ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی یلغار دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس کا اختتام کب اور کس طرح ہو گا‘ یہ حملہ آوروں کو بھی معلوم نہیں ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کبھی ایک بات کہتے ہیں کبھی دوسری۔ حملے کی کوئی ایک وجہ بتائی گئی ہے‘ نہ اس کا ہدف۔ بس حملہ برائے حملہ کر دیا گیا ہے۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ ایران پر اگر ہم حملہ نہ کرتے تو وہ ہم پر حملہ کر دیتا۔ کبھی بتایا جاتا ہے کہ اسرائیل حملہ کرنے والا تھا جس کے جواب میں ایران ہم پر حملہ آور ہو سکتا تھا‘ اس لیے ہمیں میدان میں کودنا پڑا۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو حرکت میں آنے کا اشارہ دیا تھا‘ امریکہ اسرائیل کے ورغلانے میں نہیں آیا۔ وزیر جنگ کچھ کہہ رہا ہے‘ وزیر خارجہ کچھ اور خود صدرِ گرامی قدر کچھ۔ جس کے جو منہ میں آتا ہے کہہ گزرتا ہے۔ اسے معلوم ہے کہ وہ کسی کو جوابدہ نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کو غیر مؤثر بنایا جا چکا ہے اور امریکی سینیٹ اور کانگرس میں بھی دم مارنے کی مجال نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ صرف اپنے آپ کو جوابدہ ہیں‘ سو انہوں نے اسے سچ کر دکھایا ہے۔
پہلے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہم نے ایران کا ایٹمی پروگرام ممکن طور پر ختم کر دیا ہے۔ اس کی تنصیبات کو تباہ کر ڈالا ہے۔ چند ماہ پہلے کیے جانے والے ہلے کو اس دعوے کے ساتھ ہی روکا گیا تھا کہ ہدف حاصل ہو چکا ہے لیکن اب کسی شرم یا جھجک کے بغیر پھر شور مچا دیا گیا کہ ایران ایٹمی طاقت بننے والا ہے‘ ہم مذہبی جنونیوں کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اس خطرناک صلاحیت کو حاصل کر لیں۔ دوسری سانس میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بنیادی ہدف قرار دے دیا جاتا ہے۔ ایک اور قلا بازی کھاتے ہوئے ''رجیم چینج‘‘ کا نعرہ لگایا جاتا ہے جس طرح وینزویلا میں صدر اور اس کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکہ لایا گیا اور وہاں مرضی کی حکومت قائم کر کے اس کے تیل کے کنوؤں کو تحویل میں لیا گیا ہے‘ اسی طرح ایران سے ''استفادہ‘‘ مطلوب تھا۔ دنیا بھر سے آوازیں اُٹھیں کہ ایران وینزویلا نہیں ہے۔ نو کروڑ افراد کا ایک وسیع خطۂ زمین ہے‘ جہاں کی حکومت کی جڑیں اپنے عوام میں مضبوط ہیں لیکن ایک نہیں سنی گئی۔ حملہ ہوا اور اس دعوے کے ساتھ ہوا کہ ایران کے لوگ حملہ آوروں کے گلے میں ہار ڈالیں گے۔ صدر ٹرمپ اعلان کرتے رہے‘ ایران کے لوگو تمہاری آزادی کا وقت آن پہنچا ہے‘ اُٹھو اور حکومت اپنے قبضے میں لے لو‘ ہم تمہاری مدد کے لیے آن پہنچے ہیں۔ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو ان کے خاندان اور متعدد ساتھیوں کے ساتھ نشانہ بنایا گیا۔ وہ جامِ شہادت نوش کر گئے‘ ان کے خون سے ایرانی قوم میں نیا جوش وخروش پیدا ہو گیا۔ وہ حملہ آوروں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے‘ اپنی آزادی پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا‘ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو بغلیں جھانکتے رہ گئے۔ بین الاقوامی قوانین کی صریحاً اور سنگین خلاف ورزیوں نے انہیں رسوا کر ڈالا۔ دنیا بھر میں تھو تھو ہوئی لیکن طاقت کا نشہ ہے کہ ہنوز بدمست کیے ہوئے ہے۔
ایران پوری قوت سے میدان میں ہے۔ اس کے ڈرون اور میزائل اسرائیل پر برس رہے ہیں اور اردگرد موجود امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ دنیا کے بیس فیصد تیل کی تجارت اسی راستے سے ہوتی ہے‘ سو خلیجی ممالک میں کہرام برپا ہے اور ان سے تیل اور گیس خریدنے والے بھی شدید دباؤ میں ہیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عالمی معیشت کو تہہ و بالا کر رہی ہیں۔ پاکستان بھی اس لہر کی زد میں ہے۔ صدر ٹرمپ رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ ایران غیرمشروط سرنڈر کرے تو جنگ بندی ہو گی۔ ایران کی لغت میں سرنڈر کا لفظ موجود نہیں ہے۔ اس کے رہنما ڈٹے ہوئے ہیں اور آخری آدمی تک ڈٹے رہنے کا عزم دہرا رہے ہیں۔
