کے اطمینان کے مطابق کرایا جائے‘ اندرون یا بیرون ملک کے بہترین معالجوں کی خدمات اس کے لیے حاصل کی جائیں۔ بنگلہ دیش سے آنے والی امید افزا خبروں نے جہاں دلوں میں خوشی بھری‘ وہاں اڈیالہ جیل سے موصول ہونے والی اطلاعات نے ہر اُس شخص کو افسردہ کر دیا‘ جو معاملات کو انسانی آنکھ سے دیکھتا ہے۔ ایک انسان کے دماغ سے سوچتا اور ایک انسان ہی کا دل اس کے سینے میں دھڑکتا ہے۔
پاکستان اور بنگلہ دیش نے گزشتہ پچاس سال جس طرح بھی گزارے ہیں‘ اس کی تفصیل میں جائے بغیر یہ عرض کرنا نامناسب نہیں ہو گا کہ جمہوریت کی آرزو دونوں ملکوں میں جواں رہی ہے۔ حکمرانوں کی بے اعتدالیوں‘ سیاستدانوں کی بے حکمتیوں اور طاقتور اداروں کی منہ زوریوں کے باوجود فلاحی جمہوری معاشرہ قائم کرنے کی تڑپ دونوں ملکوں میں زندہ رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے حالات کا موازنہ کیا جائے تو پاکستان کے رہنے والے اطمینان کے کئی پہلو تلاش کر سکتے ہیں۔ تمام تر کوتاہیوں کے باوجود پاکستانی سیاست اس پست سطح پر نہیں گر سکی جو حسینہ واجد کے حصے میں آئی۔ نہ ہی ہماری مسلح افواج میں وہ بے ترتیبی اور بے نظمی دیکھنے میں آئی جس کا مظاہرہ بنگلہ دیش میں ہوتا رہا۔ شیخ مجیب الرحمن کو جس طرح تہ تیغ کیا گیا‘ اور بعدازاں جنرل ضیا الرحمن کو جس طرح موت کے گھاٹ اتارا گیا‘ حسینہ واجد کے خلاف جو عوامی بغاوت برپا ہوئی اور انہوں نے کشتوں کے پشتے لگائے‘ الحمدللہ پاکستان ایسے سانحوں سے محفوظ رہا۔ دونوں ملکوں کو بھارتی قیادت سے شکایات رہیں۔ بنگلہ دیش میں اس نے حسینہ واجد کو کٹھ پتلی بنایا تو پاکستان میں دہشت گردی کا بازار گرم کیے رکھا۔ الحمدللہ پاکستان میں اقتدار کے ایوانوں اور اداروں میں سرنگیں نہیں بنائی جا سکیں‘ اس کے باوجود دونوں ملکوں کو سوچنا ہو گا کہ وہ بھارتی یلغار کا مقابلہ کیسے کر سکتے ہیں‘ بھارت کا سامنا کرنے کی مشترکہ حکمت عملی دونوں ملکوں کے مفاد کا تقاضا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ طبلِ جنگ بجا دیا جائے‘ پُرامن بقائے باہمی سب کی ضرورت ہے اس کے لیے سر جوڑ کر بیٹھنا ہو گا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش اپنی اپنی جمہوریت کی حفاظت کریں اور پھر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر خطے کو محاذ آرائی اور دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے سرگرم ہوں تو بنگلہ دیش ہی نہیں بھارت بھی نیا بنایا جا سکتا ہے۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)