امریکہ اور ایران کی جنگی ترقی اور وسائل کا کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا لیکن ایرانی قوم اپنے جذبے میں سرشار ہے۔ سینکڑوں کیا ہزاروں ٹن بارود برسایا جا چکا ہے‘ ہسپتال اور سکول تک زد میں ہیں۔ ایک سکول میں 160سے زائد معصوم بچیاں خون میں نہلا دی گئیں اور حملہ آوروں کے چہرے پر رسوائی کا وہ داغ لگا جسے کبھی دھویا نہیں جا سکے گا۔ ہر روز دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ایران کے آسمان پر قابض ہونے والے ہیں۔ اس کی بحریہ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا چکے ہیں۔ اس کے میزائلوں کو ناکارہ بنا چکے ہیں‘ راکٹ لانچر کسی قابل نہیں رہے لیکن ہر روز ایران عملاً ان دعوؤں کی تردید کر کے دکھا دیتا ہے۔ کسی نہ کسی امریکی اور اسرائیلی اثاثے کو نشانہ بنا گزرتا ہے۔ ایران کے پاس ڈرون اور میزائل کتنے ہیں اور وہ کب تک حملہ آوروں کو تگنی کا ناچ نچاتا رہے گا‘ اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا‘ اس کے رہنما لیکن بدحواس نہیں ہیں۔ ان کے اعصاب قابو میں ہیں اور وہ حملہ آوروں کو بھیانک انجام سے ڈرا رہے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ بار بار اعلان کرتے ہیں کہ اسلحہ کے امریکی ذخائر میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ہم ہفتوں بلکہ مہینوں لڑنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ اہلِ پاکستان کی دعائیں اور نیک تمنائیں اپنے ایرانی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ ہماری حکومت بھی مسلمان ملکوں اور بااثر ممالک سے رابطہ رکھے ہوئے ہے کہ کسی طور جنگ بندی ہو جائے۔ روس اور چین کی طرف سے بھی اسی خواہش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ روس اور چین اپنے طور پر ایران کی معاونت کر رہے ہیں لیکن کوئی بھی جنگ میں کودنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ عرب ممالک اور ایران کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوششیں بھی زوروں پر ہیں۔ وہاں موجود امریکی اڈوں کو ایران نشانہ بنا رہا ہے‘ اس پر وہ رنج و غم میں مبتلا ہیں۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے بھائیوں پر نہیں غیر ملکی اڈوں پر نظر رکھے ہوئے ہے لیکن یہ اڈے جن ملکوں کی جغرافیائی حدود میں ہیں وہ اسے اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں۔ سعودی عرب پر بھی ڈرون داغے گئے لیکن پاکستان کی کامیاب سفارت کاری نے معاملے کو سنبھال لیا ہے۔ سعودی عرب نے اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی واضح یقین دہانی کرا دی ہے جبکہ ایران نے بھی اس کی فضاؤں کی طرف منہ نہ کرنے کا عہد کر لیا ہے۔ امریکی ذرائع ہی سے خبریں آ رہی ہیں کہ اسرائیل خلیجی ممالک اور سعودی عرب پر حملوں میں ملوث ہے۔ اس کی خفیہ کارروائیوں کا مقصد عربوں اور ایران کو آپس میں لڑانا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ فریقین حالات کی نزاکت کا خیال رکھیں گے اور ایران اپنی تمام تر توجہ امریکہ اور اسرائیل ہی کی طرف مرکوز رکھے گا۔
پاکستان کی حکومت اور لوگ ایک بڑی آزمائش میں مبتلا کر دیے گئے ہیں‘ ہمیں اپنے آپ پر قابو رکھنا اور جنگ بند کرانے کے لیے سرگرم رہنا ہے۔ داخلی سیاست میں ڈالی گئی دراڑوں کو پُر کرنا بھی وقت کی ضرورت ہے۔ احزابِ اقتدار اور اختلاف ایک دوسرے کے ساتھ جُڑ کر پاکستانی قوم کی امنگوں کی ترجمانی کریں اور معاشی مشکلات کا سامناکرنے کے لیے یک جان ہوں تو آسانیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اب تک احتیاط اور توازن کے ساتھ ہم اپنے آپ کو سنبھالے ہوئے ہیں‘ اللہ کرے کہ اس راستے پر ثابت قدم رہتے ہوئے ہم جنگ بندی تک پہنچ سکیں۔
(یہ کالم روزنامہ ''پاکستان‘‘ اور روزنامہ ''دنیا‘‘ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے)